دریائے کاویری کے نام سلطان ٹیپو شہید کا پیغام
The Martyr-King's Message to the River Kaveri
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
The reality of life, death and martyrdom
رود کاویری یکی نرمک خرام
خسته ئی شاید که از سیر دوام
اے دریائے کاویری ذرا آہستہ چل ، شاید تو مسلسل چلتے رہنے سے تھک گیا ہے ۔
River Cauvery, flow gently for a while; perchance you are wearied by continual wandering
در کهستان عمر ها نالیده ئی
راه خود را با مژه کاویده ئی
تو مدتوں سے پہاڑوں میں رو رہا ہے اور تو نے اپنے راستے کو اپنی پلکوں سے کھودا ہے ۔
For many years you have wept in the mountains, carving out your path with your eyelashes.
ای مرا خوشتر ز جیحون و فرات
ای دکن را آب تو آب حیات
اے کاویری تو مجھے جیحون اور فرات جیسے دریاؤں سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ اے کہ دکن کے لیے تیرا پانی آب حیات ہے ۔
Sweeter to me than Oxus and Euphrates, to Deccan your water is the Water of Life.
آه شهری کو در آغوش تو بود
حسن نوشین جلوه از نوش تو بود
آہ و شہر جو کبھی تیری آغوش میں تھا ، اس شہر کا شیریں جلووَں والا حسن تیرے پانی ہی کے باعث تھا ۔ مراد سرنگا پٹنم شہر ہے جو سلطان کا دارالحکومت تھا ۔
Alas, for the city which lay in your embrace, whose sweet beauty was a reflection of your sweetness!
کهنه گردیدی شباب تو همان
پیچ و تاب و رنگ و آب تو همان
اگرچہ تو بوڑھا ہو گیا ہے لیکن تیرا شباب ابھی تک برقرار ہے ۔ تیرا پیچ و تاب اور تیرا رنگ و آب اسی طرح ہے ۔
You have grown old, yet you are ever young, ever the same your surge, your ardour, your lustre;
موج تو جز دانه گوهر نزاد
طره تو تا ابد شوریده باد
تیری موج نے موتی کے ایک دانے کے سوا کچھ پیدا نہیں کیا ۔ خدا کرے تیرا طرہ ابد تک شوریدہ رہے ۔
Your waves have begotten only the purest pearls – may your tresses flow freely till all eternity!
ای ترا سازی که سوز زندگی است
هیچ میدانی که این پیغام کیست؟
اے دریا تیری لہروں کا ساز زندگی کا سوز پیدا کر رہا ہے ۔ کیا تو جانتا ہے کہ یہ پیغام کس کی طرف سے ہے
You whose music is the very fire of life, do you know from whom this message comes?
آنکه میکردی طواف سطوتش
بوده ئی آئینه دار دولتش
یہ وہ شخص ہے جس کی سطوت و شان کا تو طواف کرتا رہا ہے اوراس کی سلطنت کا آئینہ دار رہا ہے ۔
From him whose mighty power you once encircled, whose empire you reflected in your mirror,
آنکه صحرا ها ز تدبیرش بهشت
آنکه نقش خود بخون خود نوشت
وہ جس کی تدبیر نے بہت سے صحرا کو بہشت بنا دیا ۔ وہ ہستی (ٹیپو) جس نے اپنے خون سے اپنا نقش تحریر کیا ۔
By whose contriving deserts were turned to Paradise, who wrought his image with his own blood,
آنکه خاکش مرجع صد آرزوست
اضطراب موج تو از خون اوست
وہ کہ جس کی خاک ہزاروں آرزووں کا مرجع ہے ۔ تیری لہروں میں بیقراری اسی کے خون سے ہے ۔
Whose dust is the goal of a hundred yearnings, and with whose blood your waves surge still;
آنکه گفتارش همه کردار بود
مشرق اندر خواب و او بیدار بود
وہ (عظیم انسان ٹیپو) کہ جس کی گفتار پورے طور پر کردار تھی، اس وقت جب مشرق سویا ہوا تھا وہ بیدار تھا ۔
The man whose words were all action, the one man awake, whilst the East slept.
ای من و تو موجی از رود حیات
هر نفس دیگر شود این کائنات
اے کہ میں اور تو (کاویری) دونوں زندگی کی ندی کی لہریں ہیں ۔ یہ کائنات ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے ۔
You and I are waves of life’s river; every moment this universe changes,
زندگانی انقلاب هر دمی است
زانکه او اندر سراغ عالمی است
زندگی ہر لمحے کا انقلاب ہے ۔ اس لیے کہ وہ ہر پل ایک نئے عالم کے سراغ میں لگی رہتی ہے ۔
For life is a perpetual revolution since it is ever searching for a new world.
تار و پود هر وجود از رفت و بود
اینهمه ذوق نمود از رفت و بود
ہر وجود کا تانا بانا رفت و بود (ماضی) سے ہے، یہ سارا ذوق نمود اسی رفت و بود ہی سے ہے یعنی کائنات کا وجود ہی فنا پر قائم ہے ۔
This flux is the warp and woof of life, this flux the source of the joy of manifestation;
جاده ها چون رهروان اندر سفر
هر کجا پنهان سفر پیدا حضر
راستے بھی مسافروں کی طرف سفر میں رہتے ہیں ، ہر جگہ سفر پوشیدہ اور حضر (قیام) ظاہر ہے ۔
The highways like travellers are on a journey; apparently at rest, secretly everywhere in motion;
کاروان و ناقه و دشت و نخیل
هر چه بینی نالد از درد رحیل
قافلہ، اونٹنی اور بیابان اور کھجور کا درخت جس کو بھی تم دیکھو گے وہ کوچ کے درد کے باعث رو رہا ہو گا ۔
The caravan, the camels, the desert, the palm-trees, whatever you see, weeps for the pain of parting.
در چمن گل میهمان یک نفس
رنگ و آبش امتحان یک نفس
چمن میں پھول ایک پل کا مہمان ہوتا ہے ۔ اس کا رنگ اور اس کی چمک دمک ایک پل کا امتحان ہے ۔
In the garden the rose is a guest of but a moment, its hue and lustre a moment’s experiment.
موسم گل ماتم و هم نای و نوش
غنچه در آغوش و نعش گل بدوش
موسم گل کیا ہے یہ ماتم بھی ہے اور پینے پلانے کا عالم بھی ہے ۔ غنچہ اس کی آغوش میں ہوتا ہے اور پھول کی نعش اس کے کندھوں پر ہوتی ہے ۔
The season of the rose? Funeral and festival together, buds in the breast, the rose’s bier on the back.
لاله را گفتم یکی دیگر بسوز
گفت راز ما نمی دانی هنوز
میں نے لالہ کے پھول سے کہا کہ تو تھوڑی دیر کے لیے مزید جل ۔ وہ بولا کہ شاید تو ابھی تک ہمارے راز سے آگا ہ نہیں ہے ۔
I said to the tulip, ‘Burn once again’; the tulip answered, ‘You know not yet my secret,
از خس و خاشاک تعمیر وجود
غیر حسرت چیست پاداش نمود
خس و خاشاک ہی سے وجود کی تعمیر ہے ۔ نمود کی سزا حسرت کے سوا او رکیا ہے
Existence is constructed of sticks and straws; what is the guerdon of manifestation, but regret?
در سرای هست و بود آئی میا
از عدم سوی وجود آئی میا
کیا تو بقا و فنا کی سرائے (دنیا ) میں آنا چاہتا ہے ، نہ آ ۔ کیا تو عدم سے وجود کی طرف آنا چاہتا ہے نہ آ ۔
Do you enter the inn of existence? Do not; do you come from not-being to being? Do not;
ور بیائی چون شرار از خود مرو
در تلاش خرمنی آواره شو
اور اگر تو آ ہی جاتا ہے تو پھر چنگاری کی طرح خود سے مت گزر کسی کھلیان کی تلاش میں آوارہ ہو جا، نکل جا ۔
Or if you do, go not out of your self like a spark, but become a wanderer searching for a stack to fire.
تاب و تب داری اگر مانند مهر
پا بنه در وسعت آباد سپهر
اگر تجھ میں سورج کی طرح چمک اور گرمی ہے تو پھر تو آسما نوں کی وسعتوں میں پاؤں رکھ عمل سے ۔
If you have fever and flame like the sun, step forth into the vastness of the sky;
کوه و مرغ و گلشن و صحرا بسوز
ماهیان را در ته دریا بسوز
پہاڑ اور پرندہ اور باغ و صحرا سب کو جلا دے بلکہ مچھلیوں کو سمندر کی تہہ میں جلا ڈال ۔
Burn up mountain and bird, garden and desert, burn even the fishes in the depths of the sea.
سینه ئی داری اگر در خورد تیر
در جهان شاهین بزی شاهین بمیر
اگر تیرا سینہ تیر کھانے کے قابل ہے تو پھر تو دنیا میں شاہیں کی طرح زندگی بسر کر اور شاہیں بن کر مر ۔
If you have a breast worthy of an arrow, live like a falcon, and like a falcon die;
زانکه در عرض حیات آمد ثبات
از خدا کم خواستم طول حیات
زندگی پیش کر دینے سے ہی اس کی بقا ہے اس لیے طویل زندگی نہیں مانگی ۔
Immortality is in the breadth of life – I do not ask of God for length of days,
زندگی را چیست رسم و دین و کیش
یک دم شیری به از صد سال میش
زندگی کے لیے رسم و دین اور مسلک کیا چیز ہے شیر کا ایک پل بھیڑ کے سو سال (زندہ رہنے ) سے بہتر ہے(یہ فقرہ ٹیپو نے اپنی شہادت کے وقت کہا تھا ۔ ) یعنی شیر بن کر رہو اور شیر ہی کی طرح مرو ۔
What is the law, the religion, the rite of life? Better one instant a lion, than a century a sheep.
زندگی محکم ز تسلیم و رضاست
موت نیرنج و طلسم و سیمیاست
زندگی میں استحکام تسلیم و رضا سے پیدا ہوتا ہے اور موت تو نیرنگ و طلسم اور کیمیا ہے ۔ (تسلیم و رضا سے مراد ہے انسان کا اللہ کی رضا میں اپنی مرضی کو فنا کر دینا اور اس کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرنا) ۔
Life is fortified by cheerful resignation; death is a magic talisman, a fantasy.
بندهٔ حق ضیغم و آهوست مرگ
یک مقام از صد مقام اوست مرگ
بندہ حق شیر ہے جب کہ موت اس کے لیے ہرن ہے ۔ اس کی سینکڑوں مقامات میں سے موت ایک مقام ہے ۔
The man of God is a lion and death a fawn; death is but one station for him of a hundred.
می فتد بر مرگ آن مرد تمام
مثل شاهینی که افتد بر حمام
وہ مرد کامل (بندہ حق) موت پر اس طرح جھپٹتا ہے جس طرح شاہین کبوتر پر جھپٹتا ہے ۔
The perfect man swoops upon death even as a falcon swooping upon a dove,
هر زمان میرد غلام از بیم مرگ
زندگی او را حرام از بیم مرگ
(نفس کا )غلام موت کے خوف سے ہر وقت مرتا ہے اور موت کے ڈر سے اس کی زندگی اس پر حرام ہو جاتی ہے ۔
The slave dies every moment in fear of death; the fear of death makes life for him a thing forbidden;
بندهٔ آزاد را شأنی دگر
مرگ او را میدهد جانی دگر
جبکہ بندہ آزاد کی شان ہی اور ہے ۔ موت اسے ایک نئی جان دیتی ہے یعنی جہاد میں شہادت پا کر وہ حیات جاوید پا لیتا ہے ۔
The free servant has another dignity; death bestows upon him a new life.
او خود اندیش است مرگ اندیش نیست
مرگ آزادان ز آنی بیش نیست
بندہ آزاد اپنی فکر کرتا ہے ۔ موت کے بارے میں نہیں سوچتا یا فکر نہیں کرتا ۔ آزاد لوگوں کی موت ایک پل سے زیادہ کی نہیں ہوتی ۔
He is anxious for the self, but not for death, since to the free death is no more than an instant.
بگذر از مرگی که سازد با لحد
زانکه این مرگست مرگ دام و دد
اس موت سے گزر جا جو قبر سے موافقت کرتی ہے ۔ یہ یا اس قسم کی موت تو چرندوں ، پرندوں اور درندوں کی موت ہے ۔
Transcend the death that is content with the grave, for that death is the death of brute beasts;
مرد مؤمن خواهد از یزدان پاک
آن دگر مرگی که بر گیرد ز خاک
مرد مومن خدائے پاک سے اس موت کی آرزو رکھتا ہے جو اسے مٹی سے اٹھا لے ۔
'The true believer prays to the Holy God for that other death which raises up from the dust.
آن دگر مرگ انتهای راه شوق
آخرین تکبیر در جنگاه شوق
وہ دوسری موت کیا ہے، وہ راہ شوق کی انتہا ہے ۔ اور شوق کے ہنگامہ میں آخری تکبیر ہے (جہاد میں اللہ اکبر کہہ کر جان کی قربا نی دینا عشق و محبت کی آخری منزل ہے ۔ )
That other death-the goal of the road of love, the final Allahu Akbar in love’s battlefield.
گرچه هر مرگ است بر مؤمن شکر
مرگ پور مرتضی چیزی دگر
اگرچہ مرد مومن کے لیے ہر موت شکر کی طرح شیریں ہے لیکن حضرت علی مرتضی ٰعلیہ السلام کے فرزند (امام حسین علیہ السلام جنھوں نے باطل قوت سے ٹکرا کر کربلا میں شہادت پائی ) کی موت کچھ اور ہی چیز ہے ۔
Though to the believer every death is sweet, the death of Murtada’s son is something other.
جنگ شاهان جهان غارتگری است
جنگ مؤمن سنت پیغمبری است
دنیا کے بادشاہوں کی جنگ محض لوٹ مار کے لیے ہوتی ہے جبکہ مومن کی جنگ سنت پیغمبر ہے ۔
The warfare of worldly kings is for rapine, the believer’s warfare is the Sunna of the Prophet
جنگ مؤمن چیست؟ هجرت سوی دوست
ترک عالم اختیار کوی دوست
مومن کی جنگ کیا ہے وہ محبوب حقیقی کی طرف ہجرت کرنا ہے اور دنیا چھوڑ دینا اور دوست کے کوچے کی طرف جانا ہے ۔
What is the believer’s warfare? Flight to the Beloved; quitting the world, choosing the Beloved’s street,
آنکه حرف شوق با اقوام گفت
جنگ را رهبانی اسلام گفت
وہ ذات گرامی (رسول اللہ ﷺ) کہ جس نے قوموں کو عشق کی بات بتائی انھوں نے جنگ (جہاد) کو اسلام کی رہبانیت کہا ہے ۔
He who proclaimed to the peoples the word of love said of warfare that it was ‘the monasticism of Islam’.
کس نداند جز شهید این نکته را
کو بخون خود خرید این نکته را
یہ جو حضورنے فرمایا ہے اس نکتہ کو شہید کے سوا اور کوئی نہیں سمجھتا ۔
None but the martyr knows this subtlety, for he has purchased this subtlety with his blood.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور