صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مشتری
  4. »بخش 7 - نالهٔ ابلیس

بخش 7 - نالهٔ ابلیس

نالۂ ابلیس

Satan's Lament

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

ای خداوند صواب و ناصواب

من شدم از صحبت آدم خراب

اے نیکی اور بدی کے خدا مجھے آدم کی صحبت نے خراب کر دیا ہے ۔

God of the righteous and the unrighteous, man’s company has devastated me.

22

هیچگه از حکم من سر بر نتافت

چشم از خود بست و خود را در نیافت

اس نے کبھی میرے حکم سے سر نہیں موڑا (یہ میری حکم عدولی نہیں کرتا )اس نے اپنے آپ سے آنکھیں بند کر لی ہیں ۔ اور خود کو نہ پایا یعنی اپنی عظمت کو نہیں پا سکا ۔

Not once has he rebelled against my rule; he has closed his eyes to himself, and has not found himself.

33

خاکش از ذوق ابا بیگانه ئی

از شرار کبریا بیگانه ئی

اس کی خاک انکار کے ذوق سے نا آشنا ہے اور عظمت (بڑائی) چنگاری سے بے خبر ہے ۔ اور اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی اس عظمت کو بھلائے بیٹھا ہے ۔

His dust is a stranger to the joy of disobedience, a stranger to the spark of pride.

44

صید خود صیاد را گوید بگیر

الامان از بندهٔ فرمان پذیر

یہ ایک ایسا شکاری ہے جو خود شکاری سے کہتا ہے کہ مجھے پکڑ لے ۔ ایسے فرمانبردار بندے سے اللہ کی پناہ ہے ۔

The prey says to the huntsman, ‘Seize me’: save me from the all too obedient servant!

55

از چنین صیدی مرا آزاد کن

طاعت دیروزهٔ من یاد کن

(اے خدا) مجھے تو اس قسم کے شکار (انسان) سے نجات دلا تو میری گزشتہ یا پرانی اطاعت (عبادت) یاد کر ۔

Set me free from such a quarry; remember my obedience of yesterday.

66

پست ازو آن همت والای من

وای من ، ای وای من ، ای وای من

افسوس صد افسوس اس کے اس رویے نے میری بلند ہمت کو پست کر دیا ہے ۔ میری اس حالت پر افسوس ہے، مجھ پر افسوس ہے، مجھ پر افسوس ہے ۔

My lofty aspiration through him has been abased; alas for me, alas for me, alas for me!

77

فطرت او خام و عزم او ضعیف

تاب یک ضربم نیارد این حریف

اس (انسان) کی سرشت خام ہے اوراس کا عزم (ارادہ) کمزور ہے، یہ مدمقابل میری ایک چوٹ کو بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔

His nature is raw, his resolution weak, this opponent cannot withstand one blow from me.

88

بندهٔ صاحب نظر باید مرا

یک حریف پخته تر باید مرا

مجھے ایسے بندے کی ضرورت ہے جو صاحب نظر ہو (جو برے اور بھلے کی پہچان رکھتا ہو) ۔ مجھے تو ایسا مدمقابل چاہیے جو بڑا مضبوط ہو ( جو میرا حکم نہ مانے بلکہ میرا مقابلہ کرے) ۔

I need a servant of God possessed of vision, I need a riper adversary!

99

لعبت آب و گل از من باز گیر

می نیاید کودکی از مرد پیر

تو یہ پانی اور مٹی کی گڑیا (کمزور انسان) مجھ سے واپس لے لے ۔ ایک بوڑھا آدمی (شیطان) بچوں کی سی حرکتیں نہیں کر سکتا ۔ (انسان کو گڑیا اور خود کو مردِ پیر کہا ہے) ۔

Take back this plaything of water and clay: a child’s toy suits not a man of a certain age.

1010

ابن آدم چیست ، یکمشت خس است

مشت خس را یک شرار از من بس است

ابنِ آدم (انسان) کیا ہے وہ محض تنکوں کی ایک مٹھی ہے ، اس کے لیے تو میری ایک چنگاری ہی کافی ہے ۔

What is man? A handful of straw; one spark from me is enough for a handful of straw.

1111

اندرین عالم اگر جز خس نبود

این قدر آتش مرا دادن چه سود

(اے خالق) اگر اس جہان میں تنکوں کے سوا اور کچھ نہ تھا تو پھر مجھے اس قدر آگ دینے کا کیا فائدہ

If nothing but straw existed in this world, what profited it to endow me with so much fire?

1212

شیشه را بگداختن عاری بود

سنگ را بگداختن کاری بود

شیشے کو پگھلانا آگ کے لیے شرم کی بات ہے ۔ البتہ پتھر کو پگھلانا تو کچھ کام ہے ۔

It were a shame to melt a piece of glass; to melt a rock – that is a proper task!

1313

آنچنان تنگ از فتوحات آمدم

پیش تو بهر مکافات آمدم

میں تو انسان پر اپنی فتوحات سے اتنا تنگ آ گیا ہوں کہ اب میں آپ کے سامنے انصاف کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔

I have become so saddened by all my triumphs that now I come to You for recompense;

1414

منکر خود از تو می خواهم بده

سوی آن مرد خدا راهم بده

میری تو آپ سے یہ درخواست ہے کہ تو مجھے ایسے بندہ خدا (انسان) دے جو میرا منکر ہو ۔

I seek from You one who dares to deny me – guide me, to such a man of God.

1515

بنده ئی باید که پیچد گردنم

لرزه اندازد نگاهش در تنم

مجھے ایسا بندہ چاہیے جو میری گردن مروڈ دے اور اس کی نگاہ سے ہی میرے جسم پر کپکپی طاری ہو جائے ۔

I need a man who will twist my neck, whose glance will set my body quivering;

1616

آن که گوید «از حضور من برو»

آنکه پیش او نیرزم با دو جو

جو مجھ سے کہے کہ تو میرے سامنے سے دور ہو جا ۔ اس کے نزدیک میری قدروقیمت دو جو کے بھی برابر نہ ہو ۔

One who will say, ‘Depart from my presence’, one in whose eyes I am not worth two barleycorns.

1717

ای خدا یک زنده مرد حق پرست

لذتی شاید که یابم در شکست

اے خدا! میرا مدمقابل ایک زندہ حق پرست مرد ہو ۔ شاید اس سے شکست کھا کر لذت پا سکوں ۔

Grant me, O God, one living man of faith; haply I shall know delight at last in defeat.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

صحبت روشندلان یک دم ، دو دم

آن دو دم سرمایهٔ بود و عدم

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 6 - نمودار شدن خواجهٔ اهل فراق ابلیس

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور