صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور حق
  4. »بخش 4 - به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

بخش 4 - به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ادی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد، مستنصر میر
بند 1
Toggle stanza 1
1

به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

فقیهش بی‌یقینی، کم‌سوادی

میں تجھ سے اس قوم کی بھلائی چاہتا ہوں جس کے فقیہہ بے یقین اور کم نظر ہیں ۔

I wish for help from You for a people whose religious lawyers lack certitude and knowledge;

2

بسی نادیدنی را دیده‌ام من

«مرا ای کاشکی مادر نزادی»

میں نے بہت سے ناقابل دید باتیں دیکھی ہیں ۔ کاش کی میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا ۔ (یہ خراب حالات دیکھنے کے لیے میں دنیا میں نہ آتا) ۔

I have seen many unworthy events, would that I had not been!

بند 2
Toggle stanza 2
3

نگاهِ تو، عتاب‌آلود تا چند؟

بتان حاضر و موجود تا چند؟

کب تک آپ کی نگاہ غضب آلود رہے گی ۔ کب تک حاضر اور موجود کے بت موجود رہیں گے ۔

How long you look so wrathfully at me? how long those idols of now and here?

4

درین بتخانه، اولادِ براهیم

نمک‌پروردهٔ نمرود تا چند؟

دنیا کے اس بت کدہ میں کب تک حضرت ابراہیم کی اولاد نمرود کی غلامی کرتی رہے گی ۔

how long the progeny of Abraham be faithful to Nimrod’s association in this idol temple?

بند 3
Toggle stanza 3
5

سرود رفته باز آید که ناید؟

نسیمی از حجاز آید که ناید؟

جو سرود چلا گیا پھر آتا ہے یا نہیں آتا ۔ عرب کے خطہ حجاز مقدس سے پھر ٹھنڈی ہوا آتی ہے یا نہیں آتی

Will the old song return? Will another breeze arrive from the Hijaz?

Translation: مستنصر میر

6

سرآمد روزگار این فقیری

دگر دانای راز آید که ناید؟

اس فقیر کا آخری وقت آ گیا ہے (زندگی ختم ہوئی) کوئی دوسرا (میرے علاوہ) راز کو سمجھنے والا آتا ہے یا نہیں آتا ۔

The time of this faqir has come – Will there be another who knows all secrets?

Translation: مستنصر میر

بند 4
Toggle stanza 4
7

اگر می‌آید آن دانای رازی

بده او را نوای دل‌گدازی

اگر وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا آ جائے تو اسے دل کو پگھلا نے والا نغمہ عطا کر ۔

If that knower of secret comes, bestow on him heart‐melting voice;

8

ضمیر امتان را می‌کند پاک

کلیمی یا حکیمی نی‌نوازی

کوئی کلیم (اللہ سے کلام کرنے والا) یا کوئی بانسری بجانے والا صاحب حکمت امتوں کے ضمیر کو پاک کرتا ہے ۔

the heart of a people is purified only by a prophet or a singing sage.

بند 5
Toggle stanza 5
9

متاعِ من، دلِ دردآشنای است

نصیبِ من، فغانِ نارسای است

میرا سرمایہ درد آشنا دل ہے ۔ میری قسمت میں نہ پہنچنے والی آہ و فریاد ہے ۔

My asset: a heart sympathetic to pain, my lot: an unending and unremitting cry;

10

به خاکِ مرقدِ من، لاله خوش‌تر

که هم خاموش و هم خونین‌نوای است

میری قبر کی مٹی سے لالے کا پھول زیادہ اچھا ہے ۔ کہ میری طرح خاموش بھی ہے اور خون سے بھری نوا بھی پیدا کرتا ہے ۔

a tulip can better adorn my grave: it is silent and has a voice of blood.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دلی در سینه دارم بی‌سروری

نه سوزی در کفِ خاکم، نه نوری

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 3 - دلی در سینه دارم بی‌سروری

اگلی نظم

دل از دست کسی بردن نداند

غم اندر سینه پروردن نداند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 5 - دل از دست کسی بردن نداند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

هوای نیکوان عیش است و شادی

مراد عشقبازان نامرادی

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 929

سَبَتْ سَلْمیٰ بِصُدْغَیها فُؤادي

و رُوحي کُلَّ یَومٍ لي یُنادي

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 438

ز ما برگشتی و با گل فتادی

دو چشم خویش سوی گل گشادی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2679

چنین باشد چنین گوید منادی

که بی‌رنجی نبینی هیچ شادی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2680

در صد فتنه را بر خود گشادی

دو گامی رفتی و از پا فتادی

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 14 - برهمن