صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 35

غزل شمارهٔ 35

غزل نمبر35

Ghazal No. 35

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: الدگران

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
مثل آئینه مشو محو جمال دگران
از دل و دیده فرو شوی خیال دگران

آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔

Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.

22
آتش از نالهٔ مرغان حرم گیر و بسوز
آشیانی که نهادی به نهال دگران

حرم کے پرندوں کے نالے سے آگ لے اور جلا ڈال وہ آشیانہ جو تو نے دوسروں کے درخت پر بنایا ہے ۔

Acquire fire from the singing of the Harem birds, and burn away the nest that you have built in other people’s tree.

33
در جهان بال و پر خویش گشودن آموز
که پریدن نتوان با پر و بال دگران

دنیا میں اپنے بال و پر کھولنا سیکھ کیونکہ دوسروں کے بال و پر سے اڑا نہیں جا سکتا ۔

In this world learn to unfurl your own wings, for you can never fly with others’ wings.

44
مرد آزادم و آن گونه غیورم که مرا
می‌توان کُشت به یک جام زلال دگران

میں آزاد مرد ہوں اور ایسا آن والا کہ مجھے دوسروں کے بخشے ہوئے میٹھے پانی کے ایک پیالے سے مارا جا سکتا ہے

I am an independent man and am so self-respecting too that you could kill me with a glass of water that belonged to someone else.

55
ای که نزدیک‌تر از جانی و پنهان ز نگه
هجر تو خوشترم آید ز وصال دگران

اے تو کہ میری جان سے بھی قریب ہے (نحن اقرب الیہ من حبل الورید) مگر نگاہ سے اوجھل ہے ۔ ہے تیرا ہجر بھی میرے لیے دوسروں کے وصال سے اچھا ہے ۔

O You, closer to my soul than all else, yet hidden from my sight, your separation from me is dearer to me than union with all others.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تب و تاب بتکدهٔ عجم نرسد به سوز و گداز من

که به یک نگاه محمد عربی گرفت حجاز من

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 34

اگلی نظم

جهان عشق نه میری نه سروری داند

همین بس است که آئین چاکری داند

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 36

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

من و فکر تو چه بینم به جمال دگران

هم خیال تو مرا به که وصال دگران

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 774

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00