صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 3 - قصر شرف‌النسا

بخش 3 - قصر شرف‌النسا

قصر شرف النسا

The Palace of Sharaf al-Nisa

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

گفتم این کاشانه ئی از لعل ناب

آنکه میگیرد خراج از آفتاب

میں نے (رومی سے) پوچھا کہ خالص لعل سے بنا ہوا یہ کاشانہ کس کا ہے جو سورج سے بھی خراج لے رہا ہے یعنی اس کی چمک دمک کے سامنے سورج کی روشنی بھی کچھ نہیں ہے ۔

I said, ‘Yonder mansion of pure ruby which gathers tribute from the sun,

22

این مقام این منزل این کاخ بلند

حوریان بر درگهش احرام بند

یہ مقام ، یہ منزل اور یہ بلند محل جس کے دروازے پر حوریں بھی مودب کھڑی ہیں (کس کا ہے

Yon station, yon abode, yon lofty palace whose portico the houris throng pilgrim-robed;

33

ای تو دادی سالکانرا جستجوی

صاحب او کیست با من باز گوی

آپ (رومی) نے راہِ حق پر چلنے والوں میں جستجو کا جذبہ پیدا کیا ہے، بتائیے کہ اس کا مالک کون ہے

Tell me, you who inspired the travellers to search, who is the owner of this habitation?’

44

گفت «این کاشانهٔ شرف النساست

مرغ بامش با ملائک هم نواست

رومی نے کہا کہ یہ شرف النساَ کا کاشانہ ہے ۔ جس کی چھت کا پرندہ فرشتوں سے ہم کلام ہے ۔ (یہ بہت بلند و پاک محل ہے ) ۔

Rumi replied: ‘This is the mansion of Sharaf al-Nisa; the birds on its roof sing in the angels’ choir.

55

قلزم ما اینچنین گوهر نزاد

هیچ مادر اینچنین دختر نزاد

ہمارے سمندر نے اس قسم کا موتی پیدا نہیں کیا ۔ کسی ماں نے ایسی بیٹی کو جنم نہیں دیا ۔

Our ocean gave not birth to such a pearl; no mother gave birth to such a daughter.

66

خاک لاهور از مزارش آسمان

کس نداند راز او را در جهان

اس کے مزار کی وجہ سے لاہور کی سرزمین نے آسمان کا رتبہ پا یا ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی اس کے راز سے آگاہ نہیں ہے ۔

By her grave the earth of Lahore vies with heaven; none in this world comprehends her secret.

77

آن سراپا ذوق و شوق و درد و داغ

حاکم پنجاب را چشم و چراغ

وہ (شرف النسا) سراپا ذوق و شوق اور درد و داغ تھی ۔ وہ پنجاب کے حاکم ، صوبے دار کی چشم و چراغ (بیٹی) تھی ۔

She was all ecstasy and yearning, anguish and burning, eyes and lamp to the governor of Panjab;

88

آن فروغ دودهٔ عبد الصمد

فقر او نقشی که ماند تا ابد

وہ عبدالصمد (حاکم پنجاب) کے خاندان کا فروغ تھی ۔ اس کا فقر ایک ایسا نقش تھا جو ابد تک قائم رہے گا ۔

Radiance of the family of Abd al-Samad, her poverty is an image remaining eternally.

99

تا ز قرآن پاک می سوزد وجود

از تلاوت یک نفس فارغ نبود

چونکہ اس کا وجود قرآن پاک سے سوز حاصل کرتا تھا اس لیے وہ قرآن کی تلاوت سے ایک پل بھی فارغ نہ بیٹھتی تھی ۔

To cleanse her being wholly with the Koran, not for one moment did she cease recitation;

1010

در کمر تیغ دو رو ، قرآن بدست

تن بدن هوش و حواس الله مست

اس کی کمر پر دو دھاری تلوار بندھی ہوئی تھی اور ہاتھ میں قرآن ہوتا تھا ۔ اس کا تن بدن اور اس کے ہوش و حواس اللہ کی یاد میں مست رہتے تھے ۔

At her side a double-edged sword, the Koran in her hand, flesh, body, mind and soul drunken with God;

1111

خلوت و شمشیر و قرآن و نماز

ایخوش آن عمری که رفت اندر نیاز

خلوت اور تلوار اور قرآن و نماز سب اس کی ہر وقت کی ساتھی تھیں ۔ وہ زندگی کیسی اچھی ہے جو خدا کے حضور نیازمندی و عاجزی میں گزری ہو ۔

Solitude with sword, Koran and prayer – O happy life, passed in supplication!

1212

بر لب او چون دم آخر رسید

سوی مادر دید و مشتاقانه دید

جب اس کے ہونٹوں پر آخری سانس تھا تو اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور مشتاقانہ انداز میں دیکھا ۔

When the last breath issued from her lips, looking upon her mother most yearningly

1313

گفت اگر از راز من داری خبر

سوی این شمشیر و این قرآن نگر

اور اس سے کہنے لگی کہ اگر آپ کو میرے راز سے آگاہی ہے (جاننا چاہتی ہیں ) تو اس تلوار اور قرآن کو دیکھیں ۔

She spoke: "If you would have knowledge of my secret, regard this sword and this Koran.

1414

این دو قوت حافظ یکدیگرند

کائنات زندگی را محورند

یہ دونوں قوتیں (تلوار اور قرآن) ایک دوسرے کی محافظ ہیں اور زندگی کی کائنات کا محور ہیں ۔ (زندگی انہی دو کے گرد گردش کرتی ہے ) ۔

These two forces preserve each the other and are the axis of all life’s creation.

1515

اندرین عالم که میرد هر نفس

دخترت را ایندو محرم بود و بس

اس دنیا میں جو لمحہ فنا کی طرف جا رہا ہے، یہی دو چیزیں آپ کی بیٹی کی محرم تھیں (اس نے ساری عمر کسی نامحرم کو نہیں دیکھا تھا) ۔

In this world, which dies every moment, only these two were your daughter’s intimates.

1616

وقت رخصت با تو دارم این سخن

تیغ و قرآن را جدا از من مکن

اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت میں آپ سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں کہ تلوار اور قرآن کو مجھ سے جدا نہ کرنا ۔

Now that I take my leave I have this to say to you: do not remove the sword and the Koran from me.

1717

دل به آن حرفی که میگویم بنه

قبر من بی گنبد و قندیل به

میں جو کچھ عرض کر رہی ہوں آپ اس پر دلی توجہ دیں ۔ میری قبر گنبد اور قندیل کے بغیر ہی اچھی ہے ۔

Take to your heart these words I speak; better my tomb without dome and lamp;

1818

مؤمنان را تیغ با قرآن بس است

تربت ما را همین سامان بس است

مومنوں کے لیے قرآن کے ساتھ تلوار کافی ہے، لہذا میری قبر کے لیے یہی سامان کافی ہے ۔

For believers, sword and Koran suffice – let this be the furniture of my grave."

1919

عمر ها در زیر این زرین قباب

بر مزارش بود شمشیر و کتاب

اس سنہری گنبد کے نیچے مدتوں اس کے مزار پر تلوار اور قرآن پڑے رہے ۔

For long ages, beneath this golden dome, the sword and the scriptures lay upon her shrine.

2020

مرقدش اندر جهان بی ثبات

اهل حق را داد پیغام حیات

اس کا مرقد اس فانی دنیا میں اہل حق کو زندگی کا پیغام دیتا رہا ۔

Her resting-place, in this inconstant world, spoke a message to the people of the Truth

2121

تا مسلمان کرد با خود آنچه کرد

گردش دوران بساطش در نورد

یہاں تک کہ مسلمانوں نے اپنے آپ سے کیا جو کچھ کیا اور زمانے کی گردش نے ان کی بساط لپیٹ دی ۔

Until the Moslems did with themselves what they did and time’s revolution rolled up their carpet.

2222

مرد حق از غیر حق اندیشه کرد

شیر مولا روبهی را پیشه کرد

اللہ کے یہ بندے غیر اللہ سے ڈرنے لگے، مولا کے اس شیر (مسلمان) نے لومڑی کا پیشہ اختیار کر لیا (بزدلی اختیار کر لی ) ۔

The man of God was mindful of other than God; the lion of the Lord took to the trade of the fox;

2323

از دلش تاب و تب سیماب رفت

خود بدانی آنچه بر پنجاب رفت

اس کے دل میں عشق کے پارے کی طرح کی تڑپ ختم ہو گئی ۔ تو (زندہ رود) خود جانتا ہے کہ پنجاب پر کیا کچھ گزری ۔

The quicksilver fire and fever departed from his heart – you know well what befell Panjab;

2424

خالصه شمشیر و قرآن را ببرد

اندر آن کشور مسلمانی بمرد»

سکھ شرف النسا کی قبر سے شمشیر اور قرآن اٹھا کر لے گئے اور اس صوبہ پنجاب میں مسلمانی مر گئی ۔

The Khalsa snatched away sword and Koran and in that land Islam expired.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در گذشتم از حد این کائنات

پا نهادم در جهان بی جهات

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 2 - حرکت به جنت‌الفردوس

اگلی نظم

حرف رومی در دلم سوزی فکند

آه پنجاب آن زمین ارجمند

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 4 - زیارت امیر کبیر حضرت سید علی همدانی و ملا طاهر غنی کشمیری

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور