رباعی شمارهٔ 12

نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی

I do not seek the beginning or the end

Toggle stanza 1
نه من انجام و نی آغاز جویم
1
نه من انجام و نی آغاز جویم
همه رازم جهان راز جویم

نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —

میں خود سراپا راز ہوں اور رازوں ہی کے جہان کو تلاش کرتا ہوں ۔

I do not seek the beginning or the end —

I am full of mystery and seek the realm of mysteries.

2
گر از روی حقیقت پرده گیرند
همان بوک و مگر را باز جویم

اگر وہ حقیقت کے چہرے سے پردہ ہٹا بھی دیں —

تو میں پھر بھی شکوک و شبہات کو متلاشی رہوں گا۔

Even if the face of truth was unveiled —

I would still seek the same doubts and uncertainties.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور