صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 15 - پیغام برگسن

بخش 15 - پیغام برگسن

Bergson’s Message

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: رمکن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

تا بر تو آشکار شود راز زندگی

خود را جدا ز شعله مثالِ شرر مکن

تاکہ تجھ پر راز زندگی منکشف ہو، شرر کی مانند اپنے آپ کو شعلے سے جدا نہ کر۔

If thou wouldst read Life as an open book, be not a spark divided from the brand.

2

بهرِ نظاره جز نگهِ آشنا میار

در مرز و بومِ خود چو غریبان گذر مکن

نظار ے کے لیے صرف (حقیقت ) آشنا آنکھ لا، اپنے وطن کے اندر مسافروں کی طرح نہ گزر۔

Being the familiar eye, the friendly look, nor visit strange-like thy native land.

3

نقشی که بسته ئی همه اوهام باطل است

عقلی بهم رسان که ادب خوردهٔ دل است

تو نے جو نقوش بنائے ہیں وہ اوہام باطل ہیں، ایسی عقل پیدا کر جو دل سے تربیت یافتہ ہو۔

O thou by vain imaginings befooled, get thee a reason which the Heart hath schooled!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نکته دان المنی را در ارم

صحبتی افتاد با پیر عجم

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 14 - جلال و گوته

اگلی نظم

یاد ایامی که بودم در خمستان فرنگ

جام او روشنتر از آئینهٔ اسکندر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 16 - میخانهٔ فرنگ

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای دیده، بیش در رخ جانان نظر مکن

ور می کنی بر آن بت بیدادگر مکن

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1580

از خود برون نرفته هوای سفر مکن

این راه را به پای زمین‌گیر سر مکن

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 6383

غیرت کن و ز آه برافروز شمع خویش

دریوزه فروغ ز شمس و قمر مکن

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 6384

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور