شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
دلِ بیقیدِ من، در پیچ و تابیست
نصیبِ من، عِتابی یا خِطابیست
میرا آزاد دل بے چینی اور بے قراری کی حالت میں ہے ۔ اسے نہیں معلوم کہ میری قسمت میں سزا ہے یا جزا ۔
My heart, free from all bonds, is restless to know: which is my fate—wrath or pleasurable encounter?
دلِ ابلیس هم نتوانم آزرد
گناهِ گاهگاهِ من صوابیست
میں تو شیطان کے دل کو بھی تکلیف نہیں دے سکتا ۔ میرا کبھی کبھار کا گناہ بھی درست ہے ۔
I can’t injure Iblis’s feelings even, my wayward sin is therefore a virtue.
صبنت الکاس عنا ام عمرو
وکان الکاس مجراها الیمینا
شاعر اپنی معشوقہ ام اعمرو کی نا انصافی کی شکایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو نے ہمیں پیالہ شراب سے محروم کر دیا حالانکہ باری دائیں طرف بیٹھنے والوں کی تھی ۔ نوٹ: یہ شعر عربی زبان کے شاعر عمرو ابن کلثوم کا ہے جس کا تعلق زمانہ جاہلیت سے تھا ۔
“O mother ‘Amr, you deprived us of the cup, for it was now the turn of those on the right”
اگر این است رسم دوستداری
به دیوار حرم زن جام و مینا
اگر یہ دوستی نبھانے کی رسم ہے تو پیالے اور صراحی کو کعبے کی دیوار سے دے مار ۔
if this is the way of friendliness, throw then the cup and wine on Harem’s walls.
به خود پیچیدگان در دل اسیرند
همه دردند و درمانناپذیرند
اپنے آپ سے لپٹے ہوئے لوگ دل کی قید میں ہیں ۔ یعنی اپنی معرفت اور خودی میں گم ہیں ۔ درد میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ناقابل ِ علاج ہیں یا علاج کے خواہاں نہیں ۔
Self‐entangled people are in heart’s chains, they are all pain, not amenable to treatment;
سجود از ما چه میخواهی که شاهان
خَراجی از دهِ ویران نگیرند
تو ہم سے سجدے کس لیے چاہتا ہے ۔ بادشاہ ویران (برباد) گاؤں سے کوئی خراج نہیں لیتے ۔
why expect prostration from us? For kings don’t levy tribute on desolate land.
رَوَم راهی که او را مَنْزِلی نیست
از آن تخمی که ریزم، حاصلی نیست
میں اس راستے پر جا رہا ہوں جس کی کوئی منزل نہیں ہے کہ میں جو بیج بوتا ہوں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔
I go by a way that has no destination and the seeds that I scatter yield no fruit;
من از غمها نمیترسم ولیکن
مده آن غم که شایانِ دلی نیست
میں غموں سے نہیں ڈرتا لیکن مجھے وہ غم نہ دے جو میرے دل کے شایانِ شان نہ ہو ۔
I am not afraid of griefs, but don’t give a grief that is not worthy of my heart.
میِ من از تُنُکجامان نگه دار
شرابِ پخته از خامان نگه دار
میری شراب کو تھوڑے پیالے پینے والوں (کم ظرفوں ) سے بچا کر رکھ، پختہ شراب کو خام یعنی نا اہل لوگوں سے بچا کر رکھ ۔ شراب سے مراد شاعری میں دیا گیا پیغام ہے ۔
Keep my wine away from petty‐minded, let my ripe wine be out of reach of raw hands;
شَرَر از نیستانی دورتر به
به خاصان بخش و از عامان نگه دار
چنگاری کا نرسل (یا بانس) کے جنگل سے زیادہ دور رہنا ہی بہتر ہے ۔ میری شراب خاص لوگوں کو عطا کر اور عام لوگوں سے بچا کر رکھ ۔
better if a flame be kept away from reed‐field, bestow it on the elect, keep it from common folk!
تو را این کشمکش اندر طلب نیست
تو را این درد و داغ و تاب و تب نیست
تمہاری طلب میں وہ کشمکش نہیں ہے (جو میری طلب میں ہے) تمہارے اندر وہ درد ، جلن ، تڑپ اور بے چینی نہیں ہے ۔
You need not struggle to achieve, You suffer neither pain, nor grief, nor burning scar;
از آن از لامکان بگریختم من
که آنجا نالههای نیمشب نیست
میں لا مکاں سے اس لیے بھاگا تھا کہ وہاں آدھی رات کی گریہ زاری نہیں ہے ۔
I fled from Spaceless Realm, because it is not the place for mid‐nightly bewailing.
ز من هنگامهای وه این جهان را
دگرگون کن زمین و آسمان را
مجھ سے اس جہان میں ہنگامہ پیدا کر اور زمین و آسمان کو انقلاب سے دوچار کر دے ۔
Make me fill this world with commotion, And completely change the earth and the sky.
Translation: مستنصر میر
ز خاکِ ما دگر آدم برانگیز
بِکُش این بندهٔ سود و زیان را
ہماری مٹی سے ایک نیا انسان آدم پیدا کر ۔ اور اس آدمی کو قتل کر دے جو فائدے اور نقصان کا غلام ہے ۔
Raise a new Adam from our dust, And kill this slave of profit and loss.
Translation: مستنصر میر
جهانی تیرهتر با آفتابی
صَواب او سراپا ناصَوابی
یہ جہان سورج سے روشن ہونے کی بجائے اور تاریک ہو گیا ہے ۔ اس کی خوبیاں بھی سر تا پا برائیاں ہیں ۔
This is a world which is made even darker by the sun, Its right is wrong all through.
Translation: مستنصر میر
ندانم تا کجا ویرانهای را
دهی از خونِ آدم، رنگ و آبی
میں نہیں جانتا کہ تو کب تک ایک ویرانے کو آدمی کے خون سے ظاہری چمک دمک دیتا رہے گا ۔
I do not know for how long You will use Adam’s blood to give it colour and glow!
Translation: مستنصر میر
غلامم، جز رضای تو نجویم
جز آن راهی که فرمودی، نپویم
میں غلام ہوں اور تیری خوشنودی کے سوا کچھ تلاش نہیں کرتا (راضی برضا ہوں ) میں اس راہ کے سوا نہیں چلتا جس پر چلنے کا تو نے حکم دیا ۔
I’m Thy slave, I seek nothing but Thy wish, I tread only the path that Thou willed;
ولیکن گر به این نادان بگویی
خری را اسبِ تازی گو، نگویم
اور لیکن اگر تو اس ناسمجھ کو یہ کہے کہ گدھے کو عربی گھوڑا کہہ تو میں نہیں کہوں گا ۔
but if Thou ask’st this simpleton to call an ass an Arab horse, I can’t!