صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 1 - مقام حکیم آلمانی نیچه

بخش 1 - مقام حکیم آلمانی نیچه

جرمن فلسفی نطشہ کا مقام

The Station of the German Sage Nietzsche

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

هر کجا استیزه ی بود و نبود

کس نداند سر این چرخ کبود

ہر جگہ وجود اور نیستی میں جنگ جاری ہے کوئی بھی اس نیلے آسمان کے راز سے باخبر نہیں ہے (کوئی نہیں جانتا ہے ) ۔

The conflict of being and not-being is universal; no man knows the secret of yon azure sky.

22

هر کجا مرگ آورد پیغام زیست

ایخوش آنمردی که داند مرگ چیست

ہر کہیں زندگی کا پیغام لاتی ہے، مبارک ہے وہ شخص جسے یہ علم ہو کہ موت کیا ہے

Everywhere death brings the message of life – happy is the man who knows what death is.

33

هر کجا مانند باد ارزان حیات

بی ثبات و با تمنای ثبات

پر کہیں زندگی ہوا کی طرح ارزاں ہے، بے ثبات ہے اور اسے ثبات کی تمنا بھی رکھتی ہے ۔

Everywhere life is as cheap as the wind, unstable, and aspiring to stability.

44

چشم من صد عالم شش روزه دید

تا حد این کائنات آمد پدید

میری آنکھوں نے سینکڑوں چھ روزہ جہان دیکھے، تب کہیں جا کر اس کائنات کی حد ظاہر ہوئی ۔

My eyes had beheld a hundred six-day worlds and at last the borders of this universe appeared;

55

هر جهان را ماه و پروینی دگر

زندگی را رسم و آئینی دگر

اس جہان کے اپنے چاند اور پروین ستارے ہیں اور ہر کسی میں زندگی کے طور طریقے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔

Each world had a different moon, a different Pleiades, a different manner and mode of existence.

66

وقت هر عالم روان مانند زو

دیر یاز اینجا و آنجا تند رو

ہر جہاں کا وقت دریا کی مانند رواں ہے جو یہاں اس جہان میں تو سست رفتار ہے اور اس جہان میں وہ تیزی سے چل رہا ہے ۔

Time in each world flowed like the sea, here slowly and there swiftly;

77

سال ما اینجا مهی آنجا دمی

بیش این عالم به آن عالم کمی

ہماری دنیا کے سال مہینے ہیں جبکہ وہاں ایک پل ہیں ۔ یہاں کے سال میں تو بارہ ماہ ہیں لیکن وہاں کے سال محض ایک پل ہے ۔

Our year was here a month, there a moment, this world’s more was that world’s less.

88

عقل ما اندر جهانی ذوفنون

در جهان دیگری خوار و زبون

اس جہان میں ہماری عقل ذوفنون ہے لیکن دوسرے جہان میں وہ ذلیل و خوار ہے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔

Our reason in one world was all-cunning, in another world it was mean and abased.

99

بر ثغور این جهان چون و چند

بود مردی با صدای دردمند

اسباب اور مقدار کے اس جہان کی سرحد پر ایک مرد درد بھری صدائیں بلند کر رہا تھا ۔

On the frontiers of this world of quality and quantity dwelt a man with a voice full of agony,

1010

دیدهٔ او از عقابان تیز تر

طلعت او شاهد سوز جگر

اس کی نگاہیں عقابوں سے بھی زیادہ تیز تھیں ، اس کا چہرہ اس کے سوز جگر کا گواہ تھا ۔

His vision keener than an eagle’s, his mien witness to a heart afire;

1111

دمبدم سوز درون او فزود

بر لبش بیتی که صد بارش سرود

ہر لمحہ اس کے باطنی سوز میں اضافہ ہو رہا تھا، اس کے ہونٹوں پر ایک شعر تھا جو اس نے سو مرتبہ پڑھا ۔

Every moment his inward glow increased. On his lips was a verse he chanted a hundred times:

1212

«نه جبریلی نه فردوسی نه حوری نی خداوندی

کف خاکی که میسوزد ز جان آرزومندی»

نہ جبرئیل، نہ جنت، نہ کوئی حور اور نہ خداوند، یہ مٹی کا پتلا آدم ہی ہے جو ایک آرزو مند جان کے باعث سلگ رہا ہے ۔

‘No Gabriel, no Paradise, no houri, no God, only a handful of dust consumed by a yearning soul.’

1313

من به رومی گفتم این دیوانه کیست

گفت« این فرزانهٔ المانوی ست

میں نے رومی سے پوچھا کہ یہ دیوانہ کون ہے انھوں نے کہا کہ یہ ایک جرمن دانشمند (نیٹشے) ہے ۔ نیٹشے ایک فلسفی تھا لیکن اس پر مجذوبی کی حالت طاری ہو گئی تھی ۔

I said to Rumi, ‘Who is this madman?’ He answered: ‘This is the German genius.

1414

در میان این دو عالم جای اوست

نغمهٔ دیرینه اندر نای اوست

اس کا مقام ان دو جہانوں کے درمیان ہے، اس کی بانسری میں وہی پرانا نغمہ ہے ۔

Whose place is between these two worlds; his reed-pipe contains an ancient melody.

1515

باز این حلاج بی دار و رسن

نوع دیگر گفته آن حرف کهن

اس حلاج (یعنی نیٹشے) نے جسے سولی پر نہیں لٹکایا گیا ایک مرتبہ پھر وہی پرانی بات نئے انداز سے کہی ہے یعنی انا الحق کی بات ۔

This Hallaj without gallows and rope has spoken anew those ancient words;

1616

حرف او بی باک و افکارش عظیم

غربیان از تیغ گفتارش دو نیم

اس کی باتیں بے باک اور اس کے افکار عظیم ہیں ۔ اہل مغرب اس کی گفتگو کی تلوار سے دو ٹکڑے ہیں ۔ اس نے اپنی باتوں یعنی افکار و نظریات سے عیسائی تہذیب و ثقافت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ۔

His words are fearless; his thoughts sublime, the Westerners are struck asunder by the sword of his speech.

1717

همنشین بر جذبه او پی نبرد

بندهٔ مجذوب را مجنون شمرد

اس کے ساتھی اس کے جذبے کو نہ پا سکے (نہ سمجھ سکے) انھوں نے اس مجذوب انسان کو دیوانہ سمجھ لیا ۔

His colleagues have not comprehended his ecstasy and have reckoned the ecstatic mad.

1818

عاقلان از عشق و مستی بی نصیب

نبض او دادند در دست طبیب

عقلمندوں نے جو عشق و مستی کے جذبوں سے محروم ہیں اسکی نبض طبیب کے ہاتھ میں دے دی، یعنی ڈاکٹروں سے اسکا علاج کروایا ۔

Intellectuals have no share of love and intoxication; they placed his pulse in the hand of the physician,

1919

با پزشکان چیست غیر از ریو و رنگ

وای مجذوبی که زاد اندر فرنگ

معالجوں کے پاس نمائش اور فریب کے سوا اور ہے ہی کیا، افسوس اس مجذوب پر جو افرنگ یا یورپ میں پیدا ہوا ۔

Yet what have doctors but deceit and fraud? Alas for the ecstatic born in Europe!

2020

ابن سینا بر بیاضی دل نهد

رگ زند یا حب خواب آور دهد

ابن سینا (بہت بڑا طبیب ) نسخہ جات کی بیاض پر دل لگاتا ہے یعنی جو کچھ کتابوں میں تھا ، جو اسی کے مطابق علاج کر جاتا یا پھر اس کی فصد کھولتا یا نیند لانے والی گولی دیتا ہے ۔

Avicenna puts his faith in textbooks and slits a vein, or prescribes a sleeping-pill.

2121

بود حلاجی به شهر خود غریب

جان ز ملا برد و کشت او را طبیب

وہ (نیٹشے) ایک ایسا حلاج تھا جو اپنے شہر کے اندر بھی اجنبی تھا، ملا یعنی عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں سے تو اس کی جان بچ گئی لیکن طبیبوں نے اسے مار ڈالا ۔

He was a Hallaj who was a stranger in his own city; he saved his life from the mullahs, and the physicians slew him.

2222

مرد ره دانی نبود اندر فرنگ

پس فزون شد نغمه اش از تار چنگ

یورپ کے اندر کوئی راہ داں آدمی نہ تھا اس لیے اس (نیٹشے) کا نغمہ ساز کے تاروں سے بڑھ گیا ۔

‘There was none in Europe who knew the Way, so his melody outstretched the strings of his lute;

2323

راهرو را کس نشان از ره نداد

صد خلل در واردات او فتاد

مسافر (مراد نیٹشے) کو کسی نے راستے کا پتہ نہ بتایا اس لیے اس کی واردات (وارداتِ قلبی) میں سینکڑوں خلل پیدا ہو گئے ۔

None showed the wayfarer the road, and a hundred flaws vitiated his visitations.

2424

نقد بود و کس عیار او را نکرد

کاردانی مرد کار او را نکرد

وہ نقدی (سونا) تھا، کسی نے اسے کسوٹی پر نہیں لگایا (نہیں پرکھا) کسی مردِ کار (مردِ کامل) نے اسے مردِ کار (باتیں سمجھنے والا نہ بنایا) ۔

He was true coin, but there was none to assay him, expert in theory, but none to prove him;

2525

عاشقی در آه خود گم گشته ئی

سالکی در راه خود گم گشته ئی

وہاں ایک ایسا عاشق تھا جو اپنی آہوں میں کھو گیا تھا (گم رہا) وہ ایک ایسا سالک تھا جو اپنے رستے ہی میں گم ہو گیا تھا (منزل تک نہ پہنچ سکا) ۔

A lover lost in the labyrinth of his sighs, a traveller gone astray in his own path.

2626

مستی او هر زجاجی را شکست

از خدا ببرید و هم از خود گسست

اس کی مستی نے ہر شیشے (نظریہ) کو توڑ ڈالا، وہ خدا سے تو بے تعلق ہوا ہی تھا اپنے آپ سے بھی بے تعلق ہو گیا ۔

His intoxication shattered every glass; he broke from God, and was snapped too from himself.

2727

خواست تا بیند به چشم ظاهری

اختلاط قاهری با دلبری

اس نے دلبری اور قاہری کے اختلاط کو ظاہری آنکھوں سے دیکھنا چاہا ۔

He desired to see, with his external eyes, the intermingling of power with love;

2828

خواست تا از آب و گل آید برون

خوشه ئی کز کشت دل آید برون

اس نے چاہا کہ آب و گل یعنی آدم سے باہر نکلے ۔

He yearned for these to come forth from water and clay a cluster sprouting from the seed-bud of the heart.

2929

آنچه او جوید مقام کبریاست

این مقام از عقل و حکمت ماوراست

اسے مقام کبریا کی تلاش تھی ، اور یہ مقام عقل و حکمت سے ماورا ہے ۔

What he was seeking was the station of Omnipotence, which station transcends reason and philosophy.

3030

زندگی شرح اشارات خودی است

لا و الا از مقامات خودی است

زندگی خودی کے اشاروں یا رمزوں کی شرح ہے، لا اور الا خودی ہی کے مقامات میں سے ہیں ۔

Life is a commentary on the hints of the Self, "no" and "but" are of the stations of the Self;

3131

او به لا درماند و تا الا نرفت

از مقام عبده بیگانه رفت

جو لا ہی میں الجھ کر رہ گیا اور الا تک نہ پہنچا اور عبدہ کے مقام سے بیگانہ رہا ۔

He remained fast in "no" and did not reach "but" being a stranger to the station of "His servant".

3232

با تجلی همکنار و بی خبر

دور تر چون میوه از بیخ شجر

مطلب تجلی اس (نیٹشے) کے پہلو میں تھی لیکن وہ اس سے بے خبر رہا ۔

Revelation embraced him, yet he knew it not, being like fruit all the farther from the roots of the tree.

3333

چشم او جز رؤیت آدم نخواست

نعره بیباکانه زد «آدم کجاست»

اس کی آنکھوں نے آدم کی رویت (مرد کامل کا نظارہ) کے سوا اور کچھ نہ چاہا، اس نے بیباکانہ نعرہ لگایا کہ آدم (فوق البشر) کہاں ہے ۔

His eyes desired no other vision but man; fearlessly he shouted, "Where is man?"

3434

ورنه او از خاکیان بیزار بود

مثل موسی طالب دیدار بود

ورنہ وہ تو خود بھی آدمیوں سے بیزار تھا اور حضرت موسیٰ کی طرح خدا کے دیدار کا طالب تھا ۔

And else he had despaired of earth’s creatures and like Moses he was seeking the vision.

3535

کاش بودی در زمان احمدی

تا رسیدی بر سرور سرمدی

کاش وہ کسی احمد یعنی حضرت شیخ احمد سرہندی کے زمانے میں ہوتا تاکہ وہ سرورِ دائم (ہمیشہ رہنے والے سرور) حاصل کر لیتا ۔ وہ اسے سرور سرمدی تک پہنچا دیتے ۔

Would that he had lived in Ahmad’s time, so that he might have attained eternal joy.

3636

عقل او با خویشتن در گفتگوست

تو ره خود رو که راه خود نکوست

اس (نیٹشے) کی عقل اپنے آپ سے گفتگو میں لگی ہوئی ہے ۔ تو اپنے راستے پر چل تیرا راستہ ہی بہتر ہے، آگے بڑھ ۔

His reason is in dialogue with itself; take your own way, for one’s own way is good.

3737

پیش نه گامی که آمد آن مقام

کاندرو بی حرف می روید کلام»

اے زندہ رود تو قدم آگے بڑھا کہ اب و ہ مقام آ گیا ہے جہاں الفاظ کے بغیر ہی باتیں ہوتی ہیں یہ مقام لاہوت ہے ۔ دوسرا مصرع رومی کی مثنوی کا ہے ۔ اپنے شعر میں رومی نے یہی کہا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ کے بغیر کلام کرنا ممکن ہے جبکہ عقل اس کا ادراک نہیں رکھتی ۔

Stride onwards, for now that station has come wherein speech sprouts without spoken words.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

در گذشتم از حد این کائنات

پا نهادم در جهان بی جهات

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 2 - حرکت به جنت‌الفردوس

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور