صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 7 - حرکت به کاخ سلاطین مشرق: نادر، ابدالی، سلطان شهید

بخش 7 - حرکت به کاخ سلاطین مشرق: نادر، ابدالی، سلطان شهید

سلاطین مشرق کے محلات کی طرف روانگی

Departure for the Palace of the Eastern Kings

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
نادر ، ابدالی ، سلطان شهید
Toggle stanza 1
1

رفت در جانم صدای برتری

مست بودم از نوای برتری

بھرتری ہری کی آواز (بات) میری جان (دل) میں اتر گئی ( میں بہت متاثر ہوا) اس کی نوا سے میں مست ہو گیا ۔

The voice of Bartari penetrated into my soul; I was intoxicated with Bartari’s song.

2

گفت رومی «چشم دل بیدار به

پا برون از حلقهٔ افکار نه

رومی بولے دل کی آنکھ بیدار ہی اچھی ہے ۔ تو(زندہ رود) اپنے افکار کے چکر سے باہر نکل ۔

Rumi said: ‘It is better to open your eyes, better to step outside the circle of your thoughts.

3

کرده ئی بر بزم درویشان گذر

یک نظر کاخ سلاطین هم نگر

تو درویشوں کی محفل سے گزر آیا ہے ۔ اب ذرا سلاطین کے محل بھی دیکھ لے ۔

You have passed by the banquet of dervishes; give one glance also at the palace of kings.

4

خسروان مشرق اندر انجمن

سطوت ایران و افغان و دکن

یہاں مشرق کے بادشاہ جو ایران، افغانستا ن اور دکن کا دبدبہ و شان تھے یہاں انجمن آرا ہیں ۔

The sovereigns of the East are here assembled, the might of Iran, Afghanistan and Deccan;

5

نادر آن دانای رمز اتحاد

با مسلمان داد پیغام وداد

یہ نادر ہے جو اتحاد کی رمز سے آگاہ ہے اس نے مسلمانوں کو محبت و دوستی کا پیغام دیا ۔

Nadir, who knew the secret of unity and conveyed to the Moslems the message of love;

6

مرد ابدالی وجودش آیتی

داد افغان را اساس ملتی

یہ احمد شاہ ابدالی ہے جس کا وجود عظمت کا نشان ہے، اس نے افغانیوں کو ایک ملت کی بنیاد سے آگاہ کیا (سب مسلمان متحد ہوں ) ۔

Heroic Abdali, his whole being a sign, who gave the Afghans the foundation of nationhood;

7

آن شهیدان محبت را امام

آبروی هند و چین و روم و شام

یہ محبت کے شہیدوں کا امام ہے، ہند اور چین اور روم و شام کی آبرو ہے (مراد ٹیپو سلطان) ۔

That leader of all the martyrs of love, "Glory of India, China, Turkey and Syria",

8

نامش از خورشید و مه تابنده تر

خاک قبرش از من و تو زنده تر

اس (ٹیپو) کا نام سورج اور چاند سے بھی زیادہ روشن ہے ۔ اس کی قبر کی مٹی مجھ سے اور تجھ سے بھی زیادہ زندہ ہے ۔

Whose name is more resplendent than the sun and the moon, the dust of whose grave is more living than I and you.

9

عشق رازی بود بر صحرا نهاد

تو ندانی جان چه مشتاقانه داد

عشق ایک راز تھا جو اس نے صحرا پر رکھ دیا، یعنی وہ راز عیاں کر دیا ۔ تو نہیں جانتا کہ اس (ٹیپو) نے اپنی جان کس شوق و جذبہ سے قربان کی ۔ انگریزوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا ۔

Love is a mystery, which he revealed in the open plain – do you not know how yearningly he gave his life?

10

از نگاه خواجهٔ بدر و حنین

فقر سلطان وارث جذب حسین

بدرو حنین کے خواجہ یعنی رسول اللہ کی نگاہ کے فیض سے کسی سلطان کا فقر جذب حسین کا ۔

By grace of the gaze of the victor of Badr and Hunain. The poverty of the king became heir to Husain’s ecstasy;

11

رفت سلطان زین سرای هفت روز

نوبت او در دکن باقی هنوز»

سلطان (ٹیپو) اگرچہ اس ہفت روزہ (فانی) دنیا سے چلا گیا ہے لیکن اس کا ڈنکا ابھی تک دکن میں بج رہا ہے ۔

The King departed from this tavern of seven days, yet still to this day his trumpet sounds in Deccan.’

12

حرف و صوتم خام و فکرم ناتمام

کی توان گفتن حدیث آن مقام

میرے الفاظ اور میرا بیان خام اور میری فکر نامکمل ہے، میں اس مقام کی بات کیسے بیان کر سکتا ہوں ۔

My words and voice are immature, my thought imperfect: how can I hope to describe that place?

13

نوریان از جلوه های او بصیر

زنده و دانا و گویا و خبیر،

اس (انجمن سلاطین) کے جلووں سے فرشتے بھی صاحب بصارت ہیں وہ فرشتے اس سے زندہ و دانا اور بولنے والے اور باخبر ہیں ۔

The beings of light from its reflected glory derive vision, vitality, knowledge, speech, awareness;

14

قصری از فیروزه دیوار و درش

آسمان نیلگون اندر برش

وہ ایک ایسا محل ہے جسے در ودیوار فیروزہ سے بنے ہوئے ہیں ۔ نیلا آسمان اسکے پہلو میں ہے ۔

A palace whose walls and gates are of turquoise holding in its bosom the whole azure sky;

15

رفعت او برتر از چند و چگون

می کند اندیشه را خوار و زبون

اس کی رفعت دنیاوی پیمانوں اور اندازوں سے بڑھ کر ہے اسے دیکھ کر سوچ کی حیرت گم ہو جاتی ہے ۔

Soaring beyond the bounds of quantity and quality, it reduces thought to mean impotence.

16

آن گل و سرو و سمن آن شاخسار

از لطافت مثل تصویر بهار

اس محل کے وہ پھول وہ سرود سمن اور وہ شاخسار وہ سب اپنی لطافت کے لحاظ سے بہار کی تصویر ہیں ۔

The roses, the cypresses, the jasmines, the flowering boughs delicate as a picture painted by the hand of spring;

17

هر زمان برگ گل و برگ شجر

دارد از ذوق نمو رنگ دگر

ہر لمحہ پھولوں کی پتیاں اور درختوں کے پتے ظاہر ہونے کے ذوق سے نیا رنگ اختیار کرتے ہیں ۔

The petals of the flowers, the leaves of the trees every moment put on new colours out of the joy of growth;

18

اینقدر باد صبا افسونگر است

تا مژه برهم زنی زرد احمر است

یہاں کی باد صبا کچھ اس قدر جادوگر ہے کہ پلک جھپکنے میں زرد رنگ سرخ رنگ ہو جاتا ہے ۔

Such a spellbinder the zephyr is that as you wink, gold is turned to scarlet;

19

هر طرف فواره ها گوهر فروش

مرغک فردوس زاد اندر خروش

یہاں ہر طرف چشمے موتی لٹا رہے ہیں ۔ اور بہشت میں پیدا شدہ پرندے خوب چہچہا رہے ہیں ۔

On every side pearl-scattering fountains, birds born of Paradise in clamant song.

20

بارگاهی اندر آن کاخی بلند

ذره او آفتاب اندر کمند

اس بلند محل کے اندر ایک ایسی بارگاہ ہے جس کے ذرے کی کمند میں آفتاب آیا ہوا ہے ۔

Within that lofty palace was a chamber whose motes held the sun in a lasso;

21

سقف و دیوار و اساطین از عقیق

فرش او از یشم و پرچین از عقیق

اس محل کی چھتیں اور دیواریں اور ستون سب عقیق سے بنے ہوئے ہیں ۔ اس کے فرش ریشم کے اور ان فرشتوں کے حاشیے بھی عقیق کے ہیں ۔

The roof, walls and columns were of red agate, the floor of jasper, enclosed in carnation.

22

بر یمین و بر یسار آن وثاق

حوریان صف بسته با زرین نطاق

اس گھر کے دائیں بائیں حوریں زریں کمر بندوں کے ساتھ قطار قطار کھڑی ہیں ۔

To the right and left of that lodge houris with golden girdles stood in ranks,

23

در میان بنشسته بر اورنگ زر

خسروان جم حشم بهرام فر

انکے درمیان سونے کے تخت پر وہ بادشاہ بیٹھے ہوئے تھے جو جادہ و حشمت میں جمشید کی طرح اور فرد فال میں بہرام گور کی مانند تھے ۔

And in the midst, seated on thrones of gold, sovereigns stately as Jamshid, splendid as Bahram.

24

رومی آن آئینهٔ حسن ادب

با کمال دلبری بگشاد لب

رومی نے جو حسن ادب کا آئینہ ہے بڑی ہی دلبری کے انداز میں ہونٹ کھولے،یعنی بولے ۔

Rumi, that mirror of perfect refinement, with utmost affection opened his lips.

25

گفت «مردی شاعری از خاور است

شاعری یا ساحری از خاور است

اور کہا کہ یہ (زندہ رود) سرزمین مشرق کا ایک مرد شاعر ہے ۔ وہ کوئی شاعر ہے یا مشرق کا ساحر ہے یعنی میں اسے شاعر کہو ں یا ساحر (علامہ کے باعظمت شاعری کی طرف اشارہ ہے ) ۔

Saying, ‘Here is a poet from the East – either a poet, or an eastern magician;

26

فکر او باریک و جانش دردمند

شعر او در خاوران سوزی فکند»

اس کی فکر لطیف اور اس کی جان دردمند ہے ۔ اس کے اشعار نے مشرق کے لوگوں کے دلوں میں سوز پیدا کر دیا ہے ۔

His thoughts are acute, his soul impassioned; his verses have kindled a fire in all the East’.

بند 2
نادر

Nadir

Toggle stanza 2
27

خوش بیا ای نکته سنج خاوری

ای که می زیبد ترا حرف دری

اے مشرق کے نکتہ دان خوش آمدید، اے کہ تجھے فارسی زبان ( میں شعر گوئی) زیب دیتی ہے ۔

Welcome to you, eastern weaver of subtleties whose lips the Persian speech so well beseems!

28

محرم رازیم با ما راز گوی

آنچه میدانی ز ایران باز گوی

ہم دونوں راز سے آگاہ ہیں تو جو کچھ ایران کے بارے میں جانتا ہے وہ بیان کر ۔

We are your intimate friends; tell us your secret, reveal what you know of Iran.

بند 3
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
29

بعد مدت چشم خود بر خود گشاد

لیکن اندر حلقهٔ دامی فتاد

ایران نے بڑی مدت کے بعد اپنی آنکھیں خود پر کھولیں لیکن پھر وہ ایک جال کے پھندے میں پھنس گیا ۔

After long ages she opened her eyes on herself, but then she fell into the snare of a trap,

30

کشتهٔ ناز بتان شوخ و شنگ

خالق تهذیب و تقلید فرنگ

وہ یورپی شوخ و سنگ حسینوں کے ناز و ادا پر مرتا ہے (ان پر فریفتہ ہے) وہ خود ایک تہذیب کا خالق ہے لیکن انگریزوں کی پیروی میں لگا ہوا ہے ۔

Slain by the charm of bold and elegant idols, creator of culture-and slavish imitation of Europe.

31

کار آن وارفتهٔ ملک و نسب

ذکر شاپور است و تحقیر عرب

اس ملک و نسب کے فریفتہ ایران کا اب یہی کام ہے کہ وہ ایران کے قدیم کافر بادشاہ شاہ پور کا ذکر تو فخر و ناز سے کرتا ہے لیکن اہل عرب کی تحقیر کرتا ہے ۔

Lost in the cult of ‘rulership’ and ‘race’, she acclaims the glory of Shapur, and despises the Arabs;

32

روزگار او تهی از واردات

از قبور کهنه می جوید حیات

اس کی زندگی واردات (نئے مشاہدات) سے خالی ہے اور وہ پرانی قبروں سے زندگی تلاش کرتا ہے ۔ پرانی قبروں سے مراد ایران کی قدیم کافرانہ تہذیب و ثقافت ہے ۔

Her day today being empty of new achievements she seeks for life in ancient sepulchres.

33

با وطن پیوست و از خود در گذشت

دل به رستم داد و از حیدر گذشت

اس نے وطن پرستی اختیار کر لی اور خود سے گزر گیا (اپنے آپ کو نظر انداز کر دیا ) ۔ اس نے رستم کو تو دل دے دیا لیکن حضرت علی حیدر کرار کو چھوڑ چکا ہے ۔

Wedded to the ‘fatherland’, having abandoned her self she has given her heart to Rustam, and turned from Haidar.

34

نقش باطل می پذیرد از فرنگ

سر گذشت خود بگیرد از فرنگ

وہ فرنگ (یورپ) سے باطل نقش قبول کر رہا ہے اور اپنی داستان بھی اسی سے لے رہا ہے ۔

She is accepting a false image from Europe; she takes the version of her history from Europe.

35

پیری ایران زمان یزد جرد

چهرهٔ او بی فروغ از خون سرد

یزد جرد (اسلامی دور سے پہلے کے آخری بادشاہ) کے زمانے میں ایران پر بڑھاپا چھایا ہوا تھا اورا س کا چہرہ خون سرد کی وجہ سے بے رونق ہو چکا تھا ۔

Iran was aged already in the time of Yazdajird, her cheeks were lack-lustre, her blood was cold.

36

دین و آئین و نظام او کهن

شید و تار صبح و شام او کهن

اس کا دین و آئین اور نظام سب پرانے ہیں ۔ اس کی صبح کی روشنی اور رات کی تاریکی بھی پرانی ہے ۔

Ancient her religion, her laws, her system, ancient the light and dark of her dawn and eve;

37

موج می در شیشهٔ تاکش نبود

یک شرر در تودهٔ خاکش نبود

اس کی تاک کی صراحی میں شراب کی لہریں نہ تھیں اور اس کے خاک کے ڈھیر میں ایک چنگاری بھی نہ تھی ۔

In her vine’s flask no wine foamed, no spark glowed in her heap of dust;

38

تا ز صحرائی رسیدش محشری

آنکه داد او را حیات دیگری

یہاں تک کہ صحرائے عرب سے وہاں (ایران) ایک ہنگامہ برپا ہوا جس نے انہیں ایک نئی زندگی عطا کی ۔

Till from the desert a resurrection came to her which endowed her with new life.

39

اینچین حشر از عنایات خداست

پارس باقی ، رومةالکبری کجاست

اس قسم کا حشر خدا کی عنایات میں سے ہے کہ فارس (ایران) تو اب تک باقی ہے لیکن رومتہ الکبریٰ اب کہاں ہے (نہیں ہے) گویا اسلام کے باعث ایران زندہ ہے لیکن رومن سلطنت اسلام قبول نہ کرنے سے فنا ہو گئی ۔

Such a resurrection is a grace of God: Persia lives on-where is Rome the mighty?

40

آنکه رفت از پیکر او جان پاک

بی قیامت بر نمی آید ز خاک

وہ کہ جس کے جسم سے پاک جان نکل گئی یا نکل جاتی ہے تو وہ پھر قیامت برپا ہونے سے پہلے قبر سے نہیں اٹھتا ۔

He from whose body the pure spirit has departed cannot rise from the dust without a resurrection.

41

مرد صحرائی به ایران جان دمید

باز سوی ریگزار خود رمید

عرب کے صحرا نشین مردوں نے ایران میں ایک نئی روح پھونکی، اس کے بعد وہ پھر اپنے ریگستان کو لوٹ گئے ۔

The desert-dwellers breathed life into Iran and then sped back to their sandy wastes;

42

کهنه را از لوح ما بسترد و رفت

برگ و ساز عصر نو آورد و رفت

انھوں (عربوں ) نے ہماری زندگی کی تختی سے پرانی تحریر مٹا دی اور لوٹ گئے ۔ وہ ایران کے لیے نئے دور کا سازوسامان لائے اور چلے گئے ۔

They erased from our tablet all that was old, and departed; they brought the apparatus of a new age, and departed.

43

آه ، احسان عرب نشناحتند

از تش افرنگیان بگداختند

افسوس کہ ایرانیوں نے عرب کے احسان کو نہ پہچانا اور فرنگیوں (انگریزوں ) کی آگ میں پگھل کر رہ گئے ۔

Alas, Iran has not recognized the benefaction of the Arabs; she has melted away in Europe’s fire.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

حوریان را در قصور و در خیام

ناله من دعوت سوز تمام

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 6 - صحبت با شاعر هندی برتری هری

اگلی نظم

«دست را چون مرکب تیغ و قلم کردی مدار

هیچ غم گر مرکب تن لنگ باشد یا عرن

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 8 - نمودار می‌شود روح ناصر خسرو علوی و غزلی مستانه سرائیده غائب می‌شود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور