نوای غالب
The Song of Ghalib
«بیا که قاعدهٔ آسمان بگردانیم
قضا بگردش رطل گران بگردانیم
اے محبوب! تو آ کہ ہم آسمان کے دستور میں تبدیلی لائیں (بدل ڈالیں ) اور قضا و قدر کے دستور کو رطل گراں کی گردش سے بدل ڈالیں ، معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے حافظ شیرازی سے استفادہ کیا ہے ۔
Come, let us change the rule of heaven, let us change fate by revolving a heavy measure of wine;
اگر ز شحنه بود گیر و دار نندیشیم
وگر ز شاه رسد ارمغان بگردانیم
اگر کوتوال کی طرف سے کوئی گرفت یا باز پرس ہو تو ہم کوئی فکر نہ کریں ، بے خوف رہیں اور اگر بادشاہ کی طرف سے بھی کوئی تحفہ آئے تو ہم واپس کر دیں ۔
Though the police-captain makes trouble, we will not worry, and if the king himself sends a present, we will reject it.
اگر کلیم شود همزبان سخن نکنیم
وگر خلیل شود میهمان بگردانیم
اگر حضرت موسیٰ کلیم اللہ بھی ہم سے باتیں کرنا چاہیں تو ہم ان سے بات نہ کریں ، اگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ بھی ہمارے مہمان بن کے آئیں تو انہیں ہم واپس بھیج دیں ۔
Though Moses converse with us, we will not say a word; though Abraham be our host, we will decline him.
بجنگ باج ستانان شاخساری را
تهی سبد ز در گلستان بگردانیم
ہم صبح کے وقت پودوں کی ٹہنیوں سے پھول چننے والے باغبانوں کو سختی سے روک دیں اور یوں انہیں خالی ٹوکری کے ساتھ گلستان کے دروازے ہی سے واپس بھیج دیں ۔
Battling, the tribute-snatchers of the grove we will turn away from our garden’s gate with empty basket;
به صلح بال فشانان صبحگاهی را
ز شاخسار سوی آشیان بگردانیم
صبح سویرے جو پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر شاخوں پر آ بیٹھے ہوں انہیں پیار و محبت کے ساتھ واپس ان کے گھونسلوں کی طرف بھیج دیں ۔
Peacefully, the birds that flutter their wings at dawn we will send back from the grove to their nests.
ز حیدریم من و تو ز ما عجب نبود
گر آفتاب سوی خاوران بگردانیم»
ہم اور تم دونوں حیدر سے وابستہ یا ان کے پیروکار ہیں اس لیے اگر ہم سورج کو مشرق کی طرف لوٹا دیں تو یہ تعجب کی بات نہ ہو گی ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز جناب رسول اللہ ﷺ، حضرت علی علیہ السلام کی ران پر سر رکھ کر سو رہے تھے، سورج غروب ہونے کے قریب تھا ، حضور نے ہاتھ کا اشارہ کر کے سورج کو مغرب سے مشرق کی طرف لوٹا دیا تھا ۔
You and I are of Haidar, so no wonder would it be if we turn back the sun towards the East.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور