غزل شمارهٔ 132

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: از

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: غزل

Toggle stanza 1
ای مطرب درد، پرده بنواز
1

ای مطرب درد، پرده بنواز

هان! از سر درد در ده آواز

2

تا سوخته‌ای دمی بنالد

تا شیفته‌ای شود سرافراز

3

هین! پرده بساز و خوش همی سوز

کان یار نشد هنوز دمساز

4

دلدار نساخت، چون نسوزم؟

سوزم، چو نساخت محرم راز

5

ماتم زده‌ام، چرا نگریم؟

محنت زده‌ام، چه می‌کنم ناز؟

6

ای یار، بساز تا بسوزم

یا با سوزم بساز و بنواز

7

یک جرعه ز جام عشق در ده

تا بو که رهانیم ز خود باز

8

ور سوختن من است رایت

من ساخته‌ام، بسوز و بگداز

9

گر یار نساخت، ای عراقی،

خیز از سر سوز نوحه آغاز

10

در درد گریز، کوست همدم

با سوز بساز، کوست همساز

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…