رباعی شمارهٔ 41

میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا

In this garden's embrace, my heart never did dwell

Toggle stanza 1
نه پیوستم درین بستان سرا دل
1
نه پیوستم درین بستان سرا دل
ز بند این و آن آزاده رفتم

میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا —

یہاں کے بندھنوں سے آزاد رہا ہوں۔

In this garden's embrace, my heart never did dwell —

From the bonds of here and there, I've walked away free and well.

2
چو باد صبح گردیدم دمی چند
گلان را آب و رنگی داده رفتم

باد صبح کی مانند چند لمحے یہاں گھوما پھرا —

پھولوں کو رنگ و آب دی اور چلا گیا۔

Like the morning breeze, for a moment I roamed around —

Gave the flowers their hue and dew, then left without a sound.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور