شاہ ہمدان کے حضور
In the Presence of Shah-i Hamadan
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
Zinda-Rud
از تو خواهم سر یزدان را کلید
طاعت از ما جست و شیطان آفرید
(اے شاہِ ہمدان ) میں آپ سے خدا کے ایک بھید کا حل جاننا چاہتا ہوں ۔ خدا نے خود شیطان کو پیدا کیا اور ہم سے اطاعت چاہی ۔
I seek from you the key to the secret of God: He sought from us obedience, and created Satan.
زشت و ناخوش را چنان آراستن
در عمل از ما نکوئی خواستن
برائی اور گناہ کو اس طرح آراستہ کرنا (دلفریب بنانا ) اور ہمارے عمل سے نیکی چاہنا (عجیب سی بات ہے ) ۔
So to adorn the hideous and unlovely and to demand of us comeliness of works;
از تو پرسم این فسون سازی که چه
با قمار بدنشین بازی که چه
میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جادوگری کیا ہے ۔ ایک برے ساتھی کے ساتھ جوا کھیلنے کا کیا مطلب ہے
I ask you, what is this magic-mongering, what this dicing with an evil adversary?
مشت خاک و این سپهر گرد گرد
خود بگو می زیبدش کاری که کرد
ایک طرف یہ خاک کی مٹھی یعنی انسان اور دوسری طرف یہ گردش کرنے والا آسمان، آپ ہی فرمائیے کہ کیا اسے (خدا کو) یہ کام زیب دیتا ہے
A handful of dust, against yon revolving sphere – tell me now, did it beseem Him so to do?
کار ما ، افکار ما ، آزار ما
دست با دندان گزیدن کار ما
ہمارے اعمال اور ہمارے افکار ہمارے لیے اذیت کا باعث ہیں ۔ چنانچہ دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹنا ہمارا کام ہے (اظہار حیرت ہے ) ۔
Our labour, our thoughts, our anguish is but to bite our hands in despair.
بنده ئی کز خویشتن دارد خبر
آفریند منفعت را از ضرر
وہ انسان جو اپنے آپ سے باخبر ہے وہ نقصان سے بھی نفع پیدا کر لیتا ہے ۔
Shah-i Hamadan The man who is fully aware of himself creates advantage out of loss.
بزم با دیو است آدم را وبال
رزم با دیو است آدم را جمال
شیطان کے ساتھ بزم آرائی (دوستی) آدمی کے لیے جان کا عذاب ہے مگر شیطان کے ساتھ جنگ آدمی کے لیے جمال ہے ۔
To sup with the Devil brings disaster to a man; to wrestle with the Devil brings him glory.
خویش را بر اهرمن باید زدن
تو همه تیغ آن همه سنگ فسن
اپنے آپ کو شیطان کے مقابلے میں لانا چاہیے ۔ تو (اے انسان ) تو سراپا تلوار ہے جبکہ شیطان سان ہے ۔
One must strike oneself against Ahriman; you are a sword, he is the whetstone;
تیز تر شو تا فتد ضرب تو سخت
ورنه باشی در دو گیتی تیره بخت
تو زیادہ تیز ہو (تلوار زیادہ تیز کر ) تا کہ دشمن (شیطان) پر تیرا وار بڑا سخت پڑے، کاری ہو ۔ ورنہ تو دونوں جہانوں میں سیاہ بخت رہے گا ۔
Become sharper, that your stroke may be hard, else you will be unfortunate in both worlds.
Zinda-Rud
زیر گردون آدم آدم را خورد
ملتی بر ملتی دیگر چرد
آسمان کے نیچے (اس دنیا میں ) آدمی، آدمی کو کھا رہا ہے اور ایک قوم دوسری قوم کو لوٹ رہی ہے ۔
Under the heavens man devours man, nation grazes upon another nation.
جان ز اهل خطه سوزد چون سپند
خیزد از دل ناله های دردمند
میری جان خطہ کشمیر کے لوگوں کے حالات دیکھ کر سپند کے دانے کی طرح چٹخ رہی ہے ۔ اور میرے دل سے درد بھرے نالے اٹھتے ہیں ۔
My soul burns like rue for the people of the Vale; cries of anguish mount from my heart.
زیرک و دراک و خوش گل ملتی است
در جهان تر دستی او آیتی است
کشمیری قوم ایک باریک بیں بہت سوجھ بوجھ والی دانشمند اور خوش شکل ہے، دنیا میں اس کی ہنرمندی ایک دلیل ہے ۔
They are a nation clever, perceptive, handsome, their dexterity is proverbial,
ساغرش غلطنده اندر خون اوست
در نی من ناله از مضمون اوست
اس کا پیالہ اس کے اپنے ہی خون سے لت پت ہے ۔ میری بانسری سے اسی کے حالات کی فریاد نکل رہی ہے ۔
Yet their cup rolls in their own blood; the lament in my flute is on their behalf.
از خودی تا بی نصیب افتاده است
در دیار خود غریب افتاده است
جب سے یہ قوم خودی سے بے نصیب ہو گئی ہے وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کے رہ گئی ہے ۔
Since they have lost their share of selfhood they have become strangers in their own land;
دستمزد او بدست دیگران
ماهی رودش به شست دیکران
اس کے ہاتھوں کی مزدوری دوسروں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کے دریا کی مچھلی دوسروں کے کانٹے میں پھنسی ہوئی ہے ۔
Their wages are in the hands of others, the fish of their river in other men’s nets.
کاروانها سوی منزل گام گام
کار او نا خوب و بی اندام و خام
دوسری قوموں کے قافلے (ترقی کی ) منزل کی طرف قدم بقدم چلے جا رہے ہیں لیکن اس (بدقسمت قوم) کا کام ناخوب بھی ہے اور ان گھڑت اور ناقص بھی ۔
The caravans move step by step to the goal; but still their work is ill-done, unformed, immature.
از غلامی جذبه های او بمرد
آتشی اندر رگ تاکش فسرد
غلامی سے اس کے جذبے ختم ہو گئے ہیں او ر اس کی تاک (انگور کی رگ ) کے اندر آگ بجھ گئی ہے ۔
Through servitude their aspirations have died, the fire in the veins of their vine is quenched.
تا نپنداری که بود است اینچین
جبهه را همواره سود است اینچنین
تو کہیں یہ نہ سمجھ کہ یہ قوم ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے اور اسی طرح اس نے ہمیشہ دوسروں کے آگے اپنی پیشانی رگڑی ہے ۔
But do not think that they were always so, their brows ever lowered thus to the dust;
در زمانی صف شکن هم بوده است
چیره و جانباز و پر دم بوده است
وہ کبھی صف شکن بھی رہی ہے اور زبردست جانباز اور حوصلہ مند رہی ہے ۔
Once upon a time they too were warlike folk, valiant, heroic, ardent in battle.
کوههای خنگ سار او نگر
آتشین دست چنار او نگر
اس (کشمیر) کے برف پوش پہاڑ دیکھ اور یہاں کے درخت چنار کے آتشیں ہاتھ یعنی پتے دیکھ ۔
Behold her mountains turbaned in white; behold the fiery hands of her chenars;
در بهاران لعل میریزد ز سنگ
خیزد از خاکش یکی طوفان رنگ
موسم بہار میں یہاں کے پتھروں سے لعل اگتے ہیں ۔ (لالہ کے سرخ رنگ کے پھول) یہاں کی مٹی سے رنگ کا ایک طوفان اٹھتا ہے ۔
In springtime rubies leap down from the rocks, a flood of colour rises from her soil;
لکه های ابر در کوه و دمن
پنبه پران از کمان پنبه زن
پہاڑ اور وادی میں بادلوں کے ٹکڑے اس طرح اڑتے پھرتے ہیں جیسے روئی دھنیئے کی کما ن سے دھنکی ہوئی روئی اڑتی ہے ۔
Stippled clouds cover mountain and valley like cotton-flocks strewn from a carder’s bow.
کوه و دریا و غروب آفتاب
من خدارا دیدم آنجا بی حجاب
وہاں کے پہاڑ، دریا اور سورج کا وقت غروب (اتنا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں کہ ) میں نے وہاں خدا کو بے حجاب دیکھا ہے (اللہ تعالیٰ کا جمال بے نقاب نظر آتا ہے ) ۔
Mountain and river, and the setting of the sun: there I behold God without a veil
با نسیم آواره بودم در نشاط
«بشنو از نی» می سرودم در نشاط
میں وہاں کے نشاط باغ میں بادِ نسیم کے ساتھ ادھر ادھر گھومتا رہا اور خوشی سے سرشار ہو کر مولانا رومی کی مثنوی کا پہلا شعر بشنوازنے گاتا رہا ۔ شعر یہ ہے،
I wandered with the zephyr in Nishat chanting as I roved, ‘Listen to the reed’
مرغکی می گفت اندر شاخسار
با پشیزی می نیرزد این بهار
وہاں شاخوں میں بیٹھے ایک پرندے نے مجھ سے کہا کہ اس بہار کی قیمت تو ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں ہے ۔
A bird perched in the branches was singing: ‘This springtide is not worth a penny.
لاله رست و نرگس شهلا دمید
باد نو روزی گریبانش درید
لالہ کے پھول اگے اور نرگس شہلا پھوٹی، باد بہار نے اس سرزمین کا گریبان پھاڑ دیا ہے ۔
The tulip has blossomed, the dark-eyed narcissus is in bloom, the breeze of Nauruz has torn their skirts;
عمرها بالید ازین کوه و کمر
نستر از نور قمر پاکیزه تر
اس کے پہاڑوں اور ان کے درمیانی راستوں میں مدتوں سے چنبیلی کے ایسے پھول کھل رہے ہیں جو چاند کی روشنی سے بھی زیادہ پاکیزہ زیادہ چمکدار اور سفید تھے ۔
For many ages from this mountain and valley have sprung daisies purer than the light of the moon,
عمر ها گل رخت بر بست و گشاد
خاک ما دیگر شهاب الدین نزاد
اس (وادی کشمیر ) میں مدتوں گلاب کے پھول کھلتے اور مرجھا جاتے رہے لیکن ہماری سرزمین سے کوئی اور شہاب الدین پیدا نہ ہوا ۔
For many ages the rose has packed and unpacked her baggage, yet our earth has not begotten a second Shihab al-Din.’
نالهٔ پر سوز آن مرغ سحر
داد جانم را تب و تاب دگر
صبح کے اس پرندے کے پر سوز نالہ نے میری جان میں نیا جوش پیدا کر دیا ہے ۔
The passionate lament of that bird of dawn filled my heart with new fire and fever.
تا یکی دیوانه دیدم در خروش
آنکه برد از من متاع صبر و هوش
وہاں میں نے ایک دیوانے کو خروش یا فریاد کرتے دیکھا اور اس کیفیت نے میرے صبر و جوش کی متاع ہی اڑا لی ( میں بیقرار ہو گیا ) ۔
Presently I beheld a madman, whose threnody robbed me of all endurance and reason.
«بگذر ز ما و نالهٔ مستانه ئی مجوی
بگذر ز شاخ گل که طلسمی است رنگ و بوی
تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم سے نالہ مستانہ کی توقع نہ رکھ ۔ تو پھول کی شاخ سے گزر جا کیونکہ یہ محض رنگ و بو کا جادو ہے ۔
‘Pass us by, and seek not an impassioned lament, pass from the rose-twig, that talisman of colour and scent.
گفتی که شبنم از ورق لاله می چکد
غافلی دلی است اینکه بگرید کنار جوی
تو کہتا ہے کہ شبنم لالہ کی پتیوں سے ٹپکتی رہی ہے ۔ ارے غافل یہ لالہ نہیں یہ تو ایک دل ہے جو ندی کے کنارے بیٹھا رو رہا ہے ۔
You said that dew was dripping from the tulip’s petals; nay, it is a feckless heart weeping beside the river.
این مشت پر کجا و سرود اینچنین کجا
روح غنی است ماتمی مرگ آرزوی
یہ پروں کی مٹھی کہاں اورر اس قسم کا نغمہ کہاں یہ تو غنی کی روح ہے جو آرزو کی موت پر ماتم کر رہی ہے ۔
What have these few feathers to do with such a chant? It is the spirit of Ghani mourning the death of desire.
باد صبا اگر به جنیوا گذر کنی،
حرفی ز ما به مجلس اقوام باز گوی
اے بادِ صبا اگر جنیوا کی طرف تیرا گزر ہو تو وہاں ہماری طرف سے مجلس اقوام سے ہماری یہ بات کہنا ۔
Zephyr, if you should pass over Geneva speak a word from me to the League of Nations:
دهقان و کشت و جوی و خیابان فروختند
قومی فروختند و چه ارزان فروختند»
کسان اور کھیت اور ندیاں اور کیاریاں انھوں نے بیچ دیں ۔ انھوں نے ایک قوم کو بیچ دیا اور کس قدر سستا بیچ دیا ۔ انگریز حکمرانوں نے اپنے لالچ اور مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے کشمیر کو ایک ہندو ڈوگرہ کے ہاتھ معمولی قیمت پر بیچ دیا تھا ۔
They have sold farmer and cornfield, river and garden, they have sold a people, and at a price how cheap.’
با تو گویم رمز باریک ای پسر
تن همه خاک است و جان والا گهر
اے بیٹے میں تجھے ایک رمز کی بات بتاتا ہوں ، وہ یہ کہ جسم (بدن) سراسر مٹی ہے جبکہ جان ایک قیمتی موتی ہے ۔
Shah-i Hamadan I will tell you a subtle mystery, my son: the body is all clay, the soul a precious pearl.
جسم را از بهر جان باید گداخت
پاک را از خاک می باید شناخت
روح کی خاطر بدن کو پگھلا دینا چاہیے، پاک روح اور خاک بدن میں تمیز کرنی چاہیے ۔
The body must be melted for the sake of the soul; the pure must be distinguished from the clay.
گر ببری پارهٔ تن را ز تن
رفت از دست تو آن لخت بدن
اگر تو جسم (بدن) سے اس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لے تو بدن کا وہ ٹکڑا ہمیشہ کے لیے تیرے ہاتھوں سے نکل گیا ۔
If you cut off a part of the body from the body, that slice of the body will be lost to you;
لیکن آن جانی که گردد جلوه مست
گر ز دست او را دهی آید بدست
لیکن وہ روح جو محبوب حقیقی کے جلوے میں محو و مست ہو جائے اگرتو اسے ہاتھ سے دے دے تو وہ پھر تیرے ہاتھ آ جائے گی (شہید زندہ ہیں ) ۔
But the soul which is drunk with vision – if you give it away, it will return to you.
جوهرش با هیچ شی مانند نیست
هست اندر بند و اندر بند نیست
اس (روح) کا جوہر کسی بھی شے کی مانند نہیں ہے، وہ اگرچہ جسم کی قید میں ہے لیکن قید میں نہیں ہے ۔
The soul’s substance resembles nothing else; it is in bonds, and yet not in bonds;
گر نگهداری بمیرد در بدن
ور بیفشانی ، فروغ انجمن
اگر تو جان کی حفاظت کرے گا (بچا بچا کے رکھے گا ) تو یہ بدن میں مر جائے گی اور اگر اسے تو خدا کی راہ میں قربان کر دے تو وہ انجمن کی رونق بنے گی ۔
If you watch over it, it dies in the body, and if you scatter it, it illuminates the gathering.
چیست جان جلوه مست ای مرد راد
چیست جان دادن ز دست ایمرد راد
اے جوان مردجلوہ مستِ جان کیا ہے اے جوانمرد جان کو ہاتھ سے دے دینے سے کیا مراد ہے
What, noble sir, is the soul ‘drunk with vision’? What does it mean to ‘give the soul away’?
چیست جان دادن بحق پرداختن
کوه را با سوز جان بگداختن
جان دینا کیا ہے یہ اسے حق کے حوالے کرنا ہے اور پہاڑ کو اس کے سوزِ جاں سے پگھلا دینا ہے ۔
To give away the soul is to surrender it to God, it means melting the mountain with the soul’s flame.
جلوه مستی خویش را دریافتن
در شبان چون کوکبی بر تافتن
جلوہ مستی کیا ہے یہ خود (اپنے آپ) کو پا لینا ہے (خودی سے آگاہ ہونا ہے ) راتوں میں ستاروں کی طرح چمکنا ہے ۔
‘Drunk with vision’ means discovering one’s self, shining like a star in the night-season:
خویش را نایافتن نابودن است
یافتن خود را بخود بخشودن است
اپنے آپ کو نہ پانا گویا نابود ہو جانا ہے ، جبکہ اپنے آپ کو پا لینا خود کو اپنے سپرد کر دینا ہے ۔ خود کو زندگی عطا کرنا ہے ۔
Not to discover one’s self is not to exist, to discover is to bestow the self on the Self.
هر که خود را دید و غیر از خود ندید
رخت از زندان خود بیرون کشید
جس نے خود (اپنے آپ) کو دیکھ لیا اور اپنے سوا کسی اور کو نہ دیکھا، اس نے اپنے قید خانے سے سامان باہر نکال لیا (قید سے آزاد ہو گیا ) ۔
Whosoever has seen himself and has seen naught else has drawn forth the load from the self’s prison;
جلوه بد مستی که بیند خویش را
خوشتر از نوشینه داند نیش را
وہ جلوہ بدمست جو خود کو دیکھتا ہے وہ ڈنگ یا زہر کو شہد سے بہتر سمجھتا ہے ۔
The ‘drunk with vision’ who beholds himself deems the sting sweeter than the honey;
در نگاهش جان چو باد ارزان شود
پیش او زندان او لرزان شود
(اپنی معرفت سے آگاہ) انسان کی نگاہوں میں جان ہوا کی طرح سستی ہوتی ہے ۔ اس کے سامنے اس کا قیدخانہ (جسم) کانپتا ہے ۔
In his eyes the soul is cheap as the air, before him the walls of his prison tremble;
تیشهٔ او خاره را بر می درد
تا نصیب خود ز گیتی می برد
اس کا تیشہ پتھر کو بھی توڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ زمانے سے اپنا حصہ لے لیتا ہے (چھین لیتا ہے ) ۔
His axe shivers the granite rock so that he takes his share of the universe.
تا ز جان بگذشت جانش جان اوست
ورنه جانش یکدو دم مهمان اوست
جب وہ جان سے گزر جاتا ہے (اللہ کی راہ میں جان قربان کر دیتا ہے ) تو اس کی جان اس کی جان بن جاتی ہے ورنہ اس کی جان اس کی دو ایک پل کی مہمان ہے یعنی عارضی و فانی ہے ۔
When he gives up the soul, his soul is truly his, otherwise his soul is his guest but for a moment or two.
Zinda-Rud
گفته ئی از حکمت زشت و نکوی
پیر دانا نکتهٔ دیگر بگوی
آپ نے برائی اور اچھائی (بدی اور نیکی ) کی حکمت کے بارے میں فرمایا ہے، اے پیر دانا ایک اور گہری بات بھی بیان فرمائیں ۔
You have spoken of the wisdom of foul and fair; learned sage, expound a further subtlety.
مرشد معنی نگاهان بوده ئی
محرم اسرار شاهان بوده ئی
آپ صاحبانِ معرفت و عرفان (معرفت پر نگاہ رکھنے والے) کے مرشد رہے ہیں اور بادشاہوں کے اسرار سے بھی آگاہ رہے ہیں ۔
You were the guide of those who behold the inner meanings you were the confidant of the secrets of kings.
ما فقیر و حکمران خواهد خراج
چیست اصل اعتبار تخت و تاج
ہم غریب ہیں اور حکمران ہم سے خراج مانگتا ہے، تخت و تاج کے اعتبار کی اصل کیا ہے (حیثیت کیا ہے )
We are poor men, and the ruler demands tribute; what is the origin of the sanction of throne and crown?
اصل شاهی چیست اندر شرق و غرب
یا رضای امتان یا حرب و ضرب
مشرق اور مغرب میں بادشاہت کی اصل (حقیقت) کیا ہے یہ قوموں کی مرضی سے یا جنگ و جدل سے وجود پاتی ہے ۔
Shah-i Hamadan What is the origin of Kingship in East and West? Either the consent of the peoples, or war and violence.
فاش گویم با تو ای والا مقام
باج را جز با دو کس دادن حرام
اے بلند مرتبہ شخص میں تجھے واضح طور پر (صاف صاف) بتاتا ہوں کہ دو آدمیوں کے علاوہ کسی اور کو خراج دینا حرام ہے ۔
Exalted sir, I will speak with you plainly; it is forbidden to pay tribute save to two persons:
یا «اولی الامری» که «منکم» شأن اوست
آیهٔ حق حجت و برهان اوست
یا تو وہ اولی الامر منکم ، جس کی شان ہے اور خدا کی یعنی قرآن کریم کی آیت اس سلسلے میں دلیل ہے ۔ یعنی صاحب اقتدار اہل ایمان ہو، رسول اللہ کا اطاعت گزار اور حضور کے فرمودہ اصولوں کے مطابق حکمرانی کرتا ہو، اور جو حکمران اسلامی نظریات سے بیگانہ ہو اسے حاکم نہیں ماننا چاہیے نہ خراج دینا چاہیے ۔
‘Either those in authority as being among you, whose proof and demonstration is the verse of God,
یا جوانمردی چو صرصر تند خیز
شهر گیر و خویش باز اندر ستیز
یا خراج کا حقدار وہ جواں مرد ہے جو باطل قوتوں کے خلاف طوفانی ہوا کی طرح اٹھے، جو شہر (کفار کا ملک) فتح کرنے والا ہو اور جو اپنے نفس امارہ کے خلاف جہاد کرنے والا ہو ۔
Or else a hero swift-rising like a hurricane who seizes cities, and stakes himself in the battle,
روز کین کشور گشا از قاهری
روز صلح از شیوه های دلبری
دشمنی کے دن (جنگ کے موقع پر) وہ اپنی قاہری (زبردست قوت) سے ملک فتح کرنے والا ہو اور صلح کے دن یعنی امن کے موقع پر وہ اپنے دلبرانہ طور طریقوں سے لوگوں کے دل جیتنے والا ہو، یعنی اس میں جلال اور جمال دونوں صفات ہوں ۔
On the day of war conquering the land by force of arms, on the day of peace by the winning ways of love.
می توان ایران و هندوستان خرید
پادشاهی را ز کس نتوان خرید
ایران اور ہندوستان کو خریدا جا سکتا ہے مگر بادشاہت کسی سے نہیں خریدی جا سکتی ۔
You might indeed purchase Iran and India, but kingship cannot be bought from any man;
جام جم را ای جوان باهنر
کس نگیرد از دکان شیشه گر
اے ہنرمند نوجوان (زندہ رود) جام جمشید کسی نے شیشہ گر کی دکان سے نہیں خریدا ۔
Virtuous friend, the Cup of Jamshid none shall procure from the glassmaker’s shop,
ور بگیرد مال او جز شیشه نیست
شیشه را غیر از شکستن پیشه نیست
اور اگر کوئی وہاں سے خرید بھی لیتا ہے تو وہ مال شیشے کے سوا کچھ نہ ہو سکا جس کا کام آخرکار ٹوٹنا ہے۔
Or if he procures aught, all he owns is glass, and glass has no other property but to break.
هند را این ذوق آزادی که داد
صید را سودای صیادی که داد
ہندوستان کو آزادی کا یہ ذوق کس نے دیا شکار کو شکاری کا جنون کس نے دیا
Ghani Who gave to India this yearning for freedom? Who gave the quarry this passion to be the hunter?
آن برهمن زادگان زنده دل
لالهٔ احمر ز روی شان خجل
(یہ ذوق) ان برہمن زادوں نے دیا جو زندہ دل ہیں ، جن کے حسین چہروں کے سامنے لالہ کا سرخ پھول بھی شرمسار ہے ۔
Those scions of Brahmins, with vibrant hearts, whose glowing cheeks put the red tulip to shame;
تیزبین و پخته کار و سخت کوش
از نگاهشان فرنگ اندر خروش
یہ تیز نگاہ اور تجربہ کار اور جفاکش ، محنتی ہیں ۔ اور ان کی نگاہ سے انگریز شور کرتے ہوئے واویلا مچا رہے ہیں ۔
Keen of eye, mature and strenuous in action whose very glance puts Europe into commotion.
اصلشان از خاک دامنگیر ماست
مطلع این اختران کشمیر ماست
ان کی اصل ہماری دامن گیر مٹی (کشمیر) سے ہے ۔ ان ستاروں کا مطلع (طلوع ہونا) ہمارا کشمیر ہے ۔
Their origin is from this protesting soil of ours, the rising-place of these stars is our Kashmir.
خاک ما را بی شرر دانی اگر
بر درون خود یکی بگشا نظر
اگر تو (زندہ رود) ہماری خاک کو شعلے سے خالی سمجھتا ہے تو پھر ذرا اپنے اندر ہی نظر ڈال، یعنی تو بھی تو کشمیری ہے ۔ کیا تو نہیں چاہتا کہ کشمیر آزاد ہو ۔
If you suppose our earth is without a spark, cast a glance for a moment within your heart;
اینهمه سوزی که داری از کجاست
این دم باد بهاری از کجاست
یہ جو تجھ میں سارا سوز ہے یہ کہاں سے آیا ہے، یہ موسم بہار کی ہوا کے جھونکے کہاں سے اٹھے ہیں
Whence comes all this ardour you possess, whence comes this breath of the breeze of spring?
این همان باد است کز تأثیر او
کوهسار ما بگیرد رنگ و بو
یہ وہی ہوا ہے جس کی تاثیر سے ہمارے پہاڑ بڑے رنگ و بو پاتے ہیں ۔
It is from the selfsame wind’s influence that our mountains derive their colour and scent.
هیچ میدانی که روزی در ولر
موجه ئی می گفت با موج دگر
کیا تجھے کچھ علم ہے کہ ایک روز ولر جھیل میں ایک موج نے دوسری موج سے کہا
Do you not know what one day a wave said to another wave in Lake Wular?
چند در قلزم به یکدیگر زنیم
خیز تا یک دم بساحل سر زنیم
ہم کب تک اس سمندر میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں گی ، تو اٹھ تا کہ ہم کچھ دیر ساحل سے سر ٹکرائیں ۔
‘How long shall we strike at each other in this sea? Rise up; let us break together against the shore.
زادهٔ ما یعنی آن جوی کهن
شور او در وادی و کوه و دمن
ہماری پیدا کی ہوئی وہ پرانی ندی جس کا شور وادی، پہاڑ اور دمن میں ہے ۔
Our child, that is to say, yon Ancient River fills with its roar valley and mountains and meadow;
هر زمان بر سنگ ره خود را زند
تا بنای کوه را بر می کند
وہ ہر لمحہ خود کو راستے کے پتھروں سے ٹکراتی ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی بنیاد تک کو کھو ددیتی ہے (پہاڑ کے اندر بھی راستہ بنا لیتی ہے ) ۔
Continually it smites the rocks on its path until it uproots the fabric of the mountains.
آن جوان کو شهر و دشت و در گرفت
پرورش از شیر صد مادر گرفت
وہ جوان جس نے شہر و بیابان اور وادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اس کی پرورش سو ماؤں کے دودھ سے ہوئی ہے ۔
That youth who seized cities, deserts and plains took his nurture from the milk of a hundred mothers;
سطوت او خاکیان را محشری است
این همه از ماست، نی از دیگری است
اس کا دبدبہ انسانوں کے لیے ایک قیامت کی حیثیت رکھتا ہے، جب اس میں سیلاب آتا ہے تو وہ بڑی تباہی مچاتا ہے ۔ یہ ہمارے اندر سے نکلا ہے کسی اور جگہ سے تو نہیں نکلا ۔ تو یہ سب کچھ کشمیر ہی کی بدولت ہے ۔ گویا کشمیر نہ ہوتا تو جہلم بھی نہ ہوتا ۔
Its majesty strikes terror into mortal hearts; all this is from us, not from any other.
زیستن اندر حد ساحل خطاست
ساحل ما سنگی اندر راه ماست
ساحل کی حدود میں زندگی بسر کرنا غلطی ہے، ہمارا ساحل ہمارے راستے کا پتھر بنا ہو اہے ۔
To live in the bounds of the shore is a sin; our shore is but a stone in our path.
با کران در ساختن مرگ دوام
گرچه اندر بحر غلتی صبح و شام
ساحل سے موافقت کر لینا (کناروں کے اندر رہنا) ہمیشہ کی موت ہے، خواہ اے موج تو سمندر میں صبح و شام کیوں نہ لڑھکتی رہے، طوفان ہی کیوں نہ برپا کرتی رہے ۔
To accommodate oneself to the shore is eternal death, even though you roll in the sea morning and evening;
زندگی جولان میان کوه و دشت
ای خنک موجی که از ساحل گذشت
زندگی تو کوہ و دشت میں اپنی جولانیاں دکھانا ہے ، مبارک ہے وہ موج ہو ساحل سے باہر نکل گئی ۔
Life is to leap amidst mountain and desert – happy is the wave that has transgressed the shore!’
ایکه خواندی خط سیمای حیات
ای به خاور داده غوغای حیات
اے (زندہ رود) تو نے تو زندگی کی پیشانی کی لکیریں پڑھی ہیں اور اہل مشرق کو زندگی کا ہنگامہ دیا ہے (تجھے قوموں کی تقدیر کی پوری خبر ہے) ۔
You who have read the lines on the brow of Life, you who have given to the East the tumult of Life,
ای ترا آهی که می سوزد جگر
تو ازو بیتاب و ما بیتاب تر
اے کہ تو ایسی آہ رکھتا ہے جو جگر کو جلاتی ہے ، تو اس سے بے قرار ہے تو ہم تجھ سے زیادہ بے قرار ہیں ۔
You who have a sigh that consumes the heart, stirring you to restlessness and us still more,
ای ز تو مرغ چمن را های و هو
سبزه از اشک تو می گیرد وضو
اے کہ تجھ سے باغ کے پرندوں میں ہائے و ہو کا شور ہے، اور سبزہ تیرے آنسووَں سے وضو کرتا ہے ۔
From you the birds in the meadow learned their threnody; in your tears the grasses make ablution;
ایکه از طبع تو کشت گل دمید
ای ز امید تو جانها پر امید
اے کہ تیری طبع سے پھولوں کی کیاری کھل اٹھی، اے کہ تیری امید سے دوسری جانیں بھی پرامید ہو گئی ہیں ۔
Out of your genius the field of roses blossomed, out of your hope many souls are filled with hope.
کاروانها را صدای تو درا
تو ز اهل خطه نومیدی چرا
قافلوں کے لیے تیری صدا بیداری اور کوچ کی گھنٹی ہے، پھر تو خطہ کشمیر کے لوگوں سے نا امید کیوں ہے
Your cry is a bell urging the caravans; why then do you despair of the dwellers in the Vale?
دل میان سینهٔ شان مرده نیست
اخگر شان زیر یخ افسرده نیست
ان (اہل کشمیر) کے سینوں میں مردہ دل نہیں ہیں ، ان کا شعلہ (انگارہ) برف کے نیچے دب کر نہیں بجھا ۔
Their hearts are not dead in their breasts; their embers are not extinguished under the ice;
باش تا بینی که بی آواز صور
ملتی بر خیزد از خاک قبور
ذرا ٹھہر تاکہ تو دیکھے کہ ایک ملت (اہل کشمیر) صور کی آواز کے بغیر ہی قبروں کی مٹی سے اٹھنے والی ہے ۔ (وہ وقت قریب ہے جب اہل کشمیر غلامی سے نجات پا لیں گے ) ۔
Wait till you see, without the sound of the Trumpet, a nation rising out of the dust of the tomb.
غم مخور ای بندهٔ صاحب نظر
بر کش آن آهی که سوزد خشک و تر
اے صاحب نظر (زندہ رود) تو غم نہ کھا تو ایسی آہ کھینچ جو خشک و تر کو جلا دے ۔
Do not grieve then, visionary; breathe out that sigh consuming all, dry and moist alike;
شهر ها زیر سپهر لاجورد
سوخت از سوز دل درویش مرد
اس نیلے آسمان کے نیچے بہت سے شہر ایک مرد درویش کے سوز دل سے جل اٹھے ہیں ۔
Many cities beneath the turquoise heaven have been consumed by the flame of a dervish heart.
سلطنت نازکتر آمد از حباب
از دمی او را توان کردن خراب
سلطنت پانی کے بلبلے سے بھی زیادہ نازک چیز ہے، اسے ایک پھونک سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔
Dominion is frailer than a bubble and can be destroyed by a single breath.
از نوا تشکیل تقدیر امم
از نوا تخریب و تعمیر امم
نوا (شاعری) ہی سے امتوں کی تقدیر بنائی جا سکتی ہے اور اسی شاعری ہی سے قوموں کو تباہ کیا جا سکتا ہے یا انکی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔
The destinies of nations have been shaped by a song, by a song nations are destroyed and rebuilt.
نشتر تو گرچه در دلها خلید
مر ترا چونانکه هستی کس ندید
اگرچہ تیرا نشتر کلام دلوں میں پیوست ہو چکا ہے لیکن جو کچھ تو ہے ویسا تجھے کسی نے نہیں دیکھا ۔
Though your lancet has pierced men’s hearts, none has perceived you as you truly are;
پردهٔ تو از نوای شاعری است
آنچه گوئی ماورای شاعری است
تیرا پردہ اگرچہ شاعری کے نغمے سے ہے ورنہ جو کچھ تو کہتا ہے وہ شاعری سے ماورا ہے ۔
Your melody springs from a poet’s song, but what you utter transcends poesy.
تازه آشوبی فکن اندر بهشت
یک نوا مستانه زن اندر بهشت
تو بہشت میں (جہاں اس وقت زندہ رود رومی کے ساتھ ہے ) ایک نوائے مستانہ نیا ہنگامہ برپا کر دے ۔
Stir up a new tumult in Paradise; strike up an intoxicating air in Paradise!
Zinda-Rud
با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن
چون پخته شوی خود را بر سلطنت جم زن
تو نشہَ درویشی کے ساتھ موافقت کر اور مسلسل پی (مست رہ) جب تو اس نشہ میں پختہ ہو جائے تو اپنے آپ کو جمشید کی سلطنت کے مقابلے پر لے آ ۔
Habituate yourself to the dervish wine and quaff it continuously; when you become riper, hurl yourself at the dominion of Jamshid.
گفتند جهان ما آیا بتو می سازد
گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن
پوچھنے لگے کہ کیا ہمارا جہان تجھ سے موافقت کر رہا ہے میں نے کہا نہیں ، تو اس پر انھوں نے کہا کہ اس جہان کو درہم برہم کر دے ۔
They said, ‘This world of ours-does it agree with you?’ I said, ‘It does not agree’. They said, ‘Then break it to pieces’.
در میکده ها دیدم شایسته حریفی نیست
با رستم دستان زن با مغبچه ها کم زن
میں نے شراب خانوں میں د یکھا ہے کہ وہاں کوئی بھی شایستہ مدِ مقابل نہیں ہے ۔ تو رستم دستاں کے ساتھ بیٹھ کر پی مغچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہ پی ۔
In the taverns I have seen there is not one worthy adversary; grapple with Rustam-i Dastan, have done with Magian boys!
ای لاله صحرائی تنها نتوانی سوخت
این داغ جگر تابی بر سینه آدم زن
اے لالہَ صحرائی تو اکیلا نہیں جل سکتا تو جگر میں حرارت پیدا کرنے والا اپنا یہ داغ آدمی کے سینے میں لگا ، پیدا کر ۔
Tulip of the wilderness, you cannot burn alone; strike this heart-enflaming brand upon the breast of man;
تو سوز درون او تو گرمی خون او
باور نکنی چاکی در پیکر عالم زن
تو اس کائنات کا سوزِ دروں ہے اور تو ہی اس کے خون کی حرارت ہے ۔ اگر تجھے اس بات پر یقین نہیں ہے تو پھر جہان کے بدن میں چیر ، پھاڑ ڈال کر دیکھ لے ۔
You are the ardour of his bosom, the heat of his blood – do you not believe me? Then tear apart the flesh of the world.
عقل است چراغ تو در راهگذاری نه
عشق است ایاغ تو با بندهٔ محرم زن
کیا عقل تیری چراغ ہے اگر ہے تو اسے کسی راہ گزر میں رکھ دے ۔
Is reason your lamp? Set it on the path to shine; or is love your cup? Quaff it with the intimate.
لخت دل پر خونی از دیده فرو ریزم
لعلی ز بدخشانم بردار و بخاتم زن
میں اپنے خون دل کا ایک ٹکڑا آنکھوں سے گرا رہا ہوں ، تو میرے بدخشاں کا ایک لعل اٹھا لے اور اسے اپنی انگوٹھی میں جڑ لے ۔
I pour forth from my eyes the bloody gouts of my heart; my ruby of Badakhshan – pick it up, and set it in your ring.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور