شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
بپا ای هم نفس باهم بنالیم
من و تو کشته شان جمالیم
اے میرے دوست آ ہم اکھٹے ملکر روئیں ۔ کیونکہ ہم دونوں جلوہ محبوب (رسول اللہ ﷺ) کے مارے ہوئے ہیں ۔
Come O! chum for a tie to weep and cry. A victim of ‘Beauty’are you and I.
دو حرفی بر مراد دل بگوئیم
بپای خواجه چشمان را بمالیم
اپنے دل کی آرزو سے متعلق کچھ نہیں اور خواجہ (رسول اللہ ﷺ) کے پاؤں سے اپنی آنکھیں ملیں ۔
Two words I would say in hearts parlance, By ‘Master’s’ feet let eyes go to trance.
حکیمان را بها کمتر نهادند
به نادان جلوه مستانه دادند
یہاں مدینہ میں عقلمندوں کو کم قیمت پہ رکھا جاتا ہے ۔ اور نادانوں کو مست جلوے عطا کیے جاتے ہیں ۔
To wise he gave less wealth and affluence, The duffer got lustres of raptures hence.
چه خوش بختی ، چه خرم روزگاری
در سلطان به درویشی گشادند
کیا خوش قسمتی ہے اور کیا خوش و خرم زندگی ہے کہ میری طرح کے درویش کے لیے سلطان (رسول اکرمﷺ) کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔
How lucky they were and lucky that age, When king’s door were open to a saint or page.
جهان چار سو اندر بر من
هوای لامکان اندر سر من
چاروں اطراف والا جہان میرے پہلو میں سما گیا ہے اب میرے سر میں لامکاں کی آرزو پیدا ہو گئی ہے ۔
The world with four sides I have in arm‐pit, I have wrapped in this head the heavens’ wit.
چو بگذشتم ازین بام بلندی
چو گرد افتاد پرواز از پر من
جب میں اس بلند مقام (لامکان) سے گزر گیا تو میرے پروں سے پرواز کی طاقت گرد کی طرح جھڑ گئی (گویا ساری کائنات میرے اندر سما گئی ) ۔
Then I had to leave that topmost height, Like dust my wing’s lost that higher flight.
درین وادی زمانی جاودانی
زخاکش بی صور روید معانی
وادی زمانی میں ہمیشگی حاصل کرتا ہے اس کی خاک سے بغیر صورت کے معانی پیدا ہوتے ہیں ۔
In this valley lies a lasting life new, This dust solves meanings’ with an arcane clue.
حکیمان با کلیمان دوش بردوش
که اینجا کس نگوید «لن ترانی»
یہاں باحکمت لوگ اور اللہ سے کلام کرنے والے برابر ہیں ۔ کیونکہ اس جگہ کسی کو لن ترانی نہیں کہا جاتا ۔
The Sages and Moses are side by side, There none would ever look a “Can’t see” slide.