صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مشتری
  4. »بخش 5 - زنده رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ می‌گوید

بخش 5 - زنده رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ می‌گوید

زندہ رود ارواح بزرگ کے سامنے اپنی مشکلات پیش کرتا ہے

Zinda-Rud Puts His Problems before the Great Spirits

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 1
1

از مقام مؤمنان دوری چرا

یعنی از فردوس مهجوری چرا

مومنوں کے مقام سے دور رہنا کیوں ، کس لیے یعنی فردوس سے باہر رہنا کس لیے (گویا یہ حلاج جسے کہا جا رہا ہے ، اب حلاج کی روح جواب دیتی ہے ) ۔

Why do you keep far from the station of believers? That is, why are you exiled from Paradise?

بند 2
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 2
2

مرد آزادی که داند خوب و زشت

می نگنجد روح او اندر بهشت

ایک آزاد مرد جو اچھے اور برے کو خوب پہچانتا ہے اس کی روح بہشت کے اندر نہیں سما سکتی ۔

The free man who knows good and evil, his spirit cannot be contained in Paradise.

3

جنت ملا ، می و حور و غلام

جنت آزادگان سیر دوام

ملا کی جنت تو شراب (شرابِ طہور) حور اور غلماں والی جنت ہے لیکن آزاد لوگوں کی جنت مسلسل گردش کرنا ہے ۔

The mullah's Paradise is wine and houris and page boys, the Paradise of free men is eternal voyaging;

4

جنت ملا خور و خواب و سرود

جنت عاشق تماشای وجود

ملا کی جنت میں کھانا پینا اور سونا اور موسیقی سننا ہے اور ایک عاشق کی جنت وجود یعنی محبوب حقیقی کے دیدار کی خواہش ہے ۔

The mullah's Paradise is eating and sleeping and singing, the lover's Paradise is the contemplation of Being.

5

حشر ملا شق قبر و بانگ صور

عشق شور انگیز خود صبح نشور

ملا کا حشر قبر کے کھلنے اور بانگ صور پر مردوں کے اٹھنے کا نام ہے جبکہ ہنگامہ برپا کرنے والا عشق خود قیامت کی صبح ہے ۔

The mullah's Resurrection is the splitting of the tomb and the trumpet's blast, tumult-arousing Love is itself the Dawn of Resurrection.

6

علم بر بیم و رجا دارد اساس

عاشقان را نی امید و نی هراس

علم کا دارومدار خوف اور امید پر ہے ۔ عاشق کے لیے نہ تو امید کی کوئی کیفیت ہوتی ہے اور نہ خوف و ہراس کی ۔

Science is founded upon fear and hope, lovers are troubled by neither hope nor fear;

7

علم ترسان از جلال کائنات

عشق غرق اندر جمال کائنات

علم کائنات کے جلال سے خوفزدہ رہتا ہے جبکہ عاشق کائنات کے حسن میں محو ہوتا ہے ۔

Science is fearful of the grandeur of creation, Love is immersed in the beauty of creation;

8

علم را بر رفته و حاضر نظر

عشق گوید آنچه می آید نگر

علم کی نظر ماضی اور حال پر ہے جبکہ عشق جو دیکھتا ہے وہی کہتا ہے ۔

Science gazes upon the past and the present, love cries, 'Look upon what is coming!'

9

علم پیمان بسته با آئین جبر،

چارهٔ او چیست غیر از جبر و صبر

علم نے جبر کے آئین سے عہد و پیمان کر رکھا ہے ، لہذا جبر اور صبر کے سوا اس کا اور کوئی چارہ کار نہیں ۔

Science has made compact with the canon of constraint and has no other resource but constraint and resignation;

10

عشق آزاد و غیور و ناصبور

در تماشای وجود آمد جسور

عشق آزاد اور غیرت مند اور بے صبر ہے ۔ وہ وجود (محبوب حقیقی) کے دیدار کے معاملے میں بیباک اور دلیر ہے ۔

Love is free and proud and intolerant and boldly investigates the whole of Being.

11

عشق ما از شکوه ها بیگانه ایست

گرچه او را گریهٔ مستانه ایست

ہمارا عشق شکووں شکایتوں سے نا آشنا ہے، اس کی گریہ و زاری مستی کی گریہ و زاری ہے ۔

Our love is a stranger to complaining even though it weeps the tears of drunkenness.

12

این دل مجبور ما مجبور نیست

ناوک ما از نگاه حور نیست

ہمارا یہ مجبور دل مجبور نہیں ہے ۔ ہم پر چلنے والا تیر حور کی نگاہ سے نکلا ہوا نہیں ہے ۔ (عاشق حقیقی حور و غلمان کی خواہش و تمنا نہیں رکھتے) ۔

Our constrained heart is not truly constrained, our arrow is not shot by any houri's glance;

13

آتش ما را بیفزاید فراق

جان ما را سازگار آید فراق

ہجر و فراق ہم عاشقوں کی آگ کو تیز کرتا ہے اور فراق ہی ہماری جان کے موافق ہے ۔

Our fire augments out of separation, separation is congenial to our soul.

14

بی خلشها زیستن ، نا زیستن

باید آتش در ته پا زیستن

دل میں عشق کے کانٹوں کی چھبن کے بغیر جینا کوئی جینا نہیں ۔ ضروری ہے کہ عاشق پاؤں کے نیچے آگ کے ساتھ جیئے ۔ آتش زیر پا رہنا ہی زندگی ہے ۔

Life without prickings is no true life; one must live with a fire under one's feet.

15

زیستن این گونه تقدیر خودی است

از همین تقدیر تعمیر خودی است

اس طرح جینا خودی کی تقدیر ہے اوراسی تقدیر سے خودی کی تعمیر ہوتی ہے ۔

Such living is the destiny of the self and through this destiny the self is built up.

16

ذره ئی از شوق بیحد رشک مهر

گنجد اندر سینه او نه سپهر

ایک ذرہ اپنے اندر بے حد شوق کے سبب سورج کے لیے باعث رشک بن جاتا ہے اور یوں اس کے سینے میں نو آسمان سما جاتے ہیں ۔

A mote through infinite yearning becomes the envy of the sun, in its breast the nine spheres cannot be contained;

17

شوق چون بر عالمی شبخون زند

آنیان را جاودانی می کند

جب شوق، عشق کسی جہان پر شب خون مارتا ہے تو فانی زندگی والوں کو جاودانی بنا دیتا ہے ۔

When yearning makes assault upon a world it transforms momentary beings into immortals.

بند 3
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
18

گردش تقدیر مرگ و زندگیست

کس نداند گردش تقدیر چیست

تقدیر کی گردش موت اور زندگی ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ تقدیر کی گردش کیا ہے

The wheeling of destiny is death and life; no man knows what the wheeling of destiny is.

بند 4
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 4
19

هر که از تقدیر دارد ساز و برگ

لرزد از نیروی او ابلیس و مرگ

جو کوئی تقدیر کا سازوسامان رکھتا ہے اس کی طاقت سے ابلیس اور موت دونوں پر کپکپی طاری رہتی ہے ۔

Whoever possesses the apparatus of destiny, Iblis and death tremble before his might.

20

جبر دین مرد صاحب همت است

جبر مردان از کمال قوت است

جبر صاحب ہمت مرد کا دین ہے اور مردوں ، دلیروں کا جبر قوت کے کمال کے سبب سے ہے ۔

Predestination is the religion of men of zeal, predestination for heroes is the perfection of power.

21

پخته مردی پخته تر گردد ز جبر،

جبر مرد خام را آغوش قبر

ایک پختہ یعنی کامل مرد جبر سے اور بھی زیادہ پختہ تر ہو جاتا ہے ۔ اس کے برعکس ایک مردِ خام ناپختہ کے لیے جبر قبر کی آغوش (موت) بنتا ہے اور یوں وہ موت سے بھی ڈرتا رہے گا ۔

Ripe souls become yet riper through constraint which for raw men is the embrace of the tomb.

22

جبر خالد عالمی برهم زند

جبر ما بیخ و بن ما بر کند

(حضرت )خالد کا جبر ایک دنیا کو تہ و بالا کر دیتا ہے ۔ ہمارا جبر خود ہماری جڑ اکھیڑ ڈالتا ہے ۔

Khalid constrained turns a world upside down; for us, constraint tears us up by the roots.

23

کار مردان است تسلیم و رضا

بر ضعیفان راست ناید این قبا

تسلیم و رضا مردوں ، دلیروں کا کام ہے جبکہ ضعیفوں ، کمزوروں پر یہ قبا درست پوری نہیں آتی ۔

The business of true men is resignation and submission; this garment does not suit the weaklings.

24

تو که دانی از مقام پیر روم

می ندانی از کلام پیر روم

(اے زندہ رود) تو جو پیرِ روم کے مقام سے باخبر ہے کیا تجھے پیر روم کے اس کلام کا علم نہیں ۔

You who know the station of the Sage of Rum, do you not know the words of the Sage of Rum?

”“
25

«بود گبری در زمان با یزید

گفت او را یک مسلمان سعید

حضرت بایزید کے زمانے میں ایک آتش پرست تھا ۔ اس سے ایک نیک بخت مسلمان نے کہا ۔

'A fire-worshipper there was in the time of Ba Yazid; a blessed Muslim said to him,

26

خوشتر آن باشد که ایمان آوری

تا بدست آید نجات و سروری

کہ اچھی بات تو یہ ہے کہ تو ایمان لے آئے (اسلام قبول کر لے) تا کہ آخرت میں نجات پائے ۔

"Better were it if you accepted the Faith so that salvation and the excellence would be yours."

27

گفت این ایمان اگر هست ای مرید

آن که دارد شیخ عالم با یزید

اس پر اس آتش پرست نے کہا کہ اے (بایزید کے ) مرید اگر ایمان یہی ہے کہ جو شیخِ عالم بایزید کا ایمان ہے

The other said, "Disciple, if this be faith that the Shaykh of the World Ba Yazid possesses,

28

من ندارم طاقت آن ، تاب آن

کان فزون آمد ز کوششهای جان

تو مجھ میں اسکی تاب اور طاقت نہیں ہے۔

I cannot endure its glowing heat which is too great for the strivings of my soul."'

رومی
29

کار ما غیر از امید و بیم نیست

هر کسی را همت تسلیم نیست

ہمارا کام امید اور ڈر کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ ہر کسی میں تسلیم و رضا کی ہمت نہیں ہے ۔

Our concern is only with hope and fear; not every man has the zeal to surrender.

30

ایکه گوئی بودنی این بود ، شد

کار ها پابند آئین بود ، شد

اے وہ انسان تو جو یہ کہتا تھا کہ جوکچھ ہونے والا تھا وہ یہی تھا اور ہو گیا ۔ ہم ایک آئین کے پابند تھے اس لیے ایسا ہوا ۔

You who say, 'This was to be, and so happened, all things were tethered to a divine decree, and so happened,'

31

معنی تقدیر کم فهمیده ئی

نی خودی را نی خدا را دیده ئی

تو تقدیر کے معنی نہیں سمجھتا، اور یوں تو نے نہ تو خودی کو دیکھا ہے اور نہ خدا ہی کو دیکھا ہے ۔

You have little understood the meaning of destiny; you have seen neither selfhood nor God.

32

مرد مؤمن با خدا دارد نیاز

«با تو ما سازیم ، تو با ما بساز»

مرد مومن خدا کے ساتھ راز و نیا ز رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم تجھ سے موافقت کرتے ہیں ۔

The believer true thus petitions God: 'We accord with you, so accord with us.'

33

عزم او خلاق تقدیر حق است

روز هیجا تیر او تیر حق است

اس مردِ مومن کا ارادہ حق کی تقدیر کا خالق ہے ۔ جنگ کے دن اس کا تیر حق بن جاتا ہے ۔

His resolution is the creator of God's determination and on the day of battle his arrow is God's arrow.

بند 5
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 5
34

کم نگاهان فتنه ها انگیختند

بندهٔ حق را به دار آویختند

بصیرت سے عار ی لوگوں نے فتنے برپا کر دیے انھوں نے ایک بندہَ حق (حلاج) کوپھانسی کے تختے پر چڑھا دیا، سولی پر لٹکا دیا ۔

Men of short vision have stirred up commotions and hung God's true servant on the gibbet.

35

آشکارا بر تو پنهان وجود

باز گو آخر گناه تو چه بود؟

تجھ پر وجود کے بھید ظاہر ہیں ، پھر یہ تو بتا کہ آخر تیرا گناہ کیا تھا (جو تجھے سولی پر لٹکایا گیا) ۔

The hidden things of Being are manifest to you; declare then, what was your crime?

بند 6
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 6
36

بود اندر سینهٔ من بانگ صور

ملتی دیدم که دارد قصد گور

میرے سینے میں بانگِ صور تھی ۔ میں نے ایک ملت کو دیکھا کہ وہ قبر کا ارادہ کر رہی ہے ۔

The sound of the Last Trump was in my breast; I saw a people hastening to the tomb,

37

مؤمنان با خوی و بوی کافران

لااله گویان و از خود منکران

ان مومنوں کی خوبو کافروں جیسی تھی ، زبان سے تو وہ لا الہ کہتے تھے لیکن اپنے آپ سے منکر تھے ۔

Believers with the character and colour of infidels who cried 'No god but God' and denied the self.

38

«امر حق» گفتند نقش باطل است

زانکه او وابستهٔ آب و گل است

وہ کہتے تھے کہ امرِ حق ایک باطل نقش ہے کیونکہ وہ بدن کے ساتھ وابستہ ہے (اس کا تعلق بدن سے ہے)

'God's bidding' they called a vain image because it was bound to water and clay.

39

من بخود افروختم نار حیات

مرده را گفتم ز اسرار حیات

میں نے اپنے اندر زندگی کی آگ روشن کی، مردوں کو زندگی کے راز بتا دیئے ۔

I kindled in my self the fire of life and spoke to the dead of the mysteries of life.

40

از خودی طرح جهانی ریختند

دلبری با قاهری آمیختند

میں (حلاج) نے ان سے کہا کہ جہان کی بنیاد خودی پر رکھی گئی ہے ۔ یہاں دلبری (جمال) کو قاہری (جلال) سے ملا دیا گیا ہے ۔

The whole world has been founded on selfhood, love therein has been compounded with violence;

41

هر کجا پیدا و نا پیدا خودی

بر نمی تابد نگاه ما خودی

خودی جہان میں ہر جگہ ہے کہیں ظاہر ہے اور کہیں پوشیدہ ، ہماری نگاہیں خودی کے جلوے کی تاب نہیں لا سکتیں ۔

Selfhood is everywhere visible, yet invisible, our gaze cannot endure to look on selfhood;

42

نار ها پوشیده اندر نور اوست

جلوه های کائنات از طور اوست

اس (خودی) کے نور کے اندر نار (آگ) چھپی ہوئی ہے ۔ کائنات کے سارے جلوے اسی طور کی تجلیات کے ہیں ۔

Within its light many fires lurk hidden, from its Sinai creation's epiphanies shine.

43

هر زمان هر دل درین دیر کهن

از خودی در پرده میگوید سخن

اس پرانی دنیا میں ہر دل ہر لمحہ خودی سے پوشیدہ طور پر گفتگو کرتا ہے ۔

Every moment every heart in this ancient convent discourses, albeit secretly, of the self;

44

هر که از نارش نصیب خود نبرد

در جهان از خویشتن بیگانه مرد

جس کسی نے بھی اس (خودی) کی آگ سے اپنا حصہ نہ لیا یعنی استفادہ نہ کیا وہ جہان میں خود سے بیگانہ ہو کر یا خودی سے محروم ہو کرمر گیا ۔

Whoever has not taken his share of its fire has died in the world, a stranger to himself.

45

هند و هم ایران ز نورش محرم است

آنکه نارش هم شناسد آن کم است

ہندوستان اور ایران کے لوگ خودی کے نور سے تو واقف ہیں لیکن ان میں کوئی اسکی نار کو بھی پہچانے نہیں ہے ۔

India and Iran alike are privy to its light, but few there are who also know its fire.

46

من ز نور و نار او دادم خبر

بندهٔ محرم گناه من نگر

میں نے خود کے نور اور نار کی خبر دی ، اے اسرار سے آگاہ بندے یعنی زندہ رود تو ہی بتا کہ اس میں میرا کیا گناہ تھا ۔

I have spoken of its light and its fire; confidant of my secret, see now my crime.

47

آنچه من کردم تو هم کردی بترس

محشری بر مرده آوردی بترس

(اے زندہ رود) جو کچھ میں نے کیا اب وہی کچھ تو بھی کر رہا ہے ۔ (خودی پہچاننے کی تلقین کر رہا ہے ) تو ڈر کے رہ، کہیں تجھ سے بھی میرے جیسا سلوک نہ ہو ۔ تو نے بھی مردہ قوم کو جگانے کے لیے محشر برپا کیا ہے اس لیے ڈر کر رہ ۔ کہیں نامحرم لوگ تجھے بھی میرے والی سزا نہ دیں ۔

What I have done you too have done; beware! You have sought to resurrect the dead: beware!

بند 7
طاهره

Tahira

Toggle stanza 7
48

از گناه بندهٔ صاحب جنون

کائنات تازه ئی آید برون

(طاہرہ کو بھی حلاج کی طرح قتل کیا گیا تھا ) عشق کے جذبو ں سے سرشار ایک بندے کے گناہ سے ایک نئی کائنات وجود میں آتی ہے (طاہرہ نے حلاج کی حمایت میں بات کی ہے) ۔

Tahira From the sin of a frenzied servant of God new creatures come into being;

49

شوق بیحد پرده ها را بر درد

کهنگی را از تماشا می برد

حد سے بڑھے ہوئے عشق سارے پردے پھاڑ دیتا ہے اور اس کے تماشا سے قدامت پرستی کا خاتمہ کر دیتا ہے ۔

Unbounded passion rends veils apart, removes from the vision the old and stale,

50

آخر از دار و رسن گیرد نصیب

بر نگردد زنده از کوی حبیب

ایک عاشق کے نصیب میں آخر کار دار و رسن ہوتی ہے ۔ وہ (عاشق) محبوب حقیقی کے کوچے سے زندہ واپس نہیں آتا ۔

And in the end meets its portion in rope and gallows; neither turns back living from the Beloved's street.

51

جلوهٔ او بنگر اندر شهر و دشت

تا نپنداری که از عالم گذشت

تو (زندہ رود) اس (حلاج جیسے سچے عاشق) کا جلوہ آج بھی شہر اور بیابان میں دیکھ تا کہ تو یہ نہ سمجھ لے کہ وہ تو دنیا ہی سے رخصت ہو گیا ہے ۔

Behold Love's glory in city and fields, lest you suppose it has passed away from the world;

52

در ضمیر عصر خود پوشیده است

اندرین خلوت چسان گنجیده است

وہ (منصور) اپنے زمانے کے ضمیر میں پوشیدہ (چھپا ہوا) ہے وہ اس ضمیر کی خلوت میں کیسے سما گیا ہے (وہ تو کائنات میں بھی نہیں سما سکتا ) ۔

It lies concealed in the breast of its own time - how could it be contained in such a closet as this?

بند 8
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 8
53

ای ترا دادند درد جستجوی

معنی یک شعر خود با من بگوی

اے (غالب) تجھے تلاش و جستجو کا درد عطا ہوا ہے ، مجھے اپنے ایک شعر کے معنی تو بتائیے ۔

You who have been given the agony of the eternal quest, explain to me the meaning of a verse of yours:

54

«قمری ، کف خاکستر و بلبل قفس رنگ

ای ناله نشان جگر سوخته ئی چیست»

قمری تو کف خاکستر ہے، اور بلبل رنگ کا ایک پنجرہ ہے ۔ بلبل کے سیاہ رنگ سے بھی اس کے باطن میں جلی ہوئی آگ ظاہر ہو رہی ہے ۔ اے نالہ نشانِ جگر سوختہ کیا ہے، اے نالہَ انسان جگر سوختہ کا نشان کیا ہے

The dove is a handful of ashes, the nightingale a network of colour - O lamentation, what is the true sign of a broken heart?

بند 9
غالب

Ghalib

Toggle stanza 9
55

ناله ئی کو خیزد از سوز جگر

هر کجا تأثیر او دیدم دگر

وہ نالہ جو جگر کے سوز سے اٹھتا ہے ، میں نے ہر جگہ اس کی تاثیر مختلف دیکھی ہے ۔

The lament that rises out of a broken heart - I have seen its effect different in every place;

56

قمری از تأثیر او وا سوخته

بلبل از وی رنگها اندوخته

قمری اس کی تاثیر سے مکمل طور پر جل جاتی ہے، لیکن بلبل اس کی تاثیر سے کئی رنگ اختیار کر لیتی ہے ۔

The dove is consumed through its influence, the nightingale daubed with colours as its result.

57

اندرو مرگی به آغوش حیات

یک نفس اینجا حیات آنجا ممات

اسی نالے کے اندر موت، زندگی کی گود میں ہے ۔ ایک ہی دم یہاں (بلبل کو) زندگی دیتا ہے اور وہاں (قمری کو) موت دیتا ہے (یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ سانس کا لمحہ ایک ہی ہے جو یہاں موت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور وہاں زندگی کی) ۔

In it, death is in the embrace of life, one moment here is life, there is death;

58

آنچنان رنگی که ارژنگی ازوست

آنچنان رنگی که بیرنگی ازوست

یہ ایک ایسا رنگ ہے کہ اس سے کئی قسم کے رنگ پیدا ہوتے ہیں ، یہ ایک ایسا بھی رنگ ہے جس سے بے رنگی پیدا ہوتی ہے ۔

Such a colour as glowed in Mani's abode, such a colour as begets colourlessness.

59

تو ندانی این مقام رنگ و بوست

قسمت هر دل بقدر های و هوست

تو نہیں جانتا کہ یہ رنگ و بو کا مقام ہے، یہاں ہر دل کی قسمت اس کے ہائے و ہو کے مطابق حصہ پاتا ہے ۔

You know not, this is the station of colour and scent; the portion of every heart is according to its ululation.

60

یا به رنگ آ ، یا به بیرنگی گذر

تا نشانی گیری از سوز جگر

تو یا تو رنگ میں آ جایا پھر بے رنگی میں گزر جا ۔ (بے رنگی اختیار کر لے ) تاکہ تجھے سوزِ جگر سے کوئی نشان حاصل ہو سکے ۔

Either enter colour, or pass into colourlessness, that you may grasp a token of the broken heart.

بند 10
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 10
61

صد جهان پیدا درین نیلی فضاست

هر جهان را اولیا و انبیاست

اس نیلی فضا میں سینکڑوں جہاں موجود ہیں ، کیا ہر جہان میں اولیاَ اور انبیا َ ہوتے ہیں ۔

A hundred worlds are manifest in this azure expanse; are there saints and prophets in every world?

بند 11
غالب

Ghalib

Toggle stanza 11
62

نیک بنگر اندرین بود و نبود

پی به پی آید جهانها در وجود

اس ہستی و عدم کو غور سے دیکھ، یہاں مسلسل جہان وجود میں آ رہے ہیں ۔

Consider well this being and not-being; continuously worlds are coming into existence.

63

«هر کجا هنگامهٔ عالم بود

رحمة’‘ للعالمینی هم بود»

جہاں کہیں بھی دنیا کا ہنگامہ ہے وہاں ایک رحمت للعالمین بھی ہیں ۔

Wherever the tumultuous clamour of a world arises, there too is a Mercy unto all beings.

بند 12
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 12
127

فاش تر گو زانکه فهمم نارساست

وضاحت سے کہیے کیونکہ میرا فہم نارسا ہے (سمجھنے والا نہیں ہے ) ۔

Speak more plainly; my understanding flags.

بند 13
غالب

Ghalib

Toggle stanza 13
128

این سخن را فاش تر گفتن خطاست

یہ بات بھول کر کہنا خطا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

It were a sin to speak of these things more plainly.

بند 14
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 14
129

گفتگوی اهل دل بیحاصل است

کیا اہل دل کی گفتگو بے حاصل ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Then is the conversation of adepts unprofitable?

بند 15
غالب

Ghalib

Toggle stanza 15
130

نکته را بر لب رسیدن مشکل است

(اس) نکتے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

It is difficult to give tongue to this subtlety.

بند 16
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 16
64

تو سراپا آتش از سوز طلب

بر سخن غالب نیائی ای عجب

آپ تو سوز طلب سے سر تا پا آتش ہیں ؛ تعجب کی بات ہے کہ آپ بھی سخن پر غالب (نہیں)۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

You are wholly afire with the glow of the quest, yet how strange, you cannot master mere words!

بند 17
غالب

Ghalib

Toggle stanza 17
65

خلق و تقدیر و هدایت ابتداست

رحمة’‘ للعالمینی انتهاست

تخلیق کرنا ، ہر وجود کی استعداد مقرر کرنا اور اس کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنا – یہ ابتدا ہے اور مقام رحمۃ للعالمین انتہا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'Creation', 'Predestination', 'Guidance' are the beginning; a Mercy unto all beings is the end.

بند 18
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 18
66

من ندیدم چهرهٔ معنی هنوز

آتشی داری اگر ما را بسوز

میں ابھی تک معنی کا چہرہ نہیں دیکھ سکا ؛ اگر تو آتش رکھتا ہے تو میرے (افکار پریشان کو) جلا دے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

I have not yet glimpsed the face of the meaning; if you possess a fire, then burn me!

بند 19
غالب

Ghalib

Toggle stanza 19
67

ای چو من بینندهٔ اسرار شعر

این سخن افزونتر است از تار شعر

تو بھی میری طرح اسرار شعر کا جاننے والا ہے یہ بات شعر میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

You who like me descry the secrets of poetry, these words overstretch the string of poetry;

68

شاعران بزم سخن آراستند

این کلیمان بی ید بیضاستند

شاعر محض سخن آرائی کرتے ہیں؛ یہ ایسے کلیم ہیں جن کے پاس ید بیضا نہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The poets have adorned the banquet of words, but these Moses lack the White Hand.

69

آنچه تو از من بخواهی کافری است

کافری کو ماورای شاعری است

جو کچھ تو مجھ سے چاہتا ہے یہ کافری ہے اور شاعری سے ماورا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

What you demand of me is unbelief, an unbelief transcending poetry.

بند 20
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 20
70

هر کجا بینی جهان رنگ و بو

آن که از خاکش بروید آرزو

جہاں کہیں تو جہان رنگ و بو دیکھتا ہے؛ ایسا جہان جس کی خاک سے آرزو پھوٹتی ہو۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Wherever you see a world of colour and scent out of whose soil springs the plant of desire

71

یا ز نور مصطفی او را بهاست

یا هنوز اندر تلاش مصطفی است

یا تو اس کی قدر و قیمت نور مصطفے ﷺ سے ہے یا وہ ابھی تک مصطفے ﷺ کی تلاش میں ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Is either already illumined by the light of the Chosen One or is still seeking for the Chosen One.

بند 21
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 21
72

از تو پرسم گرچه پرسیدن خطاست

سر آن جوهر که نامش مصطفی است

گرچہ یہ بات پوچھنی خطا ہے مگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ وہ جوہر جس کا نام مصطفے ﷺ ہے اس کا راز کیا ہے؟

ترجمہ: میاں عبدالرشید

I ask of you - though to ask is a sin - the secret of that essence whose name is the Chosen One;

73

آدمی یا جوهری اندر وجود

آنکه آید گاهگاهی در وجود

وہ آدم ہے یا جوہر جو گاہے گاہے وجود میں آتا ہے؛ (انبیا کی ارواح کا درجہ باقی ارواح سے افضل ہے اور حضور اکرم ﷺ کی روح خاص الخواص ہے؛ جو سب سے پہلے تخلیق کی گئی۔یہاں انبیا کی بعثت کی طرف اشارہ ہے)۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Is it a man, or an essence in being such as but rarely comes into existence?

بند 22
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 22
74

پیش او گیتی جبین فرسوده است

خویش را خود عبده فرموده است

آپ ﷺ کے سامنے زمانہ سر بسجود ہے؛ لیکن آپ ﷺ نے خود اپنے آپ کو عبدہ کہا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Before him the whole world bows prostrate, before him who called himself His servant.

75

عبده‘ از فهم تو بالاتر است

زانکه او هم آدم و هم جوهر است

کا مقام تیرے فہم سے بالاتر ہے کیونکہ وہ آدم بھی ہے اور جوہر بھی۔عبدہ

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'His servant' surpasses your understanding because he is man, and at the same time essence.

76

جوهر او نی عرب نی اعجم است

آدم است و هم ز آدم اقدم است

اس کا جوہر نہ عرب سے ہے نہ عجم سے؛ ہے وہ آدم مگر اس کا وجود آدم سے پہلے ہے (حضور ﷺ نے فرمایا میں اس وقت بھی موجود تھا جب آدم ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

His essence is neither Arab nor non-Arab; he is a man, yet more ancient than man.

77

عبده صورتگر تقدیر ها

اندرو ویرانه ها تعمیر ها

عبدہ سے تقدیر وں کو بنانے والا ہے اس کے اندر ویرانے بھی ہیں اور تعمیرات بھی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'His servant' is the shaper of destinies, in him are deserts and flourishing cultivations;

78

عبده هم جانفزا هم جان ستان

عبده هم شیشه هم سنگ گران

عبدہ مومنوں کی جان میں افزودگی کا باعث بنتا ہے؛ اور کفار کی جان کھینچ لیتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'His servant' both increases life and destroys it, 'His servant' is both glass and heavy stone.

79

عبد دیگر عبده چیزی دگر

ما سراپا انتظار او منتظر

عبد اور ہے، اور عبدہ اور جیز ہے؛ ہم سرا پا انتظار ہیں اور اس کا انتظار کیا جاتا ہے (معراج کی طرف اشارہ ہے)۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'Servant' is one thing, 'His servant' is another; we are all expectancy, he is the expectation.

80

عبده‘ دهر است و دهر از عبده است

ما همه رنگیم و او بی رنگ و بوست

عبدہ زمانہ ہے اور زمانہ عبدہ سے پیدا ہوتا ہے؛ ہم سب مختلف (تعصبات کے) رنگوں میں رنگے ہوئے ہیں اور وہ بے رنگ و بو ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'His servant' is time, and time is of 'His servant'; we all are colour, he is without colour and scent.

81

عبده با ابتدا بی انتها است

عبده را صبح و شام ما کجاست

اگرچہ عبدہ کی ابتدا ہے مگر اس کے (ارتقا) کی کوئی انتہا نہیں ؛ عبدہ کے صبح و شام ہمارے صبح و شام نہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'His servant' had beginning, but has no end; what have our morn and eve to do with 'His servant'?

82

کس ز سر عبده آگاه نیست

عبده جز سر الا الله نیست

عبدہ سے کے سرّ سے کوئی آگاہ نہیں؛ صرف عبدہ ہی الا اﷲ کا سرّ ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

No man knows the secret of 'His servant', 'His servant' is naught but the secret of 'save God'.

83

لااله تیغ و دم او عبده

فاش تر خواهی بگو هو عبده

لاالہ تیغ ہے اور اس کی دھار عبدہ ہے؛ فاش تر کہیں تو وہ خود عبدہ ہی ہے۔(آیک حدیث قدسی کے مطابق بندہ نوافل یعنی زائد عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاص کرتا چلا جاتا؛ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی بصارت بن جاتے ہیں، اس کے ہاتھ بن جاتے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'Save God' is the sword whose edge is 'His servant'; do you want it plainer? Say, He is 'His servant'.

84

عبده‘ چند و چگون کائنات

عبده راز درون کائنات

عبدہ سے کائنات کا معیار ہے؛ وہی کائنات کا راز درون ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

'His servant' is the how and why of creation, 'His servant' is the inward mystery of creation.

85

مدعا پیدا نگردد زین دو بیت

تا نبینی از مقام «ما رمیت»

ان دو بیت سے بات واضح نہیں ہوتی جب تک تو مقام 'ما رمیت ' کو نہ سمجھے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The true meaning of these two verses becomes not clear until you behold from the station of Thou threwest not.

86

بگذر از گفت و شنود ای زنده رود

غرق شو اندر وجود ای زنده رود

اے زندہ رود بات چیت چھوڑ؛ اور (عبد ہ کے) وجود کے اندر گم ہو جا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Zinda-Rud, have done now with speaking and listening, become drowned in the ocean of being, Zinda-Rud.

بند 23
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 23
87

کم شناسم عشق را این کار چیست

ذوق دیدار است پس دیدار چیست

میں نہیں سمجھ سکا کہ عشق کا کیا کام ہے؟ اگر ذوق دیدار ہے تو دیدار کیا ہے؟

ترجمہ: میاں عبدالرشید

I know so little - what is this business of Love? Is it the joy of beholding? Then what is beholding?

بند 24
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 24
88

معنی دیدار آن آخر زمان

حکم او بر خویشتن کردن روان

نبی آخر زمان ﷺ کے دیدار کے معنی یہ ہیں کہ اپنے اوپر آپ ﷺ کا حکم جاری کیا جائے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The meaning of beholding that Last of Time is to make his rule binding on oneself.

89

در جهان زی چون رسول انس و جان

تا چو او باشی قبول انس و جان

دنیا میں جناب رسول پاک ﷺ کی سنت کے مطابق زندگی بسر کر تاکہ تو بھی ان ﷺ کی مانند انس و جان کا محبوب بن جائے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Live in the world like the Apostle of men and jinn that like him you may be accepted by men and jinn.

90

باز خود را بین همین دیدار اوست

سنت او سری از اسرار اوست

پھر اپنے آپ کو دیکھ ، یہی آپ ﷺ کا دیدار ہے؛ آپ ﷺ کی سنت ہی آپ ﷺ کے اسرار کا ایک سرّ ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Then behold yourself - that is the same as beholding him; his Sunna is a secret of his secrets.

بند 25
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 25
91

چیست دیدار خدای نه سپهر

آنکه بی حکمش نگردد ماه و مهر

کائنات کے مالک (اللہ تعالیٰ) جن کے حکم کے بغیر سورج چاند گردش نہیں کرتے ؛ ان کا دیدار کیا چیز ہے؟

ترجمہ: میاں عبدالرشید

What is the beholding of the God of the nine spheres, of Him without whose command moon and sun do not revolve?

بند 26
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 26
92

نقش حق اول بجان انداختن

باز او را در جهان انداختن

پہلے اللہ تعالیٰ کے نقش کو اپنی جان پر ثبت کرنا (اللہ تعالیٰ کے احکام کو اپنے اوپر نافذ کرنا) پھر انہیں جہان میں نافذ کرنا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

First, to implant on one's soul the image of God, then next to implant it on the world;

93

جان تا در جهان گردد تمام

می شود دیدار حق دیدار عام

جب اپنی جان پر ثبت کیا ہوا نقش حق تعالیٰ دنیا میں مکمل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کا دیدار عام ہو جاتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

When the soul's image is perfected in the world, to behold the commons is to behold God.

94

ای خنک مردی که از یک هوی او

نه فلک دارد طواف کوی او

مبارک ہے وہ شخص جس کی ایک 'ہو' سے نو آسمان اس کی گلی کا طواف کرنے لگتے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Blessed is the man whose single sigh causes the nine heavens to circle about his dwelling;

95

وای درویشی که هوئی آفرید

باز لب بر بست و دم در خود کشید

افسوس ہے اس درویش پر جس نے ایک بار 'ہو' کی آواز نکالی مگر پھر اپنے لب بند کر لیے اور اپنی سانس روک لی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Woe to the dervish who, having uttered a sigh, then closes his lips and draws back his breath!

96

حکم حق را در جهان جاری نکرد

نانی از جو خورد و کراری نکرد

اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دنیا میں نافذ نہ کیا ؛ جو کی روٹی تو کھائی مگر حیدر کرّارؓ کا سا عمل اختیار نہ کیا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Such a one never made God's rule to run in the world; he ate barley-bread, but never fought like Ali;

97

خانقاهی جست و از خیبر رمید

راهبی ورزید و سلطانی ندید

اس نے خانقاہ ڈھونڈی مگر معرکۂ خیبر سے دور رہا؛ راہبی اختیار کی مگر سلطانی نہ دیکھی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

He sought a convent and fled from Khyber, he practised monkhood and never saw royal power.

98

نقش حق داری جهان نخچیر تست

هم عنان تقدیر با تدبیر تست

اگر تو اپنے اندر نقش حق رکھتا ہے تو جہان کو شکار کر؛ تقدیر بھی تیری تدبیر کے مطابق راستہ اختیار کرے گی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Do you possess God's image? The world is your prey; destiny shares the same reins as your design.

99

عصر حاضر با تو می جوید ستیز

نقش حق بر لوح این کافر بریز

عصر حاضر تجھ سے نبرد آزمائی چاہتا ہے؛ اس کافر پر اللہ تعالیٰ کا نقش ثبت کر دے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The present age seeks to war with you; imprint God's image on this infidel's tablet!

بند 27
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 27
100

نقش حق را در جهان انداختند

من نمی دانم چسان انداختند

جہان پر اللہ تعالیٰ کا نقش ڈالا گیا ہے ۔ مگر میں نہیں جانتا کہ اسے کیسے ثبت کیا گیا ہے ۔

God's image has been implanted on the world; I do not know how it has been implanted.

بند 28
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 28
101

یا بزور دلبری انداختند

یا بزور قاهری انداختند

یا تو دلبری (جمال) کے زور سے یہ نقش ڈالا گیا یا پھر قاہری (جلال و دبدبہ ) کے زور سے ۔

It has been implanted by force of love or it has been implanted by force of violence;

102

زانکه حق در دلبری پیدا تر است

دلبری از قاهری اولی تر است

چونکہ حق دلبری میں زیادہ واضح ہوتا ہے اس لیے دلبری ، قاہری سے بہتر ہے (اونچا درجہ رکھتی ہے ) ۔

Because God is more manifest in love, love is a better way than violence.

بند 29
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 29
103

باز گو ای صاحب اسرار شرق

در میان زاهد و عاشق چه فرق

اے اہل مشرق کے رازدان، ایک بار پھر بیان کر کہ زاہد اور عاشق کے درمیان کیا فرق ہے

Declare, master of the secrets of the East, what difference is there between the ascetic and the lover?

بند 30
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 30
104

زاهد اندر عالم دنیا غریب

عاشق اندر عالم عقبی غریب

زاہد دنیا میں اجنبی ہے اور عاشق عالم عقبیٰ (جنت) میں اجنبی ہے ۔

The ascetic is a stranger in this present world, the lover is a stranger in the world to come.

بند 31
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 31
105

معرفت را انتها نابودن است

زندگی اندر فنا آسودن است

معرفت کی انتہا اپنی فنا (ہستی مٹانا) ہے ۔ کیا زندگی فنا میں آرام و سکون حاصل کرنا ہے

The end of gnosis is not-being; what is life to repose in annihilation?

بند 32
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 32
106

سکر یاران از تهی پیمانگی است

نیستی از معرفت بیگانگی است

دوستوں کی مستی ان کے خالی پیالے کے باعث ہے ۔ فنا (اپنے آپ کو مٹا دینا) معرفت سے بیگانگی (نا آشنا ہونے) کا نام ہے ۔

The intoxication of lovers comes from emptied cups; not-being is to be ignorant of gnosis.

107

ای که جوئی در فنا مقصود را

در نمی یابد عدم موجود را

تو جو فنا میں اپنے مقصود کو تلاش کر رہا ہے یہ جان لے کہ عدم موجود کو نہیں پا سکتا ۔ (عدم موجود کی ضد ہے) ۔

You who seek your goal in annihilation, non-existence can never discover existence.

بند 33
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 33
108

آنکه خود را بهتر از آدم شمرد

در خم و جامش نه می باقی نه درد

وہ کہ جس نے خود کو آدم سے بہتر شمار کیا یعنی ابلیس ، اس کے مٹکے اور پیالے میں نہ تو شراب باقی ہے اور نہ تلچھٹ ۔

He who counted himself better than Adam; in his jar and cup remains neither wine nor lees;

109

مشت خاک ما بگردون آشناست

آتش آن بی سر و سامان کجاست

ہم انسانوں کی مٹی کی مٹھی تو آسمان سے آشنا ہے ۔ اس بے سروسامان (ابلیس) کی آگ (جس پر اسے ناز تھا ) آج کہاں ہے ۔

Our handful of dust is acquainted with the skies; where is the fire of that destitute one?

بند 34
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 34
110

کم بگو زان خواجهٔ اهل فراق

تشنه کام و از ازل خونین ایاق

تو اس خواجہ اہل فراق کی بات نہ کر، وہ جو پیاسا ہے اور ازل سے اس جس کا پیالہ خون سے بھرا ہوا ہے (وہ اہل فراق کا سردار اس لحاظ سے ہے کہ وہ درگاہِ ایزدی سے راندہ ہو گیا ہے جو کوئی اس کی پیروی کرے گا خدا سے دور ہو جائے گا ) ۔

Speak little of that Leader of those in separation, throat athirst, and eternally a blood-filled cup.

111

ما جهول ، او عارف بود و نبود

کفر او این راز را بر ما گشود

ہم جہول ہیں جبکہ وہ (ابلیس) ہستی و نیستی کا عارف (واقف ) ہے ۔ اس کے اس کفر یعنی آدم کو سجدہ کرنے سے انکار نے ہم پر یہ راز کھولا ہے ۔

We are ignorant, he knows being and not-being; his infidelity revealed to us this mystery,

112

از فتادن لذت برخاستن

عیش افزدون ز درد کاستن

اٹھنے کی لذت گرنے ہی سے ہے اور درد سے گھٹ جانے میں عشق کا اضافہ ہے ۔

How that from falling comes the delight of rising, from the pain of waning springs the joy of waxing.

113

عاشقی در نار او وا سوختن

سوختن بی نار او نا سوختن

عاشقی اس (ابلیس) کی آگ میں جل جانے کا نام ہے ۔ اس کی آگ میں جلنا نہ جلنے کے برابر ہے (ابلیس نے اپنے خالق کے سوا اور کسی کو سجدہ نہ کیا، گویا یہ پختہ عشق کی علامت ہے) ۔

Love is to burn in his fire; without his fire, burning is no burning.

114

زانکه او در عشق و خدمت اقدم است

آدم از اسرار او نامحرم است

چونکہ وہ (ابلیس) عشق اور خدمت میں سب سے پہلے (قدیم تر) ہے یعنی آدم سے پہلے کا ہے، اس لیے آدم اس کے رازوں سے بے خبر ہے ۔

Because he is more ancient in love and service, Adam is not privy to his secrets.

115

چاک کن پیراهن تقلید را

تا بیاموزی ازو توحید را

(اے زندہ رود) تو کسی کی بے جا پیروی کے لباس کو پھاڑ ڈال (مت پیروی کر) تاکہ تو اس (ابلیس) سے توحید سیکھ سکے ۔

Tear off the skirt of blind conformity that you may learn God's Unity from him.

بند 35
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 35
116

ای ترا اقلیم جان زیر نگین

یک نفس با ما دگر صحبت گزین

اے (حلاج) کہ روح کی سلطنت تیرے قبضے میں ہے (تو روح کے رموز و اسرار سے آگاہ ہے ) کچھ دیر کے لیے ہمیں اپنی صحبت سے مزید نوازیئے ۔

You who hold the clime of the soul under your royal signet, keep company with me a moment more.

بند 36
حلاج

Hallaj

Toggle stanza 36
117

با مقامی در نمی سازیم و بس

ما سراپا ذوق پروازیم و بس

ہم ایک منزل سے موافقت نہیں کرتے یعنی رکتے اور بس، اس لیے کہ ہم سراسر ذوقِ پرواز ہیں اور بس ۔ (ہم ہر لمحہ نئی منزل کی تلاش میں رواں دواں رہتے ہیں ) ۔

We do not tolerate confinement to one station, we are wholly and singly a yearning to soar;

118

هر زمان دیدن تپیدن کار ماست

بی پر و بالی پریدن کار ماست

ہر لمحہ دیکھنا اور تڑپنا ہمارا کام ہے، بال و پر کے بغیر اڑنا ہمارا کام ہے ۔

Every instant our occupation is to see and to quiver, our labour is to fly without feathers and wings.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر به تو افتدم نظر چهره به چهره رو به رو

شرح دهم غم تو را نکته به نکته مو به مو

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 4 - نوای طاهره

اگلی نظم

صحبت روشندلان یک دم ، دو دم

آن دو دم سرمایهٔ بود و عدم

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 6 - نمودار شدن خواجهٔ اهل فراق ابلیس

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور