وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ دوم (غزلیات) » «شاخ نهال سدرهای خار و خس چمن مشو»
اے خدا تو نے میری آہ و زاری کو میری شاعری کی وجہ سے بڑھا دیا ہے ۔ میری اس آواز سے ہزاروں سال کی پرانی مٹی کو زندہ کر دے ۔ مطلب یہ کہ مسلمان اس مادہ پرست دنیا میں گم ہو کر اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔ وہ اپنی پہچان صرف اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے دل میں تیری محبت پیدا ہو جائے ۔
Thou who didst make more ardent my sighing and my tears, O let my anthem quicken dust of a thousand years.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 4
اے خدا اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام نچھاور کر اور اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹا دے ۔ کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیے ہے ۔ جب تیرے چہرے کے انوار و تجلیات مومن دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہو گا اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے
On faith and infidelity O scatter wide Thy Clemency; at last the veil of darkness raise from the full splendour of Thy Face.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 8
جب بہار کا موسم اتنا دلکش ہو اور بلبلیں گیت گا رہی ہوں تو ایسے میں تو بھی (اے محبوب) اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس خوشگوار ماحول کے مطابق شراب وصل پلا دے ۔
It is the season of the spring and nightingales are carolling; O smile on me, and chant a song, and freely pass the wine along.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 13
اٹھ اور پیاسی مٹی (آدمی کے خاکی جسم) پر زندگی کی شراب چھڑک دے کیونکہ اس خاکی جسم کے لیے عشق کی شراب تریاق کا کام دے گی ۔ اے خدا تو اپنے عشق کی آگ اس جسم خاکی میں تیز کر دے اور میرے نفس کی آگ ٹھنڈی کر دے ۔
Rise! And upon the thirsty land sprinkle life’s wine with lavish hand; kindle anew the spirit’s fire, and bid the flame in us expire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 15
اس زندگی میں حرارت و گداز تیری تلاش کی لذت کے باعث ہے ۔ اگر میں تیری طرف سفر اختیار نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے ۔
All that in life I love the best is the sweet fever of Thy quest; the way is like an adder’s sting, be not to thee my wayfaring.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 21
ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔
Far, far from every other go with the One Friend upon the road; seek thou of God thy self to know, and seek in selfhood for thy God.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 47
(اے میرے محبوب) میرے اس بے چین دل کو (اپنے حسن کے جلووَں ) کی کشمکش سے ذرا بھی فراغت نہ دے ۔ اور اپنی ان پیچیدہ زلفوں میں ایک دو شکن پیدا کر دے تاکہ میں ان زلفوں کے پیچ و خم سے باہر نہ آ سکوں ۔
Leave no quarter to resist to this restless heart of mine give Thy curls another twist, let Thy tresses intertwine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 48
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔
How long the veil of eve and dawn about Thy beauty shall be drawn? Thy cheek display: make whole to me this incomplete epiphany.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 52