صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. اوزان
  2. »فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
  3. »علامہ اقبال / پیام مشرق

وزن کے تحت کتاب

وزنِ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف) میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف وزنِ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔

11 نظمیں

نظمیں

وزنِ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف) میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

  1. زندہ رود
  2. »اوزان
  3. »فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
  4. »علامہ اقبال / پیام مشرق

بخش 2–دعا

دعا

A Prayer

علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 2 - دعا

اردوEn
3 اشعار

غزل شمارهٔ 3–می تراشد فکر ما هر دم خداوندی دگر

ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا (معبود، بت) تراشتی رہتی ہے ۔ ایک قید سے چھوٹی کہ دوسری میں گرفتار ہو گئی ۔

Our thought is constantly engaged in fashioning new gods. Released from one bond, it entangles itself in another.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 3

اردوEn
8 اشعار

غزل شمارهٔ 12–آشنا هر خار را از قصهٔ ما ساختی

تو نے ہر کانٹے کو میری داستان سے باخبر کر دیا (تو مجھے) دیوانگی کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا ۔

You have made every thorn prick us and know our tale. You took us to the wilderness of madness, and let everybody know.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 12

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 18–موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔

A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 18

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 44–شعله در آغوش دارد عشق بی پروای من

میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔

My love in its abandon has a live flame in its arms. My sterile wisdom cannot raise a single spark.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 44

اردوEn
7 اشعار

بخش 4–فلسفه و سیاست

Philosophy and Politics

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 4 - فلسفه و سیاست

اردوEn
2 اشعار

بخش 7–حکیم اینشتین

Einstein

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 7 - حکیم اینشتین

اردوEn
6 اشعار

بخش 13–هگل

Hegel

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 13 - هگل

اردوEn
2 اشعار

بخش 16–میخانهٔ فرنگ

The Wine-Shop of the West

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 16 - میخانهٔ فرنگ

اردوEn
4 اشعار

بخش 7–ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان

Trifles - Of Life, O brother, I give thee a token

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 7 - ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان

اردوEn
1 شعر

بخش 9–از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

اردوEn
2 اشعار