صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »آن سوی افلاک
  4. »بخش 13 - خطاب به جاوید: سخن به نژاد نو

بخش 13 - خطاب به جاوید: سخن به نژاد نو

جاوید سے خطاب: نئی نسل سے چند باتیں

Address to Javid: A Word to the New Generation

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
سخنی به نژاد نو
Toggle stanza 1
1

این سخن آراستن بیحاصل است

بر نیاید آنچه در قعر دل است

یہ جو میں گفتگو کی محفل آراستہ کر رہا ہوں اس سے کچھ حاصل نہیں جو کچھ دل کی گہرائی میں ہے اس کا باہر آنا ممکن نہیں ۔

The verbal discourse will achieve nothing; all that is in the depth of heart cannot be described.

2

گرچه من صد نکته گفتم بی حجاب

نکته ئی دارم که ناید در کتاب

اگرچہ میں سینکڑوں نکتے واضح طور پر بیان کر چکا ہوں مگر میرے ذہن میں ایک اور نکتہ ہے جو لکھنے میں نہیں آ سکتا ۔

Although I have described openly hundreds of secrets; yet I am left with a (secret) point which cannot be penned down.

3

گر بگویم می شود پیچیده تر

حرف و صوت او را کند پوشیده تر

اگر میں وہ بیان کرتا ہوں تو وہ اور بھی پیچیدہ ہو جائے گا، اس لیے کہ میرے الفاظ او ر آواز اسے پہلے سے بھی زیادہ پوشیدہ کر دیں گے ۔

If I describe, it becomes more complicated; verbal expressions result in concealing it further.

4

سوز او را از نگاه من بگیر

یا ز آه صبحگاه من بگیر

تو اس کا سوز میری نگاہ سے حاصل کر یا پھر میری صبح کے وقت کی آہ سے حاصل کر ۔

This point derives warmth (wisdom) from my vision and my pre-dawn prayers.

5

مادرت درس نخستین با تو داد

غنچهٔ تو از نسیم او گشاد

لا الہ کا پہلا سبق تجھے تیری والدہ نے دیا ، اور اس کی باد نسیم سے تیری کلی کھل گئی ۔

Your mother taught you the first lesson (la ilah); your flower blossomed because of (her acting like) morning breeze.

6

از نسیم او ترا این رنگ و بوست

ای متاع ما بهای تو ازوست

اس کی نسیم ہی سے تجھ میں یہ رنگ و بو ہے ۔ اے ہماری متاع تیری قیمت اسی سے ہے ۔

Your colour and fragrance is because of that breeze; you are our asset, but your value is because of her (efforts).

7

دولت جاوید ازو اندوختی

از لب او لااله آموختی

تو نے (دین و ایمان کی) ہمیشہ رہنے والی دولت اسی سے حاصل کی ہے اور اس کے ہونٹوں سے تو نے لا الہ سن کر سیکھا ہے ۔

You acquired everlasting worthiness from her as you leant la ilah from her.

8

ای پسر ذوق نگه از من بگیر

سوختن در لااله از من بگیر

اے بیٹے اب تو مجھ سے ذوق نگاہ سیکھ اور لا الہ میں جلنا مجھ سے سیکھ ۔

O my son! Now get the vision from me; learn from me to smoulder in the fire of la ilah.

9

لااله گوئی بگو از روی جان

تا ز اندام تو آید بوی جان

کیا تو لا الہ الا اللہ محمد رسول ا للہ کہتا ہے اگر کہتا ہے تو روح میں ڈوب کر کہہ تاکہ تیرے جسم سے جان کی خوشبو آئے ۔

If you say la ilah, speak it from the depth of your heart so that your body may smell of soul.

10

مهر و مه گردد ز سوز لااله

دیده ام این سوز را در کوه و که

سورج اور چاند گردش (لا الہ کے سوز سے ہے ) میں نے یہ سوز پہاڑ اور تنکے میں (ہر چھوٹی بڑی شے میں ) دیکھا ہے ۔

Moon and Sun revolve because of the force of la ilah; I have seen its force pulsating in mountains and straws.

11

این دو حرف لااله گفتار نیست

لااله جز تیغ بی زنهار نیست

لا الہ کے یہ دو الفاظ محض گفتار نہیں بلکہ یہ لا الہ ایک بے زنہار تلوار کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

These two words ‘la ilah’ aren’t just verbal expression, but a sword out of its (scabbard) cover.

12

زیستن با سوز او قهاری است

لااله ضرب است و ضرب کاری است

اس لا الہ کے سوز کے ساتھ یا اس کے سوز میں جینا قہاری ہے ۔ لا الہ ایک ضرب ہے اور کاری ضرب ہے ۔

Living with it is qa’hari (ability to punish with impunity); la ilah is not just a blow, but a fatal blow.

13

مؤمن و پیش کسان بستن نطاق

مؤمن و غداری و فقر و نفاق

مومن ہوتے ہوئے غلامی کا کپڑا کمر پر باندھنا، اور مومن ہوتے ہوئے غداری اور غریبی اور نفاق کی زندگی بسر کرنا (مومن کی شان نہیں ) ۔

True Muslim and a slave of others? Muslim and indulging in betrayal, disunity and hunger?

14

با پشیزی دین و ملت را فروخت

هم متاع خانه و هم خانه سوخت

آج کے مسلمان نے دین و ملت کو ایک کوڑی کے بدلے بیچ دیا، اس نے اپنے گھر کا سامان اور اپنا گھر بھی جلا دیا ۔

Contemporary Muslim has sold his faith and Millat cheap; he has burnt his house and house-hold.

15

لااله اندر نمازش بود و نیست

نازها اندر نیازش بود و نیست

کبھی اس کی نماز میں پہلے توحید کا رنگ تھا اب نہیں رہا ۔ اس کے نیاز میں کبھی ناز تھا مگر اب نہیں رہا ۔

Once his prayer was nothing but la ilah, not now; once he was proud in humility (state of being humble), not now.

16

نور در صوم و صلوت او نماند

جلوه ئی در کائنات او نماند

اس کے روزوں اور نمازوں میں نور نہیں اس کی کائنات میں حق کا جلوہ نہیں رہا ۔

Now his prayers and fasting lack the flare of faith; his world is devoid of the Divine light.

17

آنکه بود الله او را ساز و برگ

فتنهٔ او حب مال و ترس مرگ

وہ مسلما ن جس کی زندگی کا سازوسامان خدا تھا، اب اس کا فتنہ مال کی محبت اور موت کا خوف ہے ۔

He whose source of strength was only God has fallen prey to love of money and fear of death.

18

رفت ازو آن مستی و ذوق و سرور

دین او اندر کتاب و او بگور

اس میں ذوق و سرور کی وہ مستی نہیں رہی، اس کا دین بس کتاب میں ہے اور خود وہ قبر میں ہے (مر چکا ہے) ۔

He has lost that ecstasy, ardour and zest that once characterised him; his religion is in the Book and he is in the grave.

19

صحبتش با عصر حاضر در گرفت

حرف دین را از دو «پیغمبر» گرفت

وہ جدید دور کی صحبت اختیار کر چکا ہے ۔ دین کے الفاظ اس نے دو (نام نہاد) پیغمبروں سے لے لیے ہیں ۔

He has adapted to contemporary times; he now learns religion from fake prophets.

20

آن ز ایران بود و این هندی نژاد

آن ز حج بیگانه و این از جهاد

ایک نام نہاد پیغمبر ایران سے تھا (بہا اللہ ) اور دوسرا ہندی نسل سے تھا (مرزا قادیانی) وہ ۔ وہ ایرانی حج سے بیگانہ تھا اور یہ جہاد سے ۔

One of them is Irani (Baha Ullah) and other Indian (Mirza Qadiani); first abrogated Haj and the other Jihad.

21

تا جهاد و حج نماند از واجبات

رفت جان از پیکر صوم و صلوت

جب حج اور جہاد مسلمانوں کے لیے واجب نہ رہے تو روزوں اور نمازوں کے جسم سے جان بھی نکل گئی ۔

When Haj and Jihad are out the spirit of fasting and prayer (namaz) also diminishes.

22

روح چون رفت از صلوت و از صیام

فرد ناهموار و ملت بی نظام

جب نماز اور روزے سے روح جاتی رہی تو فرد بے لگام ہو گیا اور ملت میں کوئی تنظیم نہ رہی ۔

When the spirit of fasting and prayers is gone then individual is rendered unshackled and the nation (millat) is left without any systemic regulation.

23

سینه ها از گرمی قرآن تهی

از چنین مردان چه امید بهی

آج کے مسلمانوں کے سینے قرآن کی حرارت سے خالی ہو گئے، ایسے لوگوں سے بہتری یا بھلائی کی کیا امید کی جا سکتی ہے ۔

When hearts are deprived of warmth of Holy Qur’an what good can be expected from such people?

24

از خودی مرد مسلمان در گذشت

ای خضر دستی که آب از سر گذشت

آج کا مرد مسلمان خودی کو بھول گیا، اے خضر ہاتھ پکڑا ئیے یعنی مدد کیجیے کہ پانی سر سے گزر چکا ہے ۔

Muslim has abandoned Khudi. O’Khyzer (A.S.) come to help the water has gone above heads.

25

سجده ئی کزوی زمین لرزیده است

بر مرادش مهر و مه گردیده است

ایسا سجدہ جس سے زمین کانپا کرتی تھی، جسکی مراد پر سورج اور چاند گردش کیا کرتے تھے ۔

That sajdah (that part of prostration in which the forehead touches the ground) which causes the earth to tremble; and the heavens start revolving according to his will.

26

سنگ اگر گیرد نشان آن سجود

در هوا آشفته گردد همچو دود

اگر پتھر اس سجدے کا نشان خود پر جمال لیتا تھا تو وہ دھوئیں کی طرح معمور تحلیل فضا میں منتشر ہو جایا کرتا تھا ۔

If the forehead (bearing mark of sajdah) touches a stone it would melt and evaporate into the air.

27

این زمان جز سر بزیری هیچ نیست

اندر و جز ضعف پیری هیچ نیست

آج اس زمانے میں کیے جانے والا سجدہ محض سر جھکانا ہے اور کچھ نہیں ۔ اس میں بڑھاپے کی کمزوری کے سو ا اور کچھ باقی نہیں ہے ۔

That prostration these days is nothing but bending down of the head, and is nothing but old age's weakness.

28

آن شکوه ربی الاعلی کجاست

این گناه اوست یا تقصیر ماست

وہ تسبیح ربی الاعلیٰ کی شان و شوکت کہاں رہی، یہ اس کا گناہ ہے یا ہمارا قصور ہے ۔

Where is elegance and grace of ‘Rabbi-al-ala’a’? Is it his sin or a decree against us?

29

هر کسی بر جادهٔ خود تند رو

ناقهٔ ما بی زمام و هرزه دو

ہر کوئی اپنے اپنے راستے پر تیزی سے بھاگ رہا ہے ۔ ہماری او نٹنی بھی بے لگام ہو کر بلا مقصد دوڑی جا رہی ہے ۔

Everybody is sprinting of his respective track; like a female camel without rein (unlike horses it is fixed by pricking the partition of the nose).

30

صاحب قرآن و بی ذوق طلب؟

العجب ثم العجب ثم العجب!

عجیب بات ہے کہ مسلمان صاحب قرآن ہوتے ہوئے بھی طلب کے ذوق سے محروم ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے ۔

Qur’an is in the hand (in possession) but there is no urge (for doing noble things). Strange! Very strange! Very very strange!

31

گر خدا سازد ترا صاحب نظر

روزگاری را که می آید نگر

بیٹے اگر خدا تجھے صاحب نظر بنا دے تو آ نے والے زمانے کو دیکھنا یعنی غور کرنا ۔

If God grants you insight, look at the times in which you live.

32

عقلها بیباک و دلها بی گداز

چشمها بی شرم و غرق اندر مجاز

اس دور کے لوگوں کی عقلیں بے خوف ہوں گی اور ان کے دل گداز سے خالی ہوں گے، ان کی آنکھوں میں شرم نہ ہو گی اور وہ حسن مجاز میں غرق ہوں گے ۔

Intellect of contemporary man is obstinate, his heart lacks tender feeling; his eyes are shameless and he is lost in superficial worldly beauty.

33

علم و فن دین و سیاست ، عقل و دل

زوج زوج اندر طواف آب و گل

کیا علم و فن، کیا دین و سیاست اور کیا عقل و دل، سبھی مادیات کے طواف میں گروہ گروہ لگے ہوئے ہیں یا لگے ہوں گے ۔

Knowledge and art, religion and politics, mind and heart; everything is divided into groups and have become materialistic (material worshiper).

34

آسیا آن مرز و بوم آفتاب

غیر بین از خویشتن اندر حجاب

ایشیا جو سورج کی مرزوبوم (سرزمین) ہے وہ سراسر غیر کی طرف متوجہ ہے اور خود سے پردے میں ہے ۔

Asia, the land of rising Sun, is hidden from itself and busy watching others.

35

قلب او بی واردات نو بنو

حاصلش را کس نگیرد باد و جو

اس کا دل نئی نئی واردات سے خالی ہے ۔ اس کی فکر کو کوئی دو جو کے بدلے بھی نہیں لیا ۔

Its heart is empty of new ideas and ambitions; his thoughts and ideas are not worth penny.

36

روزگارش اندرین دیرینه دیر

ساکن و یخ بسته و بی ذوق سیر

اس پرانی دنیا میں اس کی زندگی ساکن اور یخ بستہ ہے اور ذوق سیر کے بغیر ہے ۔

In this old (ancient) world his life has become static, frozen and without desire for new things.

37

صید ملایان و نخچیر ملوک

آهوی اندیشه او لنگ و لوک

وہ نام نہاد ملاؤں کا اور بادشاہوں یعنی جاگیرداروں اور نوابوں کا شکار ہو چکا ہے اس کی فکر کا ہرن لنگڑا ہے ۔

He has become prey to clerics and kings; the gazelle of his though is lame and limping (lacks sharp and conclusive thought).

38

عقل و دین و دانش و ناموس و ننگ

بسته فتراک لردان فرنگ

اس کی عقل اور اس کا دین، اس کی دانش اور اس کا ناموس و ننگ ، سب فرنگیوں کے شکار بند کی طرح بندھے ہوئے ہیں ۔

His intellect, faith, wisdom, self-respect and honour have been slung into the game-carrier of Frangis

39

تاختم بر عالم افکار او

بر دریدم پردهٔ اسرار او

میں نے اس (مشرق) کے افکار پر حملہ کیا اور اسکے رازوں کا پردہ پھاڑ کے رکھ دیا ۔

I have invaded his domain of thought and have unveiled its secrets.

40

در میان سینه دل خون کرده ام

تا جهانش را دگرگون کرده ام

میں نے اپنے سینے میں دل کو خون کر لیا ہے، تب کہیں جا کر میں نے اس کی دنیا بدل دی ہے ۔

I have bled my heart to change his world.

41

من بطبع عصر خود گفتم دو حرف

کرده ام بحرین را اندر دو ظرف

میں نے اپنے دور کی طبیعت کی دو باتیں کی ہیں ، اور میں نے دو سمندروں کو دو کوزوں میں ڈال لیا ہے ۔

I have said two things to contemporary thinkers; I have poured two oceans into these two pots.

42

حرف پیچاپیچ و حرف نیش دار

تا کنم عقل و دل مردان شکار

یہ باتیں پیچ در پیچ اور نیش دار (واشگاف) ہیں تاکہ مردوں کی عقل اور ان کے دلوں کو شکار کر سکوں ۔

I have used both indirect and direct methods so that I prey heart and mind of contemporary people.

43

حرف ته داری باند از فرنگ

نالهٔ مستانه ئی از تار چنگ

میں نے فرنگیوں کے انداز میں تہ دار باتیں کی ہیں ، اور اپنے رباب کے تاروں میں مستانہ نالے بھی پیدا کیے ہیں ۔

Like the Western style I have used multi-layered words and I have also used strings of my musical instrument to produce melody (in the form of my poetry).

44

اصل این از ذکر و اصل آن ز فکر

ای تو بادا وارث این فکر و ذکر

اس عشق کی اصل ذکر ہے اور اس عقل کی اصل فکر ہے ۔ اللہ کرے کہ تو ان دونوں فکر و ذکر کی میراثوں کا وارث بنے ۔

The origin of one is contemplation, the origin of other is thought; may you be the inheritor of them both!

45

آب جویم از دو بحر اصل من است

فصل من فصل است و هم وصل من است

میں ایک ندی ہوں ، میری اصل ان دو سمندروں (عقل و عشق) سے ہے ۔ میری جدائی ،میری جدائی بھی ہے اورمیرا وصل بھی ہے ۔

I am a stream, these two oceans are my source (origin); my flowing out from the source is separation as well as audience (unity).

46

تا مزاج عصر من دیگر فتاد

طبع من هنگامهٔ دیگر نهاد

جب سے میرے زمانے کا مزاج کچھ اور ڈھنگ کا بنا، میری طبیعت نے بھی ایک اور طرح کا ہنگامہ پیدا کیا ہے ۔

Because my contemporary time has different kind of temperament; so I too have stirred a different kind of confrontation.

47

نوجوانان تشنه لب خالی ایاغ

شسته رو تاریک جان روشن دماغ

ہمارے نوجوان پیاسے ہیں اور خالی پیالوں والے ہیں ، ان کے چہرے تو دھلے دھلائے یعنی چمکدار ہیں لیکن ان کی جانیں تاریک اور ان کے دماغ روشن ہیں (بنے ٹھنے، تاریک روح والے اور روشن خیال ہیں ) ۔

Our youth is thirsty but their glasses are empty; their faces are shining, intellect bright but their souls are in darkness.

48

کم نگاه و بی یقین و نا امید

چشم شان اندر جهان چیزی ندید

یہ نوجوان کم نگاہ، یقین کی دولت سے محروم اور نا امیدی کا شکار ہیں ۔ (بے بصیرت، بے یقین اور نا امید ہیں ) ان کی آنکھوں نے جہان کے اندر کوئی چیز نہیں دیکھی ۔

Short-sighted, lacking faith and in despair; their eyes can’t see anything in this world.

49

ناکسان منکر ز خود مؤمن به غیر

خشت بند از خاکشان معمار دیر

یہ نوجوان ناکس (بے شخصیت) ہیں ، اپنی ہستی کے تو منکر ہیں لیکن دوسروں کی ہستی پر ایمان لانے والے ہیں ، اسی لیے بت کدے کا معمار ان کی مٹی سے اینٹیں بناتا ہے ۔

The ignorant deny their own greatness but believe in others and that is why (the idol worshiper) moulds bricks out of his clay to build a temple for himself.

50

مکتب از مقصود خویش آگاه نیست

تا بجذب اندرونش راه نیست

مدرسہ اپنے مقصد سے آگا ہ نہیں ہے، اسی لیے اس نوجوان کے اندر کے جذبے تک راہ نہیں ہے ۔ (اس کی رسائی جذب اندرون تک نہیں ) ۔

Their school does not know what it wants to achieve, because it is incapable of reaching the soul.

51

نور فطرت راز جانها پاک شست

یک گل رعنا ز شاخ او نرست

اہل مکتب نے ان نوجوانوں کی جانوں سے فطرت نور کو بالکل دھو دیا ہے، جس کی وجہ سے اس مدرسہ کی شاخ سے ایک بھی خوبصورت پھول نہیں کھلا ۔

Teachers have deprived the youth of the light of the soul; that is why not a single ‘attractive flower’ has sprouted from their (schools) branches.

52

خشت را معمار ما کج می نهد

خوی بط با بچهٔ شاهین دهد

ہمارا معمار (استاد) اینٹ کو ٹیڑھا رکھتا ہے ۔ وہ (استاد) شاہیں بچوں کو بطخ کی عادت ڈال رہا ہے ۔

Our builders (teachers) lay wrongly the very first brick of foundation; they teach the ways of ducklings to chicks of falcon.

53

علم تا سوزی نگیرد از حیات

دل نگیرد لذتی از واردات

جب تک علم زندگی سے حاصل نہ کر؛ دل واردات کی لذّت سے آشنا نہیں ہوتا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Unless knowledge does not acquire warmth from the state of being, heart cannot relish the act (of life).

54

علم جز شرح مقامات تو نیست

علم جز تفسیر آیات تو نیست

علم تیرے مقامات کی شرح کے سوا اورر کچھ نہیں ، اور علم تیری آیات کی تفسیر کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

The aim of education is nothing but to explain the position of human beings in this world and its indicators.

55

سوختن میباید اندر نار حس

تا بدانی نقرهٔ خود را ز مس

پہلے احساس کی آگ میں جلنا چاہیے تاکہ تو اپنی چاندی کو تانبے سے ممتاز کر سکے ۔

Only after having been through the fire of awareness that human can distinguish between his silver and bronze.

56

علم حق اول حواس آخر حضور

آخر او می نگنجد در شعور

علم حق پہلے حواس سے ہے پھر حضور ۔ یہ آخری مرحلہ حضور شعور میں نہیں سماتا ۔

Knowledge of truth starts with sense-impressions and ends in vision; its end can't be comprehended by reason.

57

صد کتاب آموزی از اهل هنر

خوشتر آن درسی که گیری از نظر

تو عالموں سے سینکڑوں کتابیں پڑھتا ہے مگر جو سبق نگاہ سے ملتا ہے، وہ علم کتابی سے بہتر ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

You learn hundreds of books from learned teachers but the knowledge (awareness) acquired attention (of men having insight) is far better than bookish knowledge.

58

هر کسی زان می که ریزد از نظر

مست می گردد بانداز دگر

جو شراب نظر سے ٹپکتی ہے اس سے ہر شخص مختلف انداز سے مست ہوتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The vine that drips through eyes (attention) affects different people in different ways.

59

از دم باد سحر میرد چراغ

لاله زان باد سحر ، می در ایاغ

باد سحر کا جھونکا چراغ کو بجھا دیتا ہے، مگر گل لالہ اس سے جام شراب بن جاتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

(Just as) morning breeze extinguishes a candle (lamp); but a bud of lalah turns into glass of wine (blossoms into fully-fledged flower.

60

کم خور و کم خواب و کم گفتار باش

گرد خود گردنده چون پرگار باش

تھوڑا کھا ، تھوڑا سو، تھوڑی بات کر اور پرکار کی مانند اپنے گرد گردش کرتا رہ۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Eat less, sleep less, speak less and like a compass keep revolving around one point (the inner self, the soul).

61

منکر حق نزد ملا کافر است

منکر خود نزد من کافر تر است

ملا کے نزدیک حق کا منکر کافر ہے لیکن میرے نزدیک خود کا منکر کافر تر ہے۔

He who denies God is an unbeliever in the eyes of a theologian; to me, he who denies himself is a greater unbeliever.

62

آن به انکار وجود آمد «عجول،

این «عجول» و هم «ظلوم» و هم «جهول»

وہ (منکر حق) تو وجودِ مطلق کے وجود سے انکار کے باعث جلد باز ہے اوریہ (اپنا منکر) عجول (جلد باز) بھی ہے اور ظالم و جاہل بھی ہے ۔

The one is called "hasty" because of denial of Being; the other is "hasty" as well as "unjust" and "ignorant".

63

شیوهٔ اخلاص را محکم بگیر

پاک شو از خوف سلطان و امیر

تو اخلاص کے طریقے کو مضبوطی سے پکڑ اور سلطان و امیر کے خوف سے دور رہ ۔

Be steadfast in the way of sincerity and free yourself from fear of kings and landlords.

64

عدل در قهر و رضا از کف مده

قصد در فقر و غنا از کف مده

غصے میں ہو یا خوشنودی میں ہو، دونوں حالتوں میں تو عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دے ۔ اور فقر و غنا میں میانہ روی کو نہ چھوڑ ۔

In anger and happiness, do not falter in doing justice; do not stray away from ‘middle path’ in poverty and affluence.

65

حکم دشوار است تأویلی مجو

جز به قلب خویش قندیلی مجو

اگر خدا کا کوئی حکم مشکل ہو تو اس کی تاویل نہ ڈھونڈ، اپنے دل کے سوا کہیں اور سے چراغ تلاش نہ کر ۔

The Law may be difficult; don't seek escape from it; let none but your own heart be your guide.

66

حفظ جانها ذکر و فکر بی حساب

حفظ تنها ضبط نفس اندر شباب

جانوں (روح) کی حفاظت بے حساب ذکر و فکر سے ہے، ذاتِ حق کے کثرت سے ذکر کرنے میں اور جسموں (بدن) کی حفاظت جوانی میں اپنے نفس پر قابو پانے سے ہے ۔

Soul's welfare is limitless remembrance of God and rational reflection; body's welfare is self-control in youth.

67

حاکمی در عالم بالا و پست

جز به حفظ جان و تن ناید بدست

دنیا اور آخرت کے جہانوں میں سربلندی و سرداری جان اور جسم دونوں کی حفاظت کے بغیر ہاتھ نہیں آتی ۔

Higher positions of honour in this world and hereafter can only be achieved through protection of soul and body.

68

لذت سیر است مقصود سفر

گر نگه بر آشیان داری مپر

سفر کا مقصد سیر سے لذت حاصل کرنا ہے، اگر تیری نگاہ آشیانے پر ہے تو پھر تو مت اڑ ۔

To seek pleasure is the aim of traveling; if you cannot control the urge of looking back towards the nest, do not fly.

69

ماه گردد تا شود صاحب مقام

سیر آدم را مقام آمد حرام

چاند اس لیے گردش کرتا ہے تاکہ وہ صاحب مقام بن جائے ۔ جبکہ آدمی کی سیر کے لیے مقام حرام ہے (مسلسل حرکت میں رہنا ضروری ہے) ۔

The crescent revolves to become full moon; but man’s journey has no destination (he keeps rising higher and higher).

70

زندگی جز لذت پرواز نیست

آشیان با فطرت او ساز نیست

زندگی پرواز کی لذت کے سوا اور کچھ نہیں ، آشیانہ اس کی فطرت کے لیے سازگار نہیں ہے ۔

Life is nothing except enjoy the flying; nest (halt) is forbidden in man’s journey (in this world).

71

رزق زاغ و کرکس اندر خاک گور

رزق بازان در سواد ماه و هور

کوے اور گدھ کا رزق قبر کی مٹی میں ہے ۔ جبکہ بازوں کا رزق چاند اور سورج کے نواح میں ہے ۔

Livelihood of vultures and crows lies in the dead; eagles find it under the moon and sun (while flying in the sky).

72

سر دین صدق مقال اکل حلال

خلوت و جلوت تماشای جمال

دین کا راز سچ بولنے اور حلال روزی میں ہے ۔ خلوت ہو یا جلوت دونوں حالتوں میں اس ذات حق کے جمال کا نظارہ کرنے میں ہے ۔

The essence of religion is truthful speech and lawful food; to look at Beauty in solitude and in company.

73

در ره دین سخت چون الماس زی

دل بحق بر بند و بی وسواس زی

دین کے راستے میں تو ہیرے کی طرح سخت رہ ۔ دل حق تعالیٰ سے لگا اور ہر قسم کے وسوسہ سے آزاد ہو جا ۔

Live as hard as diamond in the path of religion; be in constant touch with God and live without anxiety.

74

سری از اسرار دین بر گویمت

داستانی از مظفر گویمت

میں تجھے دین کے رازوں میں سے ایک راز بتاتا ہوں ، میں سلطان مظفر کی داستان سناتا ہوں ۔

I tell you of the essence of religion and relate to you an episode from the life of Sultan Muzaffar.

75

اندر اخلاص عمل فرد فرید

پادشاهی با مقام با یزید

وہ عمل کے اخلاص میں ایک بے مثل آدمی تھا ۔

He excelled in sincerity and righteousness of his deeds; he was a king but a (God’s man) like Bayazid Bistami (R.A.)

76

پیش او اسبی چو فرزندان عزیز

سخت کوش چون صاحب خود در ستیز

اسکے پاس ایک گھوڑا تھا جسے وہ اپنے بیٹوں کی طرح عزیز رکھتا تھا ۔ یہ گھوڑا، جنگ کے موقع پر اپنے مالک کی طرح سخت کوش رہتا تھا ۔

He had a horse that was dear to him like a son; that horse was strived hard like his owner.

77

سبزه رنگی از نجیبان عرب

باوفا ، بی عیب ، پاک اندر نسب

وہ اعلیٰ عربی نسل کا سبز رنگ کا گھوڑا تھا وہ باوفا، بے عیب اور نسب میں پاک تھا ۔

Pure Arabian horse of greenish colour; faithful, faultless and of pure breed.

78

مرد مؤمن را عزیز ای نکته رس

چیست جز قرآن و شمشیر و فرس

اے نکتہ کو پا جانے والے عزیز ، مرد مومن کے لیے قر آن اور تلوار اور گھوڑے کے سوا ہوتا بھی کیا ہے ۔

O man of intelligence! for a believer, there is nothing more dear than the Qur'an, a sword and a horse.

79

من چه گویم وصف آن خیر الجیاد

کوه و روی آبها رفتی چو باد

میں اس بہر طور اصیل گھوڑے کی کیا تعریف کروں ، وہ پہاڑوں پر سے اور دریاؤں کے پانی پر سے ہوا کی طرح گزر جاتا تھا ۔

What can I tell you about qualities of that unique animal; it could pass over mountains and river like wind.

80

روز هیجا از نظر آماده تر

تند بادی طایف کوه و کمر

جنگ کے دن وہ نظر سے بھی زیادہ تیز نکلنے والا ہوتا تھا، وہ تیز ہوا کی طرح پہاڑوں اور وادیوں کو عبور کر لیتا تھا ۔

It would get alert the moment it sensed that a battlefield was around and cover the distance in no time.

81

در تک او فتنه های رستخیز

سنگ از ضرب سم او ریز ریز

اس کی دوڑ میں قیامت کے سے فتنے تھے، اس کے سموں کی ضرب سے پتھر ریزہ ریزہ ہو جاتے تھے ۔

It would strive and struggle hectically; its hoofs would crush stones into sand.

82

روزی آن حیوان چو انسان ارجمند

گشت از درد شکم زار و نژند

ایک دن انسان کا سا ارجمند وہ گھوڑا پیٹ کے درد کے باعث کمزور اور لاچار ہو گیا ۔

One day that horse respected like humans suffered from stomach pain and had gone weak.

83

کرد بیطاری علاجش از شراب

اسب شه را وارهاند از پیچ و تاب

ایک معالج حیوانات نے اس کا علاج شراب سے کیا اور بادشاہ کے اس گھوڑے کو درد سے نجات دلا دی ۔

Veterinarian treated him with wine and the horse recovered from pain.

84

شاه حق بین دیگر آن یکران نخواست

شرع تقوی از طریق ما جداست

اس حق کی پہچان رکھنے والے بادشاہ نے پھر کبھی اس گھوڑے کو سواری کے لیے نہ منگوایا ، تقویٰ کا راستہ ہمارے راستے سے الگ ہے ۔

But because of that the king never rode it; that is the way of taqwa, which is different from ours.

85

ای ترا بخشد خدا قلب و جگر

طاعت مرد مسلمانی نگر

اے نوجوان خدا تجھے قلب و جگر (دل زندہ اور بصیرت) دے تو ایک مسلمان کی اطاعت خدا دیکھ ۔ یہ عمل اس کی حق پرستی اور دینداری کی عظیم مثال ہے ۔

May God grant you true heart, see the submission of a true Muslim!

86

دین سراپا سوختن اندر طلب

انتهایش عشق و آغازش ادب

دیں کیا ہے اللہ کی طلب و جستجو میں خود کو پرسوز بنانا ہے، اسکی انتہا عشق اور اسکی ابتدا ادب ہے ۔

Religion is to burn from head to foot in search; its end is love and its beginning is correct behaviour.

87

آبروی گل ز رنگ و بوی اوست

بی ادب ، بی رنگ و بو ، بی آبروست

پھول کی آبرو اس کے رنگ و بو سے ہے، بے ادب بے رنگ و بو اور بے آبرو ہوتا ہے ۔

Flower’s elegance (grace) is because of its colour and fragrance; disrespectful has no colour, no fragrance; so he is disgraceful.

88

نوجوانی را چو بینم بی ادب

روز من تاریک می گردد چو شب

میں جب کسی نوجوان کو بے ادب دیکھتا ہوں تو میرا دن رات کی طرح تاریک ہو جاتا ہے ۔

When I see a disobedient youth; my day turns dark like a night.

89

تاب و تب در سینه افزاید مرا

یاد عهد مصطفی آید مرا

میرے سینے میں سوز بڑھ جاتا ہے اور مجھے حضور مصطفی کا ادب کا زمانہ یاد آ جاتا ہے ۔

It increases pain in my heart and the testament of Mustafa comes to my mind.

90

از زمان خود پشیمان میشوم

در قرون رفته پنهان میشوم

میں اپنے زمانے سے پشیما ن ہوں ، اس لیے میں گزری ہوئی صدیوں میں چھپ جاتا ہوں ۔

I regret my contemporary era and I take refuge in the past.

91

ستر زن یا زوج یا خاک لحد

ستر مردان حفظ خویش از یار بد

عورت کا پردہ (محرم) یا اس کا شوہر ہے یا پھر قبر کی مٹی ہے جبکہ مردوں کا پردہ اپنے آپ کو بد دوست سے بچانا ہے (بری صحبت سے بچانا ہے ) ۔

Woman’s dress (protection of her body and honour) is her husband or her grave; for man it is to stay away from bad company.

92

حرف بد را بر لب آوردن خطاست

کافر و مؤمن همه خلق خداست

بری بات کو ہونٹوں پر لانا خطا ہے ۔ کافر اور مومن سب خدا کی مخلوق ہیں ۔

It is wrong to speak ill of others; believer and unbeliever, all are God's creatures.

93

آدمیت ، احترام آدمی

با خبر شو از مقام آدمی

آدمیت انسان کا احترام و آدمی کے مقام سے باخبر ہو ۔

Humanity means respect for other human beings; you must acknowledge the respectful position of a human being.

94

آدمی از ربط و ضبط تن به تن

بر طریق دوستی گامی بزن

آدمی تن بہ تن کے ربط سے ہے، تو دوستی کے راستے پر گامزن ہو ، مطلب ایک دوسرے سے تعلق قائم کرنا اور اس تعلق کو ضبط کے تحت رکھنا ہی آدمیت ہے ۔

To establish relations with each other and discipline that with that with tolerance; this is the right path, move on that.

95

بندهٔ عشق از خدا گیرد طریق

می شود بر کافر و مؤمن شفیق

بندہ عشق خدا سے اپنا مسلک (زندگی) لیتا ہے، لہذا وہ کافر اور مومن سب کے ساتھ مشفقانہ رویہ اختیار کرتا ہے ۔

Man of love tries to follow in the Ways of God, is kind to all, believer and unbeliever alike.

96

کفر و دین را گیر در پهنای دل

دل اگر بگریزد از دل وای دل

تو کفر اور دین کو دل کی گہرائی میں رکھ ۔ اگر ایک دل دوسرے دل سے بھاگتا ہے تو ایسا دل لائق افسوس ہے ۔

Let belief and unbelief find room in the expanse of your heart; if your heart feels ill at ease, then God protect you!

97

گرچه دل زندانی آب و گل است

اینهمه آفاق آفاق دل است

اگرچہ دل بدن کے قیدخانے میں ہے ، لیکن یہ ساری کائنات دل ہی کی کائنات ہے ۔

Though the heart is placed in the prison of the body, yet the entire heaven is its heaven.

98

گرچه باشی از خداوندان ده

فقر را از کف مده از کف مده

اگر تو گاؤں کے مالکوں میں سے کیوں نہ ہو (جاگیردار ہو ) پھر بھی فقر کو ہاتھ سے مت دے، مت دے ۔

Even if you are a lord of the land, don't give up the attitude of faqr.

99

سوز او خوابیده در جان تو هست

این کهن می از نیاگان تو هست

اس فقر کا سوز تیری جان میں سویا ہوا ہے ۔ یہ پرانی شراب تیرے اسلاف کی عطا ہے ۔

The fire of fiqr is dormant in your soul; this old wine is from your ancestors.

100

در جهان جز درد دل سامان مخواه

نعمت از حق خواه و از سلطان مخواه

دنیا میں درد دل کے سوا اور کسی سامان کی خواہش نہ کر، نعمت خدا سے مانگ، بادشاہ یا حاکم وقت سے نہ مانگ ۔

In this world seek nothing but pangs of the heart, ask blessings from God and not from kings.

101

ای بسا مرد حق اندیش و بصیر

می شود از کثرت نعمت ضریر

اے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حق اندیش اور حق بین لوگ بھی دولت کی بہتات سے اندھے ہو جاتے ہیں ۔

Even many of the righteous and wise people are blinded by the affluence (of wealth).

102

کثرت نعمت گداز از دل برد

ناز می آرد نیاز از دل برد

دولت کی فراوانی دل سے گداز لے جاتی ہے ۔ وہ ناز (فخر و غرور) پیدا کرتی اور نیاز (عجز و انکساری) لے اڑتی ہے ۔

Affluence takes away tenderness from heart; it takes away humility and sows (seeds of) arrogance.

103

سالها اندر جهان گردیده ام

نم به چشم منعمان کم دیده ام

میں مدتوں دنیا میں گھوما پھرا ہوں مگر میں نے دولت مندوں کی آنکھوں میں نمی بہت کم دیکھی ہے، یعنی نہیں دیکھی ۔

I have traveled in the world for years; I have seldom seen wet eyes of the rich.

104

من فدای آنکه درویشانه زیست

وای آنکو از خدا بیگانه زیست

میں اس انسان کے قربان جاؤں جو درویشانہ زندگی بسر کرتا ہے، اور افسوس ہے اس پر جو خدا سے بیگانہ ہو کر زندگی گزارے ۔

I love him who lives like a dervish; woe to the man who lives forgetful of God!

105

در مسلمانان مجو آن ذوق و شوق

آن یقین آن رنگ و بو آن ذوق و شوق

تو آج کے مسلمانوں میں وہ پہلا سا ذوق و شوق مت تلاش کر، وہ یقین، وہ رنگ و بو اور وہ ذوق و شوق نہ تلاش کر ۔

There is no zeal and zest in contemporary Muslims; do not look for colour and fragrance of faith (he is devoid of it).

106

عالمان از علم قرآن بی نیاز

صوفیان درنده گرگ و مو دراز

آج کے علماء قرآ ن کے علم سے بے نیاز ہیں ، جب کہ صوفی گویا پھاڑ کھانے والا بھیڑیا بنے ہوئے ہیں اور دراز زلفوں والے ہیں ۔

Educated do not care about knowledge the knowledge of Qur’an; Mullahs are like ferocious wolves.

107

گرچه اندر خانقاهان های و هوست

کو جوانمردی که صهبا در کدوست

اگرچہ ان کی خانقاہوں میں ہاے و ہو کا شور ہے، مگر ان میں کوئی ایسا جوان مرد نہیں جس کے مٹکے میں شراب ہے ۔ یعنی کوئی بھی تصوف کی شراب سے سرمست نہیں ہے ۔

Although there is much activity in the monasteries, there is hardly a person who has wine in his cup.

108

هم مسلمانان افرنگی مآب

چشمهٔ کوثر بجویند از سراب

افرنگی تہذیب و ثقافت سے متاثر مسلمان بھی سراب میں سے حوض کوثر تلاش کر رہا ہے ۔

The Muslims impressed of the West search for Kausar (name of a spring in the heaven) in mirage.

109

بی خبر از سر دین اند این همه

اهل کین اند اهل کین اند این همه

یہ سب دین کے بھید راز سے بے خبر ہیں اور یہ سب اہل کیں (باہمی عداوت رکھنے والے) ہیں ، اہل کین (اہل کینہ) ہیں ۔

All are ignorant of the essence of religion, they are men of deceit and malice.

110

خیر و خوبی بر خواص آمد حرام

دیده ام صدق و صفا را در عوام

مسلمانوں کے خواص پر نیکی حرام ہو گئی ان میں سے کسی میں بھی خیر و خوبی نظر نہیں آتی، مگر ان کے عوام میں میں نے صدق و صفا دیکھا ہے ۔

I have not seen any good in the elite (rich), but common people (poor) are righteous and truthful.

111

اهل دین را باز دان از اهل کین

هم نشین حق بجو با او نشین

اہل دیں کو اہل کیں سے الگ سمجھ، تو کسی ہم نشیں حق (خدا کے ساتھ بیٹھنے والا ) کو تلاش کر اور اس کی صحبت اختیار کر ۔

Distinguish people of religion from the people of malice; see the man of God and sit in his company.

112

کرکسان را رسم و آئین دیگر است

سطوت پرواز شاهین دیگرست

گدھوں کا رسم و دستور اور ہے جب کہ شاہیں کی پرواز کی شان و شوکت کچھ اور ہے ۔ اردو میں علامہ فرماتے ہیں پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

The ways and habits of vultures are different and flight of eagles is impressively elegant.

113

مرد حق از آسمان افتد چو برق

هیزم او شهر و دشت غرب و شرق

مرد حق آسمان سے بجلی کی طرف جھپٹتا ہے، اس کا ایندھن مغرب و مشرق کے شہر و بیابان ہیں ۔

Man of God strikes like lightening and sets ablaze cities and deserts of east and west like firewood.

114

ما هنوز اندر ظلام کائنات

او شریک اهتمام کائنات

ہم ابھی تک کائنات کے اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ (مرد حق) کائنات کے انتظام میں شریک ہے ۔

We are still lying in the dark spot of the world, but he is busy administrating the world.

115

او کلیم و او مسیح و او خلیل

او محمد او کتاب او جبرئیل

وہ (مرد حق) ہی کلیم اللہ ہے مسیح ہے اور خلیل ہے وہ محمد ہے وہ کتاب ہے اور وہی جبرئیل ہے ۔

He is like Kalim, Messiah, Khalil; he is Muhammad, the Book and Gabriel.

116

آفتاب کائنات اهل دل

از شعاع او حیات اهل دل

وہ اہل دل کی کائنات سورج (انبیاء مردان حق کی بہترین مثال ہیں ) اس کی شعاعوں ہی سے اہل دل کی حیات ہے ۔

He is a sun for the people with hearts; their lives are because of his rays (prophets are the best example of men of God).

117

اول اندر نار خود سوزد ترا

باز سلطانی بیاموزد ترا

وہ مرد حق پہلے تجھے اپنی آگ میں جلاتا ہے ، پھر تجھے بادشاہی کرنا سکھاتا ہے ۔

Man of God first burns you in his own furnace; he then teaches you the royal ways.

118

ما همه با سوز او صاحبدلیم

ورنه نقش باطل آب و گلیم

ہم سبھی اس مرد حق کے سوز سے صاحب دل بنتے ہیں ، ورنہ ہم آب و گل کے باطل نقش ہوتے ۔

It is his fire that grants us a heart; otherwise we are just fake beings moulded out of soil and moisture.

119

ترسم این عصری که تو زادی درآن

در بدن غرق است و کم داند ز جان

میں اس زمانے سے جس میں تو پیدا ہوتا ہے ڈرتا ہوں اس لیے کہ وہ بدن میں غرق ہے اور روح سے بے خبر ہے ۔

I am scared of the era in which you have born; this era is has drowned (lost) in the body and unaware of soul.

120

چون بدن از قحط جان ارزان شود

مرد حق در خویشتن پنهان شود

جب بدن، روح کے قحط کے باعث سستا ہو جاتا ہے تو مرد حق خود میں چھپ جاتا ہے ۔

When body loses its value due to drought in his soul; then men of God is concealed within him (body).

121

در نیابد جستجو آن مرد را

گرچه بیند روبرو آن مرد را

تلاش و جستجو بھی اس مرد حق کو حاصل نہیں کر سکتی، اگرچہ وہ اسے اپنے سامنے ہی کیوں نہ دیکھ رہی ہو ۔

No quest can find (rediscover) that man of God; though he is always present right in front of you.

122

تو مگر ذوق طلب از کف مده

گرچه در کار تو افتد صد گره

مگر تو اس کی طلب و ذوق کا ہاتھ سے نہ دے، اگرچہ تیرے کام میں سینکڑوں الجھنیں اور مشکلیں کیوں نہ آئیں ۔

Yet you must keep your quest going even if you face numerous hardships in doing that.

123

گر نیابی صحبت مرد خبیر

از اب وجد آنچه من دارم بگیر

اگر تجھے کسی ایسے مرد حق کی صحبت میسر نہ آئے تو پھر جو کچھ میں نے اپنے آبا و اجداد سے حاصل کیا ہے تو وہ لے لے ۔

If you do not find the company of an aware man then whatever I have inherited from ancestors, you get it from me.

124

پیر رومی را رفیق راه ساز

تا خدا بخشد ترا سوز و گداز

تو پیر رومی کو اپنے راستے کا ساتھی بنا لے تا کہ خدا تجھے سوز و گداز عطا فرمائے ۔

Make Rumi your guide on the path, that God may grant you ardour and compassion.

125

زانکه رومی مغز را داند ز پوست

پای او محکم فتد در کوی دوست

اس لیے کہ رومی مغز کو چھلکے سے پہچانتے ہیں ، ان کا پا وَ ں دوست کے کوچے میں مضبوطی سے پڑتا ہے ۔

As Rumi could differentiate between husk and the grain so he enters the street of the Friend sure-footed.

126

شرح او کردند و او را کس ندید

معنی او چون غزال از ما رمید

لوگوں نے ان کی مثنوی کی شرح تو کی ہے لیکن انہیں نہیں دیکھا، اس کے معنی ہم سے ہرن کی طرح بھاگتے ہیں ، یعنی ان کی مثنوی میں جو سوز و سرور اور اسرار ہیں انہیں کوئی نہیں پا سکا ۔

People have explained his poetry, but have not understood him; meanings of his poetry remained elusive like gazelle.

127

رقص تن از حرف او آموختند

چشم را از رقص جان بر دوختند

لوگوں نے اس کے اشعار پر (وجد میں آ کر) رقص بدن سیکھا ہے؛ لیکن روح کے رقص سے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Bodies of people have whirled reciting his poetry, but their souls remained blind unable to whirl).

128

رقص تن در گردش آرد خاک را

رقص جان برهم زند افلاک را

جسم کا رقص مٹی کو گردش میں لاتا یعنی اڑاتا ہے جبکہ جان کا رقص افلاک کو تہ و بالا کر دیتا ہے ۔

Body’s dance only raises the dust; but soul’s dance causes upheaval in the heavens (initiates change, revolution).sets the

129

علم و حکم از رقص جان آید بدست

هم زمین هم آسمان آید بدست

جان کے رقص سے علم و حکمت میسر آتے ہیں اور زمین بھی اور آسمان بھی ہاتھ آتے ہیں ۔

Soul’s dance not only gets you knowledge and understanding, but also gets you this world and heavens.

130

فرد ازوی صاحب جذب کلیم

ملت ازوی وارث ملک عظیم

رقص جان سے فرد حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے سے جذبے کا مالک بن جاتا ہے، اورملت اس سے ملک عظیم کی وارث بنتی ہے ۔

Individual acquires from this acquires the ability like Moses A.S. (of talking to his Creator); the nation (millat) acquires a great country (empire).

131

رقص جان آموختن کاری بود

غیر حق را سوختن کاری بود

جان روح کا رقص سیکھنا ایک مشکل کام ہے، غیر حق یا باطل قوتوں کو جلانا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔

It is not easy to learn the dance of the soul; one learns it only by torching all the fake gods.

132

تا ز نار حرص و غم سوزد جگر

جان برقص اندر نیاید ای پسر

جب تک انسان کا جگر حرص اور غم کی آگ میں جلتا رہے گا، اے بیٹے اس وقت تک جان رقص نہیں کرے گی ۔

O my son! You can never learn the dance of the soul until you rid yourself from greedily looking towards fake gods and then feel sorry on getting nothing.

133

ضعف ایمانست و دلگیریست غم

نوجوانا «نیمه پیری است غم»

غم دل گیری ہے اور ایمان کی کمزوری ہے، اے نوجوان (حدیث میں ہے کہ ) غم آدھا بڑھاپا ہے ۔

Sorrow and despair are symptoms of weak Ayiman (faith). O my son! Sorrow and despair is half of old-age.

134

می شناسی حرص «فقر حاضر» است

من غلام آنکه بر خود قاهر است

کیا تجھے معلوم ہے کہ حرص آج کے عہد کا فقر ہے ، میں تو اس (مرد) کا غلام ہوں جو خود پر قاہر ہے (جسے اپنے آپ پر قابو ہو) ۔

Do you understand that greed is perpetual destitution; I am at the service of the man who has control over himself (controls his desires).

135

ای مرا تسکین جان ناشکیب

تو اگر از رقص جان گیری نصیب

اے کہ تو (جاوید) میری بے قرار جان کے لیے تسکین کا باعث ہے، تو اگر رقص جان سے نصیب حاصل کر لے

O my son! You are source ofsatisfaction for my restless heart; if you learn dance of the soul;

136

سر دین مصطفی گویم ترا

هم به قبر اندر دعا گویم ترا

پھر میں تجھے دین مصطفی کا راز بتاؤں گا اور میں تیرے لیے قبر کے اندر بھی دعا کرتا رہوں گا ۔

I tell you the essence of Mustafa's religion, and shall pray for you in the grave too!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گرچه جنت از تجلی های اوست

جان نیاساید به جز دیدار دوست

علامہ اقبال»جاویدنامه»آن سوی افلاک»بخش 12 - حضور

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور