صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 5 - در حضور شاه همدان

بخش 5 - در حضور شاه همدان

شاہ ہمدان کے حضور

In the Presence of Shah-i Hamadan

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 1
11

از تو خواهم سر یزدان را کلید

طاعت از ما جست و شیطان آفرید

(اے شاہِ ہمدان ) میں آپ سے خدا کے ایک بھید کا حل جاننا چاہتا ہوں ۔ خدا نے خود شیطان کو پیدا کیا اور ہم سے اطاعت چاہی ۔

I seek from you the key to the secret of God: He sought from us obedience, and created Satan.

22

زشت و ناخوش را چنان آراستن

در عمل از ما نکوئی خواستن

برائی اور گناہ کو اس طرح آراستہ کرنا (دلفریب بنانا ) اور ہمارے عمل سے نیکی چاہنا (عجیب سی بات ہے ) ۔

So to adorn the hideous and unlovely and to demand of us comeliness of works;

33

از تو پرسم این فسون سازی که چه

با قمار بدنشین بازی که چه

میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جادوگری کیا ہے ۔ ایک برے ساتھی کے ساتھ جوا کھیلنے کا کیا مطلب ہے

I ask you, what is this magic-mongering, what this dicing with an evil adversary?

44

مشت خاک و این سپهر گرد گرد

خود بگو می زیبدش کاری که کرد

ایک طرف یہ خاک کی مٹھی یعنی انسان اور دوسری طرف یہ گردش کرنے والا آسمان، آپ ہی فرمائیے کہ کیا اسے (خدا کو) یہ کام زیب دیتا ہے

A handful of dust, against yon revolving sphere – tell me now, did it beseem Him so to do?

55

کار ما ، افکار ما ، آزار ما

دست با دندان گزیدن کار ما

ہمارے اعمال اور ہمارے افکار ہمارے لیے اذیت کا باعث ہیں ۔ چنانچہ دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹنا ہمارا کام ہے (اظہار حیرت ہے ) ۔

Our labour, our thoughts, our anguish is but to bite our hands in despair.

بند 2
شاه همدان
Toggle stanza 2
66

بنده ئی کز خویشتن دارد خبر

آفریند منفعت را از ضرر

وہ انسان جو اپنے آپ سے باخبر ہے وہ نقصان سے بھی نفع پیدا کر لیتا ہے ۔

Shah-i Hamadan The man who is fully aware of himself creates advantage out of loss.

77

بزم با دیو است آدم را وبال

رزم با دیو است آدم را جمال

شیطان کے ساتھ بزم آرائی (دوستی) آدمی کے لیے جان کا عذاب ہے مگر شیطان کے ساتھ جنگ آدمی کے لیے جمال ہے ۔

To sup with the Devil brings disaster to a man; to wrestle with the Devil brings him glory.

88

خویش را بر اهرمن باید زدن

تو همه تیغ آن همه سنگ فسن

اپنے آپ کو شیطان کے مقابلے میں لانا چاہیے ۔ تو (اے انسان ) تو سراپا تلوار ہے جبکہ شیطان سان ہے ۔

One must strike oneself against Ahriman; you are a sword, he is the whetstone;

99

تیز تر شو تا فتد ضرب تو سخت

ورنه باشی در دو گیتی تیره بخت

تو زیادہ تیز ہو (تلوار زیادہ تیز کر ) تا کہ دشمن (شیطان) پر تیرا وار بڑا سخت پڑے، کاری ہو ۔ ورنہ تو دونوں جہانوں میں سیاہ بخت رہے گا ۔

Become sharper, that your stroke may be hard, else you will be unfortunate in both worlds.

بند 3
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
1010

زیر گردون آدم آدم را خورد

ملتی بر ملتی دیگر چرد

آسمان کے نیچے (اس دنیا میں ) آدمی، آدمی کو کھا رہا ہے اور ایک قوم دوسری قوم کو لوٹ رہی ہے ۔

Under the heavens man devours man, nation grazes upon another nation.

1111

جان ز اهل خطه سوزد چون سپند

خیزد از دل ناله های دردمند

میری جان خطہ کشمیر کے لوگوں کے حالات دیکھ کر سپند کے دانے کی طرح چٹخ رہی ہے ۔ اور میرے دل سے درد بھرے نالے اٹھتے ہیں ۔

My soul burns like rue for the people of the Vale; cries of anguish mount from my heart.

1212

زیرک و دراک و خوش گل ملتی است

در جهان تر دستی او آیتی است

کشمیری قوم ایک باریک بیں بہت سوجھ بوجھ والی دانشمند اور خوش شکل ہے، دنیا میں اس کی ہنرمندی ایک دلیل ہے ۔

They are a nation clever, perceptive, handsome, their dexterity is proverbial,

1313

ساغرش غلطنده اندر خون اوست

در نی من ناله از مضمون اوست

اس کا پیالہ اس کے اپنے ہی خون سے لت پت ہے ۔ میری بانسری سے اسی کے حالات کی فریاد نکل رہی ہے ۔

Yet their cup rolls in their own blood; the lament in my flute is on their behalf.

1414

از خودی تا بی نصیب افتاده است

در دیار خود غریب افتاده است

جب سے یہ قوم خودی سے بے نصیب ہو گئی ہے وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کے رہ گئی ہے ۔

Since they have lost their share of selfhood they have become strangers in their own land;

1515

دستمزد او بدست دیگران

ماهی رودش به شست دیکران

اس کے ہاتھوں کی مزدوری دوسروں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کے دریا کی مچھلی دوسروں کے کانٹے میں پھنسی ہوئی ہے ۔

Their wages are in the hands of others, the fish of their river in other men’s nets.

1616

کاروانها سوی منزل گام گام

کار او نا خوب و بی اندام و خام

دوسری قوموں کے قافلے (ترقی کی ) منزل کی طرف قدم بقدم چلے جا رہے ہیں لیکن اس (بدقسمت قوم) کا کام ناخوب بھی ہے اور ان گھڑت اور ناقص بھی ۔

The caravans move step by step to the goal; but still their work is ill-done, unformed, immature.

1717

از غلامی جذبه های او بمرد

آتشی اندر رگ تاکش فسرد

غلامی سے اس کے جذبے ختم ہو گئے ہیں او ر اس کی تاک (انگور کی رگ ) کے اندر آگ بجھ گئی ہے ۔

Through servitude their aspirations have died, the fire in the veins of their vine is quenched.

1818

تا نپنداری که بود است اینچین

جبهه را همواره سود است اینچنین

تو کہیں یہ نہ سمجھ کہ یہ قوم ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے اور اسی طرح اس نے ہمیشہ دوسروں کے آگے اپنی پیشانی رگڑی ہے ۔

But do not think that they were always so, their brows ever lowered thus to the dust;

1919

در زمانی صف شکن هم بوده است

چیره و جانباز و پر دم بوده است

وہ کبھی صف شکن بھی رہی ہے اور زبردست جانباز اور حوصلہ مند رہی ہے ۔

Once upon a time they too were warlike folk, valiant, heroic, ardent in battle.

2020

کوههای خنگ سار او نگر

آتشین دست چنار او نگر

اس (کشمیر) کے برف پوش پہاڑ دیکھ اور یہاں کے درخت چنار کے آتشیں ہاتھ یعنی پتے دیکھ ۔

Behold her mountains turbaned in white; behold the fiery hands of her chenars;

2121

در بهاران لعل میریزد ز سنگ

خیزد از خاکش یکی طوفان رنگ

موسم بہار میں یہاں کے پتھروں سے لعل اگتے ہیں ۔ (لالہ کے سرخ رنگ کے پھول) یہاں کی مٹی سے رنگ کا ایک طوفان اٹھتا ہے ۔

In springtime rubies leap down from the rocks, a flood of colour rises from her soil;

2222

لکه های ابر در کوه و دمن

پنبه پران از کمان پنبه زن

پہاڑ اور وادی میں بادلوں کے ٹکڑے اس طرح اڑتے پھرتے ہیں جیسے روئی دھنیئے کی کما ن سے دھنکی ہوئی روئی اڑتی ہے ۔

Stippled clouds cover mountain and valley like cotton-flocks strewn from a carder’s bow.

2323

کوه و دریا و غروب آفتاب

من خدارا دیدم آنجا بی حجاب

وہاں کے پہاڑ، دریا اور سورج کا وقت غروب (اتنا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں کہ ) میں نے وہاں خدا کو بے حجاب دیکھا ہے (اللہ تعالیٰ کا جمال بے نقاب نظر آتا ہے ) ۔

Mountain and river, and the setting of the sun: there I behold God without a veil

2424

با نسیم آواره بودم در نشاط

«بشنو از نی» می سرودم در نشاط

میں وہاں کے نشاط باغ میں بادِ نسیم کے ساتھ ادھر ادھر گھومتا رہا اور خوشی سے سرشار ہو کر مولانا رومی کی مثنوی کا پہلا شعر بشنوازنے گاتا رہا ۔ شعر یہ ہے،

I wandered with the zephyr in Nishat chanting as I roved, ‘Listen to the reed’

2525

مرغکی می گفت اندر شاخسار

با پشیزی می نیرزد این بهار

وہاں شاخوں میں بیٹھے ایک پرندے نے مجھ سے کہا کہ اس بہار کی قیمت تو ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں ہے ۔

A bird perched in the branches was singing: ‘This springtide is not worth a penny.

2626

لاله رست و نرگس شهلا دمید

باد نو روزی گریبانش درید

لالہ کے پھول اگے اور نرگس شہلا پھوٹی، باد بہار نے اس سرزمین کا گریبان پھاڑ دیا ہے ۔

The tulip has blossomed, the dark-eyed narcissus is in bloom, the breeze of Nauruz has torn their skirts;

2727

عمرها بالید ازین کوه و کمر

نستر از نور قمر پاکیزه تر

اس کے پہاڑوں اور ان کے درمیانی راستوں میں مدتوں سے چنبیلی کے ایسے پھول کھل رہے ہیں جو چاند کی روشنی سے بھی زیادہ پاکیزہ زیادہ چمکدار اور سفید تھے ۔

For many ages from this mountain and valley have sprung daisies purer than the light of the moon,

2828

عمر ها گل رخت بر بست و گشاد

خاک ما دیگر شهاب الدین نزاد

اس (وادی کشمیر ) میں مدتوں گلاب کے پھول کھلتے اور مرجھا جاتے رہے لیکن ہماری سرزمین سے کوئی اور شہاب الدین پیدا نہ ہوا ۔

For many ages the rose has packed and unpacked her baggage, yet our earth has not begotten a second Shihab al-Din.’

2929

نالهٔ پر سوز آن مرغ سحر

داد جانم را تب و تاب دگر

صبح کے اس پرندے کے پر سوز نالہ نے میری جان میں نیا جوش پیدا کر دیا ہے ۔

The passionate lament of that bird of dawn filled my heart with new fire and fever.

3030

تا یکی دیوانه دیدم در خروش

آنکه برد از من متاع صبر و هوش

وہاں میں نے ایک دیوانے کو خروش یا فریاد کرتے دیکھا اور اس کیفیت نے میرے صبر و جوش کی متاع ہی اڑا لی ( میں بیقرار ہو گیا ) ۔

Presently I beheld a madman, whose threnody robbed me of all endurance and reason.

3131

«بگذر ز ما و نالهٔ مستانه ئی مجوی

بگذر ز شاخ گل که طلسمی است رنگ و بوی

تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم سے نالہ مستانہ کی توقع نہ رکھ ۔ تو پھول کی شاخ سے گزر جا کیونکہ یہ محض رنگ و بو کا جادو ہے ۔

‘Pass us by, and seek not an impassioned lament, pass from the rose-twig, that talisman of colour and scent.

3232

گفتی که شبنم از ورق لاله می چکد

غافلی دلی است اینکه بگرید کنار جوی

تو کہتا ہے کہ شبنم لالہ کی پتیوں سے ٹپکتی رہی ہے ۔ ارے غافل یہ لالہ نہیں یہ تو ایک دل ہے جو ندی کے کنارے بیٹھا رو رہا ہے ۔

You said that dew was dripping from the tulip’s petals; nay, it is a feckless heart weeping beside the river.

3333

این مشت پر کجا و سرود اینچنین کجا

روح غنی است ماتمی مرگ آرزوی

یہ پروں کی مٹھی کہاں اورر اس قسم کا نغمہ کہاں یہ تو غنی کی روح ہے جو آرزو کی موت پر ماتم کر رہی ہے ۔

What have these few feathers to do with such a chant? It is the spirit of Ghani mourning the death of desire.

3434

باد صبا اگر به جنیوا گذر کنی،

حرفی ز ما به مجلس اقوام باز گوی

اے بادِ صبا اگر جنیوا کی طرف تیرا گزر ہو تو وہاں ہماری طرف سے مجلس اقوام سے ہماری یہ بات کہنا ۔

Zephyr, if you should pass over Geneva speak a word from me to the League of Nations:

3535

دهقان و کشت و جوی و خیابان فروختند

قومی فروختند و چه ارزان فروختند»

کسان اور کھیت اور ندیاں اور کیاریاں انھوں نے بیچ دیں ۔ انھوں نے ایک قوم کو بیچ دیا اور کس قدر سستا بیچ دیا ۔ انگریز حکمرانوں نے اپنے لالچ اور مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے کشمیر کو ایک ہندو ڈوگرہ کے ہاتھ معمولی قیمت پر بیچ دیا تھا ۔

They have sold farmer and cornfield, river and garden, they have sold a people, and at a price how cheap.’

بند 4
شاه همدان
Toggle stanza 4
3636

با تو گویم رمز باریک ای پسر

تن همه خاک است و جان والا گهر

اے بیٹے میں تجھے ایک رمز کی بات بتاتا ہوں ، وہ یہ کہ جسم (بدن) سراسر مٹی ہے جبکہ جان ایک قیمتی موتی ہے ۔

Shah-i Hamadan I will tell you a subtle mystery, my son: the body is all clay, the soul a precious pearl.

3737

جسم را از بهر جان باید گداخت

پاک را از خاک می باید شناخت

روح کی خاطر بدن کو پگھلا دینا چاہیے، پاک روح اور خاک بدن میں تمیز کرنی چاہیے ۔

The body must be melted for the sake of the soul; the pure must be distinguished from the clay.

3838

گر ببری پارهٔ تن را ز تن

رفت از دست تو آن لخت بدن

اگر تو جسم (بدن) سے اس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لے تو بدن کا وہ ٹکڑا ہمیشہ کے لیے تیرے ہاتھوں سے نکل گیا ۔

If you cut off a part of the body from the body, that slice of the body will be lost to you;

3939

لیکن آن جانی که گردد جلوه مست

گر ز دست او را دهی آید بدست

لیکن وہ روح جو محبوب حقیقی کے جلوے میں محو و مست ہو جائے اگرتو اسے ہاتھ سے دے دے تو وہ پھر تیرے ہاتھ آ جائے گی (شہید زندہ ہیں ) ۔

But the soul which is drunk with vision – if you give it away, it will return to you.

4040

جوهرش با هیچ شی مانند نیست

هست اندر بند و اندر بند نیست

اس (روح) کا جوہر کسی بھی شے کی مانند نہیں ہے، وہ اگرچہ جسم کی قید میں ہے لیکن قید میں نہیں ہے ۔

The soul’s substance resembles nothing else; it is in bonds, and yet not in bonds;

4141

گر نگهداری بمیرد در بدن

ور بیفشانی ، فروغ انجمن

اگر تو جان کی حفاظت کرے گا (بچا بچا کے رکھے گا ) تو یہ بدن میں مر جائے گی اور اگر اسے تو خدا کی راہ میں قربان کر دے تو وہ انجمن کی رونق بنے گی ۔

If you watch over it, it dies in the body, and if you scatter it, it illuminates the gathering.

4242

چیست جان جلوه مست ای مرد راد

چیست جان دادن ز دست ایمرد راد

اے جوان مردجلوہ مستِ جان کیا ہے اے جوانمرد جان کو ہاتھ سے دے دینے سے کیا مراد ہے

What, noble sir, is the soul ‘drunk with vision’? What does it mean to ‘give the soul away’?

4343

چیست جان دادن بحق پرداختن

کوه را با سوز جان بگداختن

جان دینا کیا ہے یہ اسے حق کے حوالے کرنا ہے اور پہاڑ کو اس کے سوزِ جاں سے پگھلا دینا ہے ۔

To give away the soul is to surrender it to God, it means melting the mountain with the soul’s flame.

4444

جلوه مستی خویش را دریافتن

در شبان چون کوکبی بر تافتن

جلوہ مستی کیا ہے یہ خود (اپنے آپ) کو پا لینا ہے (خودی سے آگاہ ہونا ہے ) راتوں میں ستاروں کی طرح چمکنا ہے ۔

‘Drunk with vision’ means discovering one’s self, shining like a star in the night-season:

4545

خویش را نایافتن نابودن است

یافتن خود را بخود بخشودن است

اپنے آپ کو نہ پانا گویا نابود ہو جانا ہے ، جبکہ اپنے آپ کو پا لینا خود کو اپنے سپرد کر دینا ہے ۔ خود کو زندگی عطا کرنا ہے ۔

Not to discover one’s self is not to exist, to discover is to bestow the self on the Self.

4646

هر که خود را دید و غیر از خود ندید

رخت از زندان خود بیرون کشید

جس نے خود (اپنے آپ) کو دیکھ لیا اور اپنے سوا کسی اور کو نہ دیکھا، اس نے اپنے قید خانے سے سامان باہر نکال لیا (قید سے آزاد ہو گیا ) ۔

Whosoever has seen himself and has seen naught else has drawn forth the load from the self’s prison;

4747

جلوه بد مستی که بیند خویش را

خوشتر از نوشینه داند نیش را

وہ جلوہ بدمست جو خود کو دیکھتا ہے وہ ڈنگ یا زہر کو شہد سے بہتر سمجھتا ہے ۔

The ‘drunk with vision’ who beholds himself deems the sting sweeter than the honey;

4848

در نگاهش جان چو باد ارزان شود

پیش او زندان او لرزان شود

(اپنی معرفت سے آگاہ) انسان کی نگاہوں میں جان ہوا کی طرح سستی ہوتی ہے ۔ اس کے سامنے اس کا قیدخانہ (جسم) کانپتا ہے ۔

In his eyes the soul is cheap as the air, before him the walls of his prison tremble;

4949

تیشهٔ او خاره را بر می درد

تا نصیب خود ز گیتی می برد

اس کا تیشہ پتھر کو بھی توڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ زمانے سے اپنا حصہ لے لیتا ہے (چھین لیتا ہے ) ۔

His axe shivers the granite rock so that he takes his share of the universe.

5050

تا ز جان بگذشت جانش جان اوست

ورنه جانش یکدو دم مهمان اوست

جب وہ جان سے گزر جاتا ہے (اللہ کی راہ میں جان قربان کر دیتا ہے ) تو اس کی جان اس کی جان بن جاتی ہے ورنہ اس کی جان اس کی دو ایک پل کی مہمان ہے یعنی عارضی و فانی ہے ۔

When he gives up the soul, his soul is truly his, otherwise his soul is his guest but for a moment or two.

بند 5
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 5
5151

گفته ئی از حکمت زشت و نکوی

پیر دانا نکتهٔ دیگر بگوی

آپ نے برائی اور اچھائی (بدی اور نیکی ) کی حکمت کے بارے میں فرمایا ہے، اے پیر دانا ایک اور گہری بات بھی بیان فرمائیں ۔

You have spoken of the wisdom of foul and fair; learned sage, expound a further subtlety.

5252

مرشد معنی نگاهان بوده ئی

محرم اسرار شاهان بوده ئی

آپ صاحبانِ معرفت و عرفان (معرفت پر نگاہ رکھنے والے) کے مرشد رہے ہیں اور بادشاہوں کے اسرار سے بھی آگاہ رہے ہیں ۔

You were the guide of those who behold the inner meanings you were the confidant of the secrets of kings.

5353

ما فقیر و حکمران خواهد خراج

چیست اصل اعتبار تخت و تاج

ہم غریب ہیں اور حکمران ہم سے خراج مانگتا ہے، تخت و تاج کے اعتبار کی اصل کیا ہے (حیثیت کیا ہے )

We are poor men, and the ruler demands tribute; what is the origin of the sanction of throne and crown?

بند 6
شاه همدان
Toggle stanza 6
5454

اصل شاهی چیست اندر شرق و غرب

یا رضای امتان یا حرب و ضرب

مشرق اور مغرب میں بادشاہت کی اصل (حقیقت) کیا ہے یہ قوموں کی مرضی سے یا جنگ و جدل سے وجود پاتی ہے ۔

Shah-i Hamadan What is the origin of Kingship in East and West? Either the consent of the peoples, or war and violence.

5555

فاش گویم با تو ای والا مقام

باج را جز با دو کس دادن حرام

اے بلند مرتبہ شخص میں تجھے واضح طور پر (صاف صاف) بتاتا ہوں کہ دو آدمیوں کے علاوہ کسی اور کو خراج دینا حرام ہے ۔

Exalted sir, I will speak with you plainly; it is forbidden to pay tribute save to two persons:

5656

یا «اولی الامری» که «منکم» شأن اوست

آیهٔ حق حجت و برهان اوست

یا تو وہ اولی الامر منکم ، جس کی شان ہے اور خدا کی یعنی قرآن کریم کی آیت اس سلسلے میں دلیل ہے ۔ یعنی صاحب اقتدار اہل ایمان ہو، رسول اللہ کا اطاعت گزار اور حضور کے فرمودہ اصولوں کے مطابق حکمرانی کرتا ہو، اور جو حکمران اسلامی نظریات سے بیگانہ ہو اسے حاکم نہیں ماننا چاہیے نہ خراج دینا چاہیے ۔

‘Either those in authority as being among you, whose proof and demonstration is the verse of God,

5757

یا جوانمردی چو صرصر تند خیز

شهر گیر و خویش باز اندر ستیز

یا خراج کا حقدار وہ جواں مرد ہے جو باطل قوتوں کے خلاف طوفانی ہوا کی طرح اٹھے، جو شہر (کفار کا ملک) فتح کرنے والا ہو اور جو اپنے نفس امارہ کے خلاف جہاد کرنے والا ہو ۔

Or else a hero swift-rising like a hurricane who seizes cities, and stakes himself in the battle,

5858

روز کین کشور گشا از قاهری

روز صلح از شیوه های دلبری

دشمنی کے دن (جنگ کے موقع پر) وہ اپنی قاہری (زبردست قوت) سے ملک فتح کرنے والا ہو اور صلح کے دن یعنی امن کے موقع پر وہ اپنے دلبرانہ طور طریقوں سے لوگوں کے دل جیتنے والا ہو، یعنی اس میں جلال اور جمال دونوں صفات ہوں ۔

On the day of war conquering the land by force of arms, on the day of peace by the winning ways of love.

5959

می توان ایران و هندوستان خرید

پادشاهی را ز کس نتوان خرید

ایران اور ہندوستان کو خریدا جا سکتا ہے مگر بادشاہت کسی سے نہیں خریدی جا سکتی ۔

You might indeed purchase Iran and India, but kingship cannot be bought from any man;

6060

جام جم را ای جوان باهنر

کس نگیرد از دکان شیشه گر

اے ہنرمند نوجوان (زندہ رود) جام جمشید کسی نے شیشہ گر کی دکان سے نہیں خریدا ۔

Virtuous friend, the Cup of Jamshid none shall procure from the glassmaker’s shop,

6161

ور بگیرد مال او جز شیشه نیست

شیشه را غیر از شکستن پیشه نیست

اور اگر کوئی وہاں سے خرید بھی لیتا ہے تو وہ مال شیشے کے سوا کچھ نہ ہو سکا جس کا کام آخرکار ٹوٹنا ہے۔

Or if he procures aught, all he owns is glass, and glass has no other property but to break.

بند 7
غنی
Toggle stanza 7
6262

هند را این ذوق آزادی که داد

صید را سودای صیادی که داد

ہندوستان کو آزادی کا یہ ذوق کس نے دیا شکار کو شکاری کا جنون کس نے دیا

Ghani Who gave to India this yearning for freedom? Who gave the quarry this passion to be the hunter?

6363

آن برهمن زادگان زنده دل

لالهٔ احمر ز روی شان خجل

(یہ ذوق) ان برہمن زادوں نے دیا جو زندہ دل ہیں ، جن کے حسین چہروں کے سامنے لالہ کا سرخ پھول بھی شرمسار ہے ۔

Those scions of Brahmins, with vibrant hearts, whose glowing cheeks put the red tulip to shame;

6464

تیزبین و پخته کار و سخت کوش

از نگاهشان فرنگ اندر خروش

یہ تیز نگاہ اور تجربہ کار اور جفاکش ، محنتی ہیں ۔ اور ان کی نگاہ سے انگریز شور کرتے ہوئے واویلا مچا رہے ہیں ۔

Keen of eye, mature and strenuous in action whose very glance puts Europe into commotion.

6565

اصلشان از خاک دامنگیر ماست

مطلع این اختران کشمیر ماست

ان کی اصل ہماری دامن گیر مٹی (کشمیر) سے ہے ۔ ان ستاروں کا مطلع (طلوع ہونا) ہمارا کشمیر ہے ۔

Their origin is from this protesting soil of ours, the rising-place of these stars is our Kashmir.

6666

خاک ما را بی شرر دانی اگر

بر درون خود یکی بگشا نظر

اگر تو (زندہ رود) ہماری خاک کو شعلے سے خالی سمجھتا ہے تو پھر ذرا اپنے اندر ہی نظر ڈال، یعنی تو بھی تو کشمیری ہے ۔ کیا تو نہیں چاہتا کہ کشمیر آزاد ہو ۔

If you suppose our earth is without a spark, cast a glance for a moment within your heart;

6767

اینهمه سوزی که داری از کجاست

این دم باد بهاری از کجاست

یہ جو تجھ میں سارا سوز ہے یہ کہاں سے آیا ہے، یہ موسم بہار کی ہوا کے جھونکے کہاں سے اٹھے ہیں

Whence comes all this ardour you possess, whence comes this breath of the breeze of spring?

6868

این همان باد است کز تأثیر او

کوهسار ما بگیرد رنگ و بو

یہ وہی ہوا ہے جس کی تاثیر سے ہمارے پہاڑ بڑے رنگ و بو پاتے ہیں ۔

It is from the selfsame wind’s influence that our mountains derive their colour and scent.

6969

هیچ میدانی که روزی در ولر

موجه ئی می گفت با موج دگر

کیا تجھے کچھ علم ہے کہ ایک روز ولر جھیل میں ایک موج نے دوسری موج سے کہا

Do you not know what one day a wave said to another wave in Lake Wular?

7070

چند در قلزم به یکدیگر زنیم

خیز تا یک دم بساحل سر زنیم

ہم کب تک اس سمندر میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں گی ، تو اٹھ تا کہ ہم کچھ دیر ساحل سے سر ٹکرائیں ۔

‘How long shall we strike at each other in this sea? Rise up; let us break together against the shore.

7171

زادهٔ ما یعنی آن جوی کهن

شور او در وادی و کوه و دمن

ہماری پیدا کی ہوئی وہ پرانی ندی جس کا شور وادی، پہاڑ اور دمن میں ہے ۔

Our child, that is to say, yon Ancient River fills with its roar valley and mountains and meadow;

7272

هر زمان بر سنگ ره خود را زند

تا بنای کوه را بر می کند

وہ ہر لمحہ خود کو راستے کے پتھروں سے ٹکراتی ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی بنیاد تک کو کھو ددیتی ہے (پہاڑ کے اندر بھی راستہ بنا لیتی ہے ) ۔

Continually it smites the rocks on its path until it uproots the fabric of the mountains.

7373

آن جوان کو شهر و دشت و در گرفت

پرورش از شیر صد مادر گرفت

وہ جوان جس نے شہر و بیابان اور وادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اس کی پرورش سو ماؤں کے دودھ سے ہوئی ہے ۔

That youth who seized cities, deserts and plains took his nurture from the milk of a hundred mothers;

7474

سطوت او خاکیان را محشری است

این همه از ماست، نی از دیگری است

اس کا دبدبہ انسانوں کے لیے ایک قیامت کی حیثیت رکھتا ہے، جب اس میں سیلاب آتا ہے تو وہ بڑی تباہی مچاتا ہے ۔ یہ ہمارے اندر سے نکلا ہے کسی اور جگہ سے تو نہیں نکلا ۔ تو یہ سب کچھ کشمیر ہی کی بدولت ہے ۔ گویا کشمیر نہ ہوتا تو جہلم بھی نہ ہوتا ۔

Its majesty strikes terror into mortal hearts; all this is from us, not from any other.

7575

زیستن اندر حد ساحل خطاست

ساحل ما سنگی اندر راه ماست

ساحل کی حدود میں زندگی بسر کرنا غلطی ہے، ہمارا ساحل ہمارے راستے کا پتھر بنا ہو اہے ۔

To live in the bounds of the shore is a sin; our shore is but a stone in our path.

7676

با کران در ساختن مرگ دوام

گرچه اندر بحر غلتی صبح و شام

ساحل سے موافقت کر لینا (کناروں کے اندر رہنا) ہمیشہ کی موت ہے، خواہ اے موج تو سمندر میں صبح و شام کیوں نہ لڑھکتی رہے، طوفان ہی کیوں نہ برپا کرتی رہے ۔

To accommodate oneself to the shore is eternal death, even though you roll in the sea morning and evening;

7777

زندگی جولان میان کوه و دشت

ای خنک موجی که از ساحل گذشت

زندگی تو کوہ و دشت میں اپنی جولانیاں دکھانا ہے ، مبارک ہے وہ موج ہو ساحل سے باہر نکل گئی ۔

Life is to leap amidst mountain and desert – happy is the wave that has transgressed the shore!’

7878

ایکه خواندی خط سیمای حیات

ای به خاور داده غوغای حیات

اے (زندہ رود) تو نے تو زندگی کی پیشانی کی لکیریں پڑھی ہیں اور اہل مشرق کو زندگی کا ہنگامہ دیا ہے (تجھے قوموں کی تقدیر کی پوری خبر ہے) ۔

You who have read the lines on the brow of Life, you who have given to the East the tumult of Life,

7979

ای ترا آهی که می سوزد جگر

تو ازو بیتاب و ما بیتاب تر

اے کہ تو ایسی آہ رکھتا ہے جو جگر کو جلاتی ہے ، تو اس سے بے قرار ہے تو ہم تجھ سے زیادہ بے قرار ہیں ۔

You who have a sigh that consumes the heart, stirring you to restlessness and us still more,

8080

ای ز تو مرغ چمن را های و هو

سبزه از اشک تو می گیرد وضو

اے کہ تجھ سے باغ کے پرندوں میں ہائے و ہو کا شور ہے، اور سبزہ تیرے آنسووَں سے وضو کرتا ہے ۔

From you the birds in the meadow learned their threnody; in your tears the grasses make ablution;

8181

ایکه از طبع تو کشت گل دمید

ای ز امید تو جانها پر امید

اے کہ تیری طبع سے پھولوں کی کیاری کھل اٹھی، اے کہ تیری امید سے دوسری جانیں بھی پرامید ہو گئی ہیں ۔

Out of your genius the field of roses blossomed, out of your hope many souls are filled with hope.

8282

کاروانها را صدای تو درا

تو ز اهل خطه نومیدی چرا

قافلوں کے لیے تیری صدا بیداری اور کوچ کی گھنٹی ہے، پھر تو خطہ کشمیر کے لوگوں سے نا امید کیوں ہے

Your cry is a bell urging the caravans; why then do you despair of the dwellers in the Vale?

8383

دل میان سینهٔ شان مرده نیست

اخگر شان زیر یخ افسرده نیست

ان (اہل کشمیر) کے سینوں میں مردہ دل نہیں ہیں ، ان کا شعلہ (انگارہ) برف کے نیچے دب کر نہیں بجھا ۔

Their hearts are not dead in their breasts; their embers are not extinguished under the ice;

8484

باش تا بینی که بی آواز صور

ملتی بر خیزد از خاک قبور

ذرا ٹھہر تاکہ تو دیکھے کہ ایک ملت (اہل کشمیر) صور کی آواز کے بغیر ہی قبروں کی مٹی سے اٹھنے والی ہے ۔ (وہ وقت قریب ہے جب اہل کشمیر غلامی سے نجات پا لیں گے ) ۔

Wait till you see, without the sound of the Trumpet, a nation rising out of the dust of the tomb.

8585

غم مخور ای بندهٔ صاحب نظر

بر کش آن آهی که سوزد خشک و تر

اے صاحب نظر (زندہ رود) تو غم نہ کھا تو ایسی آہ کھینچ جو خشک و تر کو جلا دے ۔

Do not grieve then, visionary; breathe out that sigh consuming all, dry and moist alike;

8686

شهر ها زیر سپهر لاجورد

سوخت از سوز دل درویش مرد

اس نیلے آسمان کے نیچے بہت سے شہر ایک مرد درویش کے سوز دل سے جل اٹھے ہیں ۔

Many cities beneath the turquoise heaven have been consumed by the flame of a dervish heart.

8787

سلطنت نازکتر آمد از حباب

از دمی او را توان کردن خراب

سلطنت پانی کے بلبلے سے بھی زیادہ نازک چیز ہے، اسے ایک پھونک سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔

Dominion is frailer than a bubble and can be destroyed by a single breath.

8888

از نوا تشکیل تقدیر امم

از نوا تخریب و تعمیر امم

نوا (شاعری) ہی سے امتوں کی تقدیر بنائی جا سکتی ہے اور اسی شاعری ہی سے قوموں کو تباہ کیا جا سکتا ہے یا انکی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔

The destinies of nations have been shaped by a song, by a song nations are destroyed and rebuilt.

8989

نشتر تو گرچه در دلها خلید

مر ترا چونانکه هستی کس ندید

اگرچہ تیرا نشتر کلام دلوں میں پیوست ہو چکا ہے لیکن جو کچھ تو ہے ویسا تجھے کسی نے نہیں دیکھا ۔

Though your lancet has pierced men’s hearts, none has perceived you as you truly are;

9090

پردهٔ تو از نوای شاعری است

آنچه گوئی ماورای شاعری است

تیرا پردہ اگرچہ شاعری کے نغمے سے ہے ورنہ جو کچھ تو کہتا ہے وہ شاعری سے ماورا ہے ۔

Your melody springs from a poet’s song, but what you utter transcends poesy.

9191

تازه آشوبی فکن اندر بهشت

یک نوا مستانه زن اندر بهشت

تو بہشت میں (جہاں اس وقت زندہ رود رومی کے ساتھ ہے ) ایک نوائے مستانہ نیا ہنگامہ برپا کر دے ۔

Stir up a new tumult in Paradise; strike up an intoxicating air in Paradise!

بند 8
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 8
9292

با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن

چون پخته شوی خود را بر سلطنت جم زن

تو نشہَ درویشی کے ساتھ موافقت کر اور مسلسل پی (مست رہ) جب تو اس نشہ میں پختہ ہو جائے تو اپنے آپ کو جمشید کی سلطنت کے مقابلے پر لے آ ۔

Habituate yourself to the dervish wine and quaff it continuously; when you become riper, hurl yourself at the dominion of Jamshid.

9393

گفتند جهان ما آیا بتو می سازد

گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن

پوچھنے لگے کہ کیا ہمارا جہان تجھ سے موافقت کر رہا ہے میں نے کہا نہیں ، تو اس پر انھوں نے کہا کہ اس جہان کو درہم برہم کر دے ۔

They said, ‘This world of ours-does it agree with you?’ I said, ‘It does not agree’. They said, ‘Then break it to pieces’.

9494

در میکده ها دیدم شایسته حریفی نیست

با رستم دستان زن با مغبچه ها کم زن

میں نے شراب خانوں میں د یکھا ہے کہ وہاں کوئی بھی شایستہ مدِ مقابل نہیں ہے ۔ تو رستم دستاں کے ساتھ بیٹھ کر پی مغچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہ پی ۔

In the taverns I have seen there is not one worthy adversary; grapple with Rustam-i Dastan, have done with Magian boys!

9595

ای لاله صحرائی تنها نتوانی سوخت

این داغ جگر تابی بر سینه آدم زن

اے لالہَ صحرائی تو اکیلا نہیں جل سکتا تو جگر میں حرارت پیدا کرنے والا اپنا یہ داغ آدمی کے سینے میں لگا ، پیدا کر ۔

Tulip of the wilderness, you cannot burn alone; strike this heart-enflaming brand upon the breast of man;

9696

تو سوز درون او تو گرمی خون او

باور نکنی چاکی در پیکر عالم زن

تو اس کائنات کا سوزِ دروں ہے اور تو ہی اس کے خون کی حرارت ہے ۔ اگر تجھے اس بات پر یقین نہیں ہے تو پھر جہان کے بدن میں چیر ، پھاڑ ڈال کر دیکھ لے ۔

You are the ardour of his bosom, the heat of his blood – do you not believe me? Then tear apart the flesh of the world.

9797

عقل است چراغ تو در راهگذاری نه

عشق است ایاغ تو با بندهٔ محرم زن

کیا عقل تیری چراغ ہے اگر ہے تو اسے کسی راہ گزر میں رکھ دے ۔

Is reason your lamp? Set it on the path to shine; or is love your cup? Quaff it with the intimate.

9898

لخت دل پر خونی از دیده فرو ریزم

لعلی ز بدخشانم بردار و بخاتم زن

میں اپنے خون دل کا ایک ٹکڑا آنکھوں سے گرا رہا ہوں ، تو میرے بدخشاں کا ایک لعل اٹھا لے اور اسے اپنی انگوٹھی میں جڑ لے ۔

I pour forth from my eyes the bloody gouts of my heart; my ruby of Badakhshan – pick it up, and set it in your ring.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

حرف رومی در دلم سوزی فکند

آه پنجاب آن زمین ارجمند

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 4 - زیارت امیر کبیر حضرت سید علی همدانی و ملا طاهر غنی کشمیری

اگلی نظم

حوریان را در قصور و در خیام

ناله من دعوت سوز تمام

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 6 - صحبت با شاعر هندی برتری هری

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور