Jalal and Goethe
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
نکته دان المنی را در ارم
صحبتی افتاد با پیر عجم
جنت میں جرمن دانشور (گوئتے ) کی پیر عجم (رومی) سے ملاقات ہوئی۔
In paradise that perceptive German happened upon the Master of the East.
شاعری کو همچو آن عالی جناب
نیست پیغمبر ولی دارد کتاب
یہ جرمن شاعر بھی اس بلند مرتبت (شخصیت) کی مانند ، پیغمبر تو نہیں لیکن کتاب رکھتا ہے۔
Where is a poet of such stature! Though not a prophet, he is possessed of scripture!
خواند بر دانائی اسرار قدیم
قصهٔ پیمان ابلیس و حکیم
شاعر نے اسرار قدیم کے دانا (رومی) کے سامنے ، ابلیس حکیم کے پیمان کا قصّہ پڑھا۔
To the one who knew divine secrets he read about the pact of Iblis and the doctor.
گفت رومی ای سخن را جان نگار
تو ملک صید استی و یزدان شکار
رومی نے کہا اے وہ شخص جو سخن کو روح سے مزیّن کرتا ہے، تو فرشتوں سے لے کر حق تعالیٰ تک کو اپنے فکر میں اسیر کرتا ہے۔
Rumi said, ‘You who bring words to life, and hunt angels and God;
فکرِ تو در کنجِ دل خلوت گزید
این جهانِ کهنه را باز آفرید
تیرا فکر دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے ، تو نے جہان قدیم کا از سر نو پیدا کیا ہے۔
Your thought has made its home in the inner recesses of the heart, and created this old world anew.
سوز و ساز جان به پیکر دیده ئی
در صدف تعمیر گوهر دیده ئی
تو نے پیکر میں جان کا سوز و ساز دیکھا ہے، تو نے صدف کے اندر گوہر بنتے دیکھا ہے۔
At one and the same time in the body’s frame, you have seen the tranquility and the restlessness of the soul; you have been a witness to the birth of the pearl in the shell.
هر کسی از رمز عشق آگاه نیست
هر کسی شایان این درگاه نیست
ہر کوئی رمز عشق سے آگاہ نہیں، ہر کوئی درگاہ عشق کے شایان نہیں۔
Not everyone knows the secret of love; or is fit to reach these portals.
«داند آن کو نیکبخت و محرم است
زیرکی ز ابلیس و عشق از آدم است»
'صرف خوش بخت اورمحرم (اسرار) ہی جانتا ہے، کہ چالاکی ابلیس سے ہے اور عشق آدمؑ سے '
‘He who is blest, and a confidant, knows that cunning comes from Iblis and love from Adam.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور