صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »اشعار منتسب
  3. »شمارهٔ 113 - رباعی

شمارهٔ 113 - رباعی

شاعر: حافظ

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: متتو

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

آنم که پدید گشتم از قدرتِ تو

پرورده شدم به ناز در نعمت تو

2

صد سال به امتحان گنه خواهم کرد

یا جرم من است بیش یا رحمت تو

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

حافظ ورق سخن‌گذاری طی کن

وین خامهٔ تزویر و ریا را پی کن

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 112 - رباعی

اگلی نظم

تا کی بود این جور و جفا کردن تو

بیهوده دل خلایق آزردن تو

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 114 - رباعی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور