غزل زندہ رود
Ghazal of Zinda-Rud
به آدمی نرسیدی ، خدا چه میجویی
ز خود گریختهای آشنا چه میجویی
تو آدمی تک تو پہنچا نہیں ، خدا تعالیٰ کو کیا ڈھونڈتا ہے ۔ تو تو خود سے بھاگا ہوا ہے (اپنے آپ سے دور ہے ) تو آشنا کیا تلاش کرتا ہے ۔
You have not reached Man, so why do you seek God? You have fled from your self; why do you seek a friend?
دگر به شاخ گل آویز و آب و نم درکش
پریده رنگ ز باد صبا چه میجویی
تو پھر پھول (اسلام) کی شاخ سے لٹک اور پانی اور نمی جذب کر لے ۔ اے اڑے ہوئے رنگ والے (کملائے ہوئے پھول) تو بادصبا سے کیا تلاش کرتا ہے ۔
Hang again on the rose-twig and suck in the sap and the dew; faded blossom, what are you seeking from the zephyr?
دو قطره خون دلست آنچه مشک مینامند
تو ای غزال حرم در ختا چه میجویی
جسے کستوری کہا جاتا ہے وہ خون دل کے دو قطرے ہی تو ہیں ۔ اے حرم کے ہرن تو ملک خطا میں کیا ڈھونڈتا ہے (غزال حرم سے مراد مسلمان ہے ) ۔
What they call musk is two drops of the heart’s blood; gazelle of the Sanctuary, what are you seeking in Cathay?
عیار فقر ز سلطانی و جهانگیری است
سریر جم بطلب، بوریا چه میجویی
فقر کی کسوٹی سلطانی اور جہانگیری ہے ۔ تو جمشید کا تخت طلب کر، بوریا کیا ڈھونڈ رہا ہے
Poverty’s assay is by sovereignty and world-dominion; seek Jamshid’s throne-why do you seek a reed-mat?
سراغ او ز خیابان لاله میگیرند
نوای خون شدهٔ ما ز ما چه میجویی
اس کا سراغ تو لالہ کی کیاریوں سے لگایا جاتا ہے ۔ ہماری خوں شدہ نوا کو ہم سے کیا ڈھونڈتا ہے ۔
Men track it out from the garden of tulips; why do you seek from me the song drenched with blood?
نظر ز صحبت روشندلان بیفزاید
ز درد کمبصری توتیا چه میجویی
روشن ضمیر حضرات کی صحبت سے نظر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ تو اپنی کمزورنظروں کے لیے سرمے کی تلاش کر رہا ہے ۔
The vision augments through the company of the enlightened of heart; why do you seek collyrium from the sorrow of the short-sighted?
قلندریم و کرامات ما جهانبینی است
ز ما نگاه طلب ، کیمیا چه میجویی
ہم قلندرہیں اور ہماری کرامات جہاں بینی ہے ۔ تو ہم سے نگاہ طلب کر، کیمیا کیا تلاش کرتا ہے ۔
We are calenders, and our miracle is world-vision; seek vision from us-why seek the philosopher’s stone?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور