صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 159

رباعی شمارهٔ 159

لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا

The boundless can't be captured in mere phrase

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: است

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا —

اگر تو اپنے اندر دیکھے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔

The boundless can't be captured in mere phrase —

Look within, the truth's light reveals its blaze.

2

ہمارے بدن کے اندر روح نے اس طرح نشیمن بنایا ہوا ہے —

کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جان اس جگہ ہے اور اس جگہ نہیں۔

The soul dwells within our mortal frame —

None can say, "Here it’s not," but "There it came."

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رگ مسلم ز سوز من تپید است

ز چشمش اشک بیتابم چکید است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 158

اگلی نظم

بهر دل عشق رنگ تازه بر کرد

گهی با سنگ گه با شیشه سر کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 160

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گل امشب آخر شب مست برخاست

به جام لاله گون مجلس بیاراست

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 153

ز آهم نخل حسرت شعله بالاست

چراغ مرده را آتش مسیحاست

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 428

رویم - قدس سره - گفته است: جوانمردی آن است که برادران خود را معذور داری و بر زلتی که از ایشان واقع شود با ایشان چنان معامله نکنی که از ایشان عذر باید خواست.

جوانمردی دو چیز است ای جوانمرد

جامی»بهارستان»روضهٔ نخستین (در ذکر احوال مشایخ صوفیه)»بخش 22

در این خانه کژی ای دل گهی راست

برون رو هی که خانه خانه ماست

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 355

مرا از تیره بختی شکوه بیجاست

که عنبر نیل چشم زخم دریاست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2233

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00