صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 4 - زیارت امیر کبیر حضرت سید علی همدانی و ملا طاهر غنی کشمیری

بخش 4 - زیارت امیر کبیر حضرت سید علی همدانی و ملا طاهر غنی کشمیری

سید علی ھمدانی اور غنی کشمیری کی زیارت

Visitation to Amir Kabir, Hazrat Sayyid Ali Hamadani, and Mulla Tahir Ghani Kashmiri

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

حرف رومی در دلم سوزی فکند

آه پنجاب آن زمین ارجمند

رومی کی بات نے میرے دل میں سوز پیدا کر دیا ۔ آہ پنجاب کی وہ قدر و منزلت والی سرزمین ۔

Rumi’s words kindled a fire in my heart. Alas for Panjab, that precious land!

2

از تپ یاران تپیدم در بهشت

کهنه غمها را خریدم در بهشت

بہشت میں دوستوں کی یاد کی گرمی نے مجھے بہت تڑپا دیا اور اس طرح میں نے بہشت میں پرانے غم خرید لیے یعنی پرانے غم تازہ ہو گئے ۔

Even in Paradise I burned with the fever of my friends, and knew again my ancient griefs.

3

تا در آن گلشن صدائی دردمند

از کنار حوض کوثر شد بلند

اچانک اس گلشن (بہشت) میں حوضِ کوثر کے کنارے سے ایک دردمند صدا بلند ہوئی ۔

Until in that bower a sorrowful voice rose up from the banks of the stream Kauthar:

”“
4

«جمع کردم مشت خاشاکی که سوزم خویش را

گل گمان دارد که بندم آشیان در گلستان»

میں نے تنکوں کی ایک مٹھی اکٹھی کی تا کہ اپنے آپ کو جلا لوں لیکن پھر یہ گمان کر رہا ہے کہ شاید میں گلستان میں آشیانہ بنا رہا ہوں ۔

‘I gathered a handful of straw to set myself on fire; the rose supposes that I would build a nest in the garden.’

غنی کشمیری
5

گفت رومی «آنچه می آید نگر

دل مده با آنچه بگذشت ای پسر

رومی نے کہا جو کچھ نظر آ رہا ہے اس سے دل لگا، اے بیٹے ، برخوردار جو کچھ گزر چکا ہے اس سے دل نہ لگا ۔

Rumi said, ‘Observe what is now coming; give not your heart to what has passed, my son.

6

شاعر رنگین نوا طاهر غنی

فقر او باطن غنی ، ظاهر غنی

یہ رنگیں نوا شاعر طاہر غنی ہے جس کا فقر اندر سے بھی غنی (بے نیاز) ہے اور باہر سے بھی غنی ۔

That poet of colourful song, Tahir Ghani, whose poverty abounds in riches inward and outward,

7

نغمه ئی می خواند آن مست مدام

در حضور سید والا مقام

یہ ہمیشہ مست رہنے والا (غنی) سید والا مقام کے حضور نغمہ الاپ رہا تھا ۔

Drunk with eternal wine, is chanting a melody in the presence of the Sayyid sublime,

8

سید السادات ، سالار عجم

دست او معمار تقدیر امم

یہ یعنی علی ہمدانی سادات کے سردار اور عجم کے سالار ہیں ۔ ان کے ہاتھ امتوں کی تقدیر کا معمار (تقدیر بنانے سنوارنے والے) ہیں ۔ ان کی تبلیغ سے اہل کشمیر اسلام میں شامل ہوئے اور ان کی تقدیر سنور گئی ۔

Noble of nobles, commander of Persia, whose hand is the architect of the destiny of nations.

9

تا غزالی درس الله هو گرفت

ذکر و فکر از دودمان او گرفت

جب امام غزالی نے اللہ ہو کا سبق لیا تو انھوں نے ان (ہمدانی) کے خاندان کے بزرگوں سے ذکر و فکر کی تعلیم پائی تھی ۔

Ghazali himself learned the lesson of God is He and drew meditation and thought from his stock.

10

مرشد آن کشور مینو نظیر

میر و درویش و سلاطین را مشیر

اس جنت نظیر کشور (کشمیر) کے وہ مرشد تھے اور امیروں اور درویشوں کے وہ مشیر تھے ۔

Guide he of that emerald land, counsellor of prince and dervish and sultan;

11

خطه را آن شاه دریا آستین

داد علم و صنعت و تهذیب و دین

اس خطہَ کشمیر کو اس دریا آستین (فیاض) شاہ ہمدانی نے علم اور صنعت اور تہذیب و دین عطا کیا ۔ ( ان کے ساتھ ایران سے آئے ہوئے صنعت کاروں نے کشمیریوں کو قالین سازی، خطاطی، پارچہ بانی اور نقاشی وغیرہ کے ہنر سکھائے اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے آشنا کیا ) ۔

A king ocean-munificent, to that vale he gave science, crafts, education, religion.

12

آفرید آن مرد ایران صغیر

با هنر های غریب و دلپذیر

انھوں (ہمدانی) نے کشمیریوں کو نادر اور دل پذیر ہنر سکھا کر کشمیر کو برصغیر میں چھوٹا ایران بنا دیا ۔

That man created a miniature Iran with rare and heart-ravishing arts;

13

یک نگاه او گشاید صد گره

خیز و تیرش را بدل راهی بده»

ان (ہمدانی) کی ایک نگاہ سو گرہیں کھولتی ہے یعنی (مشکلیں حل کرتی ہے ) تو بھی اٹھ اور ان کے تیر کو دل میں راہ دے ۔

With one glance he unravels a hundred knots – rise, and let his arrow transfix your heart.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتم این کاشانه ئی از لعل ناب

آنکه میگیرد خراج از آفتاب

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 3 - قصر شرف‌النسا

اگلی نظم

از تو خواهم سر یزدان را کلید

طاعت از ما جست و شیطان آفرید

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 5 - در حضور شاه همدان

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور