صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »اشعار منتسب
  3. »شمارهٔ 114 - رباعی

شمارهٔ 114 - رباعی

شاعر: حافظ

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ردنتو

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا کی بود این جور و جفا کردن تو

بیهوده دل خلایق آزردن تو

2

تیغی است به دست اهل دل خون آلود

گر در تو رسد خون تو در گردن تو

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنم که پدید گشتم از قدرتِ تو

پرورده شدم به ناز در نعمت تو

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 113 - رباعی

اگلی نظم

گل را دیدم نشسته بر تخت شهی

گفتا بشنو راستی از مرد رهی

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 115 - رباعی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای شمع! تویی علی الیقین دشمنِ تو

خود را کشتی خون تو در گردنِ تو

عطار»مختارنامه»باب چهل و هفتم: در معانیی كه تعلق به شمع دارد»شمارهٔ 83

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور