صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. اوزان
  2. »مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
  3. »علامہ اقبال / زبور عجم

وزن کے تحت کتاب

وزنِ مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب) میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف وزنِ مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔

10 نظمیں

نظمیں

وزنِ مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب) میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

  1. زندہ رود
  2. »اوزان
  3. »مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
  4. »علامہ اقبال / زبور عجم

غزل شمارهٔ 1–بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد

(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔

Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 1

اردوEn
2 اشعار

غزل شمارهٔ 5–از مشتِ غبار ما صد ناله برانگیزی

اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔

From my handful of dust You draw out a hundred laments; you are nearer than the soul – for all Your shy reserve.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 5

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 14–با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن

(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔

Like the dervish drunken be quaff the winecup instantly, and, when thou art bolder grown, hurl thyself on Jamshid’s throne.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 14

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 18–بر عقل فلک پیما ترکانه شبیخون به

آسمان تک رسائی حاصل کرنے والی عقل پر ترکوں کی طرح شبخون مارنا ہی اچھا ہے یعنی اسے عشق کے آگے سرنگوں کرنا ضروری ہے کیونکہ دردِ عشق کا ایک ذرہ عظیم فلسفی افلاطون کے علم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔

Better is the robbers’ train than the heaven-pacing brain, better one distress of heart than all Plato’s learned art.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 18

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 38–علمی که تو آموزی مشتاق نگاهی نیست

جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔

The fine science thou dost learn after vision does not yearn; ‘tis no wanderer far astray, but a straggler on the way.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 38

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 43–این دل که مرا دادی لبریز یقین بادا

اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔

Let this heart Thou gavest me overflow with certainty, and my world-beholding glass all its radiance surpass.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 43

اردوEn
2 اشعار

غزل شمارهٔ 46–انجم بگریبان ریخت این دیدهٔ تر ما را

میری اس اشکوں سے بھری آنکھوں نے رو رو کر میرے دامن میں ستارے گرا دیئے ہیں ۔ ان قیمتی اشکوں کی وجہ سے مجھ میں ایسا ذوق نظر پیدا ہوا کہ اس نے مجھے آسمانوں کے اس پار پھینک دیا ۔

Stars on my bosom shine wept from these eyes of mine: Lo, beyond heaven’s height; cast me the joy of sight;

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 46

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 49–من هیچ نمی‌ترسم از حادثهٔ شب‌ها

میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔

In the accidents of night there is naught can me affright, seeing that the night is borne by the wheeling stars to morn.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 49

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 64–از داغ فراق او در دل چمنی دارم

محبوب کی جدائی کے زخموں سے دل کا چمن آباد ہے ۔ اے لالہ صحرائی میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں (تجھے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہوں ) ۔

This brand of grief, His love apart, hath sown a garden in my heart; O desert-flame anemone, I have a word to say to thee!

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 64

اردوEn
2 اشعار

غزل شمارهٔ 73–من بندهٔ آزادم عشق است امام من

میں تو ایک آزاد انسان ہوں اور عشق میرا رہبر ہے ۔ عشق میرا رہبر ہے تو عقل میری غلام ہے ۔

I am a slave set free, and Love still leadeth me; Love is my leader still, mind bows to do my will.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 73

اردوEn
5 اشعار