قصر شرف النسا
The Palace of Sharaf al-Nisa
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
گفتم این کاشانه ئی از لعل ناب
آنکه میگیرد خراج از آفتاب
میں نے (رومی سے) پوچھا کہ خالص لعل سے بنا ہوا یہ کاشانہ کس کا ہے جو سورج سے بھی خراج لے رہا ہے یعنی اس کی چمک دمک کے سامنے سورج کی روشنی بھی کچھ نہیں ہے ۔
I said, ‘Yonder mansion of pure ruby which gathers tribute from the sun,
این مقام این منزل این کاخ بلند
حوریان بر درگهش احرام بند
یہ مقام ، یہ منزل اور یہ بلند محل جس کے دروازے پر حوریں بھی مودب کھڑی ہیں (کس کا ہے
Yon station, yon abode, yon lofty palace whose portico the houris throng pilgrim-robed;
ای تو دادی سالکانرا جستجوی
صاحب او کیست با من باز گوی
آپ (رومی) نے راہِ حق پر چلنے والوں میں جستجو کا جذبہ پیدا کیا ہے، بتائیے کہ اس کا مالک کون ہے
Tell me, you who inspired the travellers to search, who is the owner of this habitation?’
گفت «این کاشانهٔ شرف النساست
مرغ بامش با ملائک هم نواست
رومی نے کہا کہ یہ شرف النساَ کا کاشانہ ہے ۔ جس کی چھت کا پرندہ فرشتوں سے ہم کلام ہے ۔ (یہ بہت بلند و پاک محل ہے ) ۔
Rumi replied: ‘This is the mansion of Sharaf al-Nisa; the birds on its roof sing in the angels’ choir.
قلزم ما اینچنین گوهر نزاد
هیچ مادر اینچنین دختر نزاد
ہمارے سمندر نے اس قسم کا موتی پیدا نہیں کیا ۔ کسی ماں نے ایسی بیٹی کو جنم نہیں دیا ۔
Our ocean gave not birth to such a pearl; no mother gave birth to such a daughter.
خاک لاهور از مزارش آسمان
کس نداند راز او را در جهان
اس کے مزار کی وجہ سے لاہور کی سرزمین نے آسمان کا رتبہ پا یا ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی اس کے راز سے آگاہ نہیں ہے ۔
By her grave the earth of Lahore vies with heaven; none in this world comprehends her secret.
آن سراپا ذوق و شوق و درد و داغ
حاکم پنجاب را چشم و چراغ
وہ (شرف النسا) سراپا ذوق و شوق اور درد و داغ تھی ۔ وہ پنجاب کے حاکم ، صوبے دار کی چشم و چراغ (بیٹی) تھی ۔
She was all ecstasy and yearning, anguish and burning, eyes and lamp to the governor of Panjab;
آن فروغ دودهٔ عبد الصمد
فقر او نقشی که ماند تا ابد
وہ عبدالصمد (حاکم پنجاب) کے خاندان کا فروغ تھی ۔ اس کا فقر ایک ایسا نقش تھا جو ابد تک قائم رہے گا ۔
Radiance of the family of Abd al-Samad, her poverty is an image remaining eternally.
تا ز قرآن پاک می سوزد وجود
از تلاوت یک نفس فارغ نبود
چونکہ اس کا وجود قرآن پاک سے سوز حاصل کرتا تھا اس لیے وہ قرآن کی تلاوت سے ایک پل بھی فارغ نہ بیٹھتی تھی ۔
To cleanse her being wholly with the Koran, not for one moment did she cease recitation;
در کمر تیغ دو رو ، قرآن بدست
تن بدن هوش و حواس الله مست
اس کی کمر پر دو دھاری تلوار بندھی ہوئی تھی اور ہاتھ میں قرآن ہوتا تھا ۔ اس کا تن بدن اور اس کے ہوش و حواس اللہ کی یاد میں مست رہتے تھے ۔
At her side a double-edged sword, the Koran in her hand, flesh, body, mind and soul drunken with God;
خلوت و شمشیر و قرآن و نماز
ایخوش آن عمری که رفت اندر نیاز
خلوت اور تلوار اور قرآن و نماز سب اس کی ہر وقت کی ساتھی تھیں ۔ وہ زندگی کیسی اچھی ہے جو خدا کے حضور نیازمندی و عاجزی میں گزری ہو ۔
Solitude with sword, Koran and prayer – O happy life, passed in supplication!
بر لب او چون دم آخر رسید
سوی مادر دید و مشتاقانه دید
جب اس کے ہونٹوں پر آخری سانس تھا تو اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور مشتاقانہ انداز میں دیکھا ۔
When the last breath issued from her lips, looking upon her mother most yearningly
گفت اگر از راز من داری خبر
سوی این شمشیر و این قرآن نگر
اور اس سے کہنے لگی کہ اگر آپ کو میرے راز سے آگاہی ہے (جاننا چاہتی ہیں ) تو اس تلوار اور قرآن کو دیکھیں ۔
She spoke: "If you would have knowledge of my secret, regard this sword and this Koran.
این دو قوت حافظ یکدیگرند
کائنات زندگی را محورند
یہ دونوں قوتیں (تلوار اور قرآن) ایک دوسرے کی محافظ ہیں اور زندگی کی کائنات کا محور ہیں ۔ (زندگی انہی دو کے گرد گردش کرتی ہے ) ۔
These two forces preserve each the other and are the axis of all life’s creation.
اندرین عالم که میرد هر نفس
دخترت را ایندو محرم بود و بس
اس دنیا میں جو لمحہ فنا کی طرف جا رہا ہے، یہی دو چیزیں آپ کی بیٹی کی محرم تھیں (اس نے ساری عمر کسی نامحرم کو نہیں دیکھا تھا) ۔
In this world, which dies every moment, only these two were your daughter’s intimates.
وقت رخصت با تو دارم این سخن
تیغ و قرآن را جدا از من مکن
اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت میں آپ سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں کہ تلوار اور قرآن کو مجھ سے جدا نہ کرنا ۔
Now that I take my leave I have this to say to you: do not remove the sword and the Koran from me.
دل به آن حرفی که میگویم بنه
قبر من بی گنبد و قندیل به
میں جو کچھ عرض کر رہی ہوں آپ اس پر دلی توجہ دیں ۔ میری قبر گنبد اور قندیل کے بغیر ہی اچھی ہے ۔
Take to your heart these words I speak; better my tomb without dome and lamp;
مؤمنان را تیغ با قرآن بس است
تربت ما را همین سامان بس است
مومنوں کے لیے قرآن کے ساتھ تلوار کافی ہے، لہذا میری قبر کے لیے یہی سامان کافی ہے ۔
For believers, sword and Koran suffice – let this be the furniture of my grave."
عمر ها در زیر این زرین قباب
بر مزارش بود شمشیر و کتاب
اس سنہری گنبد کے نیچے مدتوں اس کے مزار پر تلوار اور قرآن پڑے رہے ۔
For long ages, beneath this golden dome, the sword and the scriptures lay upon her shrine.
مرقدش اندر جهان بی ثبات
اهل حق را داد پیغام حیات
اس کا مرقد اس فانی دنیا میں اہل حق کو زندگی کا پیغام دیتا رہا ۔
Her resting-place, in this inconstant world, spoke a message to the people of the Truth
تا مسلمان کرد با خود آنچه کرد
گردش دوران بساطش در نورد
یہاں تک کہ مسلمانوں نے اپنے آپ سے کیا جو کچھ کیا اور زمانے کی گردش نے ان کی بساط لپیٹ دی ۔
Until the Moslems did with themselves what they did and time’s revolution rolled up their carpet.
مرد حق از غیر حق اندیشه کرد
شیر مولا روبهی را پیشه کرد
اللہ کے یہ بندے غیر اللہ سے ڈرنے لگے، مولا کے اس شیر (مسلمان) نے لومڑی کا پیشہ اختیار کر لیا (بزدلی اختیار کر لی ) ۔
The man of God was mindful of other than God; the lion of the Lord took to the trade of the fox;
از دلش تاب و تب سیماب رفت
خود بدانی آنچه بر پنجاب رفت
اس کے دل میں عشق کے پارے کی طرح کی تڑپ ختم ہو گئی ۔ تو (زندہ رود) خود جانتا ہے کہ پنجاب پر کیا کچھ گزری ۔
The quicksilver fire and fever departed from his heart – you know well what befell Panjab;
خالصه شمشیر و قرآن را ببرد
اندر آن کشور مسلمانی بمرد»
سکھ شرف النسا کی قبر سے شمشیر اور قرآن اٹھا کر لے گئے اور اس صوبہ پنجاب میں مسلمانی مر گئی ۔
The Khalsa snatched away sword and Koran and in that land Islam expired.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور