صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 12 - حضور

بخش 12 - حضور

حق تعالیٰ کی جناب میں

Epiphany of the Divine Majesty

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

گرچه جنت از تجلی های اوست

جان نیاساید به جز دیدار دوست

اگرچہ جنت اس (خدا) کی تجلیوں میں سے ہے مگر جان اس محبوب کے دیدار کے بغیر سکون ہی نہیں پاتی ۔

Though Paradise is a manifestation of Him the soul reposes not, save in the vision of Him.

2

ما ز اصل خویشتن در پرده ایم

طائریم و آشیان گم کرده ایم

ہم اپنی اصل کے لحاظ سے پردے میں ہیں ۔ ہم پرندے ہیں اور اپنا گھونسلا گم کر چکے ہیں ۔

We are veiled from our Origin; we are as birds who have lost our nest.

3

علم اگر کج فطرت و بد گوهر است

پیش چشم ما حجاب اکبر است

علم اگر کج فطرت اور بدگوہر ہو تو وہ علم ہماری آنکھوں کے سامنے بڑا حجاب بن جاتا ہے ۔

If knowledge is perverse and evil of substance it is the greatest curtain before our eyes;

4

علم را مقصود اگر باشد نظر

می شود هم جاده و هم راهبر

اگر علم کا مقصود ایسی نظر پیدا کرنا ہے جو راہ بیں ، خدا بیں اور خود بیں ہو تو وہ علم خود ہی راستہ بھی ہے اور خود ہی راہبر بھی ہے ۔

But if the object of knowledge is contemplation it becomes at once the highway and the guide,

5

می نهد پیش تو از قشر وجود

تا تو پرسی چیست راز این نمود

ایسا علم تیرے سامنے وجود کا چھلکا رکھتا ہے تاکہ تو یہ پوچھے کہ اس نمود کا راز کیا ہے ۔

Laying bare before you the shell of being that you may ask, ‘What is the secret of this display?’

6

جاده را هموار سازد اینچین

شوق را بیدار سازد اینچنین

ایسا علم راستے کو اس طرح ہموار کر دیتا ہے اور شوق کو اس طرح بیدار کر دیتا ہے ۔

Thus it is that knowledge smoothes the road, thus it is that it awakens desire;

7

درد و داغ و تاب و تب بخشد ترا

گریه های نیم شب بخشد ترا

وہ تجھے عشق کا درد، داغ، حرارت اور تڑپ عطا کرتا ہے ۔ تجھے آدھی رات کا رونا عطا کرتا ہے ۔

It gives you pain and anguish, fire and fever, it gives you mid-night lamentations.

8

علم تفسیر جهان رنگ و بو

دیده و دل پرورش گیرد ازو

ایسا علم اس جہان رنگ و بو کی تفسیر ہے، یعنی اس کائنات کی وضاحت کرتا ہے ۔ جس سے دیدہ و دل کی پرورش ہوتی ہے ۔

From the science of the interpretation of the world of colour and scent your eyes and your heart derive nourishment;

9

بر مقام جذب و شوق آرد ترا

باز چون جبریل بگذارد ترا

وہ علم تجھے جذب و شوق کے مقام پر لاتا ہے اور پھر تجھے جبرئیل کی طرح چھوڑ دیتا ہے ۔

It brings you to the stage of ecstasy and yearning and then suffers you like Gabriel to stand.

10

عشق کس را کی بخلوت می برد

او ز چشم خویش غیرت می برد

عشق کسی کو خلوت میں کب لے جاتا ہے ۔ وہ تو اپنی نظر سے بھی غیرت کھاتا ہے ۔

How shall love bring any soul to the Solitude, seeing love is jealous of its own eyes?

11

اول او هم رفیق و هم طریق

آخر او راه رفتن بی رفیق

ابتدا عشق میں تو رفیق (ساتھی) بھی ہے اور طریق بھی مگر اس کا آخر رفیق کے بغیر راستہ طے کرنا ہے ۔

Its beginning is the road and the companion, its end, travelling the road without companion.

12

در گذشتم زان همه حور و قصور

زورق جان باختم در بحر نور

میں نے سب حوروں اور محلوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور اپنی جان کی کشتی نور کے سمندر میں بہا دی (حضور حق کی طرف رخ کیا ) ۔

I passed on from all the houris and places and hazarded the soul’s skiff on the sea of light.

13

غرق بودم در تماشای جمال

هر زمان در انقلاب و لایزال

میں محبوب کے جمال کے نظارے میں مست ہو گیا ۔ وہ جمال لا یزال ہر لمحہ بدلنے کے باوجود زوال پذیر نہیں ہوتا تھا ۔

I was drowned in the contemplation of Beauty, which is constantly in eternal revolution;

14

گم شدم اندر ضمیر کائنات

چون رباب آمد بچشم من حیات

میں کائنات کے ضمیر میں کھو گیا، غرق ہو گیا اور میری نگاہوں کو زندگی رباب کی مانند نظر آئی ۔

I became lost in the heart of creation till life appeared to me like a rebeck

15

آنکه هر تارش رباب دیگری

هر نوا از دیگری خونین تری

وہ رباب کہ جس کا ہر تار ایک نیا رباب تھا اس کا ہر نغمہ پہلے نغمہ سے زیادہ خونیں تر تھا ۔

Whose every string was another lute, each melody more blood-drenched than the other.

16

ما همه یک دودمان نار و نور

آدم و مهر و مه و جبریل و حور

ہم سب آگ اور نور کے ایک ہی خاندان سے ہیں ۔ ہم سب یعنی آدم اور سورج اور چاند اور جبرئیل اور حور بھی ۔

We are all one family of fire and light, man, sun and moon, Gabriel and houri.

17

پیش جان آئینه ئی آویختند

حیرتی را با یقین آمیختند

میری جان کے سامنے آئینہ لٹکا دیا گیا اور میری حیرت کو یقین کے ساتھ ملا دیا گیا ۔

Before the soul a mirror has been hung, bewilderment mingled with certainty;

18

صبح امروزی که نورش ظاهر است

در حضورش دوش و فردا حاضر است

میں نے دیکھا کہ آج کی صبح کہ جس کا نور ظاہر ہے ، اس ذات کے حضور گزری ہوئی کل اور آنے والی کل کی صبح حاضر ہے ۔

Today’s dawn, whose light is manifest, in His Presence is yesterday and tomorrow ever present.

19

حق هویدا با همه اسرار خویش

با نگاه من کند دیدار خویش

یہاں حق اپنے تمام اسرار کے ساتھ ظاہر تھا ۔ جہاں وہ میری نگاہ سے اپنا دیدار کر رہا تھا ۔

God revealed in all His mysteries, with my eyes makes vision of Himself.

20

دیدنش افزودن بی کاستن

دیدنش از قبر تن برخاستن

اس کا دیکھنا کم ہونے کے بغیر بڑھنا ہے، اس کا دیکھنا (جمال حق کا مشاہدہ کرنا) بدن کی قبر سے اٹھنا ہے ۔

To see Him is to wax ever without waning, to see Him is to rise from the body’s tomb;

21

عبد و مولا در کمین یکدگر

هر دو بیتاب اند از ذوق نظر

بندہ و مولا دونوں ایک دوسرے کی تلاش میں ہیں اور دونوں ذوق نظر کے سبب بیقرار ہیں ۔

Servant and Master lying in wait on one another, each impatiently yearning to behold the other.

22

زندگی هر جا که باشد جستجوست

حل نشد این نکته من صیدم که اوست

زندگی جہاں بھی ہے وہ تلاش و جستجو میں مصروف ہے ۔ یہ نکتہ حل نہیں ہوا کہ میں شکار ہوں یا وہ شکار ہے ۔

Life, wherever it may be, is a restless search; unresolved is this riddle-am I the quarry, or is He?

23

عشق جان را لذت دیدار داد

با زبانم جرأت گفتار داد

عشق نے جاں کو دیدار کی لذت بخشی اورمیری زبان کو بات کرنے کی جرات بھی عطا کی ۔

Love gave my soul the delight of beholding, gave my tongue the boldness to speak:

24

ای دو عالم از تو با نور و نظر

اندکی آن خاکدانی را نگر

اے (ذات کریم) کہ دونوں جہان تیری وجہ سے نور اور نظر والے ہیں ، ذرا اس خاکدان (مادی دنیا) کو بھی دیکھ ۔

Thou who givest light and vision to both worlds, look a little while on yonder ball of clay.

25

بندهٔ آزاد را ناسازگار

بر دمد از سنبل او نیش خار

یہ آزاد بندے کے لیے سازگار نہیں ہیں ، اس کے گل سنبل سے کانٹے کا زخم پیدا ہوتا ہے ۔

Uncongenial to the free servitor, from its hyacinths springs the sting of thorns.

26

غالبان غرق اند در عیش و طرب

کار مغلوبان شمار روز و شب

غالب لوگ تو عیش و عشرت میں غرق ہیں اور مغلوب (کمزور) گن گن کر دن رات گزارتے ہیں ۔

The victors are drowned in pleasure and enjoyment, the vanquished have only to count the days and nights.

27

از ملوکیت جهان تو خراب

تیره شب در آستین آفتاب

ملوکیت نے تیرا جہان برباد کر دیا ہے اور اس کے آفتاب کی آستین میں تاریک رات چھپی ہے ۔

Thy world has been wasted by imperialism, dark night ravelled in the sleeve of the sun.

28

دانش افرنگیان غارتگری

دیر ها خیبر شد از بی حیدری

انگریزوں کی دانش غارت گری ہے ۔ بے حیدری (حضرت علی حیدر جیسی شخصیت دلیر کے بغیر) کے باعث بت کدے خیبر بن گئے ہیں ۔

The science of Westerners is spoliation; the temples have turned to Khaibar, without a Haidar.

29

آنکه گوید لااله بیچاره ایست

فکرش از بی مرکزی آواره ایست

وہ جو (مسلمان) لا الہ کہتا ہے وہ بیچارہ ہے جس کا فکر بے مرکزی آوارہ ہو چکا ہے ۔

He who proclaims ‘No god but God’ is helpless; his thought, having no centre, wanders astray,

30

چار مرگ اندر پی این دیر میر

سود خوار و والی و ملا و پیر

مشکل سے مرنے والے سخت جاں اس مسلمان کی گھات میں یہ چارا موات لگی ہوئی ہیں سود خوار اور حاکم اور ملا اور پیر ۔

Slowly dying, pursued by four deaths – the usurer, the governor, the mullah, the shaikh.

31

اینچنین عالم کجا شایان تست

آب و گل داغی که بر دامان تست

اس قسم کا جہان (اے خدا) تیری شان کے لائق نہیں ہے ۔ یہ پانی اور مٹی کا جہان تیرے دامن پر ایک داغ بن چکا ہے ۔

How is such a world worthy of Thee? Water and clay are a stain upon Thy skirt.’

بند 2
ندای جمال

The Voice of Beauty

Toggle stanza 2
32

کلک حق از نقشهای خوب و زشت

هر چه ما را سازگار آمد نوشت

حق کے قلم نے اچھے اور برے نقش میں سے جو بھی ہمارے موافق تھا وہ لکھ دیا ۔

The Pen of God such images fair and foul wrote exactly as became each one of us.

33

چیست بودن دانی ای مرد نجیب؟

از جمال ذات حق بردن نصیب

اے مرد نجیب! کیا تو جانتا ہے کہ زندہ رہنا کیا ہے وہ ذات حق کے جمال سے نصیب حاصل کرنا ہے ۔

Noble sir, do you know what it is, to be? It is to take one’s share of the beauty of God’s Essence.

34

آفریدن جستجوی دلبری

وانمودن خویش را بر دیگری

تخلیق کرنا کیا ہے دلبر کی تلاش ہے اور اپنی ذات کو کسی دوسرے پر ظاہر کرنا ہے ۔

Creating? It is to search for a beloved, to display one’s self to another being.

35

اینهمه هنگامه های هست و بود

بی جمال ما نیاید در وجود

زندگی اور عدم ، نیستی کے جتنے بھی ہنگامے ہیں وہ ہمارے جمال کے بغیر وجود میں نہیں آتے ۔

All these tumultuous riots of being without our beauty could not come to exist.

36

زندگی هم فانی و هم باقی است

این همه خلاقی و مشتاقی است

زندگی فانی بھی ہے اور بقا والی بھی ہے ۔ یہ سب عمل تخلیق اور ذوق عشق کو بقا والی یعنی حیات بن سکتے ہو ۔

Life is both transient and everlasting; all this is creativity and vehement desire.

37

زنده ئی؟ مشتاق شو خلاق شو

همچو ما گیرندهٔ آفاق شو

اگر تو زندہ ہے تو پھر مشتاق بن اور جس طرح میں نے اپنی تجلی سے کائنات کی ہر شے تخلیق کی ہے تو بھی اسی طرح ہر شے کا خالق بن جا اور اپنے اس عمل سے ہماری طرح آفاق کا احاطہ کر لے ۔

Are you alive? Be vehement, be creative; like Us, embrace all horizons;

38

در شکن آنرا که ناید سازگار

از ضمیر خود دگر عالم بیار

جو تیرے موافق حال نہیں ہے تو اسے توڑ دے اور اپنے ضمیر سے ایک نئی دنیا وجود میں لا ۔

Break whatsoever is uncongenial, out of your heart’s heart produce a new world;

39

بندهٔ آزاد را آید گران

زیستن اندر جهان دیگران

آزاد بندے کو دوسروں کے جہان میں زندگی بسر کرنا گراں گزرتا ہے ۔

It is irksome to the free servitor to live in a world belonging to others.

40

هر که او را قوت تخلیق نیست

پیش ما جز کافر و زندیق نیست

جس کے اندر قوت تخلیق نہیں ہے ، ہمار ے سامنے کافر اور زندیق کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

Whoever possesses not the power to create in Our sight is naught but an infidel, a heathen;

41

از جمال ما نصیب خود نبرد

از نخیل زندگانی بر نخورد

جس نے ہمارے جمال سے اپنا حصہ نہ پایا اس نے حقیقی زندگی کے درخت سے پھل نہ کھایا ۔

Such a one has not taken his share of Our Beauty, has not tasted the fruit of the Tree of Life.

42

مرد حق برنده چون شمشیر باش

خود جهان خویش را تقدیر باش

اے مرد حق تو تلوار کی طرح کاٹنے والا بن، ہر تیز رہ اور اپنے جہان کی تقدیر خود ہی بن ۔

Man of God, be trenchant as a sword, be yourself your own world’s destiny!

بند 3
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
43

چیست آئین جهان رنگ و بو

جز که آب رفته می ناید بجو

اس جہان رنگ و بو کا آئین کیا ہے ۔ صرف یہ ہے کہ گزرا ہوا پانی واپس ندی میں نہیں آتا، یعنی گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ۔

What law governs the world of colour and scent, but that water once flowed returns not to the stream?

44

زندگانی را سر تکرار نیست

فطرت او خوگر تکرار نیست

زندگی میں تو تکرار کی بات یہ نہیں ہے، اس کی فطرت تو تکرار کی عادی ہی نہیں ہے ۔

Life has no desire for repetition; its nature is not habituated to repetition;

45

زیر گردون رجعت او را نارواست

چون ز پا افتاد قومی برنخاست

آسمان کے نیچے یعنی اس دنیا میں اس کا واپس آنا، اس زندگی کے لیے نامناسب ہے ۔ ایک قوم جب پاؤں سے گر جاتی ہے تو پھر وہ دوبارہ نہیں اٹھتی ۔

Beneath the sky, reversion is unlawful to life once a people has fallen, it rises not again.

46

ملتی چون مرد ، کم خیزد ز قبر

چارهٔ او چیست غیر از قبر و صبر

جب کوئی قوم مرجاتی ہے تو وہ قبر سے نہیں اٹھتی ۔ اس کا چارہ قبر اورصبر کے سوا اور کیا ہے ۔

When a nation dies, it rarely rises from the grave; what recourse has it, but the tomb and resignation?

بند 4
ندای جمال

The Voice of Beauty

Toggle stanza 4
47

زندگانی نیست تکرار نفس

اصل او از حی و قیوم است و بس

زندگی سانسوں کے بار بار آنے کا نام نہیں ہے ۔ اس کی اصل تو حی و قیوم سے ہے ۔

Life is not a mere repetition of the breath; its origin is from the Living, Eternal God.

48

قرب جان با آنکه گفت «انی قریب»

از حیات جاودان بردن نصیب

اس ذات حق سے قرب پیدا کرنا جس کا فرمان ہے کہ اے بندے میں تیرے قریب ہوں ہمیشہ کی زندگی ، حیات جاوید پانا ہے ۔

The soul near to Him who said ‘Lo, I am nigh’ – that is to take one’s share of everlasting life.

49

فرد از توحید لاهوتی شود

ملت از توحید جبروتی شود

ایک فرد توحید لاہوتی ہو جاتا ہے جب کہ توحید پر ایمان کے باعث ایک قوم جبروتی ہو جاتی ہے ۔ مراد آدمی اپنے اندر خدائی صفات پیدا کر کے ان صفات کا مظہر بنتا ہے ۔ اسی کے سبب ایک قوم غالب و حکمران بن جاتی ہے ۔

The individual through the Unity becomes Divine, the nation through the Unity becomes Omnipotent;

50

بایزید و شبلی و بوذر ازوست

امتان را طغرل و سنجر ازوست

اسی (اللہ تعالیٰ کے قرب سے ) بایزید اور شبلی اور ابوذرغفاری جیسے اصحاب کرام پیدا ہوئے ہیں ۔ قوموں کے لیے طغرل اور سنجر جیسے حکمران اسی ایمان کی وجہ سے وجود میں آئے ۔

Unity produced Ba Yazid, Shibli, Bu Dharr, Unity produced, for the nations, Tughril and Sanjar.

51

بی تجلی نیست آڈم را ثبات

جلوهٔ ما فرد و ملت را حیات

تجلی کے بغیر آدم کو ثبات نہیں ہے ۔ اور ہمارا (خدا کا ) جلوہ ہی فرد اور قوم کو زندگی بخشتا ہے ۔

Without the Divine Epiphany man has no permanence; Our Manifestation is life to individual and nation;

52

هر دو از توحید می گیرد کمال

زندگی این را جلال ، آنرا جمال

دونوں (فرد اور ملت) توحید ہی سے کامل ہوپاتے ہیں ۔ اسی (ملت) کے لیے زندگی جلال اور اس فرد کے لیے جمال ہے ۔

Both attain their perfection through the Unity, life being for the latter Majesty, for the former Beauty.

53

این سلیمانی است آن سلمانی است

آن سراپا فقر و این سلطانی است

یہ (جلال) خدا پسند بادشاہت ہے جب کہ وہ (جمال) خدا پسند فقر ہے ۔ وہ سراسر فقر ہے اور یہ سلطانی ہے ۔ (سلیمانی اشارہ ہے حضرت سلیمان کی طرف جو پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی، سلمانی اشارہ ہے حضرت سلمان فارسی کی طرف جو حضور اکرم کے درویش صحابی تھے) ۔

The one is of Solomon, the other of Salman, the one perfect poverty, the other all power:

54

آن یکی را بیند ، این گردد یکی

در جهان با آن نشین با این بزی

وہ (فرد) ایک کو دیکھتا ہے توحید پر ایمان رکھتا ہے تو یہ اس بنا پر ایک متفق و متحد قوم بن جاتی ہے ۔ دنیا میں تو تو حید پر ایمان رکھنے والوں کے ساتھ محبت رکھ اور اس متحدہ قوم کے ساتھ زندگی بسر کر جو ہر طرح کے نسب و نسل، زبان و وطن وغیرہ کے اختلاف کے باوجود ایک ہی قوم ہے ۔

The one sees there is One, the other becomes one – while in the world, sit with the former, live with the latter!

55

چیست ملت ایکه گوئی لااله

با هزاران چشم بودن یک نگه

اے (کلمہ گو مسلمان ) لا الہ کہنے والے کیا تو جانتا ہے کہ ملت کیا ہے، یہ ہزاروں آنکھوں کے ساتھ ایک ہی نگاہ کا پیدا ہونا ہے ۔

What is the nation, you who declare ‘No god but God’? With thousands of eyes, to be one in vision.

56

اهل حق را حجت و دعوی یکیست

خیمه های ما جدا دلها یکی است

اہل حق کی دلیل اور دعویٰ ایک ہے ۔ ہمارے خیمے الگ الگ ہیں لیکن دل ایک ہے ۔

The proof and claim of God’s people are always One: ‘Our tents are apart, our hearts are one.’

57

ذره ها از یک نگاه آفتاب

یک نگه شو تا شود حق بی حجاب

ایک نگاہ ہونے کے سبب ذرے آفتاب بن جاتے ہیں ۔ تو بھی یک نگاہ ہو جا تاکہ حق تعالیٰ کو بے حجاب دیکھ سکے ۔

Oneness of vision converts the motes to the sun; be one of vision, that God may be seen unveiled.

58

یک نگاهی را بچشم کم مبین

از تجلی های توحید است این

تو یک نگاہی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھ ۔ یہ بھی توحید کی تجلیوں میں سے ایک تجلی ہے ۔

Do not look slightingly on oneness of vision; this is a true epiphany of the Unity.

59

ملتی چون می شود توحید مست

قوت و جبروت می آید بدست

جب کوئی ملت توحید میں مست ہوجاتی ہے تو وہ قوت و جبروت کی مالک بن جاتی ہے ۔

When a nation becomes drunk with the Unity power, yea, omnipotence lies in its grasp.

60

روح ملت را وجود از انجمن

روح ملت نیست محتاج بدن

ملت کی روح کا وجود انجمن سے ہے ۔ ملت کی روح بدن کی محتاج نہیں ہے ۔

A nation’s spirit exists through association; a nation’s spirit has no need of a body.

61

تا وجودش را نمود از صحبت است

مرد چون شیرازهٔ صحبت شکست

چونکہ اس کے وجود کی نمود باہمی مل بیٹھنا سے ربط باہم ہے ۔ اس لیے جب اس ملت کی صحبت کا شیرازہ بکھر گیا تو وہ قوم مر جاتی ہے ۔

Since its being manifests out of companionship, it dies when the bands of companionship are broken.

62

مرده ئی از یک نگاهی زنده شو

بگذر از بی مرکزی پاینده شو

کیا تو مردہ ہے اگر ایسا ہے تو یک نگاہی سے زندہ ہو جا ۔ بے مرکزی سے گزر جا اور صاحب بقا بن جا ۔

Are you dead? Become living through oneness of vision; cease to be centreless, become stable.

63

وحدت افکار و کردار آفرین

تا شوی اندر جهان صاحب نگین

افکار اور کردار کی وحدت پیدا کر تا کہ تو دنیا میں حکمران بن جائے ۔

Create unity of thought and action, that you may possess authority in the world.

بند 5
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 5
64

من کیم تو کیستی عالم کجاست

در میان ما و تو دوری چراست

میں کون ہوں ، تو کون ہے میرے اور آپ کے درمیان دوری کس لیے ہے

Who am I? Who art Thou? Where is the world? Why is there a distance between me and Thee?

65

من چرا در بند تقدیرم بگوی

تو نمیری من چرا میرم بگوی

فرمائیے کہ میں تقدیر کی زنجیر میں کیوں قید ہوں ۔ توتو مرتا نہیں لیکن میں کیوں مرتا ہوں اس سلسلے میں کچھ فرمائیے ۔

Say, why am I in the bonds of destiny? Why dost Thou die not, whilst I die?

بند 6
ندای جمال

The Voice of Beauty

Toggle stanza 6
66

بوده ئی اندر جهان چار سو

هر که گنجد اندرو میرد درو

تو اس چار طرفوں والی دنیا میں رہا ہے ۔ جو کوئی اس میں گم ہو جاتا ہے وہ اس میں مرجاتا ہے ۔ بقول علامہ کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

You have been in the world dimensionate, and any contained therein, therein dies.

67

زندگی خواهی خودی را پیش کن

چار سو را غرق اندر خویش کن

اگر تو زندگی (حیات جاوید) چاہتا ہے تو خودی اختیار کر اور اس جہان چار سو کو اپنے اندر غرق کر لے ۔

If you seek life, advance your selfhood; drown the world’s dimensions in your self.

68

باز بینی من کیم تو کیستی

در جهان چون مردی و چون زیستی

جب تجھے معرفت حاصل ہو جائے گی پھر تو دیکھ لے گا، کہ میں کون ہوں اور تو کون ہے اور تو آگاہ ہو جائے گا کہ تو دنیا میں کیسے مرا اور کس طرح زندہ رہا، کس طرح زندگی بسر کی ۔

You shall then behold who am and who you are how you died in the world, and how you lived.

بند 7
زنده‌رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 7
69

پوزش این مرد نادان در پذیر

پرده را از چهرهٔ تقدیر گیر

اس (مجھ) مرد ناداں کی معذرت قبول کر اور تقدیر کے چہرے سے پردہ اٹھا دے کہ تقدیر کیا ہے

Accept the excuses of this ignorant man; remove the veil from the face of destiny.

70

انقلاب روس و آلمان دیده ام

شور در جان مسلمان دیده ام

میں نے روس اور جرمنی کا انقلاب دیکھا ہے، میں نے مسلمان کی جان میں بھی شور دیکھا ہے ۔

I have seen the revolution of Russia and Germany; I have seen the tumult raging in Moslemdom,

71

دیده ام تدبیر های غرب و شرق

وانما تقدیر های غرب و شرق

میں نے مغرب و مشرق کی تدابیر بھی دیکھی ہیں ، مجھ پر مغرب و مشرق کی تقدیر بھی ظاہر فرمایئے ۔ (کہ انہیں کیا پیش آ نے والا ہے) ۔

I have seen the contrivings of West and East – prevent the destinies of West and East.

بند 8
افتادن تجلی جلال
Toggle stanza 8
72

ناگهان دیدم جهان خویش را

آن زمین و آسمان خویش را

اچانک میں نے اپنے جہان کو دیکھا، اپنے اس جہان کے زمین و آسمان کو دیکھا ۔

Epiphany of the Divine Majesty Suddenly I beheld my world, that earth and heaven of mine,

73

غرق در نور شفق گون دیدمش

سرخ مانند طبر خون دیدمش

میں نے اسے شق گوں نور میں غرق (شفق کی مانند سرخ خون میں نہائے ہوے) دیکھا ۔ اسے طبر خوں کی مانند سرخ دیکھا ۔

I saw it drowned in a light of dawn; I saw it crimson as a jujube-tree:

74

زان تجلی ها که در جانم شکست

چون کلیم الله فتادم جلوه مست

ان تجلیوں کے سبب جو میری جان پر گریں ، میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی طرح جلوہ مست ہو گیا ۔

Out of the epiphanies which broke in my soul I fell drunk with ecstasy, like Moses.

75

نور او هر پردگی را وانمود

تاب گفتار از زبان من ربود

اس تجلی کے نور نے ہر پوشیدہ چیز کو ظاہر کر دیا اور میری زبان سے بولنے کی قوت بھی چھین لی ۔

That light revealed every secret veiled and snatched the power of speech from my tongue.

76

از ضمیر عالم بی چند و چون

یک نوای سوزناک آمد برون

عالم لا مکاں کے ضمیر سے ایک پرسوز آواز سنائی دی جو کہہ رہی تھی کہ ۔

Out of the deep heart of the inscrutable world an ardent, flaming melody broke forth.

77

«بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

که نیرزد بجوی اینهمه دیرینه و نو

تو مشرق سے گزر جا اور افرنگ سے مسحور نہ ہو کہ یہ قدیم اور جدید دو جو کی بھی قیمت نہیں پاتا ۔

‘Abandon the East, be not spellbound by the West, for all this ancient and new is not worth one barleycorn.

78

آن نگینی که تو با اهرمنان باخته ئی

هم به جبریل امینی نتوان کرد گرو

وہ نگینہ جو تو نے شیطانوں کے پاس ہار دیا ہے، وہ تو جبرئیل امین کے پاس بھی گروی نہیں رکھا جا سکتا ۔

That signet-ring which you gambled away to Ahriman should not be pledged even to trusty Gabriel.

79

زندگی انجمن آرا و نگهدار خود است

ای که در قافله ئی ، بی همه شو با همه رو

زندگی انجمن آراستہ کرنے والی ا ور آپ اپنی محافظ بھی ہے، اے کہ تو قافلے میں ہے تو سب سے بے نیاز رہ اور سب کے ساتھ چل ۔

Life, that ornament of society, is guardian of itself; you who are of the caravan, travel alone, yet go with all!

80

تو فروزنده تر از مهر منیر آمده ئی

آنچنان زی که بهر ذره رسانی پرتو

تو روشن سورج سے بھی زیادہ روشن ہے، تو اس طرح کی زندگی بسر کر کہ تو ہر ذرے کو اپنی روشنی پہنچاتا رہے ۔

You have come forth brighter than the all-illumining sun; so live, that you may irradiate every mote.

81

چون پرکاه که در رهگذر باد افتاد

رفت اسکندر و دارا و قباد و خسرو

(بڑے بڑے بادشاہ جیسے) یونان کا سکندر اور ایران کا دارا اور قباد اور خسرو اس دنیا سے اس طرح چلے گئے جس طرح خشک گھاس کا تنکا ہوا کی راہ میں پڑا ہو (ہوا اسے اڑ ا کر لے جاتی ہے) ۔

Alexander, Darius, Qubad and Khusrau have departed like a blade of grass fallen in the path of the wind.

82

از تنک جامی تو میکده رسوا گردید

شیشه ئی گیر و حکیمانه بیاشام و برو»

تیری تنک جامی (کم ظرفی) کے باعث میکدہ رسوا ہو گیا ہے تو پیالہ اٹھا اور ہوش مندوں کی طرح پی اور رخصت ہو جا ۔

So slender is your cup that the tavern has been put to shame; seize a tumbler, and drink wisely, and so be gone!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به آدمی نرسیدی ، خدا چه می‌جویی

ز خود گریخته‌ای آشنا چه می‌جویی

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 11 - غزل زنده رود

اگلی نظم

این سخن آراستن بیحاصل است

بر نیاید آنچه در قعر دل است

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 13 - خطاب به جاوید: سخن به نژاد نو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور