صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مشتری
  4. »بخش 6 - نمودار شدن خواجهٔ اهل فراق ابلیس

بخش 6 - نمودار شدن خواجهٔ اهل فراق ابلیس

ابلیس کا ظاہر ہونا

Satan Appears

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

صحبت روشندلان یک دم ، دو دم

آن دو دم سرمایهٔ بود و عدم

ان روشن دل حضرات کی صحبت بس دو ایک پل ہی رہی ۔ اور یہ دو ایک پل میرے لیے میری ساری زندگی کا سرمایہ بنے ۔

The company of the radiant of heart is for a breath or two, that breath or two is the substance of being and not-being;

2

عشق را شوریده تر کرد و گذشت

عقل را صاحب نظر کرد و گذشت

اس صحبت نے میرے عشق کو کچھ اور شوریدہ کر دیا اور ختم ہو گئی، اس نے میری عقل کو صاحب نظر بنا دیا اور ختم ہو گئی ۔

It made love more tumultuous, and then passed, endowed reason with vision, and then passed.

3

چشم بر بربستم که با خود دارمش

از مقام دیده در دل آرمش

میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ میں (اس عظیم صحبت کی یاد کو ) اپنے ساتھ رکھوں ، کبھی نہ بھولوں اور آنکھوں کی راہ سے اسے دل میں لے آوَں ، دل میں بسا لوں ۔

I closed my eyes to hold it still within me, to transport it from my eyes to my heart.

4

ناگهان دیدم جهان تاریک شد

از مکان تا لامکان تاریک شد

اچانک میں نے دیکھا کہ جہان تاریک ہو گیا ۔ مکاں سے لامکاں تک تاریکی چھا گئی ۔

Suddenly I saw the world had become dark, become dark from space even to spacelessness.

5

اندر آن شب شعله ئی آمد پدید

از درونش پیر مردی بر جهید

اس رات (تاریکی ) میں ایک شعلہ ظاہر ہوا، جس کے اندر سے ایک بوڑھا آدمی باہر نکلا ۔ (ابلیس کی تخلیق آگ سے ہوئی، اسی لیے شعلے کی بات کی گئی ہے) ۔

In that night a flame appeared from the midst of which an old man leaped forth

6

یک قبای سرمه ئی اندر برش

غرق اندر دود پیچان پیکرش

وہ ایک سرمئی رنگ کی کالی قبا میں ملبوس تھا ۔ اس کا جسم یا پیکر بل کھاتے ہوئے دھوئیں سے ڈوبا ہوا تھا ۔

Wrapped in a cloak of antimony grey, his body immersed in wreathing smoke.

7

گفت رومی خواجهٔ اهل فراق

آن سراپا سوز و آن خونین ایاق

رومی نے کہا کہ یہ اہل فراق کا سردار ابلیس ہے، جو سر تا پا سوز ہے اور جس کے پیالے (دل) میں خون بھرا ہوا ہے ۔ سراپا سوز اس لیے کہ وہ آگ سے بنایا گیا ہے، خونیں ایاق اس حوالے سے کہ وہ آدم کو سجدہ نہ کر کے راندہَ درگاہ ٹھہرا، یہ امر اسکی آرزووَں کا خون تھا ۔

Rumi said, ‘The Leader of the People of Separation! How all a-fire, and what a cup of blood!

8

کهنهٔ کم خندهٔ اندک سخن

چشم او بینندهٔ جان در بدن

وہ ایک ایسا بوڑھا ہے جو نہ ہنسنے والا ہے (سنجیدہ ہے) اور کم باتیں کرنے والا یعنی کم گو ہے ۔ اس کی نظر آدمی کے جسم میں جان کو دیکھ لیتی ہے ۔

Ancient, seldom smiling, of few words, his eyes scanning the soul within the body,

9

رند و ملا و حکیم و خرقه پوش

در عمل چون زاهدان سخت کوش

وہ رند بھی ہے ، ملا بھی ہے اور فلسفی و خرقہ پوش بھی ، عمل میں وہ سخت ریاضت کرنے والے زاہدوں کی مانند ہے ۔

Drunkard and mullah, philosopher and Sufi, in practice like a toiling ascetic,

10

فطرتش بیگانه ذوق وصال

زهد او ترک جمال لایزال۔

اس کی فطرت ذوق وصال سے نا آشنا ہے ۔ اس کا زہد اس حسنِ ابدی کو ترک کرنا ہے (اسے خدا سے دوری پسند ہے) ۔

His nature alien to the joy of union, his asceticism the abandonment of eternal beauty;

11

تا گسستن از جمال آسان نبود

کار پیش افکند از ترک سجود

چونکہ اس محبوبِ حقیقی کے جمال سے خود کو الگ یا دور رکھنا آسان نہ تھا اس نے یہ کام آدم کو سجدہ نہ کرنے سے انجام دیا ۔

Since it was not easy to break away from beauty, he made a beginning with spurning adoration.

12

اندکی در واردات او نگر

مشکلات او ثبات او نگر

ذرا اس کی واردات پر نظر ڈال ۔ اس کی مشکلات اور اس کا ثبات دیکھ ۔

Gaze a little at his visitations, gaze at his difficulties, his tenacity

13

غرق اندر رزم خیر و شر هنوز

صد پیمبر دیده و کافر هنوز

وہ ابھی تک رزم خیر و شر میں غرق ہے ۔ اس نے سینکڑوں پیغمبر دیکھے ہیں مگر ابھی تک وہ کافر کا کافر ہی ہے ۔

Still absorbed in the battle of good and evil, he has seen a hundred prophets, and is an infidel yet.’

14

جانم اندر تن ز سوز او تپید

بر لبش آهی غم آلودی رسید

اس (ابلیس) کی آگ (سوز) سے میرے جسم میں میری جان تڑپنے لگی، اس کے ہونٹوں سے ایک غم آلودہ آہ غم نکلی (اس نے غم بھری آہ کھینچی) ۔

My soul in my body quivered for his agony; a sigh of anguish broke from his lips.

15

گفت و چشم نیم وا بر من گشود

«در عمل جز ما که بر خوردار بود

اس نے اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا، عمل میں ہمارے سوا اور کون فائدہ اٹھانے والا ہوا ہے ۔

With eyes half-closed he turned to me and said; ‘Who besides me has so gloried in action?

16

آنچنان بر کار ها پیچیده ام

فرصت آدینه را کم دیده ام

میں اپنے کام میں اس حد تک الجھا ہوا ہوں کہ مجھے جمعہ کے روز (چھٹی کے دن ) بھی فرصت میسر نہیں ہے ۔

I have become so involved in labour that even on the Sabbath I am rarely at rest;

17

نی مرا افرشته ئی نی چاکری

وحی من بی منت پیغمبری

نہ تو میرا کوئی فرشتہ ہی ہے اور نہ کوئی نوکر چاکر ہی، اور میری وحی کسی پیغام بر (وحی لانے والا فرشتہ) کے بغیر ہے ۔ یعنی اگرچہ مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی لیکن لوگ میرے پیغام کو اہمیت دے کر اس پر خوشی سے عمل کرتے ہیں ۔

I have no angels, no servants attending me; my revelation is without benefit of prophets.

18

نی حدیث و نی کتاب آورده ام

جان شیرین از فقیهان برده ام

میں نہ تو کوئی حدیث لایا ہوں اور نہ کوئی آسمانی کتاب ہی مگر میں نے فقیہوں کی میٹھی جان نکال لی ہے ۔ ( میں نے انہیں پیٹ کا غلام بنا کر ان کے روحانی جذبے ختم کر دیے ہیں ۔ ) ۔

I have brought neither Traditions nor Book; I have robbed theologians of their sweet soul.

19

رشتهٔ دین چون فقیهان کس نرشت

کعبه را کردند آخر خشت خشت

دین کا دھاگہ فقیہوں کی طرح کسی نے نہیں کاتا (یا نہیں پرویا) ۔ انھوں نے آخر کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ (فرقہ بندی سے اس کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ) ۔

None ever spun finer than they the thread of religion. yet in the end they left the Kaaba a heap of bricks.

20

کیش ما را اینچنین تأسیس نیست

فرقه اندر مذهب ابلیس نیست

ہمارے مذہب کی بنیاد اس قسم کی نہیں ہے ۔ ابلیس کے مذہب میں کوئی فرقہ نہیں ہے ۔

My religion has no such foundation; in the faith of Iblis there are no schisms and sects.

21

در گذشتم از سجود ای بیخبر

ساز کردم ارغنون خیر و شر

اے بے خبر میں نے (آدم کو) سجدے سے انکار کر کے خیر و شر کے ساز کو نغمہ نکالنے کے لائق بنا دیا ۔ (اگر میں آدم کو گمراہ نہ کرتا تو وہ بھی فرشتوں کی طرح خیر ہی خیر ہوتا جس سے دنیا اس رونق سے محروم رہتی جو آج اس خیر و شر کی باہمی تکرار سے پیدا ہو رہی ہے ) ۔

Ignorant one, I have given up prostration, I have turned the organ of good and evil.

22

از وجود حق مرا منکر مگیر

دیده بر باطن گشا ظاهر مگیر

تو مجھے خدا کے وجود سے انکار کرنے والا نہ سمجھ تو میرے باطن پر نظر ڈال، میرا ظاہر نہ دیکھ ۔

Do not take me for one who denies God’s existence; open your eyes on my inner self, overlook my exterior.

23

گر بگویم نیست این از ابلهی است

زانکه بعد از دید نتوان گفت نیست

اگر میں یہ کہتا ہوں کہ خدا نہیں ہے تو یہ میری حماقت ہو گی، کیونکہ اس ذات کو دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نہیں ہے ۔

If I say, "He is not", that would be foolishness, for when one has seen, one cannot say, "He is not".

24

من «بلی» در پردهٔ «لا» گفته ام

گفتهٔ من خوشتر از نا گفته ام

میں نے نہیں کے پردے میں ہاں کہا ہے ۔ میرا یہ کہنا میرے نہ کہنے سے بہتر ہے ۔

Under the veil of "No" I murmured "Yes"; what I have spoken is better than what I never said.

25

تا نصیب از درد آدم داشتم

قهر یار از بهر او نگذاشتم

چونکہ میں آدم کے درد کا حصہ دار ہوں یعنی درد سے آگاہ ہوں ، اس لیے میں نے یار (خدا) کا غضب آدم کے لیے نہ چھوڑا، خود پر لے لیا ۔

To share in the pain and suffering of Adam I did not forgo the fury of the Beloved.

26

شعله ها از کشتزار من دمید

او ز مجبوری به مختاری رسید

میری کھیتی سے انکار اور شر کے شعلے پیدا ہوئے جس کے باعث آدم مجبوری سے مختاری تک پہنچا ۔

Flames sprang forth from my sown field; man out of predestination achieved free-will.

27

زشتی خود را نمودم آشکار

با تو دادم ذوق ترک و اختیار

میں نے اپنی بدی کو واضح طور پر ظاہر کر کے تمہیں اختیار اور ترک کا ذوق دے دیا ۔

I displayed my own hideousness and have given you the joy of leaving or choosing.

28

تو نجاتی ده مرا از نار من

وا کن ای آدم گره از کار من

تو مجھے میری آگ سے رہائی دلا، اے آدم تو میری گتھی سلجھا دے (میری مشکل حل کر دے ) ۔

Deliver me now from my fire; resolve, O man, the knot of my toil.

29

ایکه اندر بند من افتاده ئی

رخصت عصیان به شیطان داده ئی

اے وہ انسان تو جو میری قید میں پڑا ہوا ہے اور گناہ کی اجازت تو نے مجھ شیطان کو دے رکھی ہے ۔

You who have fallen into my noose and given to Satan the leave to disobey;

30

در جهان با همت مردانه زی

غمگسار من ز من بیگانه زی

میرے غمگسار تو مجھ سے بیگانہ ہو کر زندگی گزار اور جہان میں ہمت مردانہ سے زندگی بسر کر ۔

Live in the world with true manly zeal; as you pity me, live a stranger to me

31

بی نیاز از نیش و نوش من گذر

تا نگردد نامه ام تاریک تر

تو میرے نیش (تلخی) اور شیرینی سے بے نیاز ہو کر گزر جا تاکہ میرا نامہَ اعمال اور زیادہ سیاہ نہ ہو ۔

Proudly disregarding my sting and my honey, so that my scroll may not become blacker still.

32

در جهان صیاد با نخچیرهاست

تا تو نخچیری به کیشم تیر هاست

دنیا میں شکاری اس لیے ہے کہ شکار موجود ہیں ۔ جب تک تو میرا شکار بنا رہے گا میرے ترکش میں تیر رہیں گے ۔

In the world the huntsman lives on his prey; whilst you are my prey, I draw out my arrows.

33

صاحب پرواز را افتاد نیست

صید اگر زیرک شود صیاد نیست»

پرواز جاننے والا کبھی نہ گرتا، اگر شکار ہو شیار ہو جائے تو شکاری کا وجود بھی نہیں رہتا ۔

He who soars aloft is secure from falling: if the quarry is cunning, the huntsman will fail.’

34

گفتمش «بگذر ز آئین فراق

ابغض الاشیاء عندی الطلاق»

میں (زندہ رود) نے اس سے کہا کہ تو (ابلیس) فراق کا دستور چھوڑ دے یعنی خدا سے معافی مانگ لے ۔ اس سلسلے میں تو اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے ناپسندیدہ عمل ہے ۔

‘Give up this cult of separation’, I said to him ‘The most hateful of things to God is divorce.’

35

گفت «ساز زندگی ، سوز فراق

ای خوشا سر مستی روز فراق

وہ بولا کہ ہجر و فراق کے سوز ہی میں زندگی کا لطف ہے ۔ واہ روزِ فراق کی سرمستی کے کیا کہنے ہیں (روز فراق یعنی سجدہ سے انکار کا دن، گویا ابلیس کو اس فراق ہی سے اپنی انفرادیت قائم کرنے کا موقع ملا ہے ۔ )

He said, ‘The fire of separation is the stuff of life; how sweet the intoxication of the day of separation!

36

بر لبم از وصل می ناید سخن

وصل اگر خواهم نه او ماند نه من»

میرے (ابلیس کے ) ہونٹوں پر وصل کا لفظ ہی نہیں آتا، اگر میں وصل کی خواہش کرتا ہوں تو نہ تو وہ رہے گا اور نہ میں رہوں گا ۔ یعنی خدا کی اور میری شناخت خیر اور شر سے ہے ۔ وہ سراپا خیر اور میں سراپا شر ہوں ۔ اگر خیر و شر کا فرق ختم ہو گیا تو خدا کو کوئی نہیں پہچانے گا ۔

The very name of union comes not to my lips; if I seek union, neither He remains nor I.’

37

حرف وصل او را ز خود بیگانه کرد

تازه شد اندر دل او سوز و درد

وصل کے لفظ نے اسے (ابلیس کو) خود سے بیگانہ کر دیا بے خود ہو گیا ۔ اس کے دل میں سوز و درد از سر نو تازہ ہو گیا ۔ اسے پرانی یادوں نے بے قرار کر دیا ۔

The word ‘union’ made him out of himself; the burning agony was renewed in his heart.

38

اندکی غلطید اندر دود خویش

باز گم کردید اندر دود خویش

وہ کچھ دیر تک اپنے دھوئیں میں تڑپا اور پھر اپنے اسی دھوئیں میں غائب ہو گیا ۔

He wallowed awhile in his own fumes; he became lost again in his own fumes;

39

ناله ئی زان دود پیچان شد بلند

ای خنک جانی که گردد درد مند

اس بل کھاتے ہوئے دھوئیں میں سے ایک فریاد بلند ہوئی ۔ اس جان کے کیا ہی کہنے (کیا خوب ہے وہ جان جس میں درد ہو ۔

Out of those fumes whirling a lament rose high; how blessed the soul that can feel anguish!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از مقام مؤمنان دوری چرا

یعنی از فردوس مهجوری چرا

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 5 - زنده رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ می‌گوید

اگلی نظم

ای خداوند صواب و ناصواب

من شدم از صحبت آدم خراب

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 7 - نالهٔ ابلیس

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور