صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 6 - صحبت با شاعر هندی برتری هری

بخش 6 - صحبت با شاعر هندی برتری هری

ہندی شاعر برتری ہری سے ملاقات

Conversation with the Indian Poet Bartari-Hari

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
11

حوریان را در قصور و در خیام

ناله من دعوت سوز تمام

وہاں (بہشت میں ) محلوں اور خیموں میں مقیم حوروں کے لیے میری غزل (جو میں نے وہاں گائی) مکمل سوز کی دعوت بن گئی ۔

The houris in their palaces and pavilions my lament provoked to supreme ardour;

22

آن یکی از خیمه سر بیرون کشید

وان دگر از غرفه رخ بنمود و دید

ان (حوروں ) میں سے ایک نے خیمے سے سر باہر نکالا اور ایک دوسری نے بالاخانہ سے چہرہ نکال کر مجھے دیکھا ۔

One here put forth her head from her tent, another there peeped out from her chamber and gazed;

33

هر دلی را در بهشت جاودان

دادم از درد و غم آن خاکدان

میں نے اس بہشت جاوداں میں رہنے والے ہر دل کو اس خاکدان یعنی ہندوستان کا درد و غم دیا ۔

To every heart in eternal Paradise I gave of the pain and sorrow of yon terrestrial globe.

44

زیر لب خندید پیر پاک زاد

گفت «ای جادو گر هندی نژاد»

پاک فطرت پیر (مولانا رومی) زیر لب مسکرائے اور بولے ، اے ہند میں پیدا ہونے والے جادوگر (زندہ رود) ۔

A smile played on the lips of my holy guide and he said: ‘magician of Indian stock,

55

آن نوا پرداز هندی را نگر

شبنم از فیض نگاه او گهر

تو ذرا اس ہندی شاعر کو دیکھ جس کے فیض نگاہ سے شبنم کا قطرہ موتی بن جاتا ہے ۔

Behold now that Indian minstrel the grace of whose gaze converts the dew to pearls.

66

نکته آرائی که نامش برتری است

فطرت او چون سحاب آذری است

وہ ایک نکتہ سنج ہے جس کا نام برتری ہے، اس کی فطرت بہار کے بادل کی سی ہے ۔

A broiderer of subtleties, his name is Bartari, his nature generous as the clouds of Azar;

77

از چمن جز غنچه نورس نچید

نغمه تو سوی ما او را کشید

اس نے چمن سے نئے نئے کھلے غنچے (نئی کھلی کلیوں ) کے سوا اور کچھ نہیں چنا ۔

From the meadow he plucks only the new-sprung buds. Your melody has drawn him towards us,

88

پادشاهی با نوای ارجمند

هم به فقر اندر مقام او بلند

وہ ایک بادشاہ ہے جو شاعر بھی ہے اور اس کی شاعری قدرومنزلت کی حامل ہے، اور فقیر بھی اس کا مقام و مرتبہ بلند ہے ۔

A king who, with a song sublime, even in poverty dwells in lofty exaltation;

99

نقش خوبی بندد از فکر شگرف

یک جهان معنی نهان اندر دو حرف

وہ اپنے انوکھے اور نادر فکر سے خوبصورت نقش بناتا ہے، اس کے دو یعنی چند لفظوں میں جہان معنی پوشیدہ ہوتا ہے ۔

With his delicate thought he designs images of beauty, a whole world of meaning hidden in two words.

1010

کارگاه زندگی را محرم است

او جم است و شعر او جام جم است‘‘

وہ زندگی کے کارخانے سے باخبر ہے، وہ خود جمشید اور اس کی شاعری جام جم (جمشید کا پیالہ جس میں سے دنیا نظر آتی تھی) ہے ۔

He is intimate with the workshop of life; he is Jamshid, his poetry Jamshid’s Cup.’

1111

ما به تعظیم هنر برخاستیم

باز با وی صحبتی آراستیم

ہم اس کی مذکورہ ، خوبیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ پھر اس کے ساتھ صحبت آراستہ کی ۔

We rose in reverence for his art and prepared suitably to engage with him.

بند 2
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 2
1212

ای که گفتی نکته های دلنواز

مشرق از گفتار تو دانای راز

اے (برتری ہری) کہ تو نے بڑی دل نواز گہری باتیں کی ہیں اور اہل مشرق تیری گفتار سے دانائے راز (رازوں سے باخبر ) ہو گئے ہیں ۔

You who have uttered heart-delighting subtleties, through whose discourse the East knows all mysteries,

1313

شعر را سوز از کجا آید بگوی

از خودی یا از خدا آید بگوی

ذرا یہ تو مجھے بتایئے کہ شعر میں سوز کہاں سے یا کیونکر پیدا ہوتا ہے، یہ بتا کہ آیا وہ خودی سے پیدا ہوتا ہے یا خدا کی طرف سے آتا ہے

Say, whence comes the fire into poetry? Does it come from the Self, or from God?

بند 3
برتری هری
Toggle stanza 3
1414

کس نداند در جهان شاعر کجاست

پرده او از بم و زیر نواست

کوئی نہیں جانتا کہ دنیا میں شاعر کہاں ہے ۔ اسکا راگ نغمہ کے اونچے نچلے سروں کے پردے میں نہاں رہتا ہے ۔

Bartari-Hari None knows where the poet is in this world; his melody springs from the high notes and the low.

1515

آن دل گرمی که دارد در کنار

پیش یزدان هم نمی گیرد قرار

ایسا شاعر جس کے پہلو، سینے میں بے قرار دل ہوتا ہے وہ خدا کے حضور بھی بے قرار رہتا ہے ۔

That burning heart which he has in his breast finds not repose even before God.

1616

جان ما را لذت اندر جستجوست

شعر را سوز از مقام آرزوست

ہماری جان میں لذت جستجو سے پیدا ہوتی ہے اور شعر میں سوز آرزو ہی کے مقام سے پیدا ہوتا ہے ۔

Our soul’s delight is in questing; poetry’s fire is of the station of desire.

1717

ای تو از تاک سخن مست مدام

گر ترا آید میسر این مقام

اے (زندہ رود) تو جو شاعری کی انگور کے شراب سے ہمیشہ مست رہتا ہے ، اگر تجھے آرزو کا یہ مقام حاصل ہو جائے ۔

You who are drunk with wine pressed from the vine of words, if you should ever attain to this rank.

1818

با دو بیتی در جهان سنگ و خشت

می توان بردن دل از حور بهشت

تو اس دنیا میں دو ایک شعروں سے بہشت کے حوروں کے دل چھینے یا جیتے جا سکتے ہیں ۔

With two verses in this world of stone and brick one can ravish the hearts of the houris of Paradise.

بند 4
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 4
1919

هندیان را دیده ام در پیچ و تاب

سر حق وقتست گوئی بی حجاب

میں نے اہل ہند کو بے قرار دیکھا ہے، اب یہ وقت ہے کہ حق تو حق کا راز کھل کر یا واضح طور پر بیان کر دے ۔

I have seen the Indians twisting this way and that; it is time you told the secret of God unveiled.

بند 5
برتری هری
Toggle stanza 5
2020

این خدایان تنک مایه ز سنگ اند و ز خشت

برتری هست که دور است ز دیر و ز کنشت

(اے اہل ہند) تمہارے یہ تنک مایہ خدا (مادی اشیا) پتھر اور اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں ان سے بڑھ کر اور ایک بلند ہستی (خدا) ہے جو دیر و کنشت سے دور ہے ۔

Bartari-Hari These frail gods are but of stone and brick; there is One more lofty, far from temple and church

2121

سجده بی ذوق عمل خشک و بجائی نرسد

زندگانی همه کردار ، چه زیبا و چه زشت

جو سجدہ ذوق عمل کے بغیر ہو گا وہ خشک بھی ہے اور کہیں نہیں پہنچاتا، زندگی سر تا پا کردار ہے خواہ اچھا ہو یا برا ۔

Prostration without the joy of action is dry and useless; life is all action, whether fair or foul.

2222

فاش گویم بتو حرفی که نداند همه کس

ای خوش آن بنده که بر لوح دل او را بنوشت

میں تجھ سے ایک ایسی بات کھل کر کہتا ہوں جسے ہر کوئی نہیں جانتا، وہ بندہ بہت اچھا جس نے یہ بات دل کی تختی پر لکھ لی ۔

I will tell you plainly a word not known to every one – happy is the man who has written it on his heart’s tablet.

2323

این جهانی که تو بینی اثر یزدان نیست

چرخه از تست و هم آن رشته که بر دوک تو رشت

یہ جہان جو تو دیکھ رہا ہے خدا کے اثر سے نہیں ہے ۔ چرخہ تو تیرا ہے اور وہ دھاگا بھی تیرا ہے جو تو نے چرخے کے تکلے پر کاتا ہے ۔ گویا اس دنیا میں جو بھی اچھائی برائی ہے وہ خود انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے ۔

This world you behold is not the handiwork of God, the wheel is yours, and the thread spun on your spindle.

2424

پیش آئین مکافات عمل سجده گزار

زانکه خیزد ز عمل دوزخ و اعراف و بهشت

تو مکافاتِ عمل کے آئین کے آگے سجدہ کر، اس لیے کہ یہ دوزخ اور برزخ اور بہشت سب عمل ہی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ بقول علامہ ، عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Prostrate yourself before the Law of action’s reward, for from action are born Hell, Purgatory and Paradise.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از تو خواهم سر یزدان را کلید

طاعت از ما جست و شیطان آفرید

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 5 - در حضور شاه همدان

اگلی نظم

رفت در جانم صدای برتری

مست بودم از نوای برتری

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 7 - حرکت به کاخ سلاطین مشرق: نادر، ابدالی، سلطان شهید

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور