نوای طاہرہ
The Song of Tahira
اگر تجھ پر میری نظر کچھ اس طرح پڑے کہ تو میرے بالکل سامنے ہو اور تیرا چہرہ میرے چہرے کے سامنے ہو تو پھر میں تیرے غم عشق کی شرح ایک ایک گہری بات اور رمز کے ساتھ بیان کروں ۔
If ever confronting face to face my glance should alight on you I will describe to you my sorrow for you in minutest detail.
تیرا چہرہ دیکھنے کے لیے میں صبح کی نرم و لطیف ہوا کی مانند چلی پھری ہوں اور میں گھر گھر ، در در اور کوچہ کوچہ اور گلی گلی پھری ہوں ، تیری تلاش میں کوئی کونہ نہیں چھوڑا ۔
That I may behold your cheek, like the zephyr I have visited house by house, door by door, lane by lane, street by street.
تیرے فراق میں میرا خون دل میری دونوں آنکھوں سے رواں ہے، بہہ رہا ہے اور وہ دریا دریا ، سمندر سمندر، چشمہ چشمہ اور ندی ندی بہہ رہا ہے ۔
Through separation from you my heart’s blood is flowing from my eyes river by river, sea by sea, fountain by fountain, stream by stream.
میرے غمزدہ دل نے تیری محبت کو جان کے قماش پر بن لیا ہے ، دھاگا دھاگا، نخ نخ ، تار تار اور تانا بانا خوب ملا کر بن لیا ہے ۔
My sorrowful heart wove your love into the fabric of my soul thread by thread, thrum by thrum, warp by warp, woof by woof.
طاہرہ نے اپنے دل کے اندر نظر ڈالی مگر اسے دل کے صفحہ صفحہ ، گوشہ گوشہ پردہ پردہ اور تہ بہ تہ میں تیرے سوا کوئی نظر نہ آیا ۔
Tahira repaired to her own heart, and saw none but you page by page, fold by fold, veil by veil, curtain by curtain.
اہل درد عاشقوں (حلاج وغیرہ) کے پرسوز جذبوں نے میری جان میں نئے ہنگامے برپا کر دیے ہیں ۔
The ardour and passion of these anguished lovers cast fresh commotions into my soul;
پرانی مشکلات نے پھر اپنا سر اٹھایا اور ایک مرتبہ پھر میری فکر پر شب خون مارا ۔
Ancient problems reared their heads and made assault upon my mind.
میری فکر کا سمندر پوری طرح طوفان خیز بن گیا اور طوفان کی شدت سے اس کا ساحل خراب ہو گیا ۔
The ocean of my thought was wholly agitated; its shore was devastated by the might of the tempest.
رومی نے کہا جو اپنی ہر مشکل کے حل کا خواہاں ہے تو وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔
Rumi said, ‘Do not lose any time, you who desire the resolution of every knot;
تو (زندہ رود) کب تک اپنے افکار میں اسیر رہے گا ۔
For long you have been a prisoner in your own thoughts, now pour this tumult out of your breast!’
زمین
ای به دلم گرفته جا دمبدم از نظر مرو
مرهم سینه چون تویی مردم دیده هم تو شو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 796
هین کژ و راست میروی باز چه خوردهای بگو
مست و خراب میروی خانه به خانه کو به کو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2154
کی ز جهان برون شود جزو جهان هله بگو
کی برهد ز آب نم چون بجهد یکی ز دو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2155
باده چو هست ای صنم بازمگیر و نی مگو
عرضه مکن دو دست تی پر کن زود آن سبو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2159