غزل شمارهٔ 389

Toggle stanza 1
منم که می کنم از درد بی کرانهٔ خویش
1

منم که می کنم از درد بی کرانهٔ خویش

مگو، مگو ز غم، آرایش زمانهٔ خویش

2

فلک به چرب زبانی، گدای فرصت نیست

به مدعی ندهی، گوهر یگانهٔ خویش

3

ز نفخ صور نه توفان نوح بی خطر است

چرا نتازد عنقا به آشیانهٔ خویش

4

به وعده گاه تو امید آنقدر بنشاند

که در دیار خودم سوخت خانهٔ خویش

5

خراب آتش رمز محبتم عرفی

که در شرار نهان می کند زبانهٔ خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…