غزل شمارهٔ 1118

Toggle stanza 1
بر جان من شکسته دل باز
1

بر جان من شکسته دل باز

کردی تو شراب خوردن آغاز

2

جانا، مخور این قدح که مستی

لب را بزن و به من بده باز

3

شد نوبت شربت پسینم

جرعه به پیاله من انداز

4

ما را غم تو ز خلق ببرید

در صحبت دوستان دمساز

5

پرسی که چگونه ای، چه گویم؟

کز مرده برون نیاید آواز

6

گویند مرا، برو از ین کوی

دل گم کردم، کجا روم باز؟

7

خوش نیست سرود خسروان را

مطرب مست است و چنگ ناساز

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…