شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
مسلمان آن فقیر کج کلاهی
رمید از سینه او سوز آهی
وہ مسلمان جو فقیری میں بھی بادشاہ ہے یعنی فقیری میں بھی اللہ کے سوا ہر ایک سے بے نیاز ہوتا ہے ۔ اس کے سینے سے آہ کا سوز مٹ گیا ۔
A Muslim was a king and saint so high, Flows from his bosom a flame of sigh
دلش نالد چرا نالد نداند
نگاهی یارسول الله نگاهی
اس کا دل آہ و فریاد کر رہا ہے ۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کا دل کیوں آہ و فریاد کر رہا ہے ۔ اسے رسول اللہ ایک نگاہِ کرم کر کے اس کی تقدیر بدل دیجیے ۔
His heart often weeps why weeps in trance, A glance upon me O Prophet, a glance.
تب و تاب دل از سوز غم تست
نوای من ز تاثیر دم تست
میرے دل کی حرارت اور سوز تیرے غم کی تڑپ سے ہے ۔ میری نوا میں اثر تیرے دم سے ہی ہے ۔
The heart takes heat from thy love pangs’ flame, My tone’s large impact is due to thy name.
بنالم زانکه اندر کشور هند
ندیدم بنده ئی کو محرم تست
میں رو رہاں ہوں کیونکہ ہندوستان کی سلطنت میں میں نے کسی کو تیری ذات کی حقیقت کو پہچاننے والا مومن نہیں دیکھا ۔
I weep, because, in the Indian state, I found not a man with thee intimate.
شب هندی غلامان را سحر نیست
به این خاک آفتابی را گذر نیست
ہندوستان کے غلاموں کی رات کی صبح نہیں ہے ۔ اس مٹی میں سورج کی روشنی کے گزارنے کا راستہ نہیں ہے یعنی مسلسل تاریکی چھائی ہوئی ہے ۔
No morn yet to slaves O Indian night, The sun passes not along this land’s site,
بما کن گوشه چشمی که در شرق
مسلمانی ز ما بیچاره تر نیست
ہماری جانب نظر کرم کر کیونکہ مشرق میں ہم غلام مسلمان سے زیادہ کوئی مسلمان بے بس نہیں ہے ۔
No cosy nook yet for us in the East, So brokelike a Muslim there is no beast.
چه گویم زان فقیری دردمندی
مسلمانی به گوهر ارجمندی
میں اس درد رکھنے والے فقیر کے بارے میں کیا کہوں ۔ اس مسلمان کی ذات کا گوہر بڑا قیمتی ہے ۔
As such I say to a soft hearted soul, A Muslim is honoured on virtues role.
خدا این سخت جان را یار بادا
که افتاد است از بام بلندی
خدا اس سخت جان کا مددگار ہو جو بہت بلند چھت (عروج) سے (پستی) میں گرا ہے ۔
O God, help the man who leads a life hard, Who fell from a summit, God be his ward.
چسان احوال او را بر لب آرم
تو می بینی نهان و آشکارم
میں اس کے احوال کو کس طرح زبان پر لاؤں کہ تو میرے چھپی ہوئی اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے ۔
A friend’s hidden life how can I reveal, You know what we talk and what we conceal.
ز روداد دو صد سالش همین بس
که دل چون کنده قصاب دارم
میں اس کی دو سو سالہ زندگی کے حال سے بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنا دل قصاب کے لکڑی کے اس موٹے ٹکڑے کی طرح رکھتا ہوں جس پر وہ قیمہ کوٹتا ہے ۔
Two hundred years’ tale is enough to weep, Like a butcher’s wood a heart I keep.
هنوز این چرخ نیلی کج خرام است
هنوز این کاروان دور از مقام است
ابھی تک آسمان ٹیڑھی چال چل رہا ہے ۔ ابھی تک یہ قافلہ اپنے مقام سے دور ہے ۔
The skystill going on a perverse course, The car’avan is far off from its place.
ز کار بی نظام او چه گویم؟
تو میدانی که ملت بی امام است
میں اس کی زندگی کے بے ترتیب کام سے متعلق کیا کہوں ۔ تو جانتا ہے کہ ملت اسلامیہ کا کوئی رہنما نہیں ہے ۔
His wild goose chases I cannot endorse, No leader they have to direct this race.
نماند آن تاب و تب در خون نابش
نروید لاله از کشت خرابش
اس کے (دورِ حاضر کے مسلمان) کے خون میں پہلے والی طاقت، توانائی اور جذبہ نہیں اسی لیے ان کے ویران کھیت میں کوئی گل لالہ نہیں اگتا ۔
In his pure blood shines not that vigour and heat, In his ruined land grows no poppies sweet.
نیام او تهی چون کیسئه او
به طاق خانه ویران کتابش
اس (آج کا مسلمان) کی نیام اس کی جیب کی طرح خالی ہے ۔ یعنی نہ اس کی جیب میں پیسہ ہے اورنہ اس کی نیام میں تلوار ہے ۔ اور اس کی کتاب (قرآن )ویران گھر کے طاق میں رکھی ہوئی ہے
He emptied his pocket and sheath likewise, In a ruined arch thus his Book still lies.
دل خود را اسیر رنگ و بو کرد
تهی از ذوق و شوق و آرزو کرد
دورِ حاضر کے مسلمان نے اپنے دل کو رنگ و بو کا قیدی بنا لیا ہے ۔ اورر اس کا دل ذوق و شوق اور خواہشات سے خالی ہو گیا ہے ۔
He made his heart captive of pomp and show, Bereft of love’s pleasures his longings go.
صفیر شاهبازان کم شناسد
که گوشش با طنین پشه خو کرد
وہ شاہبازوں کی آواز کو نہیں پہچانتا کیونکہ اس نے اپنے کانوں کو مچھر کی بھنبھناہٹ کا عادی کر لیا ہے ۔
The ‘whistling’ of ‘eagles’ he knew a few, As nature of gnats his latent ears knew.
بروی او در دل ناگشاد
خودی اندر کف خاکش نزاده
اس کے سامنے دل کا دروازہ نہیں کھلا ہوا ۔ اس کی مٹی کی مٹھی (جسم) میں خودی پیدا نہیں ہوئی ۔ مراد اپنی ذات کے جوہر اور اپنی حقیقت کو نا آشنا ہے ۔
To him the heart’s door is not open yet, No ego in his palmhas born as yet.
ضمیر او تهی از بانگ تکبیر
حریم ذکر او از پا فتاده
اس کا ضمیر اللہ اکبر کی آواز سے خالی ہے ۔ اس کے ذکر کا حریم (یعنی دل سے اللہ کا ذکر) ختم ہو چکا ہے ۔
His conscience is empty from Great God calls, To ground have fallen his prayer’s four walls.
گریبان چاک و بی فکر رفو زیست
نمی دانم چسان بی آرزو زیست
اس کا گریبان پھٹ چکا ہے اور اسے رفو کرنے کی پرواہ کیے بغیر زندہ ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ خواہشات کے بغیر کیسے زندگی بسر کر رہا ہے ۔
His collar is torn, he cares no darn, I know not a life, so bore, forlorn.
نصیب اوست مرگ ناتمامی
مسلمانی که بی «الله هو» زیست
اس کی قسمت میں نامکمل موت لکھی ہوئی ہے ۔ وہ مسلمان جو اللہ ہو کے بغیر زندگی گزار رہا ہے یعنی نہ وہ زندہ لوگوں میں شمار ہوتا ہے اور مردوں میں گویا غیر اللہ کی غلامی کر رہا ہے ۔
To him is destined, a death so dry, Fie a Muslim’s life, sans Allah Hu cry.
حق آن ده که « مسکین و اسیر» است
فقیر و غیرت او دیر میر است
اس کا حق عطا کر کیونکہ وہ مفلس بھی ہے اور قیدی بھی ۔ وہ فقیر ہے البتہ اس کی غیرت دیر سے مرنے والی ہے ۔
Give him his dues, of a captive and meek, A beggar whose honour is since long dead.
بروی او در میخانه بستند
در این کشور مسلمان تشنه میر است
اس کے لیے شراب خانے کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے ۔ اس سلطنت میں مسلمان پیاسا مر رہا ہے ۔
The doors of a tavern are closed on weak, The Muslims are dying from thirst on bed.
دگر پاکیزه کن آب و گل او
جهانی آفرین اندر دل او
اس کے پانی اور مٹی (جسم) کو دوبارہ پاک کر ۔ اس کے دل میں ایک نئی دنیا آباد کر ۔
Refine his morals and life once more, Infuse a world new in his heart’s core.
هوا تیز و بدامانش دو صد چاک
بیندیش از چراغ بسمل او
ہوا تیز ہے اور اس کا دامن دو سو چاک سے بھر چکا ہے ۔ اس کو غور سے دیکھ اس کا دیا بجھنے کے قریب ہے ۔ مراد یہ کہ مسلمان نیست و نابود ہو رہے ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اسلام زندہ رہ سکے ۔
From violent storms, his clothes are torn, Fear from his lamp, though wavers and worn.
زمین
فراهم کرد شکل کج کلاهی
که در زیر کلاهش هست ماهی
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1929
ز چشمت چشم آن دارم که گاهی
کند سوی گرفتاران نگاهی
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 971
به راه اندر همی شد شاهراهی
رسید او تا به نزد پادشاهی
رودکیمثنویهاابیات به جا مانده از مثنوی بحر هزجپاره 11
نگاری مست لایعقل چو ماهی
درآمد از در مسجد پگاهی
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 836
جهان کز خود ندارد دستگاهی
به کوی آرزو می جست راهی
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 111
مشو ای غنچهٔ نورسته دلگیر
ازین بستان سرا دیگر چه خواهی
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 66