ہندی شاعر برتری ہری سے ملاقات
Conversation with the Indian Poet Bartari-Hari
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
حوریان را در قصور و در خیام
ناله من دعوت سوز تمام
وہاں (بہشت میں ) محلوں اور خیموں میں مقیم حوروں کے لیے میری غزل (جو میں نے وہاں گائی) مکمل سوز کی دعوت بن گئی ۔
The houris in their palaces and pavilions my lament provoked to supreme ardour;
آن یکی از خیمه سر بیرون کشید
وان دگر از غرفه رخ بنمود و دید
ان (حوروں ) میں سے ایک نے خیمے سے سر باہر نکالا اور ایک دوسری نے بالاخانہ سے چہرہ نکال کر مجھے دیکھا ۔
One here put forth her head from her tent, another there peeped out from her chamber and gazed;
هر دلی را در بهشت جاودان
دادم از درد و غم آن خاکدان
میں نے اس بہشت جاوداں میں رہنے والے ہر دل کو اس خاکدان یعنی ہندوستان کا درد و غم دیا ۔
To every heart in eternal Paradise I gave of the pain and sorrow of yon terrestrial globe.
زیر لب خندید پیر پاک زاد
گفت «ای جادو گر هندی نژاد»
پاک فطرت پیر (مولانا رومی) زیر لب مسکرائے اور بولے ، اے ہند میں پیدا ہونے والے جادوگر (زندہ رود) ۔
A smile played on the lips of my holy guide and he said: ‘magician of Indian stock,
آن نوا پرداز هندی را نگر
شبنم از فیض نگاه او گهر
تو ذرا اس ہندی شاعر کو دیکھ جس کے فیض نگاہ سے شبنم کا قطرہ موتی بن جاتا ہے ۔
Behold now that Indian minstrel the grace of whose gaze converts the dew to pearls.
نکته آرائی که نامش برتری است
فطرت او چون سحاب آذری است
وہ ایک نکتہ سنج ہے جس کا نام برتری ہے، اس کی فطرت بہار کے بادل کی سی ہے ۔
A broiderer of subtleties, his name is Bartari, his nature generous as the clouds of Azar;
از چمن جز غنچه نورس نچید
نغمه تو سوی ما او را کشید
اس نے چمن سے نئے نئے کھلے غنچے (نئی کھلی کلیوں ) کے سوا اور کچھ نہیں چنا ۔
From the meadow he plucks only the new-sprung buds. Your melody has drawn him towards us,
پادشاهی با نوای ارجمند
هم به فقر اندر مقام او بلند
وہ ایک بادشاہ ہے جو شاعر بھی ہے اور اس کی شاعری قدرومنزلت کی حامل ہے، اور فقیر بھی اس کا مقام و مرتبہ بلند ہے ۔
A king who, with a song sublime, even in poverty dwells in lofty exaltation;
نقش خوبی بندد از فکر شگرف
یک جهان معنی نهان اندر دو حرف
وہ اپنے انوکھے اور نادر فکر سے خوبصورت نقش بناتا ہے، اس کے دو یعنی چند لفظوں میں جہان معنی پوشیدہ ہوتا ہے ۔
With his delicate thought he designs images of beauty, a whole world of meaning hidden in two words.
کارگاه زندگی را محرم است
او جم است و شعر او جام جم است‘‘
وہ زندگی کے کارخانے سے باخبر ہے، وہ خود جمشید اور اس کی شاعری جام جم (جمشید کا پیالہ جس میں سے دنیا نظر آتی تھی) ہے ۔
He is intimate with the workshop of life; he is Jamshid, his poetry Jamshid’s Cup.’
ما به تعظیم هنر برخاستیم
باز با وی صحبتی آراستیم
ہم اس کی مذکورہ ، خوبیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ پھر اس کے ساتھ صحبت آراستہ کی ۔
We rose in reverence for his art and prepared suitably to engage with him.
Zinda-Rud
ای که گفتی نکته های دلنواز
مشرق از گفتار تو دانای راز
اے (برتری ہری) کہ تو نے بڑی دل نواز گہری باتیں کی ہیں اور اہل مشرق تیری گفتار سے دانائے راز (رازوں سے باخبر ) ہو گئے ہیں ۔
You who have uttered heart-delighting subtleties, through whose discourse the East knows all mysteries,
شعر را سوز از کجا آید بگوی
از خودی یا از خدا آید بگوی
ذرا یہ تو مجھے بتایئے کہ شعر میں سوز کہاں سے یا کیونکر پیدا ہوتا ہے، یہ بتا کہ آیا وہ خودی سے پیدا ہوتا ہے یا خدا کی طرف سے آتا ہے
Say, whence comes the fire into poetry? Does it come from the Self, or from God?
کس نداند در جهان شاعر کجاست
پرده او از بم و زیر نواست
کوئی نہیں جانتا کہ دنیا میں شاعر کہاں ہے ۔ اسکا راگ نغمہ کے اونچے نچلے سروں کے پردے میں نہاں رہتا ہے ۔
Bartari-Hari None knows where the poet is in this world; his melody springs from the high notes and the low.
آن دل گرمی که دارد در کنار
پیش یزدان هم نمی گیرد قرار
ایسا شاعر جس کے پہلو، سینے میں بے قرار دل ہوتا ہے وہ خدا کے حضور بھی بے قرار رہتا ہے ۔
That burning heart which he has in his breast finds not repose even before God.
جان ما را لذت اندر جستجوست
شعر را سوز از مقام آرزوست
ہماری جان میں لذت جستجو سے پیدا ہوتی ہے اور شعر میں سوز آرزو ہی کے مقام سے پیدا ہوتا ہے ۔
Our soul’s delight is in questing; poetry’s fire is of the station of desire.
ای تو از تاک سخن مست مدام
گر ترا آید میسر این مقام
اے (زندہ رود) تو جو شاعری کی انگور کے شراب سے ہمیشہ مست رہتا ہے ، اگر تجھے آرزو کا یہ مقام حاصل ہو جائے ۔
You who are drunk with wine pressed from the vine of words, if you should ever attain to this rank.
با دو بیتی در جهان سنگ و خشت
می توان بردن دل از حور بهشت
تو اس دنیا میں دو ایک شعروں سے بہشت کے حوروں کے دل چھینے یا جیتے جا سکتے ہیں ۔
With two verses in this world of stone and brick one can ravish the hearts of the houris of Paradise.
Zinda-Rud
هندیان را دیده ام در پیچ و تاب
سر حق وقتست گوئی بی حجاب
میں نے اہل ہند کو بے قرار دیکھا ہے، اب یہ وقت ہے کہ حق تو حق کا راز کھل کر یا واضح طور پر بیان کر دے ۔
I have seen the Indians twisting this way and that; it is time you told the secret of God unveiled.
این خدایان تنک مایه ز سنگ اند و ز خشت
برتری هست که دور است ز دیر و ز کنشت
(اے اہل ہند) تمہارے یہ تنک مایہ خدا (مادی اشیا) پتھر اور اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں ان سے بڑھ کر اور ایک بلند ہستی (خدا) ہے جو دیر و کنشت سے دور ہے ۔
Bartari-Hari These frail gods are but of stone and brick; there is One more lofty, far from temple and church
سجده بی ذوق عمل خشک و بجائی نرسد
زندگانی همه کردار ، چه زیبا و چه زشت
جو سجدہ ذوق عمل کے بغیر ہو گا وہ خشک بھی ہے اور کہیں نہیں پہنچاتا، زندگی سر تا پا کردار ہے خواہ اچھا ہو یا برا ۔
Prostration without the joy of action is dry and useless; life is all action, whether fair or foul.
فاش گویم بتو حرفی که نداند همه کس
ای خوش آن بنده که بر لوح دل او را بنوشت
میں تجھ سے ایک ایسی بات کھل کر کہتا ہوں جسے ہر کوئی نہیں جانتا، وہ بندہ بہت اچھا جس نے یہ بات دل کی تختی پر لکھ لی ۔
I will tell you plainly a word not known to every one – happy is the man who has written it on his heart’s tablet.
این جهانی که تو بینی اثر یزدان نیست
چرخه از تست و هم آن رشته که بر دوک تو رشت
یہ جہان جو تو دیکھ رہا ہے خدا کے اثر سے نہیں ہے ۔ چرخہ تو تیرا ہے اور وہ دھاگا بھی تیرا ہے جو تو نے چرخے کے تکلے پر کاتا ہے ۔ گویا اس دنیا میں جو بھی اچھائی برائی ہے وہ خود انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے ۔
This world you behold is not the handiwork of God, the wheel is yours, and the thread spun on your spindle.
پیش آئین مکافات عمل سجده گزار
زانکه خیزد ز عمل دوزخ و اعراف و بهشت
تو مکافاتِ عمل کے آئین کے آگے سجدہ کر، اس لیے کہ یہ دوزخ اور برزخ اور بہشت سب عمل ہی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ بقول علامہ ، عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
Prostrate yourself before the Law of action’s reward, for from action are born Hell, Purgatory and Paradise.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور