صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 9 - پیغام سلطان شهید به رود کاویری: در حقیقت حیات و مرگ و شهادت

بخش 9 - پیغام سلطان شهید به رود کاویری: در حقیقت حیات و مرگ و شهادت

دریائے کاویری کے نام سلطان ٹیپو شہید کا پیغام

The Martyr-King's Message to the River Kaveri

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
حقیقت حیات و مرگ و شهادت

The reality of life, death and martyrdom

Toggle stanza 1
11

رود کاویری یکی نرمک خرام

خسته ئی شاید که از سیر دوام

اے دریائے کاویری ذرا آہستہ چل ، شاید تو مسلسل چلتے رہنے سے تھک گیا ہے ۔

River Cauvery, flow gently for a while; perchance you are wearied by continual wandering

22

در کهستان عمر ها نالیده ئی

راه خود را با مژه کاویده ئی

تو مدتوں سے پہاڑوں میں رو رہا ہے اور تو نے اپنے راستے کو اپنی پلکوں سے کھودا ہے ۔

For many years you have wept in the mountains, carving out your path with your eyelashes.

33

ای مرا خوشتر ز جیحون و فرات

ای دکن را آب تو آب حیات

اے کاویری تو مجھے جیحون اور فرات جیسے دریاؤں سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ اے کہ دکن کے لیے تیرا پانی آب حیات ہے ۔

Sweeter to me than Oxus and Euphrates, to Deccan your water is the Water of Life.

44

آه شهری کو در آغوش تو بود

حسن نوشین جلوه از نوش تو بود

آہ و شہر جو کبھی تیری آغوش میں تھا ، اس شہر کا شیریں جلووَں والا حسن تیرے پانی ہی کے باعث تھا ۔ مراد سرنگا پٹنم شہر ہے جو سلطان کا دارالحکومت تھا ۔

Alas, for the city which lay in your embrace, whose sweet beauty was a reflection of your sweetness!

55

کهنه گردیدی شباب تو همان

پیچ و تاب و رنگ و آب تو همان

اگرچہ تو بوڑھا ہو گیا ہے لیکن تیرا شباب ابھی تک برقرار ہے ۔ تیرا پیچ و تاب اور تیرا رنگ و آب اسی طرح ہے ۔

You have grown old, yet you are ever young, ever the same your surge, your ardour, your lustre;

66

موج تو جز دانه گوهر نزاد

طره تو تا ابد شوریده باد

تیری موج نے موتی کے ایک دانے کے سوا کچھ پیدا نہیں کیا ۔ خدا کرے تیرا طرہ ابد تک شوریدہ رہے ۔

Your waves have begotten only the purest pearls – may your tresses flow freely till all eternity!

77

ای ترا سازی که سوز زندگی است

هیچ میدانی که این پیغام کیست؟

اے دریا تیری لہروں کا ساز زندگی کا سوز پیدا کر رہا ہے ۔ کیا تو جانتا ہے کہ یہ پیغام کس کی طرف سے ہے

You whose music is the very fire of life, do you know from whom this message comes?

88

آنکه میکردی طواف سطوتش

بوده ئی آئینه دار دولتش

یہ وہ شخص ہے جس کی سطوت و شان کا تو طواف کرتا رہا ہے اوراس کی سلطنت کا آئینہ دار رہا ہے ۔

From him whose mighty power you once encircled, whose empire you reflected in your mirror,

99

آنکه صحرا ها ز تدبیرش بهشت

آنکه نقش خود بخون خود نوشت

وہ جس کی تدبیر نے بہت سے صحرا کو بہشت بنا دیا ۔ وہ ہستی (ٹیپو) جس نے اپنے خون سے اپنا نقش تحریر کیا ۔

By whose contriving deserts were turned to Paradise, who wrought his image with his own blood,

1010

آنکه خاکش مرجع صد آرزوست

اضطراب موج تو از خون اوست

وہ کہ جس کی خاک ہزاروں آرزووں کا مرجع ہے ۔ تیری لہروں میں بیقراری اسی کے خون سے ہے ۔

Whose dust is the goal of a hundred yearnings, and with whose blood your waves surge still;

1111

آنکه گفتارش همه کردار بود

مشرق اندر خواب و او بیدار بود

وہ (عظیم انسان ٹیپو) کہ جس کی گفتار پورے طور پر کردار تھی، اس وقت جب مشرق سویا ہوا تھا وہ بیدار تھا ۔

The man whose words were all action, the one man awake, whilst the East slept.

1212

ای من و تو موجی از رود حیات

هر نفس دیگر شود این کائنات

اے کہ میں اور تو (کاویری) دونوں زندگی کی ندی کی لہریں ہیں ۔ یہ کائنات ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے ۔

You and I are waves of life’s river; every moment this universe changes,

1313

زندگانی انقلاب هر دمی است

زانکه او اندر سراغ عالمی است

زندگی ہر لمحے کا انقلاب ہے ۔ اس لیے کہ وہ ہر پل ایک نئے عالم کے سراغ میں لگی رہتی ہے ۔

For life is a perpetual revolution since it is ever searching for a new world.

1414

تار و پود هر وجود از رفت و بود

اینهمه ذوق نمود از رفت و بود

ہر وجود کا تانا بانا رفت و بود (ماضی) سے ہے، یہ سارا ذوق نمود اسی رفت و بود ہی سے ہے یعنی کائنات کا وجود ہی فنا پر قائم ہے ۔

This flux is the warp and woof of life, this flux the source of the joy of manifestation;

1515

جاده ها چون رهروان اندر سفر

هر کجا پنهان سفر پیدا حضر

راستے بھی مسافروں کی طرف سفر میں رہتے ہیں ، ہر جگہ سفر پوشیدہ اور حضر (قیام) ظاہر ہے ۔

The highways like travellers are on a journey; apparently at rest, secretly everywhere in motion;

1616

کاروان و ناقه و دشت و نخیل

هر چه بینی نالد از درد رحیل

قافلہ، اونٹنی اور بیابان اور کھجور کا درخت جس کو بھی تم دیکھو گے وہ کوچ کے درد کے باعث رو رہا ہو گا ۔

The caravan, the camels, the desert, the palm-trees, whatever you see, weeps for the pain of parting.

1717

در چمن گل میهمان یک نفس

رنگ و آبش امتحان یک نفس

چمن میں پھول ایک پل کا مہمان ہوتا ہے ۔ اس کا رنگ اور اس کی چمک دمک ایک پل کا امتحان ہے ۔

In the garden the rose is a guest of but a moment, its hue and lustre a moment’s experiment.

1818

موسم گل ماتم و هم نای و نوش

غنچه در آغوش و نعش گل بدوش

موسم گل کیا ہے یہ ماتم بھی ہے اور پینے پلانے کا عالم بھی ہے ۔ غنچہ اس کی آغوش میں ہوتا ہے اور پھول کی نعش اس کے کندھوں پر ہوتی ہے ۔

The season of the rose? Funeral and festival together, buds in the breast, the rose’s bier on the back.

1919

لاله را گفتم یکی دیگر بسوز

گفت راز ما نمی دانی هنوز

میں نے لالہ کے پھول سے کہا کہ تو تھوڑی دیر کے لیے مزید جل ۔ وہ بولا کہ شاید تو ابھی تک ہمارے راز سے آگا ہ نہیں ہے ۔

I said to the tulip, ‘Burn once again’; the tulip answered, ‘You know not yet my secret,

2020

از خس و خاشاک تعمیر وجود

غیر حسرت چیست پاداش نمود

خس و خاشاک ہی سے وجود کی تعمیر ہے ۔ نمود کی سزا حسرت کے سوا او رکیا ہے

Existence is constructed of sticks and straws; what is the guerdon of manifestation, but regret?

2121

در سرای هست و بود آئی میا

از عدم سوی وجود آئی میا

کیا تو بقا و فنا کی سرائے (دنیا ) میں آنا چاہتا ہے ، نہ آ ۔ کیا تو عدم سے وجود کی طرف آنا چاہتا ہے نہ آ ۔

Do you enter the inn of existence? Do not; do you come from not-being to being? Do not;

2222

ور بیائی چون شرار از خود مرو

در تلاش خرمنی آواره شو

اور اگر تو آ ہی جاتا ہے تو پھر چنگاری کی طرح خود سے مت گزر کسی کھلیان کی تلاش میں آوارہ ہو جا، نکل جا ۔

Or if you do, go not out of your self like a spark, but become a wanderer searching for a stack to fire.

2323

تاب و تب داری اگر مانند مهر

پا بنه در وسعت آباد سپهر

اگر تجھ میں سورج کی طرح چمک اور گرمی ہے تو پھر تو آسما نوں کی وسعتوں میں پاؤں رکھ عمل سے ۔

If you have fever and flame like the sun, step forth into the vastness of the sky;

2424

کوه و مرغ و گلشن و صحرا بسوز

ماهیان را در ته دریا بسوز

پہاڑ اور پرندہ اور باغ و صحرا سب کو جلا دے بلکہ مچھلیوں کو سمندر کی تہہ میں جلا ڈال ۔

Burn up mountain and bird, garden and desert, burn even the fishes in the depths of the sea.

2525

سینه ئی داری اگر در خورد تیر

در جهان شاهین بزی شاهین بمیر

اگر تیرا سینہ تیر کھانے کے قابل ہے تو پھر تو دنیا میں شاہیں کی طرح زندگی بسر کر اور شاہیں بن کر مر ۔

If you have a breast worthy of an arrow, live like a falcon, and like a falcon die;

2626

زانکه در عرض حیات آمد ثبات

از خدا کم خواستم طول حیات

زندگی پیش کر دینے سے ہی اس کی بقا ہے اس لیے طویل زندگی نہیں مانگی ۔

Immortality is in the breadth of life – I do not ask of God for length of days,

2727

زندگی را چیست رسم و دین و کیش

یک دم شیری به از صد سال میش

زندگی کے لیے رسم و دین اور مسلک کیا چیز ہے شیر کا ایک پل بھیڑ کے سو سال (زندہ رہنے ) سے بہتر ہے(یہ فقرہ ٹیپو نے اپنی شہادت کے وقت کہا تھا ۔ ) یعنی شیر بن کر رہو اور شیر ہی کی طرح مرو ۔

What is the law, the religion, the rite of life? Better one instant a lion, than a century a sheep.

2828

زندگی محکم ز تسلیم و رضاست

موت نیرنج و طلسم و سیمیاست

زندگی میں استحکام تسلیم و رضا سے پیدا ہوتا ہے اور موت تو نیرنگ و طلسم اور کیمیا ہے ۔ (تسلیم و رضا سے مراد ہے انسان کا اللہ کی رضا میں اپنی مرضی کو فنا کر دینا اور اس کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرنا) ۔

Life is fortified by cheerful resignation; death is a magic talisman, a fantasy.

2929

بندهٔ حق ضیغم و آهوست مرگ

یک مقام از صد مقام اوست مرگ

بندہ حق شیر ہے جب کہ موت اس کے لیے ہرن ہے ۔ اس کی سینکڑوں مقامات میں سے موت ایک مقام ہے ۔

The man of God is a lion and death a fawn; death is but one station for him of a hundred.

3030

می فتد بر مرگ آن مرد تمام

مثل شاهینی که افتد بر حمام

وہ مرد کامل (بندہ حق) موت پر اس طرح جھپٹتا ہے جس طرح شاہین کبوتر پر جھپٹتا ہے ۔

The perfect man swoops upon death even as a falcon swooping upon a dove,

3131

هر زمان میرد غلام از بیم مرگ

زندگی او را حرام از بیم مرگ

(نفس کا )غلام موت کے خوف سے ہر وقت مرتا ہے اور موت کے ڈر سے اس کی زندگی اس پر حرام ہو جاتی ہے ۔

The slave dies every moment in fear of death; the fear of death makes life for him a thing forbidden;

3232

بندهٔ آزاد را شأنی دگر

مرگ او را میدهد جانی دگر

جبکہ بندہ آزاد کی شان ہی اور ہے ۔ موت اسے ایک نئی جان دیتی ہے یعنی جہاد میں شہادت پا کر وہ حیات جاوید پا لیتا ہے ۔

The free servant has another dignity; death bestows upon him a new life.

3333

او خود اندیش است مرگ اندیش نیست

مرگ آزادان ز آنی بیش نیست

بندہ آزاد اپنی فکر کرتا ہے ۔ موت کے بارے میں نہیں سوچتا یا فکر نہیں کرتا ۔ آزاد لوگوں کی موت ایک پل سے زیادہ کی نہیں ہوتی ۔

He is anxious for the self, but not for death, since to the free death is no more than an instant.

3434

بگذر از مرگی که سازد با لحد

زانکه این مرگست مرگ دام و دد

اس موت سے گزر جا جو قبر سے موافقت کرتی ہے ۔ یہ یا اس قسم کی موت تو چرندوں ، پرندوں اور درندوں کی موت ہے ۔

Transcend the death that is content with the grave, for that death is the death of brute beasts;

3535

مرد مؤمن خواهد از یزدان پاک

آن دگر مرگی که بر گیرد ز خاک

مرد مومن خدائے پاک سے اس موت کی آرزو رکھتا ہے جو اسے مٹی سے اٹھا لے ۔

'The true believer prays to the Holy God for that other death which raises up from the dust.

3636

آن دگر مرگ انتهای راه شوق

آخرین تکبیر در جنگاه شوق

وہ دوسری موت کیا ہے، وہ راہ شوق کی انتہا ہے ۔ اور شوق کے ہنگامہ میں آخری تکبیر ہے (جہاد میں اللہ اکبر کہہ کر جان کی قربا نی دینا عشق و محبت کی آخری منزل ہے ۔ )

That other death-the goal of the road of love, the final Allahu Akbar in love’s battlefield.

3737

گرچه هر مرگ است بر مؤمن شکر

مرگ پور مرتضی چیزی دگر

اگرچہ مرد مومن کے لیے ہر موت شکر کی طرح شیریں ہے لیکن حضرت علی مرتضی ٰعلیہ السلام کے فرزند (امام حسین علیہ السلام جنھوں نے باطل قوت سے ٹکرا کر کربلا میں شہادت پائی ) کی موت کچھ اور ہی چیز ہے ۔

Though to the believer every death is sweet, the death of Murtada’s son is something other.

3838

جنگ شاهان جهان غارتگری است

جنگ مؤمن سنت پیغمبری است

دنیا کے بادشاہوں کی جنگ محض لوٹ مار کے لیے ہوتی ہے جبکہ مومن کی جنگ سنت پیغمبر ہے ۔

The warfare of worldly kings is for rapine, the believer’s warfare is the Sunna of the Prophet

3939

جنگ مؤمن چیست؟ هجرت سوی دوست

ترک عالم اختیار کوی دوست

مومن کی جنگ کیا ہے وہ محبوب حقیقی کی طرف ہجرت کرنا ہے اور دنیا چھوڑ دینا اور دوست کے کوچے کی طرف جانا ہے ۔

What is the believer’s warfare? Flight to the Beloved; quitting the world, choosing the Beloved’s street,

4040

آنکه حرف شوق با اقوام گفت

جنگ را رهبانی اسلام گفت

وہ ذات گرامی (رسول اللہ ﷺ) کہ جس نے قوموں کو عشق کی بات بتائی انھوں نے جنگ (جہاد) کو اسلام کی رہبانیت کہا ہے ۔

He who proclaimed to the peoples the word of love said of warfare that it was ‘the monasticism of Islam’.

4141

کس نداند جز شهید این نکته را

کو بخون خود خرید این نکته را

یہ جو حضورنے فرمایا ہے اس نکتہ کو شہید کے سوا اور کوئی نہیں سمجھتا ۔

None but the martyr knows this subtlety, for he has purchased this subtlety with his blood.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

«دست را چون مرکب تیغ و قلم کردی مدار

هیچ غم گر مرکب تن لنگ باشد یا عرن

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 8 - نمودار می‌شود روح ناصر خسرو علوی و غزلی مستانه سرائیده غائب می‌شود

اگلی نظم

شیشهٔ صبر و سکونم ریز ریز

پیر رومی گفت در گوشم که خیز

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 10 - زنده رود رخصت می‌شود از فردوس برین و تقاضای حوران بهشتی

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور