شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
قافیہ: ردندورفتند
صنف: قطعه
دل ما، بیدلان بردند و رفتند
مثال شعله، افسردند و رفتند
ہمارے دل کو عاشق لے گئے اور چلے گئے ۔ وہ شعلے کی طرح بجھ گئے اور اس دنیا سے چلے گئے ۔
They enraptured our hearts and departed, They congealed like a flame and disappeared.
بیا یک لحظه با عامان درآمیز
که خاصان، بادهها خوردند و رفتند
آ، ایک لمحے کے لیے اپنے عام بندوں سے ملاقات کر (گھل مل) کہ تیرے خاص بندوں نے شرابیں پیں اور چلے گئے (تیرے خاص بندے تو شراب پی کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے) ۔
Come, mix for a while with common people, for the elect took wine and disappeared.
سخنها رفت از بود و نبودم
من از خِجْلَت، لبِ خود، کم گشودم
میرے موجود ہونے یانہ ہونے پر بہت سی باتیں ہوئیں میں نے شرمندگی کی وجہ سے لب نہیں کھولے ۔
There was discussion about my being and non‐being, through shame I hardly opened my mouth;
سجودِ زندهمردان میشناسی؟
عیارِ کارِ من گیر از سجودم
تو زندہ بندوں (اللہ کی عبادت صحیح معنوں میں کرنے والے) کے سجدوں کو پہچانتا ہے، میرے عمل کے معیار کا اندازہ میرے سجدوں سے کر ۔
you recognize prostration of living persons, judge my mettle from my prostration!
دلِ من، در گُشادِ چون و چند است
نگاهش، از مه و پروین بلند است
میرا دل کیسے اور کتنا کے حل میں ہے ۔ یعنی زندگی اور کائنات کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے اس کی نظر چاند اور ثریا سے بھی بلند ہے ۔
My heart is entangled in the web of why and wherefore, its target is above the moon and Pleiades;
بده ویرانهای در دوزخ، او را
که این کافر، بسی، خلوتپسند است
اس کو دوزخ میں کوئی ویرانہ نہ دے کہ یہ کافر تنہائی کو زیادہ پسند کرنے والا ہے ۔
give him some desolate corner in your hell, for this kafir is much given to solitude!
چه شور است این که در آب و گِل افتاد؟
ز یک دل، عشق را صد مشکل افتاد
یہ کیا شور ہے جو پانی اور مٹی یعنی جسم انسانی میں برپا ہے، ایک دل سے عشق کو سو مصیبتوں کا سامنا ہے ۔
What commotion has taken hold of this water and clay? One heart has put ‘ishq into a hundred difficulties.
قرارِ یک نَفَس بر من حرام است
به من رحمی که کارم با دل افتاد
ایک لمحے کا سکون مجھ پر حرام ہے ۔ مجھ پر رحم کرکہ میرا کام دل سے آ پڑا ہے ۔
Rest of one moment is forbidden to me, Mercy on me, for I am to deal with heart!
جهان از خود برون آوردهٔ کیست؟
جمالش، جلوهٔ بیپردهٔ کیست؟
دنیا کو اپنے آپ سے کس نے الگ کیا ہے، اس کا جمال کس کا روشن جلوہ ہے ۔
Who created the world out of his own self? Whose unveiled glory does its beauty represent?
Translation: مستنصر میر
مرا گویی که از شیطان حذر کن
بگو با من که او پروردهٔ کیست؟
تو مجھ سے کہتا ہے کہ شیطان سے بچ، مجھ سے کہہ کہ وہ کس کا پالا ہوا ہے ۔
You say to me, ‘Beware of Satan!’ But tell me: Who nurtured him?
Translation: مستنصر میر