آڈیوز
صداکار مخدوم حسان لاهوری کی آڈیوز میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف صداکار مخدوم حسان لاهوری کی دستیاب آڈیوز دکھاتا ہے۔
نظمیں
رباعی شمارهٔ 1شهید ناز او بزم وجود است
بزمِ وجود ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر گواہ ہے —
رباعی شمارهٔ 2دل من روشن از سوز درون است
باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے —
رباعی شمارهٔ 3به باغان باد فروردین دهد عشق
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے —
رباعی شمارهٔ 4عقابان را بهای کم نهد عشق
عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے —
رباعی شمارهٔ 5به برگ لاله رنگ آمیزی عشق
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے —
رباعی شمارهٔ 6نه هر کس از محبت مایه دار است
ہر شخص محبت کی دولت رکھنے والا نہیں —
رباعی شمارهٔ 7درین گلشن پریشان مثل بویم
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں —
رباعی شمارهٔ 8جهان مشت گل و دل حاصل اوست
یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے —
رباعی شمارهٔ 9سحر می گفت بلبل باغبان را
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا —
رباعی شمارهٔ 10جهان ما که نابود است بودش
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —
رباعی شمارهٔ 11نوای عشق را ساز است آدم
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں) —
رباعی شمارهٔ 12نه من انجام و نی آغاز جویم
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —
رباعی شمارهٔ 13دلا نارائی پروانه تا کی
اے دل! توکب پروانے کی سی نادانی اختیار کیے رکھے گا؟ —
رباعی شمارهٔ 14تنی پیدا کن از مشت غباری
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر —
رباعی شمارهٔ 15ز آب و گل خدا خوش پیکری ساخت
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا —
رباعی شمارهٔ 16به یزدان روز محشر برهمن گفت
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالے کی جناب میں عرض کی —
رباعی شمارهٔ 17گذشتی تیز گام ای اختر صبح
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے —
رباعی شمارهٔ 18تهی از های و هو میخانه بودی
دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا —
رباعی شمارهٔ 19ترا ای تازه پرواز آفریدند
اے فخر سے پرواز کرتی نئی روح! —
رباعی شمارهٔ 20چه لذت یارب اندر هست و بود است
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —
رباعی شمارهٔ 21شنیدم در عدم پروانه میگفت
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا —
رباعی شمارهٔ 22مسلمانان مرا حرفی است در دل
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے —
رباعی شمارهٔ 23به کویش رهسپاری ای دل ای دل
اے دل، میرے دل، تو اُس کی راہ پر چل پڑا ہے! —
رباعی شمارهٔ 24رهی در سینهٔ انجم گشائی
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے —
رباعی شمارهٔ 25سحر در شاخسار بوستانی
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر —
رباعی شمارهٔ 26ترا یک نکتهٔ سر بسته گویم
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے —
رباعی شمارهٔ 27بهل افسانهٔ آن پا چراغی
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ —
رباعی شمارهٔ 28ترا از خویشتن بیگانه سازد
جو تجھے اپنا آپ بھلا دے —
رباعی شمارهٔ 29زیان بینی ز سیر بوستانم
تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا —
رباعی شمارهٔ 30برون از ورطهٔ بود و عدم شو
ہونے اور نہ ہونے کے چکر سے نکل —
رباعی شمارهٔ 31ز مرغان چمن نا آشنایم
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں —
رباعی شمارهٔ 32جهان یارب چه خوش هنگامه دارد
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے —
رباعی شمارهٔ 33سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی —
رباعی شمارهٔ 34سریر کیقباد ، اکلیل جم خاک
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں —
رباعی شمارهٔ 35اگر در مشت خاک تو نهادند
اگر خدا نے تیرے بدن میں —
رباعی شمارهٔ 36دمادم نقش های تازه ریزد
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں —
رباعی شمارهٔ 37چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد
جب مجھے نغمے کا ذوق جلوت میں لاتا ہے —
رباعی شمارهٔ 38چه میپرسی میان سینه دل چیست
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے —
رباعی شمارهٔ 39خرد گفت او بچشم اندر نگنجد
عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا —
رباعی شمارهٔ 40کنشت و مسجد و بتخانه و دیر
گرجا، مسجد، مندر اور آتشکدہ —
رباعی شمارهٔ 41نه پیوستم درین بستان سرا دل
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا —
رباعی شمارهٔ 42به خود باز آورد رند کهن را
پرانے شرابی کو دوبارہ ہوش میں لے آئی —
رباعی شمارهٔ 43سفالم را می او جام جم کرد
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا —
رباعی شمارهٔ 44خرد زنجیری امروز و دوش است
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —
رباعی شمارهٔ 45خرد اندر سر هر کس نهادند
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے —
رباعی شمارهٔ 46گدای جلوه رفتی بر سر طور
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا —
رباعی شمارهٔ 47بگو جبریل را از من پیامی
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو —
رباعی شمارهٔ 48همای علم تا افتد بدامت
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے —
رباعی شمارهٔ 49خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں —
رباعی شمارهٔ 50دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے —

