صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور رسالت
  4. »بخش 10 - عروس زندگی در خلوتش غیر

بخش 10 - عروس زندگی در خلوتش غیر

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یر

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
11

عروس زندگی در خلوتش غیر

که دارد در مقام نیستی سیر

زندگی کی دلہن ان غیروں کی خلوت میں ہے ۔ کیونکہ مسلمان مقام نیستی کی سیر کر رہا ہے ۔ مراد یہ کہ زندگی کی آسائشوں سے محروم ہو کر بے عملی کی زندگی بسر کر رہا ے ۔

The bride of life, in him is not his own, She comes out then from limbe’s lover line.

22

گنهکاریست پیش از مرگ در قبر

نکیرش از کلیسا ، منکر از دیر

وہ ایسا گنہگار ہے جو موت سے پہلے قبر میں جا چکا ہے ۔ اس سے منکر اور نکیر حساب کتاب لے رہے ہیں ۔

Entombed before death like sinner in chain, Torn among the angels of church and fane.

بند 2
Toggle stanza 2
33

به چشم او نه نور و نی سرور است

نه دل در سینهٔ او ناصبور است

اس کی آنکھ میں نہ نور ہے اور نہ سرور ۔ اور نہ ہی اس کے سینے میں بے قرار (عاشق ) دل ہے ۔

His eyes are void of a glamour and glee, No restive heart in his bosom I see.

44

خدا آن امتی را یار بادا

که مرگ او ز جان بی حضور است

خدا ہی اس امت کا مددگار رہے کیونکہ اس کی موت بے حضور زندگی سے ہے ۔ یعنی مسلمان کی زندگی کا زوال اللہ کے بے حضوری کی وجہ سے ہے ۔

God be a friend of the unlucky race, Who vanished from scene being out of His grace.

بند 3
Toggle stanza 3
55

مسلمان زاده و نامحرم مرگ

ز بیم مرگ لرزان تا دم مرگ

مسلمان ہو کر موت کی حقیقت سے نا آشنا ہے ۔ کیونکہ وہ موت تک موت کے خوف سے کانپتا رہتا ہے ۔

Though born as Muslim yet knows not the death, From fear of death shivers to his last breath

66

دلی در سینه چاکش ندیدم

دم بگسسته ئی بود و غم مرگ

میں نے اس کے (مصائب اور غموں سے) چاک سینے میں دل نہیں دیکھا ۔ البتہ بزدلی اور گھبراہٹ والا سانس اور موت کا غم موجود ہے ۔

I didn’t peep though through his bosom’s slit The fear of death has weaken’d his grit.

بند 4
Toggle stanza 4
77

ملوکیت سراپا شیشه بازی است

ازو ایمن نه رومی نی حجازی است

نظام ملوکیت سراسر دھوکا دہی اور دکھاوا ہے ۔ اس سے نہ کوئی رومی اور نہ حجازی بچ سکتا ہے ۔

The kingship as whole is trick and skill, In Rome or Jeddah none safe from his kill.

88

حضور تو غم یاران بگویم

به امیدی که وقت دل نوازی است

میں آپ کے آگے دوستوں کا غم بیان کر رہا ہوں اس امید پر کہ یہ دلوں کو تسلی دینے کا وقت ہے ۔

The sufferings of friends I say not to thee, In hope thy solace would make me happy.

بند 5
Toggle stanza 5
99

تن مرد مسلمان پایدار است

بنای پیکر او استوار است

مسلمان مرد کا جسم مضبوط ہے اس کے بدن کی بنیاد مستحکم ہے ۔ یعنی آج کا مسلمان جسم کی پرورش کر رہا ہے ۔

A Muslim’s stuff has a life long stay, His lay out stands on a powerful clay.

1010

طبیب نکته رس دید از نگاهش

خودی اندر وجودش رعشه دار است

اس پر بات کی تہہ تک پہنچنے والے طبیب نے نظر ڈالی ۔ تو معلوم ہوا کہ اس کے وجود میں خودی کپکپا رہی ہے ۔ یعنی معرفت حق کی پہچان نہیں رکھتا ۔

O wise critique see him from his view, The ‘Ego’ in him now shakes all through.

بند 6
Toggle stanza 6
1111

مسلمان شرمسار از بی کلاهی است

که دینش مرد و فقرش خانقاهی است

مسلمان دنیا میں اپنی بے وقعتی کی وجہ سے شرمندہ ہے ۔ کیونکہ اس کا دین مردہ ہے اور اس کا فقر خانقاہی بے عمل ہے

Ashamed is Muslim for losing his State, His dead faith is haunting some hermits great.

1212

تو دانی در جهان میراث ما چیست؟

گلیمی از قماش پادشاهی است

تو جانتا ہے کہ دنیا میں ہماری میراث کیا ہے ہمارا ورثہ ایک گدڑی ہے جو اسلاف کے مال و متاع سے حاصل کیا گیا ہے ۔

You know their bequest and forefather’s line, He holds his ‘blanket’ as a kingship sign.

بند 7
Toggle stanza 7
1313

مپرس از من که احوالش چسان است

زمینش بدگهر چون آسمان است

مجھ سے مت پوچھ کہ مسلمان کا حال کیسا ہے کیونکہ اس کی زمین آسمان کی طرح اس کے لیے ناموافق ہے (وہ ذلت کی زندگی بسر کر رہا ہے ) ۔

Ask me not of his present day lot, As if, earth and sky have made a plot,

1414

بر آن مرغی که پروردی به انجیر

تلاش دانه در صحرا گران است

اس پرندے پر جس کی انجیر سے پرورش کی ہے اس کے لیے صحرا میں دانہ تلاش کرنا بھاری ہے ۔

To bird who was reared on fruits of fig, The grains’ search in deserts a problem big.

بند 8
Toggle stanza 8
1515

به چشمش وانمودم زندگی را

گشودم نکته فردا و دی را

میں نے اس کی (مسلمان کی) آنکھوں کے سامنے زندگی کی حقیقت رکھی ۔ میں نے ماضی اور مستقبل کے راز کھولے ۔

I have scanned the whole world through his eye, So past and future tips I would untie.

1616

توان اسرار جانرا فاش تر گفت

بده نطق عرب این اعجمی را

میں زندگی کے رازوں کو کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ تو مجھ عجمی کو عرب کی زبان عطا کر ۔ کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی زبان ہے ۔

Thus ope more and more life’s secret tips, Give the Arab’s tone on this Ajmi’s lips.

بند 9
Toggle stanza 9
1717

مسلمان گرچه بی خیل و سپاهی است

ضمیر او ضمیر پادشاهی است

مسلمان اگرچہ لشکری گھوڑے اور سپاہی نہیں رکھتا ۔ اس کا ضمیر بادشاہوں کے ضمیر جیسا ہے ۔

The Muslims have raised no armament wings, His conscience is yet like conscience of kings.

1818

اگر او را مقامش باز بخشند

جمال او جلال بی پناهی است

اگر اس کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس بخش دیا جائے تو اس کا جمال بہت زیادہ رعب و دبدبہ رکھتا ہے ۔

If he gets back his status again, Through his beauty his grandeur would reign.

بند 10
Toggle stanza 10
1919

متاع شیخ اساطیر کهن بود

حدیث او همه تخمین و ظن بود

شیخ (روحانی و مذہبی امام) کا سارا علم پرانی داستانیں کہنے تک ہے ۔ اس کی ساری باتیں اندازے اور گمان پر مبنی ہیں یعنی وہ خود بھی حقیقی معنوں میں اسلام کی روح تک پہنچنے سے قاصر ہے ۔

The assets of Sheikh were the fables old, On guessand thinking his Hadith was mould.

2020

هنوز اسلام او زنار دار است

حرم چون دیر بود او برهمن بود

ابھی تک اس کا اسلام زنار دار ہے ۔ اس کے لیے کعبہ مندر کی طرح ہے اس کا امام برہمن ہے ۔

He holds faith yet like a Hindu’s thread, His mosque thus sways in a temple’s stead.

بند 11
Toggle stanza 11
2121

دگرگون کرد لادینی جهان را

ز آثار بدن گفتند جان را

آج لادینیت نے دنیا کو تہ و بالا کر دیا ہے ۔ روح کو بھی جسم کے نشانات میں سے (مادی چیز) کہا جاتا ہے ۔

He brought a total change in faithless world, They say,“body is a track for life’s bird”

2222

از آن فقری که با صدیق دادی

بشوری آور این آسوده جان را

اس درویشی سے جو حضرت صدیق کو دی گئی اس مطمئن اور بے عمل مسلمان میں اسلام کو اپنانے کے لیے جوش پیدا کریں ۔

With ‘faqrthou destined to the Siddiq’s part, May fill a new thrill to this ease loving heart.

بند 12
Toggle stanza 12
2323

حرم از دیر گیرد رنگ و بوئی

بت ما پیرک ژولیده موئی

کعبہ (اسلام) مندر سے خوبصورتی حاصل کر رہا ہے ۔ ہمارا بت بکھرے ہوئے بالوں والا مذہبی اور روحانی پیشوا ہے ۔ یعنی ہمارے امام کے ظاہر و باطن میں بھی فرق ہے ۔

From fane gets Harem its grandeur and glare, My ‘idol’ is a ‘pir’with curly hair.

2424

نیابی در بر ما تیره بختان

دلی روشن ز نور آرزوئی

ہم بری قسمت والوں کے پہلو میں آرزو کے نور سے روشن دل نہیں ملیں گے ۔

None ill‐starred came in my bosom’s frame, Being lit up with light of his hopeful flame.

بند 13
Toggle stanza 13
2525

فقیران تا به مسجد صف کشیدند

گریبان شهنشاهان دریدند

جب تک فقیری رہی مسجد میں صفیں بناتے رہے یعنی باعمل اور شریعت کے پابند رہے اور بادشاہوں کے گریبانوں کو پھاڑنے والے ہو گئے ۔ یعنی جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہتے رہے ۔

As long in mosque the poor kept a row, They tore the emperors collars he

2626

چو آن آتش درون سینه افسرد

مسلمانان به درگاهان خزیدند

جب وہ فقر کی آگ سینوں (مسلمانوں ) میں بجھ گئی اور وہ خانقاہی فقر (دنیا کی تگ و دو سے کنارہ کش فقر) کی طرف جانے والے ہو گئے ۔

That fire when cooled in his heart and soul, They crawled to tombs of saints to roll.

بند 14
Toggle stanza 14
2727

مسلمانان به خویشان در ستیزند

بجز نقش دوئی بر دل نریزند

آج کس مسلمان اپنوں سے لڑنے والا ہے ۔ وہ اپنے دل پر دوئی (فرقہ پرستی) کے نقش کے سوا کچھ نہیں بنا رہے ۔

The Moslems are fighting with brothers own, Save seeds of rupture nothing they have sown.

2828

بنالند از کسی خشتی بگیرد

از آن مسجد که خود از وی گریزند

ان کی حالت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص (غیر مسلم) ان کی بنیاد (مسجد) کی کچی اینٹ بھی اکھاڑتا ہے تو اسے پکڑ لیتے ہیں ۔ باوجودیکہ وہ خود اس مسجد سے بھاگنے والے ہیں ۔

If you take a brick they raise cry and hue, A mosque from which they are fleeing all through.

بند 15
Toggle stanza 15
2929

جبین را پیش غیر الله سودیم

چو گبران در حضور او سرودیم

ہم نے پیشانی کو غیر اللہ کے سامنے گھسایا ۔ اس کے سامنے آتش پرستوں کی طرح نغمے گائے ۔

To others than God we touch our brows, And sing like Guibersin round about rows.

3030

ننالم از کسی می نالم از خویش

که ما شایان شان تو نبودیم

میں کسی سے نالاں نہیں ہوں ۔ میں خود سے نالاں ہوں کیونکہ ہم تیری (آپ) کی شان کے قابل نہیں ہیں ۔

I weep not on else, I weep on me, We are not fit for honours of thee.

بند 16
Toggle stanza 16
3131

بدست می کشان خالی ایاغ است

که ساقی را به بزم من فراغ است

شراب پینے والوں کے ہاتھ میں خالی پیالے ہیں کہ ساقی کو میری محفل میں فراغت ہے ۔ یعنی ہدایت دینے والے مدرسے میں موجود نہیں ہیں ۔

In the hands of drinkers the empty glass, My party’s bearer is jobless alas.

3232

نگه دارم درون سینه آهی

که اصل او ز دود آن چراغ است

میں اپنے سینے میں آہ پر نظر رکھے ہوئے ہوں ۔ کیونکہ اس کی اصل اس چراغ کے دھوئیں سے ہے ۔

I keep an eye on sigh’s inner seat, Whose source are the fumes of that lamp’s heat.

بند 17
Toggle stanza 17
3333

سبوی خانقاهان خالی از می

کند مکتب ره طی کرده را طی

خانقاہوں کے مٹکے (معرفت حق) کی شراب سے خالی ہیں ۔ دینی مدارس اس راہ کو طے کر رہے ہیں جو پہلے طے کی جا چکی ہے ۔ یعنی جدید علوم کے بجائے قدیم علوم پڑھائے جا رہے ہیں ۔ زمانے کی رفتار کے مطابق تحقیق و تنقید کی کوئی بات نہیں کی جاتی ۔

The synagogues bottles are void of wine, Where teachers are the pupils of that line.

3434

ز بزم شاعران افسرده رفتم

نواها مرده بیرون افتد از نی

دورِ حاضر کا مسلمان مجلس شعراء میں گیا اور افسردہ واپس آیا ۔ کیونکہ ان کی بنسری سے پیدا ہونے والی صدائیں مردہ ہیں ۔

The poets group I left with tears, Their fifes and flutes are dead on ears.

بند 18
Toggle stanza 18
3535

مسلمانم غریب هر دیارم

که با این خاکدان کاری ندارم

میں مسلمان ہوں ۔ مجھے ہر شہر میں اجنبی سمجھا جاتا ہے ۔ کیونکہ میرا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔

The Muslims are foreigns on every land, Are looked on this earth like a useless band.

3636

به این بی طاقتی در پیچ و تابم

که من دیگر به غیر الله دچارم

میں اپنی اس بے طاقتی پر بے چین و بے قرار ہوں کیونکہ میں ایک مرتبہ پھر غیر اللہ سے واسطہ ہے ۔ غیر اللہ سے مراد انگریز جو نمرود ، فرعون اور شداد کے نمائندے ہیں ۔

Though powerless still I twist and twine, I face the godless in every line.

بند 19
Toggle stanza 19
3737

به آن بالی که بخشیدی ، پریدم

به سوز نغمه های خود تپیدم

میں تیرے عطا کیے ہوئے ان پروں سے اڑا ۔ میں خود اپنے نغموں کے سوز و حرارت میں تڑپا ۔ یعنی اللہ اور رسول کے احکامات کی پیروی کی ۔

With wings you gave I judge and fly, In heat of songs I burn and cry.

3838

مسلمانی که مرگ از وی بلرزد

جهان گردیدم و او را ندیدم

مسلمان جس سے موت کا نپتی ہے میں دنیا میں پھرا ہوں میں نے اس کو نہیں دیکھا ۔ یعنی سچے مسلمان کا وجود نہیں رہا ۔

A Muslim from whom shivers the death, I found him not on whole earth’s breadth.

بند 20
Toggle stanza 20
3939

شبی پیش خدا بگریستم زار

مسلمانان چرا زارند و خوارند

میں ایک رات خدا کے سامنے زارو قطار رویا ۔ مسلمان دکھ اور تکلیف میں کیوں ہیں اور ذلالت اٹھا رہے ہیں ۔

At night before Lord I often cry, Why Moslems are aimed for curse of sky.

4040

ندا آمد ، نمیدانی که این قوم

دلی دارند و محبوبی ندارند

آواز آئی، کیا تو نہیں جانتا کہ یہ قوم دل تو رکھتی ہے لیکن محبوب (حضرت محمد) نہیں رکھتی ۔

A voice came then, “You know not this race, Hold a heart yet know not lovers face.”

بند 21
Toggle stanza 21
4141

نگویم از فرو فالی که بگذشت

چه سود از شرح احوالی که بگذشت

میں کچھ نہیں کہتا مسلمانوں کی شان و شوکت سے متعلق جو گزر گئی ہے ۔ اس احوال کی وضاحت کرنے کا کیا فائدہ جو گزر گیا ہے ۔

I speak not now of the grandeur past. No use to count now what did not last.’

4242

چراغی داشتم در سینهٔ خویش

فسرد اندر دو صد سالی که بگذشت

میں اپنے دل میں ایک ایسا چراغ رکھتا تھا ۔ ان دو سو سالوں میں بجھ گیا ہے جر گزر چکے ہیں ۔

I keep a lamp lit in chest of mine, In two hundred years we sapped its shine.

بند 22
Toggle stanza 22
4343

نگهبان حرم معمار دیر است

یقینش مرده و چشمش به غیر است

کعبہ کا محافظ بت خانہ بنا رہا ہے اس کا یقین مردہ اور اس کی آنکھ غیروں پر ہے ۔ یعنی اسلام سے بدظن ہو کر مغربیت پر فریفتہ ہے ۔

The guard of Harem is the mason of fane, His faith is dead, eyes set on others lane.

4444

ز انداز نگاه او توان دید

که نومید از همه اسباب خیر است

اس کی نگاہ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیکی کے تمام اسباب سے نا امید ہے ۔

From his winking eyes it can be seen, He is despaired of all godsend means.

بند 23
Toggle stanza 23
4545

ز سوز این فقیر ره نشینی

بده او را ضمیر آتشینی

راستے میں بیٹھنے والے اس فقیر کے سوز سے اس کو آگ کی سی حرارت والا ضمیر دے ۔

From this poor man’s flame, sitting on his way Bid him fiery conscience, the least I say.

4646

دلش را روشن و پاینده گردان

ز امیدی که زاید از یقینی

اس کے دل کو روشنی اور ہمیشہ کی زندگی عطا کر ۔ اس امید سے جو اس میں یقین سے پیدا ہوتی ہے ۔

Kindle his heart for a-long-lasting light, From man’s hopes his hopes be more bright.

بند 24
Toggle stanza 24
4747

گهی افتم گهی مستانه خیزم

چو خون بی تیغ و شمشیری بریزم

کبھی میں گرتا ہوں کبھی مست حال اٹھتا ہوں ۔ کیا خون ہے جو میں تلوار اور تیغ کے بغیر بہا رہا ہوں ۔

Like gallants I fall and rise again, What a blood I shed sans sword-and cane.

4848

نگاه التفاتی بر سر بام

که من با عصر خویش اندر ستیزم

چھت کے کنارے سے مہربانی کی نگاہ کر کیونکہ میں اپنے زمانے سے لڑ رہا ہوں ۔

On every ones terrace now leans thy look, For which a constant war I have to brook.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مسلمان آن فقیر کج کلاهی

رمید از سینه او سوز آهی

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 9 - مسلمان آن فقیر کج کلاهی

اگلی نظم

مرا تنهائی و آه و فغان به

سوی یثرب سفر بی کاروان به

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 11 - مرا تنهائی و آه و فغان به

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شدی جامی چو پیر از گردش دهر

ز پیوند جوانان گوشه ای گیر

جامی»دیوان اشعار»قطعات»شمارهٔ 13

مکن در کشتنم زین بیش تقصیر

چو من مردم ز غم دیگر چه تدبیر

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 250

به پایان چون رسد این عالَمِ پیر

شود بی‌پرده هر پوشیده تقدیر

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 11 - به پایان چون رسد این عالم پیر

◆