صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 10 - زنده رود رخصت می‌شود از فردوس برین و تقاضای حوران بهشتی

بخش 10 - زنده رود رخصت می‌شود از فردوس برین و تقاضای حوران بهشتی

زندہ رود فردوس بریں سے رخصت ہوتا ہے اور حورانِ بہشتی اس سے منزل کا تقاضا کرتی ہیں

Zinda-Rud Takes Leave of Highest Paradise and the Houris of Paradise Make Their Request

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

شیشهٔ صبر و سکونم ریز ریز

پیر رومی گفت در گوشم که خیز

(سلطان شہید کی باتیں سن کر ) میرے صبر و سکون کا شیشہ پاش پاش ہو گیا، یعنی پیمانہ لبریز ہو گیا ۔ میرا صبر و قرار جاتا رہا ، مگر پیر رومی نے میرے کان میں کہا کہ اٹھ اب یہاں سے چلیں ۔

The glass of my patience and quietude was shattered; The Sage of Rum spoke in my ear, ‘Rise up’.

2

آن حدیث شوق و آن جذب و یقین

آه آن ایوان و آن کاخ برین

آہ وہ سلطان شہید کی عشق کی باتیں اور انہیں سن کر پیدا ہونے والا جذب و یقین، آہ و ایوان اور وہ پاک بلند محل ۔

Ah, those words of love, that ecstatic certainty! Ah that court, that sublime palace;

3

با دل پر خون رسیدم بر درش

یک هجوم حور دیدم بر درش

چنانچہ میں پر خوں دل کے ساتھ بہشت کے دروازے پر پہنچا، وہاں دروازے پر میں نے حوروں کا ہجوم دیکھا ۔

Heart bleeding, I reached its gate and beheld there a throng of houris;

4

بر لب شان زنده رود ای زنده رود

زنده رود ای صاحب سوز و سرود

ان کے ہونٹوں پر زندہ رود، اے زندہ رود، اے سوز و ساز کے مالک کے الفاظ جاری تھے ۔

On their lips, ‘Zinda-Rud, Zinda-Rud, Zinda-Rud, master of fire and melody!’

5

شور و غوغا از یسار و از یمین

یکدو دم با ما نشین ، با ما نشین

دائیں بائیں حوروں کا شور و غوغا اٹھ رہا تھا کہ اے زندہ رود ، ہمارے پاس ایک دو لمحہ بیٹھ جاوَ، ہمار ے ساتھ بیٹھے رہو ۔

Clamour and tumult rose from left and right: ‘One or two moments sit with us. sit with us!’

بند 2
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 2
6

راهرو کو داند اسرار سفر

ترسد از منزل ز رهزن بیشتر

وہ مسافر جسے سفر کے رازوں کا علم ہے وہ لٹیروں سے اتنا زیادہ نہیں ڈرتا جتنا منزل سے ڈرتا ہے ۔

The traveller who knows the secrets of the journey fears the lodging-place more than the highwayman.

7

عشق در هجر و وصال آسوده نیست

بی جمال لایزال آسوده نیست

عشق و ہجر اور وصال میں آسودگی نہیں پاتا ۔ وہ جمال لایزال کے بغیر آسودہ نہیں ہوتا ۔

Love reposes not in separation, nor in union, reposes not, without Eternal Beauty;

8

ابتدا پیش بتان افتادگی

انتها از دلبران آزادگی

عشق کی ابتدا بتوں کے آگے جھک جانے سے ہے اور اس کی انتہا ان دلبروں حسینوں سے آزاد ہو جانا ہے ۔

First beginning, falling down before idols, final end, freedom from all heart-ravishers.

9

عشق بی پروا و هر دم در رحیل

در مکان و لامکان ابن السبیل

عشق بے پروا ہے اور ہر دم سفر میں رہتا ہے ۔ خواہ مکان ہو یا لامکان وہ ہر جگہ مسافر ہے ۔

Love recks for nothing, and is ever on the move, a wayfarer in space and spacelessness.

10

کیش ما مانند موج تیز گام

اختیار جاده و ترک مقام

ہمارا مسلک تیز بہنے والی موج کی طرح ہے یعنی راستہ اختیار کرنا اور منزل کو چھوڑ دینا، مسلسل چلتے رہنا ۔

Our creed, like the swift-paced wave: abandon the halting-place, choose the highway.

بند 3
حوران بهشت
Toggle stanza 3
11

شیوه ها داری مثال روزگار

یک نوای خوش دریغ از ما مدار

(اے زندہ رود) تیرے طور طریقے زمانے کی طرح ہیں ، ایک اچھی نوا تو ہمیں سنانے میں تامل نہ کر ۔ اپنے چند شعر ہی سنا دے ۔

The Houris of Paradise Your blandishments are like those of Time; grudge us not now one sweet song.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رود کاویری یکی نرمک خرام

خسته ئی شاید که از سیر دوام

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 9 - پیغام سلطان شهید به رود کاویری: در حقیقت حیات و مرگ و شهادت

اگلی نظم

به آدمی نرسیدی ، خدا چه می‌جویی

ز خود گریخته‌ای آشنا چه می‌جویی

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 11 - غزل زنده رود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور