شاعر
خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی (1325ء تا 1390ء) فارسی زبان کے عظیم ترین غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا تخلص حافظ اور لقب لسان الغیب ہے۔ فارسی ادب کی تاریخ میں ان کا مقام اس قدر بلند ہے کہ انہیں غزل کا بے مثال استاد اور فارسی تہذیب و ادب کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اگرچہ حافظ کی شہرت صدیوں سے عالم گیر ہے، لیکن ان کی زندگی کے بارے میں مستند تاریخی معلومات محدود ہیں۔ ان کے نام، تاریخِ پیدائش اور بعض دیگر حالاتِ زندگی کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ تاہم عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ شیراز میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ وہیں گزارا۔
حافظ نے اپنے عہد کے ممتاز علما سے علومِ دینیہ اور ادبیات کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں فقہ، تفسیر، کلام اور دیگر علمی فنون پر عبور حاصل تھا۔ روایت ہے کہ انہوں نے قرآنِ مجید کو چودہ قراءتوں کے ساتھ حفظ کیا، اور اسی نسبت سے "حافظ" کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ان کی شاعری میں عشق، عرفان، حکمت، انسانی جذبات اور زندگی کے لطیف تجربات نہایت دل کش اور رمز آلود انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
حافظ کا دیوان فارسی ادب کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر غزلیات شامل ہیں، تاہم چند قصائد، مثنویاں، قطعات اور رباعیات بھی موجود ہیں۔ ان کے کلام کا اثر صرف مشرق تک محدود نہیں رہا بلکہ مغرب کے اہلِ ادب بھی اس سے متاثر ہوئے۔ جرمن شاعر اور مفکر گوئٹے نے اپنی مشہور تصنیف دیوانِ غربی شرقی کی تخلیق میں حافظ کے افکار اور شاعری سے گہرا اثر قبول کیا۔
حافظ شیرازی نے 1390ء میں شیراز میں وفات پائی۔ ان کا مزار، جو حافظیہ کے نام سے معروف ہے، فارسی ادب کے شائقین، محققین اور عقیدت مندوں کے لیے ایک اہم ادبی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔