صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. مستنصر میر
  2. »زبور عجم

تراجم

مستنصر میر کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف مستنصر میر کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

9نظمیں

تراجم والی نظمیں

مستنصر میر کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

  1. زندہ رود
  2. »مستنصر میر
  3. »زبور عجم

به خوانندهٔ کتاب زبور

کتاب زبور کے قاری سے خطاب

To the Reader

علامہ اقبال » زبور عجم » به خوانندهٔ کتاب زبور

اردوEnآڈیو

ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم

Part One

علامہ اقبال » زبور عجم » ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم

اردوEn

غزل شمارهٔ 2–درونِ سینهٔ ما سوزِ آرزو ز کجاست؟

ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔

The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?

علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 2

اردوEnآڈیو

غزل شمارهٔ 5–از مشتِ غبار ما صد ناله برانگیزی

اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔

From my handful of dust You draw out a hundred laments; you are nearer than the soul – for all Your shy reserve.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 5

اردوEn

غزل شمارهٔ 10–دل دیده ئی که دارم همه لذت نظاره

اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے

The eyes and heart that I have take such delight in view – what is my fault if I should carve idols out of rough stone?

علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 10

اردوEn

غزل شمارهٔ 19–یا مسلمان را مده فرمان که جان بر کف بنه

اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔

Either do not tell the Muslim to put his life at risk, or else breathe a new soul into this worn-out frame. Do one thing or the other!

علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 19

اردوEn

غزل شمارهٔ 39–اگر نظاره از خود رفتگی آرد حجاب اولی

اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔

If a sight causes loss of self, it is better hidden from view: I do not accept the deal, Your price is too high.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 39

اردوEn

دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)

علامہ اقبال » زبور عجم » دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

اردوEn

غزل شمارهٔ 75–خود را کنم سجودی ، دیر و حرم نمانده

میں اب اپنے آپ ہی کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ اب مندر اور مسجد دونوں ہی باقی نہیں رہے ۔ مسجد عرب میں نہیں رہی اور مندر عجم میں موجود نہیں ۔ (نہ تو مسجد ہی رہبری کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور نہ ہی مندر میں کوئی راہنما موجود ہے تو پھر اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں کہ میں صرف اپنے ضمیر کی پیروی کروں ) ۔

I bow down before myself – there is no temple or Ka’bah left! This one is missing in Arabia, that one in other lands.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 75

اردوEn