صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 8 - نمودار می‌شود روح ناصر خسرو علوی و غزلی مستانه سرائیده غائب می‌شود

بخش 8 - نمودار می‌شود روح ناصر خسرو علوی و غزلی مستانه سرائیده غائب می‌شود

ناصر خسرو علوی کی روح ظاہر ہوتی ہے اور مستانہ وار غزل گا کر غائب ہوجاتی ہے

The Spirit of Nasir-i Khusrau Alavi Appears, Sings an Inebriated Ghazal, and Vanishes

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
11

«دست را چون مرکب تیغ و قلم کردی مدار

هیچ غم گر مرکب تن لنگ باشد یا عرن

جب تو نے اپنے ہاتھ کو تلوار اور قلم کے گھوڑوں کا سوار بنا لیا ہے تو پھر اگر تیرے جسم کا گھوڑا لنگڑا ہے یا عرن کا شکار ہے تو تو کوئی غم نہ کرے ۔

Once you have taken the sword in your hand and grasped the pen do not grieve if your body’s steed be lame or halt:

22

از سر شمشیر و از نوک قلم زاید هنر

ای برادر، همچو نور از نار و نار از نارون

شمشیر کی نوک اور قلم کی نوک ہی سے ہنر پیدا ہوتا ہے اور اے بھائی (ہنر اس طرح پیدا ہوتا ہے ) جس طرح آگ روشی اور نارون کی لکڑی سے آگ پیدا ہوتی ہے ۔

Virtue is born of the edge of the sword, and the point of the pen, my brother, as light from fire, and fire from narvan-tree.

33

بی‌هنر دان نزد بی‌دین هم قلم هم تیغ را

چون نباشد دین، نباشد کلک و آهن را ثمن

اگر کسی بے دین کے ہاتھ میں قلم اور تلوار آ جائے تو تو اسے بے ہنری سمجھ، اس لیے کہ جب دین ہی نہیں ہے تو پھر نہ تو قلم ہی کی کوئی قدر و قیمت ہے اور نہ لوہے ہی کی کوئی قیمت ہے ۔

Know, that to the faithless, both sword and pen are without virtue; when faith is not; reed and steel have no worth.

44

دین گرامی شد به دانا و به نادان خوار گشت

پیش نادان دین چو پیش گاو باشد یاسمن

دین کو عظمت و عزت دانا آدمی کو ملی جبکہ نادان انسان اس کی ذلت و خواری کا باعث بنا ۔ نادان کے سامنے دین کی کچھ ایسی ہی صورت ہے جیسے گائے کے آگے چنبیلی کی ۔ (گھاس پھوس کھانے والی گائے کو چنبیلی کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے) ۔

Faith is precious to the wise, and to the ignorant it is contemptible; before the ignorant, faith is like jasmine before a cow.

55

همچو کرپاسی که از یک نیمه زو الیاس را

کرته آید، زو دگر نیمه یهودی را کفن»

اس قدرر کے کپڑے کی طرح جس کے نصف سے حضرت الیاس کا کرتہ بنتا ہے اور دوسرے نصف سے یہودی کا کفن بنتا ہے ۔

Faith is like fine linen, of which one half makes a shirt for Elias, and the other half a shroud for a Jew.

بند 2
ابدالی

Abdali

Toggle stanza 2
66

آن جوان کو سلطنت‌ها آفرید

باز در کوه و قفار خود رمید

وہ افغانی جوان جس نے کئی سلطنتیں پیدا کیں (وجود میں لایا) پھر وہ پہاڑ اور بے آب و گیاہ بیابانوں کی طرف واپس چلا گیا ۔

That youth who created dominions, then fled back to his mountains and deserts,

77

آتشی در کوهسارش بر فروخت

خوش‌عیار آمد برون یا پاک سوخت

اس نے اپنے پہاڑ میں آگ بھڑکائی تھی ۔ تو (زندہ رود) مجھے یہ بتا کہ اس میں سے وہ زمانے کی میعار ، پرکھ پر پورا اترا اور باہر آیا ہے یا اسی میں جل کے رہ گیا ہے ۔

Kindled a fire on his mountain-peaks - did he emerge of fine assay, or was he utterly consumed?

بند 3
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
88

امّتان اندر اخوّت گرم‌خیز

او برادر با برادر، در ستیز

دنیا کی دوسری قو میں بھائی چارے میں سرگرم ہیں جبکہ افغانی بھائی، بھائی سے لڑ رہا ہے ۔

Whilst other nations are eager in brotherhood, with him brother is at war against brother.

99

از حیات او حیات خاور است

طفلک ده ساله اش لشکرگر است

ان کی زندگی ہی سے مشرق کی زندگی ہے، اس کا تو دس سالہ بچہ بھی (لشکر کی قیادت کر سکتا ہے) جنگجو ہے ۔

From his life the life of the whole East derives; his ten-year-old child is a leader of armies.

1010

بی‌خبر خود را ز خود پرداخته

ممکنات خویش را نشناخته

خود سے بے خبر اس افغانی نے خود کو کھو دیا ہے اور اس نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں ۔

Yet ignorantly he has broken himself from himself, not recognizing his own potentialities.

1111

هست دارای دل و غافل ز دل

تن ز تن اندر فراق و دل ز دل

وہ دل رکھتا ہے یعنی صاحب دل تو ہے لیکن دل سے غافل ہے ۔ گویا افغانی افراد کے جسم، جسم سے اور دل دل سےجدا ہیں ۔

He possesses a heart, and is unaware of that heart; body is parted from body, heart from heart;

1212

مرد رهرو را به منزل راه نیست

از مقاصد جان او آگاه نیست

اس مسافر کو منزل تک کا راستہ نہیں ملتا، وہ اپنی جان حقیقی زندگی کے مقاصد سے آگاہ نہیں ہے ۔

A traveller, he has lost the road to the good, his soul is unconscious of its true purposes.

1313

خوش‌ سرود آن شاعر افغان‌شناس

آنکه بیند باز گوید بی‌هراس

اس افغان شناس یعنی افغانیوں کی ذہنیت سے آگاہ شاعر نے جو کچھ بھی دیکھتا ہے وہ بے خوف و خطر کہہ ڈالتا ہے، بڑی اچھی بات کی ہے (شاعر سے مراد خوش حال خان خٹک ہے) ۔

Finely sang that poet familiar with Afghan, who proclaimed fearlessly what he saw,

1414

آن حکیم ملت افغانیان

آن طبیب علت افغانیان

وہ (خٹک) افغانی قوم کا دانشمند حکیم بھی ہے اور اس کی بیماری کا معالج بھی ہے ۔

That sage of the Afghan nation, that physician of the sickness of the Afghans;

1515

راز قومی دید و بی‌باکانه گفت

حرف حق با شوخی رندانه گفت

اس (خٹک) نے قوم کا راز دیکھا اور اسے بیباکی کے ساتھ بیان کر دیا ۔ اس نے سچی بات رندانہ شوخی سے کہہ ڈالی ۔ (وہ بات یہ ہے کہ) ۔

He saw the people’s secret, and boldly uttered the word of truth with a drunkard’s recklessness:

1616

«اشتری یابد اگر افغانِ حر

با یراق و ساز و با انبار دُر

اگر ایک آزاد افغان کو کوئی اونٹ مل جائے جس پر قیمتی سامان، ساز اور موتیوں کا ڈھیر ہو ۔

‘If a free Afghan should find a camel richly caparisoned and loaded with pearls,

1717

همت دونش از آن انبارِ دُر

می‌شود خوشنود با زنگ شتر»

تو اس کی پست ہمتی کچھ ایسی ہے کہ وہ موتیوں کے اس ڈھیر میں سے اونٹ کی گھنٹی ہی سے خوش ہو جائے گا ۔

His mean spirit, with all that load of pearls, is only delighted with the camel \-bell.’

بند 4
ابدالی

Abdali

Toggle stanza 4
1818

در نهاد ما تب و تاب از دل است

خاک را بیداری و خواب از دل است

ہماری فطرت میں جو تب و تاب ہے وہ دل کی وجہ سے ہے ۔ انسان کے جسم کی بیداری بھی، نیند بھی دل کے بیدار ہونے یا نیند میں ہونے ہی کی وجہ سے ہے

In our nature, fever and ardour spring from the heart; waking and slumber possess the body from the heart.

1919

تن ز مرگِ دل دگرگون می شود

در مساماتش عرق خون میشود

جسم، دل کی موت سے بدل جاتا ہے (اس کی حالت بدل جاتی ہے) اس کے مسامات میں پسینہ خون بن جاتا ہے ۔

When the heart dies, the body is transformed: when the heart vies for glory, the sweat turns to blood.

2020

از فساد دل بدن هیچ است هیچ

دیده بر دل بند و جز بر دل مپیچ

دل کے بگاڑ کے باعث جسم بیکار ہے، بیکار ہے ۔ لہذا تو آنکھیں دل پر جما اور دل کے سوا اور کسی چیز پر نہ لپٹ ۔ (تمام توجہ دل کی طرف کر ) ۔ علامہ ہی کے بقول دل مردہ نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارا

The body is nothing, nothing, when the heart is corrupt; so fix your eyes on the heart, and be attached to naught else.

2121

آسیا یک پیکر آب و گل است

ملت افغان در آن پیکر دل است

ایشیا مٹی اور پانی کا ایک جسم ہے اور ملت افغان اس جسم میں ایک دل ہے ۔

Asia is a form cast of water and clay; in that form the Afghan nation is the heart;

2222

از فساد او فساد آسیا

در گشاد او گشاد آسیا

اس قوم کے بگاڑ، فساد سے ایشیا کا بگاڑ ہے اور اس کی خوشحالی ایشیا کی خوشحالی ہے

If it is corrupt, all Asia is corrupt, if it is dilated, all Asia is dilated.

2323

تا دل آزاد است، آزاد است تن

ورنه کاهی در ره باد است تن

جب تک دل آزاد ہے جسم بھی آزاد رہے گا ورنہ جسم کی حیثیت اس تنکے کی سی ہے جو ہوا کے راستے میں پڑا ہو (ہوا اسے اڑا کر لے جاتی ہے ) ۔

So long as the heart is free, the body is free; else, the body is a straw in the path of the wind.

2424

همچو تن پابند آئین است دل

مرده از کین زنده از دین است دل

جسم کی طرح دل بھی آئین کا پابند ہے ۔ بغض و کینہ سے دل مر جاتا ہے اور دین سے دل زندہ ہوتا ہے ۔

Like the body, the heart too is bound by laws – the heart dies of hatred, lives of faith.

2525

قوّت دین از مقام وحدت است

وحدت ار مشهود گردد ملت است

دین کی قوت مقام وحدت سے ہے ۔ اگر وحدت وجود میں آ جائے تو وہ ملت بن جاتی ہے ۔

The power of faith derives from unity; when unity becomes visible, it is a nation.

2626

شرق را از خود برد تقلیدِ غرب

باید این اقوام را تنقیدِ غرب

مشرق نے مغرب کی پیروی کر کے خود کو بھلا دیا ہے ۔ حالانکہ مشرقی قوموں کو مغرب پر تنقید کرنی چاہیے تھی ۔

Imitation of the West seduces the East from itself; these peoples have need to criticize the West.

2727

قوّت مغرب نه از چنگ و رباب

نی ز رقص دختران بی‌حجاب

یورپ والوں کی قوت بینڈ باجے اور گانے بجانے سے نہیں ہے اور نہ اس قوت کا باعث وہاں کی بے پردہ لڑکیوں کا رقص ہے ۔

The power of the West comes not from lute and rebeck, not from the dancing of unveiled girls,

2828

نی ز سحر ساحران لاله‌روست

نی ز عریان ساق و نی از قطع موست

نہ یہ سرخ چہرہ محبوبوں کے جادو کی وجہ سے ہے اور نہ ان حسینوں کی ننگی پنڈلیوں اور کٹی ہوئی زلفیں ہیں ۔

Not from the magic of tulip-cheeked enchantresses, not from naked legs and bobbed hair;

2929

محکمی او را نه از لادینی است

نی فروغش از خط لاتینی است

اس کا استحال (قوت) لادینی کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ اس کی ترقی لاطینی رسم الخط کے باعث ہے ۔

Its solidity springs not from irreligion; its glory derives not from the Latin script.

3030

قوّت افرنگ از علم و فن است

از همین آتش چراغش روشن است

یورپ والوں کی قوت کا باعث ان کا علم و فن ہے اور ان کا چراغ اسی آگ سے روشن ہے ۔

The power of the West comes from science and technology, and with that selfsame flame its lamp is bright.

3131

حکمت از قطع و برید جامه نیست

مانع علم و هنر عمامه نیست

ان کی حکمت، لباس کی شکل و صورت اور انداز کے سبب نہیں اور پگڑی علم و ہنر کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے ۔

Wisdom derives not from the cut and trim of clothes; the turban is no impediment to science and technology.

3232

علم و فن را ای جوان شوخ و شنگ

مغز می‌باید نه ملبوس فرنگ

اے ناز و ادا والے جوان علم و ہنر کے لیے مغز چاہیے نہ کہ انگریزوں کا لباس کہ ہمارے ہیں ۔

For science and technology, elegant young sprig, brains are necessary, not European clothes;

3333

اندرین ره جز نگه مطلوب نیست

این کله یا آن کله مطلوب نیست

اس راہ (حصول علم و ہنر) میں صرف نگاہ کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے اس ٹوپی یا اس ٹوپی کی ضرورت نہیں ہے ۔

On this road only keen sight is required, what is needed is not this or that kind of hat.

3434

فکر چالاکی اگر داری بس است

طبع درّاکی اگر داری بس است

اگر تیری فکر باسلیقہ و با ہنر ہے تو کافی ہے اور اگر تیری طبیعت تیز عقل والی ہے تو (حصول علم وہنر کے لیے) کافی ہے ۔

If you have a nimble intellect, that is sufficient; if you have a perceptive mind, that is sufficient.

3535

گر کسی شب‌ها خورد دود چراغ

گیرد از علم و فن و حکمت سراغ

جب کوئی (شخص) کئی راتیں چراغ کا دھواں کھاتا ہے تو وہ علم و ہنر اور حکمت کا سراغ پا لیتا ہے ۔

If anyone burns the midnight oil he will find the track of science and technology.

3636

مُلک معنی کس حد او را نبست

بی‌جهاد پی همی ناید بدست

علم و حکمت کی سلطنت کی کوئی بھی حد بندی نہیں کر سکا ۔ یہ مسلسل جہاد کے بغیر ہاتھ نہیں آتی ۔

None has fixed the bounds of the realm of meaning which is not attained without incessant effort.

3737

تُرک از خود رفته و مست فرنگ

زهر نوشین خورده از دست فرنگ

ترک خود کو بھول چکے ہیں اور اہل یورپ کی شراب میں مست ہیں ۔ انھوں نے فرنگیوں کے ہاتھ سے میٹھا زہر کھایا ہے یعنی زہر پی لیا ہے ۔

The Turks have departed from their own selves, drunk with Europe, having quaffed honeyed poison from the hand of Europe;

3838

زانکه تریاق عراق از دست داد

من چه گویم جز خدایش یار باد

چونکہ انھوں نے عراق کا تریاق ہاتھ سے دے دیا ہے اس لیے اب ان کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا سکتا ہوں کہ خدا ہی ان کا دوست یعنی محافظ ہو ۔

Of those who have abandoned the antidote of Iraq what shall I say, except ‘God help them’?

3939

بندهٔ افرنگ از ذوق نمود

می‌برد از غربیان رقص و سرود

فرنگ، یورپ کاغلام اپنی بے جا نمود کے لیے اہل مغرب سے رقص و سرود لے لیا ہے ۔

The slave of Europe, eager to show off, borrows from the Westerners their music and dances;

4040

نقد جان خویش در بازد به لهو

علم دشوار است، می‌سازد به لهو

انھوں نے اپنی جان کی نقدی کھیل میں ہار دی ہے ۔ چونکہ علم مشکل ہے اس لیے اس نے لہو و لعب ہی سے موافقت کر لی ہے ۔

He gambles away his precious soul for frivolity – science is a hard quest, so he makes do with fun.

4141

از تن‌آسانی بگیرد سهل را

فطرت او در پذیرد سهل را

وہ اپنی تن آسانی کے سبب آسان چیز کو اپنا لیتا ہے ۔ اس کی فطرت آسان ہی کو قبول کر لیتی ہے ۔ (وہ علم و حکمت کے بجائے کھیل تماشے میں مست ہے ) ۔

Being slothful, he takes the easy way; his nature readily accepts the easy alternative.

4242

سهل را جستن درین دیر کهن

این دلیل آنکه جان رفت از بدن

اس پرانی دنیا میں آسانی تلاش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جان بدن سے نکل چکی ہے ۔

To seek for ease in this ancient convent proves that the soul has gone out of the body.

بند 5
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 5
4343

می‌شناسی چیست تهذیب فرنگ

در جهان او دو صد فردوس رنگ

کیا تجھے علم ہے کہ فرنگی تہذیب کیا ہےاس کی دنیا میں رنگوں کی دو سو جنتیں ہیں ۔

Do you know what European culture is? In its world are two hundred paradises of colour;

4444

جلوه‌هایش خانمان‌ها سوخته

شاخ و برگ و آشیان‌ها سوخته

اس تہذیب کے جلووں نے کئی خاندان جلا ڈالے ہیں (انسانیت کے باغ کی) کئی شاخیں اور پتے اور آشیانے جلا ڈالے ہیں ۔

Its dazzling shows have burned down abodes, consumed with fire branch, leaf and nest.

4545

ظاهرش تابنده و گیرنده‌ایست

دل ضعیف است و نگه را بنده‌ایست

اس تہذیب فرنگ کا ظاہر تو چمکدار اور دلفریب ہے ۔ اس تہذیب کو دیکھنے والے کا دل کمزور ہو جاتا ہے ۔ اور وہ نگاہ کا غلام بن جاتا ہے ۔

Its exterior is shining and captivating but its heart is weak, a slave to the gaze;

4646

چشم بیند دل بلغزد اندرون

پیش این بتخانه افتد سرنگون

آنکھ (ان جلووں کو ) دیکھتی ہے اور دل سینے میں لرزتا ہے وہ اس بت خانے کے آگے سر نگوں ہو جاتا ہے ۔

The eye beholds, the heart staggers within and falls headlong before this idol-temple.

4747

کس نداند شرق را تقدیر چیست

دل به ظاهر بسته را تدبیر چیست

کوئی جانتا نہیں کہ مشرق کی تقدیر کیا ہے ۔ اس ظاہر پر دل لگانے والے کی تدبیر کیا یعنی بچنے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے ۔

No man knows what the East’s destiny may be; what is to be done with the heart bound to the exterior?

بند 6
ابدالی

Abdali

Toggle stanza 6
4848

آنچه بر تقدیر مشرق قادر است

حِزم و حَزم پهلوی و نادر است

مشرق کی تقدیر بدلنے پر جس کو قدرت حاصل ہے وہ (ایران کے بادشاہ) رضا شاہ پہلوی اور (افغانستان کے بادشاہ) نادر شاہ کا ارادہ اور تدبر ہے ۔

What is able to control the East’s destiny is the unbending resolve of Pahlavi and Nadir:

4949

پهلوی آن وارث تخت قباد

ناخن او عقدهٔ ایران گشاد

پہلوی ایران کے قدیم بادشاہ قباد کے تخت کا وارث ہے ۔ جس کے ناخنوں نے ایران کی گرہ کو کھولا ۔

Pahlavi, that heir to the throne of Qubad whose nail has resolved the knot of Iran,

5050

نادر آن سرمایهٔ دُرّانیان

آن نظام ملت افغانیان

نادر جو درانیوں کا سرمایہ ہے ، اس نے ملت اسلامیہ کا نظام قائم کیا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

And Nadir, that sum-capital of the Durranis who has given order to the Afghan nation.

5151

از غم دین و وطن زار و زبون

لشکرش از کوهسار آمد برون

وہ نادر شاہ دین اور وطن کے غم میں نڈھال ہے ۔ اس کا لشکر اس کے پہاڑوں سے باہر آیا ۔

Distressed on account of the Faith and Fatherland his armies came forth from the mountains:

5252

هم سپاهی هم سپه‌گر هم امیر

با عدو فولاد و با یاران حریر

وہ (نادر شاہ) سپاہی بھی ہے ، سپاہ گر ہے اور سالار بھی ہے ۔ وہ دشمنوں کے لیے فولاد کی طرح سخت جب کہ دوستوں اپنوں کے ساتھ ریشم کی طرح نرم ۔

At once soldier, officer and Emir; steel with his enemies, silk with his friends;

5353

من فدای آنکه خود را دیده است

عصر حاضر را نکو سنجیده است

میں اس پر قربان جاوَں جس نے خود کو دیکھ لیا ہے اور عصر حاضر کو صحیح طرح جا نچا پرکھا ہے ۔ جو اپنی مخفی صلاحیتوں اور قوتوں سے آگاہ ہے اور عصر حاضر کی روح کو بھی پہچان لیا ہے ۔

Let me be ransom for him who has seen his self and has weighed well the present age!

5454

غربیان را شیوه‌های ساحری‌ست

تکیه جز بر خویش کردن کافری‌ست

اہل مغرب کے طور طریقے جادوگروں کے سے ہیں ۔ اپنے سوا کسی اور پر بھروسا کرنا کافری ہے ۔

The Westerners can have their magic tricks; to rely on other than oneself is infidelity.

بند 7
سلطان شهید

Abdali

Toggle stanza 7
5555

باز گو از هند و از هندوستان

آنکه با کاهش نیرزد بوستان

(اے زندہ رود) تو ہندو اور ہندوستان کے بارے میں کچھ کہہ ، وہ ہندوستان جس کے ایک تنکے کے برابر بھی بوستان کی قدروقیمت نہیں ہے (دنیا کا عظیم ملک ہے) ۔

The Martyr – King Speak again of the Indians and of India – one blade of her grass no garden can outmatch;

5656

آنکه اندر مسجدش هنگامه مرد

آنکه اندر دیر او آتش فسرد

اب اس کی مسجدوں میں مومنانہ ہنگامے مٹ چکے ہیں ۔ اور اس کے مندروں میں آگ بجھ گئی ہے ۔

Speak of her in whose mosques the tumult has died, of her in whose temples the fire is quenched,

5757

آنکه دل از بهر او خون کرده‌ایم

آنکه یادش را به جان پرورده‌ایم

وہ ہندوستان جس کے لیے ہم نے اپنا دل خون کر لیا ہے، وہ ہندوستان جس کی یاد کو ہم نے اپنے دل میں پالا پوسا ہے ۔

Of her for whose sake I gave my blood, whose memory I have nursed in my soul.

5858

از غم ما کن غم او را قیاس

آه از آن معشوقِ عاشق‌ناشناس

تو (زندہ رود) ہمارے غم ہی سے اس (ہندوستان) کے غم کا اندازہ کر کے ۔ اس عاشق کو نہ پہچاننے والے معشوق پر افسوس ہے ۔

From my grief you may guess at her grief; alas, for the beloved who knows no more the lover!

بند 8
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 8
5959

هندیان منکر ز قانون فرنگ

در نگیرد سحر و افسون فرنگ

اہل ہند فرنگی قانون کے منکر ہو گئے ہیں ۔ اب فرنگ کا سحر و جادو ان پر اثر نہیں کر رہا ۔

The Indians reject the statutes of Europe; they are immune to Europe’s magic charms;

6060

روح را بار گران آئین غیر

گرچه آید ز آسمان آئین غیر

غیروں کا آئین روح کے لیے بھاری بوجھ ہے ، اگرچہ غیر کا آئین آسمان ہی سے کیوں نہ آیا ہو ۔

Alien laws are a heavy burden on the soul even though they descend from heaven itself.

بند 9
سلطان شهید

Zinda-Rud

Toggle stanza 9
6161

چون بروید آدم از مشت گلی

با دلی، با آرزوی در دلی

جب آدمی مٹی سے تخلیق ہوتا ہے تو اس کا وجود ایک دل کا حامل ہوتا ہے ۔ اور دل میں ایک آرزو پیدا ہوتی ہے ۔

The Martyr – King How man grows from a handful of dust with a heart, and with desire in that heart!

6262

لذت عصیان چشیدن کار اوست

غیر خود چیزی ندیدن کار اوست

گناہوں کی لذت چکھنا اس کا کام ہے ۔ اپنے سوا کسی اور کو نہ دیکھنا اس کا کام ہے ۔

His concern is to taste the delight of rebellion, not to behold anything but himself;

6363

زانکه بی‌عصیان خودی ناید به دست

تا خودی ناید به دست، آید شکست

کیونکہ گناہ کے بغیر خودی ہاتھ نہیں آتی اور جب تک خودی ہاتھ نہ آئے تو آدمی کے ہاتھ میں صرف شکست ہی آتی ہے ۔

For without rebellion the self is unattainable, and while the self is not attained, defeat is inevitable.

6464

زائر شهر و دیارم بوده‌ای

چشم خود را بر مزارم سوده‌ای

تو (زندہ رود) نے میرے شہر اور دیار، مزار کی زیارت کی ہے اور اپنی آنکھوں کو میرے مزار پر عقیدت کے طور پر ملا بھی ہے ۔

You have visited my city and my land; you have rubbed your eyes upon my tomb;

6565

ای شناسای حدود کائنات

در دکن دیدی ز آثار حیات

تو حدود کائنات کا شناسا ہے ؛ کیا تو نے دکن میں زندگی کے اثار دیکھے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

You who know the limits of all creation, in Deccan have you seen any trace of life?

بند 10
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 10
6666

تخم اشکی ریختم اندر دکن

لاله‌ها روید ز خاک آن چمن

میں نے دکن میں اپنی آنکھوں سے آنسووں کے بیج بو دیے ہیں اب اس چمن کی مٹی سے لالہ کے پھول اگتے ہیں ۔

I scattered the seeds of my tears in Deccan; tulips are growing from the soil of that garden;

6767

رود کاویری مدام اندر سفر

دیده‌ام در جان او شوری دگر

دریائے کاویری جو ہر وقت سفر میں ہے ، رواں ہے، میں نے اس کی جان میں ایک نیا شور دیکھا ہے ۔

The river Cauvery unceasing on its journey - in its soul I have beheld a new commotion.

بند 11
سلطان شهید

Zinda-Rud

Toggle stanza 11
6868

ای تو را دادند حرف دلفروز

از تپ اشک تو می‌سوزم هنوز

اے (زندہ رود) تجھے قدرت کی طرف سے دل کو روشن کرنے والا کلام عطا ہوا ہے ۔ میں تیرے آنسووَں کی تپش سے ابھی تک جل رہا ہوں ۔

The Martyr – King You who have been endowed with heart-illumining words, I burn still with the fever of your tears.

6969

کاو کاو ناخن مردان راز

جوی خون بگشاد از رگ‌های ساز

راز سے آگاہ مردوں کے ناخنوں نے کھرچ کھرچ کر (محنت و کاوش سے ) ساز کی رگوں سے خو ن کی ندی نکالی ہے ۔

The incessant digging of the nails of the initiates has opened a river of blood from the veins of the lute.

7070

آن نوا کز جان تو آید برون

می‌دهد هر سینه را سوز درون

وہ نوا (شاعری) جو تیری جان سے باہر آتی ہے (اٹھ رہی ہے) اس نے ہر سینے کو سوز دروں عطا کیا ہے ۔

That melody which issues out of your soul imparts to every breast an inward fire.

7171

بوده‌ام در حضرت مولای کل

آنکه بی او طی نمی‌گردد سبل

میں حضور نبی کریم کے حضور میں رہا ہوں ۔ وہ ذات گرامی کہ جن کے بغیر زندگی کے راستے طے نہیں ہوتے ۔

I was in the presence of the Lord of All, without whom no path can be traversed;

7272

گرچه آنجا جرأت گفتار نیست

روح را کاری به جز دیدار نیست

اگرچہ وہاں کسی کو بات کرنے کی جرات نہیں اور وہاں روح کو حضور کے دیدار کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا ۔

Though there none may dare to speak, and the spirit’s only occupation is to behold,

7373

سوختم از گرمی اشعار تو

بر زبانم رفت از افکار تو

چونکہ میں تیرے اشعار کی گرمی میں جلا ہوا تھا ، میری زبان پر تیرے افکار آ گئے ۔

I was afire with the ardour of your verses and some of your thoughts came on my tongue.

7474

گفت این بیتی که بر خواندی ز کیست

اندرو هنگامه‌های زندگی‌ست

حضور نے فرمایا یہ شعر جو تو پڑھ رہا ہے کس کا ہے ، اس میں زندگی کے ہنگامے موجود ہیں ۔

He said, ‘Whose is this verse which you recited? In it pulses the true vibration of life’.

7575

با همان سوزی که در سازد به جان

یک دو حرف از ما به کاویری رسان

اب تو اسی سوز کے ساتھ جو جان سے موافقت رکھتا ہے ، میری طرف سے دریائے کاویری تک یہ دو ایک باتیں پہنچا دے یعنی وہاں کے لوگوں تک پہنچا دے ۔

With the same ardour, congenial to the soul, convey from me one or two words to the Cauvery.

7676

در جهان تو زنده رود او زنده رود

خوشترک آید سرود اندر سرود

دنیا میں بھی تو زندہ رود (ندی) ہے اور وہ بھی زندہ ندی ہے ۔ سرود کے اندر سرود خوب رہے گا ۔

You, Zinda-Rud, ‘living stream’, he too a living stream – sweeter sounds melody interwoven with melody.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رفت در جانم صدای برتری

مست بودم از نوای برتری

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 7 - حرکت به کاخ سلاطین مشرق: نادر، ابدالی، سلطان شهید

اگلی نظم

رود کاویری یکی نرمک خرام

خسته ئی شاید که از سیر دوام

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 9 - پیغام سلطان شهید به رود کاویری: در حقیقت حیات و مرگ و شهادت

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور