جنت الفردوس کی طرف روانگی
Departure for Paradise
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
در گذشتم از حد این کائنات
پا نهادم در جهان بی جهات
میں اس کائنات کی حد سے گزر گیا اور میں نے ایسے جہان میں قدم رکھا جو طرفوں سے بے نیاز تھا (جس میں مشرق و مغرب وغیرہ نہیں تھے) ۔
I passed beyond the bounds of this universe and set foot in the undimensioned world;
بی یمین و بی یسار است این جهان
فارغ از لیل و نهار است این جهان
یہ جہاں دائیں اور بائیں کے بغیر ہے، یہ جہان رات اور دن سے بھی فارغ ہے (یہاں نہ رات ہوتی ہے اور نہ دن ہوتا ہے ) ۔
A world without both right and left, a world devoid of night and day.
پیش او قندیل ادراکم فسرد
حرف من از هیبت معنی بمرد
اس جہان کو دیکھ کر میرے تو عقل و شعور (سوچ سمجھ) کا چراغ ہی بجھ گیا ۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا معنی یا بیان کے دبدبے سے میرے الفاظ ہی مر گئے ۔
Before it the lantern of my perception dimmed, my words died in awe of the meaning.
با زبان آب و گل گفتار جان
در قفس پرواز میآید گران
جان کی بات جسم کی زبان سے ادا نہیں کی جا سکتی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح پرندے کے لیے پنجرے میں اڑنا بہت مشکل ہے ۔
To speak of the spirit with the tongue of water and clay – it is very hard to soar in a cage!
اندکی اندر جهان دل نگر
تا ز نور خود شوی روشن بصر
تو ذرا دل کی دنیا پر نظر ڈال تاکہ تیری بصارت اپنے نور سے روشن ہو جائے ۔
Regard a little while the world of the heart that you may win clear vision by the light of the Self.
چیست دل یک عالم بی رنگ و بوست
عالم بی رنگ و بو بی چار سوست
دل کیا ہے رنگ و بو سے خالی ایک جہان ہے ۔ یہ جہان بھی بے رنگ و بو ہے اور اس میں بھی سمتیں نہیں ہیں ۔
What is the heart? A world without colour and scent, a world without colour and scent and without dimensions.
ساکن و هر لحظه سیار است دل
عالم احوال و افکار است دل
دل ساکن بھی ہے اور ہر لحظہ سیار بھی؛ یہ کیفیات اور افکار کا جہان ہے۔ ا
ترجمہ: میاں عبدالرشید
The heart is at rest, yet every moment in motion; the heart is a world of spiritual states and thoughts.
از حقایق تا حقایق رفته عقل
سیر او بی جاده و رفتار و نقل
عقل حقیقتوں سے حقیقتوں کی طرف گئی ہے جبکہ دل کی سیر کسی رفتار اور راستہ اور نقل مکانی کے بغیر ہے ۔
Reason makes its way from fact to fact; it travels without highroad and tramping and transport;
صد خیال و هر یک از دیگر جداست
این بگردون آشنا آن نارساست
دل کے اندر سینکڑوں قسم کے خیالات آتے ہیں لیکن ہر خیال ایک دوسرے سے جدا الگ ہوتا ہے ، کوئی تو آسمان تک پہنچتا ہے اور کوئی نہیں پہنچتا ۔
A hundred images, each different from the other, this one acquaint with heaven, that one unattaining.
کس نگوید این که گردون آشناست
بر یمین آن خیال نارساست
کوئی یہ نہیں کہتا کہ وہ خیال جو آسمان تک پہنچتا ہے اس کے دائیں طرف آسمان تک نہ پہنچنے والا خیال ہے ۔
No one says that this which is acquaint with heaven is on the right hand of that unattaining image,
یا سروری کاید از دیدار دوست
نیم گامی از هوای کوی اوست
یا وہ سرور کہ جو دوست کے دیدار سے حاصل ہوتا ہے وہ محبوب کے کوچے کی آرزو سے نصف قدم کے فاصلے پر ہے ۔
Or that the joy which comes from beholding the beloved is but half a pace from the air of His street.
چشم تو بیدار باشد یا بخواب
دل ببیند بی شعاع آفتاب
تیری آنکھیں جاگتی ہوں یا سوئی ہوئی ہوں ، دل سورج کی روشنی کے بغیر سب کچھ دیکھتا رہتا ہے ۔
Your eyes may be wakeful or asleep; the heart sees without the rays of the sun.
آن جهان را بر جهان دل شناس
من چگویم زانچه ناید در قیاس
تو اس جہان کو دل کے جہان کے حوالے سے پہچان ، میں بھلا اس کے بارے میں کیا بیان کروں جو قیاس میں بھی آنا ممکن نہیں ۔
Know that world by the world of the heart – yet what shall I say of what defies analogy?
اندر آن عالم جهانی دیگری
اصل او از کن فکانی دیگری
اس جہان کا ایک اور ہی عالم ہے، اس کی اصل ایک اور کن فکاں سے ہے ۔
In that universe was another world whose origin was from another Divine fiat;
لازوال و هر زمان نوع دگر
ناید اندر وهم و آید در نظر
وہ لازوال ہے (اسے فنا نہیں ) اور ہر لمحہ نئے انداز سے اسے دیکھا جا سکتا ہے ( وہ وہم میں نہیں آتا اور نظر میں آتا ہے ) ۔
Undecaying, and every moment transformed, unimaginable, yet there clearly visible;
هر زمان او را کمالی دیگری
هر زمان او را جمالی دیگری
ہر لمحہ اس کا ایک اور ہی نیا کمال ہوتا ہے اور ہر لحظہ اس کا جمال نیا نظر آتا ہے ۔
Every moment clothed in a new perfection, every moment clad in a new beauty.
روزگارش بی نیاز از ماه و مهر
گنجد اندر ساحت او نه سپهر
اس کے دن رات، سورج اور چاند سے بے نیاز ہیں ۔ اس کی وسعت کے اندر نو آسمان سما جاتے ہیں ۔
Its time had no need of moon and sun; in its expanse the nine spheres are contained.
هر چه در غیب است آید روبرو
پیش از آن کز دل بروید آرزو
اس سے پہلے کہ دل میں کوئی آرزو پیدا ہو، یہاں جو کچھ بھی غیب میں ہے وہ سامنے آ جاتا ہے ۔
Whatever is in the Unseen comes face to face even before the desire for it issues from the heart.
در زبان خود چسان گویم که چیست
این جهان نور و حضور و زندگیست
میں اپنی زبان سے کیا بیان کروں کہ وہ جہان کیا ہے ، یہ جہان نور و حضور اور زندگی ہے ۔
How can I tell in my own tongue what it is, this world? It is light, and presence, and life.
لاله ها آسوده در کهسار ها
نهر ها گردنده در گلزار ها
اس کے پہاڑوں میں لالہ کے پھول آرام کر رہے ہیں ۔ اس کے باغات میں نہریں جاری ہیں ۔
Tulips repose amidst the mountains, rivers meander in the rose \-gardens;
غنچه های سرخ و اسپید و کبود
از دم قدوسیان او را گشود
یہاں سرخ و سفید اور نیلے غنچے ہیں جو فرشتوں کے دم سے کھلتے ہیں ۔
Buds crimson, white and blue blossom with the breath of the holy ones;
آبها سیمین ، هوا ها عنبرین
قصرها با قبه های زمردین
اس کے پانی چاندی کی طرح سفید ہیں ، اس کی ہواؤں میں عنبر کی خوشبو ہے ۔ اس کے گنبد اور محل زمرد کے بنے ہوئے ہیں ۔
Its waters silver, the air ambergris, palaces with domes of emerald,
خیمه ها یاقوت گون زرین طناب
شاهدان با طلعت آئینه تاب
یہاں کے خیمے یاقوت کے رنگ کے ہیں ، اور ان خیموں کی طنابیں سنہری یعنی سونے کی ہیں ۔ ان خیموں میں ایسے حسین ہیں جن کے چہرے آئینے کی سی چمک رکھتے ہیں ۔
Tents of ruby with golden ropes, beauties with countenances radiant as a mirror.
گفت رومی «ای گرفتار قیاس
در گذر از اعتبارات حواس
رومی نے کہا کہ تو جو قیاس میں گرفتار ہے ، حواس کے اعتبار سے گزر جا ۔
Rumi said, 'O prisoner of analogy, pass beyond the assumptions of the senses;'
از تجلی کارهای خوب و زشت
می شود آن دوزخ این گردد بهشت
اچھے اور برے کام خالق کائنات کی تجلی سے متعلق ہیں ، جس (تجلی) کی بنا پر وہ (برے اعمال) دوزخ اور یہ (اچھے اعمال) بہشت بن جاتے ہیں ۔
Acts fair and foul derive out of manifestation, the latter turning to Hell, the former to Heaven;
این که بینی قصر های رنگ رنگ
اصلش از اعمال و نی از خشت و سنگ
یہ جو تو رنگا رنگ کے محل دیکھ رہا ہے تو اس کی اصل، بنیاد اعمال سے ہے، اینٹ اور پتھر سے نہیں ۔
These many-coloured palaces you behold are built of deeds, not of bricks and stones;
آنچه خوانی کوثر و غلمان و حور
جلوهٔ این عالم جذب و سرور
جنھیں تو کوثر اور غلمان اور حور کہتا ہے ، وہ تو اس جذب و سرور کے عالم کے جلوے ہیں ۔
What you call Kauthar and page and houri are the reflection of this world of ecstasy and joy.
زندگی اینجا ز دیدار است و بس
ذوق دیدار است و گفتار است و بس»
یہاں کی زندگی دیدار (جمال) سے ہے اور بس، یہاں دیدار کا ذوق ہے اور اس کے بارے میں باتیں ہیں ۔
Here life is the Beatific Vision, naught else, the bliss of seeing and speaking with the Beloved.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور