رباعی شمارهٔ 18

دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا

The tavern of this world would have been exempt from turbulence

Toggle stanza 1
تهی از های و هو میخانه بودی
1
تهی از های و هو میخانه بودی
گل ما از شرر بیگانه بودی

دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا —

ہماری خاک بھی چنگاری کی چمک سے خالی رہتی

The tavern of this world would have been exempt from turbulence —

No spark would have illuminated our clay’s indifference.

2
نبودی عشق و این هنگامهٔ عشق
اگر دل چون خرد فرزانه بودی

نہ یہاں عشق ہوتا، نہ اس کے ہنگامے —

اگر دل بھی عقل کی مانند مصلحت اندیش ہوتا۔

There would have been neither love nor its tumult —

If the heart possessed the mind’s intelligence.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور