غزل شمارهٔ 1117

Toggle stanza 1
گشادی چشم خواب آلود را باز
1

گشادی چشم خواب آلود را باز

در فتنه به عالم کرده ای باز

2

به دور ماه رویت زلف شبرو

پریشان کاری اکنون کرد آغاز

3

خط سبزت، اگر نه خضر وقت است

چرا شد با لب جان بخش دمساز؟

4

به بستان گر روی، در سجده آید

به پیش قامتت سرو سرافراز

5

ربودی دل ز من، وانگه سپردی

به دست طره دلدوز غماز

6

چه جای جان که بر دل می زند تیر؟

چو گردد ترک چشمت ناوک انداز

7

اگر ندهی به عمری کام خسرو

روا باشد، به غیر او مپرداز

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…