صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 8 - حیات جاوید

بخش 8 - حیات جاوید

ہمیشہ کی زندگی، ابدی زندگی

Eternal Life

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اکاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
صداکاران: سمیه الماسی، فاطمه زندی
Toggle stanza 1
1

تو یہ گمان مت کر کے مے سازی کا کام ختم ہو گیا (ابھی تو) کتنی ہی ان چکھی شرابیں انگور کی رگوں میں پوشیدہ ہیں ۔ مراد ہے خالق کائنات کے کام سے فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ابھی اور بہت کچھ تخلیق کرنا باقی ہے ۔

Do not imagine that the work of the Wine-maker is complete. With unknown quantities of undrunk wine the vine is still replete.

2

چمن اچھا ہے لیکن کلی کی طرح کیا جینا ، اس کی زندگی کی قبا صبا کے ایک جھونکے میں چاک ہو جاتی ہے (تو مضبوط بن تا کہ مخالفتوں کے تند و تیز طوفان میں بکھر نہ سکے) ۔

The garden is a happy place, but you cannot survive as buds in it for long; the breeze will come and tear your being’s robe to shreds.

3

اگر تو ہستی کے بھید سے باخبر ہے تو مت کھوج اور نہ قبول کر ایسا دل جو آرزو کے کانٹے کی کھٹک سے خالی ہے ۔

If you possess the faintest knowledge of life’s awesome mystery, then do not seek a heart entirely free from longing’s agony.

4

پہاڑوں کی طرح زیست کر اپنے آپ میں اکٹھا اور اٹل سوکھی ہوئی گھاس ایسی زندگی مت گزار کیونکہ ہوا تیز ہے اور شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ (مراد ہے زندگی طوفانوں سے بھری ہوئی ہے اس میں ثابت قدم رہنے کے لیے مضبوط حوصلہ، بلند ہمت اور خود کو قائم رکھنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کرنے والا بننا پڑے گا ۔ ) اقبال نے اس نظم میں ابدی زندگی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے کہ اپنے دل کی آرزو یعنی کسی نصب العین کو حاصل کرنے کی آرزو سے آباد کرو ۔

Be like a mountain, grave and lofty, with your native dignity, and not like straw. Beware, there is a wildfire raging savagely.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خیز که در کوه و دشت خیمه زد ابر بهار

مست ترنم هزار

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 7 - فصل بهار

اگلی نظم

شنیدم کوکبی با کوکبی گفت

که در بحریم و پیدا ساحلی نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 9 - افکار انجم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

حذر ز راه محبت که پر خطرناک است

تو مشت خار ضعیفی و شعله بی‌باک است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 503

میی‌که شوخی رنگش جنون افلاک است

به خاتم قدح ما نگین ادراک است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 504

فرشته گرچه برون از طلسم افلاک است

نگاه او بتماشای این کف خاک است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 16

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00