وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
دُعا
INVOCATION
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ اول (غزلیات) » دعا
ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔
We are gone astray from God; he is searching upon the road, for like us, He is need entire and the prisoner of desire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 29
اے انسان تیرے نور کے جلووَں سے ہر شے وجود میں آئی ہے ۔ تیرے نور کے ان جلووَں کے باعث کائنات کے اسرار و رموز کا پتہ چلا ہے ۔ دریا ہو، جنگل ہو ، آبادی ہو، سورج ہو یا چاند ہو سب کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور فطرت کے تمام پوشیدہ اسرار پر سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔
Thy light defineth all things one by one: black, white, sea, mountain, valley, moon and sun;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 40
اہل مشرق کہ جن کی فکر کی کمند میں آسمان ہے محض خیال پرستی کرتے ہیں ۔ (بے عمل ہیں ) یہ اپنے آپ سے بے خبر اور آرزو کے سوز سے خالی ہیں ۔ ہمیشہ غیروں کے محتاج نظر آتے ہیں ۔
The East, that holds the heavens fast within the noose its fancy cast, its spirit’s bonds are all united, the flames of its desire have died.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 47
وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔
The Artist, Whose vast mind both day and night designed, engraving these, displays upon Himself His gaze.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 68
اس دیرپا (صدیوں سے موجود) مندر میں ہنگامے کس نے پیدا کئے ہیں کہ اس مندر کے زناری (دنیا دار لوگ) سب کے سب بانسری کی مانند رو رہے ہیں (دیر پا مندر سے مراد یہ دنیا ہے جہاں ہر آدمی مضطرب و بے چین ہے) ۔
Whence hath this commotion swirled in our old, slow-moving world that each girdled infidel like a reed of grief doth tell?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 71
باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔
Tulip in the mountains blowing, lamp in mead and garden glowing, gaze on me, for I will give guidance on the way to live.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 72