صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور حق
  4. »بخش 3 - دلی در سینه دارم بی‌سروری

بخش 3 - دلی در سینه دارم بی‌سروری

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وری

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
Toggle stanza 1
1

دلی در سینه دارم بی‌سروری

نه سوزی در کفِ خاکم، نه نوری

میں اپنے سینے میں بے سرور و کیف دل رکھتا ہوں ۔ میرے جسم میں نہ عشق کی تڑپ ہے نہ نور ہے ۔

This heart in my breast, without ecstasy, this handful of earth, devoid both of light and flame,

2

بگیر از من که بر من، بارِ دوش است

ثوابِ این نمازِ بی‌حضوری

مجھ سے واپس لے لے کہ اس بے حضور نماز کا ثواب، یہ میرے کندھے پر بوجھ ہے ۔

take it away from me, for it’s unwelcome burden: this reward of prayers, said so absent‐ mindedly!

بند 2
Toggle stanza 2
3

چه گویم قصهٔ دین و وطن را

که نتوان فاش گفتن این سخن را

میں دین اور وطن کی کیا بات بیان کروں کہ اس بات کو کھل کر اعلانیہ بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

What should I say about religion and nationalism? for one cannot say it plainly;

4

مرنج از من که از بی‌مهری تو

بنا کردم همان دیرِ کهن را

مجھ سے خفا نہ ہو کہ تیری نامہربانی کی وجہ سے میں نے پھر پرانے بت کدے کی بنیاد رکھ دی ہے ۔

don’t be angry with me, for through Your indifference I have started setting up the same old temple.

بند 3
Toggle stanza 3
5

مسلمانی که در بندِ فرنگ است

دلش در دستِ او آسان نیاید

وہ مسلمان جو یورپ والوں کی قید میں ہے اسکا دل آسانی سے اسکے ہاتھ نہیں آ سکتا ۔

A Muslim in bondage to Europe: his heart does not yield to Him so easily;

6

ز سیمایی که سودم بر درِ غیر

سجودِ بوذر و سلمان نیاید

اس پیشانی سے جسے میں اللہ کے سوا غیر کے دروازے پر رگڑتا ہوں ۔ حضرت ابوذر غفاری اور حضرت سلمان فارسی کے سجدے ادا نہیں کیے جا سکتے ۔

from the forehead that bows before other‐ than‐God you cannot expect prostrations of Bu Dharr and Salman.

بند 4
Toggle stanza 4
7

نخواهم این جهان و آن جهان را

مرا این بس که دانم رمزِ جان را

میں اس دنیا اور اس دنیا (آخرت) کو نہیں چاہتا میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ روح کی حقیقت کو جان لوں ۔

I crave not for this and the other world, it is sufficient that I know the secret of life;

8

سجودی ده که از سوز و سرورش

به وجد آرم زمین و آسمان را

مجھے وہ سجدے عطا کر کہ جس کے سوز اور سرور سے میں زمین و آسمان کو وجد میں لے آوَں ۔

bestow on me a prostration that, through its burning and joy, I bring the earth and heaven into ecstasy.

بند 5
Toggle stanza 5
9

چه می‌خواهی از این مرد تن‌آسای؟

به هر بادی که آمد رفتم از جای

تو کیا چاہتا ہے اس آرام طلب انسان سے جس کے پاؤں ہر ہوا کے جھونکے کے ساتھ جگہ سے ہٹ جاتے ہیں ۔

What do you expect from this ease‐loving person who moved with every movement of wind?

10

سحر جاوید را در سجده دیدم

به صبحش، چهرهٔ شامم بیارای

میں نے صبح جاوید کو سجدے میں دیکھا ۔ اس کی صبح سے میری شام کے چہرے کو خوبصورتی دے ۔

This morning I saw Javid in prostration, may my night’s face be adorned by his mornings.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دلِ بی‌قیدِ من، در پیچ و تابی‌ست

نصیبِ من، عِتابی یا خِطابی‌ست

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 2 - دل بی‌قید من در پیچ و تابی‌ست

اگلی نظم

به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

فقیهش بی‌یقینی، کم‌سوادی

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 4 - به آن قوم از تو می‌خواهم گشادی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ندارد مجلس ما بی‌تو نوری

که مجلس بی‌تو باشد همچو گوری

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2699

اگر بریان کند بهرام، گوری

نه چون پای ملخ باشد ز موری

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 65