تراجم
یہ صفحہ صرف مستنصر میر کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
کتاب زبور کے قاری سے خطاب
To the Reader
علامہ اقبال » زبور عجم » به خوانندهٔ کتاب زبور
Part One
علامہ اقبال » زبور عجم » ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم
ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔
The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 2
اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔
From my handful of dust You draw out a hundred laments; you are nearer than the soul – for all Your shy reserve.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 5
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
The eyes and heart that I have take such delight in view – what is my fault if I should carve idols out of rough stone?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 10
اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔
Either do not tell the Muslim to put his life at risk, or else breathe a new soul into this worn-out frame. Do one thing or the other!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 19
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
If a sight causes loss of self, it is better hidden from view: I do not accept the deal, Your price is too high.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 39
زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)
علامہ اقبال » زبور عجم » دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
میں اب اپنے آپ ہی کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ اب مندر اور مسجد دونوں ہی باقی نہیں رہے ۔ مسجد عرب میں نہیں رہی اور مندر عجم میں موجود نہیں ۔ (نہ تو مسجد ہی رہبری کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور نہ ہی مندر میں کوئی راہنما موجود ہے تو پھر اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں کہ میں صرف اپنے ضمیر کی پیروی کروں ) ۔
I bow down before myself – there is no temple or Ka’bah left! This one is missing in Arabia, that one in other lands.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزل شمارهٔ 75