رباعی شمارهٔ 48

اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے

If you seek the phoenix of knowledge in your snare

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: کیباش

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
همای علم تا افتد بدامت
1
همای علم تا افتد بدامت
یقین کم کن گرفتار شکی باش

اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے —

تو یقین کم کر، ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ ۔

If you seek the phoenix of knowledge in your snare —

Lessen your certainties, view each thing with a questioning air.

2
عمل خواهی یقین را پخته تر کن
یکی جوی و یکی بین و یکی باش

اگر عمل چاہتا ہے، تو اپنا یقین پختہ کر —

ایک مقصود کے پیچھے لگ جا، اسی پر نظر رکھ اور وہی ہو جا۔

Desire action? Make your belief more profound —

Pursue a single goal, observe it closely, become it, in it be found.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور