صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مریخ
  4. »بخش 3 - گردش در شهر مرغدین

بخش 3 - گردش در شهر مرغدین

شہر مرغدین کی سیر

A Tour of the City of Marghadin

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
11

مرغدین و آن عمارات بلند

من چه گویم زان مقام ارجمند

مرغدین اور اسکی اونچی عمارتیں (واہ واہ) ہیں ، میں اس عظیم مقام کے بارے میں کیا کہوں ۔

Marghadin and those lofty edifices – what can I say of that noble city?

22

ساکنانش در سخن شیرین چو نوش

خوب روی و نرم خوی و ساده پوش

اس کے رہنے والے شیریں گفتار ایسے جیسے ان کی باتیں شربت کی طرح میٹھی ہوں ۔ وہ لوگ حسین و جمیل، نرم خصلت والے اور سادہ لباس پہننے والے تھے ۔

Its inhabitants sweet of speech as honey, comely their faces, gentle their manners, simple their apparel;

33

فکرشان بی درد و سوز اکتساب

رازدان کیمیای آفتاب

ان کی سوچ حصول اشیاء کے سلسلے میں کسی دکھ درد کی حامل نہیں ۔ وہ سورج کے کیمیا کے رازوں سے واقف ہیں ۔

Their thoughts innocent of the burning fever of gain, they were intimate with the secrets of the sun’s alchemy;

44

هر که خواهد سیم و زر گیرد ز نور

چون نمک گیریم ما از آب شور

جس کسی کو سونے چاندی کی خواہش ہوتی ہے وہ سورج کی روشنی سے حاصل کر لیتا ہے ، جیسے ہم شور پانی سے نمک حاصل کر لیتے ہیں ۔

Who so of them desires silver or gold gathers it from light, even as we gather salt from the briny sea.

55

خدمت آمد مقصد علم و هنر

کارها را کس نمی سنجد بزر

یہاں علم و ہنر کا مقصد دوسروں کی خدمت کرنا ہے ۔ لوگ کام کو زر (دولت) میں نہیں تولتے ۔

The aim of science and art there is service; no one weighs work done against gold;

66

کس ز دینار و درم آگاه نیست

این بتان را در حرمها راه نیست

یہاں کوئی شخص دینار اور درہم (کرنسی کے نظام) سے واقف نہیں ہے ۔ وہاں کے حرم (کعبہ) میں ان بتوں (دینار و درہم) کا کوئی دخل نہیں ہے ۔

No one is even acquainted with dinars and dirhams, these idols may not enter the sanctuary.

77

بر طبیعت دیو ماشین چیره نیست

آسمانها از دخانها تیره نیست

ان کی طبیعت پر مشینوں کا دیو یعنی بھوت غالب نہیں ہے ۔ یہاں کے آسمان مشینوں کے دھووَں سے تاریک نہیں ہیں ۔

The demon of the machine has no power over nature; the skies are not blackened by smoke;

88

سخت کش دهقان چراغش روشن است

از نهاب دهخدایان ایمن است

یہاں کا کسان جفاکش ہے اور اس کے گھر میں چراغ روشن ہے ۔ وہ زمینداروں کی لوٹ کھسوٹ اور ان کے ظلم سے محفوظ ہے ۔

The lamp of the hard-toiling farmer is always bright; he is secure from the plundering of the landlords;

99

کشت و کارش بی نزاع آب جوست

حاصلش بی شرکت غیری ازوست

ان کی کاشتکاری میں ندی کے پانی کے جھگڑے نہیں ہوتے اور فصل کسی کی شرکت کے بغیر اس کی اپنی ہے ۔ پیداوار میں کوئی اور حصے دار نہیں ۔

His tillage is not a struggle for water, his harvest is his own, no other shares in it.

1010

اندر آن عالم نه لشکر نی قشون

نی کسی روزی خورد از کشت و خون

اس جہان میں نہ تو کوئی لشکر ہے اور نہ کوئی فوج ہے اور نہ یہاں کوئی دوسروں کا خون بہا کر روزی کماتا ہے ۔

In that world there are no armies, no squadrons, none gains his livelihood by killing and murder;

1111

نی قلم در مرغدین گیرد فروغ

از فن تحریر و تشهیر دروغ

مرغدین میں فن تحریر اور جھوٹی شہرت کی خاطر قلم کو کوئی فروغ حاصل نہیں ہے ۔

In Marghadin no pen wins lustre from inscribing and disseminating lies;

1212

نی به بازاران ز بیکاران خروش

نی صدا های گدایان درد گوش

نہ تو یہاں کے بازاروں میں بے کاروں کی نعرہ بازی ہے اور نہ بھکاریوں کی کانوں کو دکھ پہنچانے والی آوازیں ہیں ۔

In the market-places there is no clamour of the workless, no whining of beggars afflicts the car.

بند 2
حکیم مریخی
Toggle stanza 2
1313

کس در اینجا سائل و محروم نیست

عبد و مولا حاکم و محکوم نیست

یہاں نہ تو کوئی سائل ہے اور نہ کوئی محروم ہے ۔ یہاں نہ کوئی غلام ہے نہ کوئی آقا ہے نہ کوئی حاکم ہے اور نہ کوئی محکوم

No one here is a mendicant or destitute, slave and master, ruler and ruled, here are none.

بند 3
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
1414

سائل و محروم تقدیر حق است

حاکم و محکوم تقدیر حق است

سائل اور محروم ہونا تو اللہ کی تقدیر ہے اور حاکم یا محکوم ہونا بھی اللہ کی تقدیر ہے ۔

Mendicant and destitute are so by God's decree, by God's decree ruler and ruled;

1515

جز خدا کس خالق تقدیر نیست

چارهٔ تقدیر از تدبیر نیست

خدا کے سوا تقدیر کا کوئی اور خالق نہیں ہے ۔

None but God is the creator of destiny and against destiny human design is powerless.

بند 4
حکیم مریخی
Toggle stanza 4
1616

گر ز یک تقدیر خون گردد جگر

خواه از حق حکم تقدیر دگر

اگر ایک تقدیر سے تیرا جگر خون ہو جاتا ہے تو تو اللہ تعالیٰ سے ایک اور تقدیر کی خواہش کر ۔

The Martian Sage If your heart bleeds on account of one destiny, petition God to decree another destiny;

1717

تو اگر تقدیر نو خواهی رواست

زانکه تقدیرات حق لا انتهاست

اگر تو ایک نئی تقدیر چاہتا ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ حق تعالیٰ کی تقدیروں کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔

If you pray for a new destiny, that is lawful, seeing that God’s destinies are infinite.

1818

ارضیان نقد خودی در باختند

نکتهٔ تقدیر را نشناختند

اہل زمین نے تو اپنی خودی کی نقدی ہار دی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ تقدیر کے نکتہ کو نہ سمجھ سکے ۔

Earthlings have gambled away the coin of selfhood, not comprehending the subtle meaning of destiny;

1919

رمز باریکش بحرفی مضمر است

تو اگر دیگر شوی او دیگر است

اس تقدیر کی گہری رمز ایک بات میں پوشیدہ ہے وہ یہ کہ اگر تو بدل جائے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے ۔

Its subtlety is contained in a single phrase: ‘If you transform yourself, it too will be transformed.’

2020

خاک شو نذر هوا سازد ترا

سنگ شو بر شیشه اندازد ترا

تو اگرخاک ہو جائے تو تجھے ہوا کی نذر کر دجائے گا (تو اڑ جائے گا) اگر تو پتھر بن جائے گا تو تجھے وہ شیشے پر مارے گی (شیشہ توڑنے کا کام لیا جائے گا ) ۔

Be dust and fate will give you the winds; be a stone and it will hurl you against glass.

2121

شبنمی؟ افتندگی تقدیر تست

قلزمی؟ پایندگی تقدیر تست

کیا تو شبنم ہے تو تیری تقدیر میں نیچے گرنا ہے ۔ اگر تو سمندر ہے تو بقا (ہمیشہ رہنا) تیری تقدیر ہے ۔

Are you a dew-drop? Your destiny is to perish; are you an ocean? Your destiny is to endure.

2222

هر زمان سازی همان لات و منات

از بتان جوئی ثبات ای بی ثبات»

تو ہر لمحہ وہی لات و منات (بت ) بناتا رہتا ہے ۔ اے فانی انسان تو بتوں سے بقا کی خواہش رکھتا ہے ۔

Every moment you are fashioning new Lats and Manats; inconstant one, do you look for constancy from idols?

2323

تا بخود ناساختن ایمان تست

عالم افکار تو زندان تست

جب تک خود سے موافقت نہ کر تیرا ایمان رہے گا، تیرے افکار تیرا قید خانہ بنے رہیں گے ۔

So long as your faith is to accord not with your self the world of your thoughts is your prison;

2424

رنج بی گنج است تقدیر اینچنین

گنج بی رنج است تقدیر اینچنین

تیرا یہ نظریہ کہ تقدیر کچھ ایسی ہے کہ محنت کرنے سے خزانہ ہاتھ نہیں آتا یعنی بغیر محنت کے خزانہ ہاتھ آ جاتا ہے یہ تقدیر ہے ۔ تیرا یہ نظریہ غلط اور نقصان دہ ہے ۔

Toil without treasure-such is destiny; treasure without toil-such is destiny!

2525

اصل دین این است اگر ای بیخبر،

می شود محتاج ازو محتاج تر

اے بے خبر انسان اگر دین کی اصل یہی ہے تو اس سے ایک محتاج دن بدن محتاج تر ہوتا جائے گا ۔

If this is the foundation of faith, ignorant fellow, then the needy will become still more in need.

2626

وای آن دینی که خواب آرد ترا

باز در خواب گران دارد ترا

اس دین پر افسوس ہے جو تجھے سلائے رکھتا ہے بلکہ تجھے گہری نیند میں مسلسل سلائے رکھتا ہے ۔

Woe to that religion which lulls you to sleep and still holds you in sleep profound!

2727

سحر و افسون است یا دین است این

حب افیون است یا دین است این

کیا یہ سحر اور جادو ہے یا یہ دین ہے کیا یہ افیون کی گولی ہے یا دین ہے

Is this religion, or magic and enchantment? Is this religion, or a grain of opium?

2828

می شناسی طبع دراک از کجاست

حوری اندر بنگه خاک از کجاست

کیا تو پہچانتا ہے کہ طبع نقطہ رس کہاں سے ہے مٹی کے حجرے یعنی انسانی بدن میں یہ حور کہاں سے آ گئی ہے

Do you know whence comes the penetrating nature, whence came this houri into your tenement of clay?

2929

قوت فکر حکیمان از کجاست

طاقت ذکر کلیمان از کجاست

حکیموں ، فلسفیوں کی فکر کی قوت کہاں ہے اور کلیموں کے ذکر کی طاقت کہاں سے ہے

Do you know whence comes the sages’ power of thought, whence the potency of prayer in God’s interlocutors?

3030

این دل و این واردات او ز کیست

این فنون و معجزات او ز کیست

یہ دل اور اس کی واردات کس کی طرف سے ہیں اس کے یہ فنون اور معجزے کہاں سے ہیں

Do you know whence came this heart, and its visitations, whence these arts, these miracles?

3131

گرمی گفتار داری از تو نیست

شعله کردار داری از تو نیست

کیا تجھ میں گرمی گفتار ہے تو یہ تجھ سے نہیں ہے ۔ کیا تجھ میں کردار کا شعلہ ہے تو یہ بھی تجھ سے نہیں ۔

Do you have fire of speech? That comes not from you; Do you have flame of action? That comes not from you.

3232

اینهمه فیض از بهار فطرت است

فطرت از پرودگار فطرت است

یہ سب فطرت کی بہار کا فیض ہے اور فطرت کی اصل پروردگار فطرت سے ہے ۔

All this is an overflow of the springtime of nature, Nature which derives from nature’s Creator.

3333

زندگانی چیست کان گوهر است

تو امینی صاحب او دیگر است

زندگانی کیا ہے یہ موتیوں کی کان ہے تو تو اس کا صرف امانت دار ہے اور اس کا مالک کوئی اور ہے ۔

What is life? A mine of gems; you are the trustee, its owner is Another.

3434

طبع روشن مرد حق را آبروست

خدمت خلق خدا مقصود اوست

ایک مرد حق کے لیے طبع روشن اس کی آبرو ہے اور خلق خدا کی خدمت اس کا مقصد ہے (یہ سب کیفیات خدا کی عطا کردہ ہیں ) ۔

A radiant nature glorifies the man of God, to serve all God’s creatures, that is his aim;

3535

خدمت از رسم و ره پیغمبری است

مزد خدمت خواستن سوداگری است

خدمت خلق پیغمبری کا طور طریقہ ہے ۔ خدمت کی اجرت یا اس کا صلہ مانگنا یا طلب کرنا سوداگری ہے ۔

Service belongs to the wont and way of prophethood; to seek a reward for service is mere commerce.

3636

همچنان این باد و خاک و ابر و کشت

باغ و راغ و کاخ و کوی و سنگ و خشت

اسی طرح یہ ہوا اور مٹی اور بادل یہ باغ اور سبزہ زار اور محل اور گلی کوچے اور سنگ وخشت ۔

Even so this wind, earth, cloud, field, orchard, meadow, palace, street, stones, bricks;

3737

ایکه میگوئی متاع ما ز ماست

مرد نادان این همه ملک خداست

جن کے بارے میں تو کہتا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری متاع ہے ۔ تو اے نادان انسان یہ سب خدا کی ملکیت ہے ۔

You who say, ‘Our property is of ourselves’, ignorant one, all this belongs to God.

3838

ارض حق را ارض خود دانی بگو

چیست شرح آیهٔ لاتفسدوا

تو خدا کی زمین کو اپنی زمین سمجھتا ہے تو پھر ذرا یہ تو بتا کہ آیہ لا تفسدو کی تفسیر (شرح) کیا ہے ۔

If you regard God’s earth as your own, then what means the verse, Work not corruption?

3939

ابن آدم دل به ابلیسی نهاد

من ز ابلیسی ندیدم جز فساد

آدم کی اولاد (انسان) نے شیطنت سے دل لگا لیا ہے ۔ میں نے تو شیطنت ، ابلیسی میں فساد کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا ۔

Adam’s sons have given their hearts to Iblis, and from Iblis I have seen only corruption.

4040

کس امانت را بکار خود نبرد

ایخوش آنکو ملک حق با حق سپرد

کوئی شخص کسی دوسرے کی امانت کو اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں لاتا ۔ وہ انسان بڑا خوش بخت ہے جو خدا کی ملکیت کو خدا کے سپرد کرتا ہے ۔

None should convert a trust to his own use; blessed is he who renders God’s property up to God.

4141

برده ئی چیزی که از آن تو نیست

داغم از کاری که شایان تو نیست

تو نے وہ چیز اڑا لی ہے جو تیری اپنی نہیں ہے ۔ مجھے تیرے اس کام کا دکھ ہے کہ یہ تیری شان کے شایان نہیں ہے (تیرے لائق نہیں ) ۔

You have carried off what does not belong to you; my soul sorrows for so unworthy a deed.

4242

گر تو باشی صاحب شی می سزد

ور نباشی خود بگو کی می سزد

اگر تو کسی چیز کا مالک ہے تو اس پر تیرا حق جتا نا مناسب ہے لیکن اگر تو نہیں ہے تو خود بتا کہ یہ کیسے مناسب ہے ۔

If you own a thing, that is meet and right, but if you do not, say yourself, how is that proper?

4343

ملک یزدان را به یزدان باز ده

تا ز کار خویش بگشائی گره

تو اللہ تعالیٰ کی ملکیت اللہ تعالیٰ کو واپس کر دے تا کہ تیرے کام کی الجھنیں دور ہو جائیں ۔

Return to God the property of God so that you may loose the knot of your involvement;

4444

زیر گردن فقر و مسکینی چراست

آنچه از مولاست میگوئی ز ماست

آسمان کے نیچے (زمین پر) یہ محتاجی اور مسکینی کیوں ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ اس مولا کا جو کچھ ہے اسے تو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے ۔

For why is there poverty and want under heaven’s arch? Because you say what is the Lord’s belongs to you.

4545

بنده ئی کز آب و گل بیرون نجست

شیشهٔ خود را به سنگ خود شکست

وہ بندہ جو اپنے مادی اور جسمانی فائدوں سے باہر نہیں وہ خود ہی اپنے شیشے کو اپنے پتھر سے توڑ دیتا ہے ۔

The man who has not leaped forth from water and clay has shattered his own glass with his own stone.

4646

ایکه منزل را نمی دانی ز ره

قیمت هر شی ز انداز نگه

تو جو منزل اور راستے میں فرق سے بے خبر ہے ۔ سمجھ لے کہ ہر شے کی قیمت نگاہ یعنی خریدار سے ہوتی ہے ۔

You who cannot tell goal from path, the value of every thing is measured by the regard.

4747

تا متاع تست گوهر ، گوهر است

ورنه سنگ است از پشیزی کمتر است

گوہر جب تک تیری متاع ہے تو وہ گوہر ہے ورنہ وہ ایسا پتھر ہے جس کی قیمت ایک دمڑی بھی نہیں ۔

So long as the pearl is your property, it is a pearl; otherwise it is a pebble, worth less than a farthing.

4848

نوع دیگر بین جهان دیگر شود

این زمین و آسمان دیگر شود

تو اسے ایک نئے انداز سے دیکھ ۔ جب تو ایسا کرے گا تو یہ جہان ہی بدل جائے گا ۔ یہ زمین اور آسمان بدل جائیں گے ۔

View the world otherwise, and it will become other, this earth and heaven will be transformed.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیر مردی ریش او مانند برف

سالها در علم و حکمت کرده صرف

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 2 - برآمدن انجم‌شناس مریخی از رصدگاه

اگلی نظم

در گذشتیم از هزاران کوی و کاخ

بر کنار شهر میدان فراخ

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 4 - احوال دوشیزهٔ مریخ که دعوی رسالت کرده

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور