صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 11 - غزل زنده رود

بخش 11 - غزل زنده رود

غزل زندہ رود

Ghazal of Zinda-Rud

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اچهمیجویی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

به آدمی نرسیدی ، خدا چه می‌جویی

ز خود گریخته‌ای آشنا چه می‌جویی

تو آدمی تک تو پہنچا نہیں ، خدا تعالیٰ کو کیا ڈھونڈتا ہے ۔ تو تو خود سے بھاگا ہوا ہے (اپنے آپ سے دور ہے ) تو آشنا کیا تلاش کرتا ہے ۔

You have not reached Man, so why do you seek God? You have fled from your self; why do you seek a friend?

2

دگر به شاخ گل آویز و آب و نم درکش

پریده رنگ ز باد صبا چه می‌جویی

تو پھر پھول (اسلام) کی شاخ سے لٹک اور پانی اور نمی جذب کر لے ۔ اے اڑے ہوئے رنگ والے (کملائے ہوئے پھول) تو بادصبا سے کیا تلاش کرتا ہے ۔

Hang again on the rose-twig and suck in the sap and the dew; faded blossom, what are you seeking from the zephyr?

3

دو قطره خون دلست آنچه مشک می‌نامند

تو ای غزال حرم در ختا چه می‌جویی

جسے کستوری کہا جاتا ہے وہ خون دل کے دو قطرے ہی تو ہیں ۔ اے حرم کے ہرن تو ملک خطا میں کیا ڈھونڈتا ہے (غزال حرم سے مراد مسلمان ہے ) ۔

What they call musk is two drops of the heart’s blood; gazelle of the Sanctuary, what are you seeking in Cathay?

4

عیار فقر ز سلطانی و جهانگیری است

سریر جم بطلب، بوریا چه می‌جویی

فقر کی کسوٹی سلطانی اور جہانگیری ہے ۔ تو جمشید کا تخت طلب کر، بوریا کیا ڈھونڈ رہا ہے

Poverty’s assay is by sovereignty and world-dominion; seek Jamshid’s throne-why do you seek a reed-mat?

5

سراغ او ز خیابان لاله می‌گیرند

نوای خون شدهٔ ما ز ما چه می‌جویی

اس کا سراغ تو لالہ کی کیاریوں سے لگایا جاتا ہے ۔ ہماری خوں شدہ نوا کو ہم سے کیا ڈھونڈتا ہے ۔

Men track it out from the garden of tulips; why do you seek from me the song drenched with blood?

6

نظر ز صحبت روشندلان بیفزاید

ز درد کم‌بصری توتیا چه می‌جویی

روشن ضمیر حضرات کی صحبت سے نظر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ تو اپنی کمزورنظروں کے لیے سرمے کی تلاش کر رہا ہے ۔

The vision augments through the company of the enlightened of heart; why do you seek collyrium from the sorrow of the short-sighted?

7

قلندریم و کرامات ما جهان‌بینی است

ز ما نگاه طلب ، کیمیا چه می‌جویی

ہم قلندرہیں اور ہماری کرامات جہاں بینی ہے ۔ تو ہم سے نگاہ طلب کر، کیمیا کیا تلاش کرتا ہے ۔

We are calenders, and our miracle is world-vision; seek vision from us-why seek the philosopher’s stone?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شیشهٔ صبر و سکونم ریز ریز

پیر رومی گفت در گوشم که خیز

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 10 - زنده رود رخصت می‌شود از فردوس برین و تقاضای حوران بهشتی

اگلی نظم

گرچه جنت از تجلی های اوست

جان نیاساید به جز دیدار دوست

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 12 - حضور

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به عجز کوش ز نشو و نما چه می‌جویی

به خاک ریشهٔ توست از هوا چه می‌جویی

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2826

چو محو عشق شدی رهنما چه می‌جویی

به بحر غوطه زدی ناخدا چه می‌جویی

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2827

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور