صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مریخ
  4. »بخش 3 - گردش در شهر مرغدین

بخش 3 - گردش در شهر مرغدین

شہر مرغدین کی سیر

A Tour of the City of Marghadin

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

مرغدین و آن عمارات بلند

من چه گویم زان مقام ارجمند

مرغدین اور اسکی اونچی عمارتیں (واہ واہ) ہیں ، میں اس عظیم مقام کے بارے میں کیا کہوں ۔

Marghadin and those lofty edifices – what can I say of that noble city?

2

ساکنانش در سخن شیرین چو نوش

خوب روی و نرم خوی و ساده پوش

اس کے رہنے والے شیریں گفتار ایسے جیسے ان کی باتیں شربت کی طرح میٹھی ہوں ۔ وہ لوگ حسین و جمیل، نرم خصلت والے اور سادہ لباس پہننے والے تھے ۔

Its inhabitants sweet of speech as honey, comely their faces, gentle their manners, simple their apparel;

3

فکرشان بی درد و سوز اکتساب

رازدان کیمیای آفتاب

ان کی سوچ حصول اشیاء کے سلسلے میں کسی دکھ درد کی حامل نہیں ۔ وہ سورج کے کیمیا کے رازوں سے واقف ہیں ۔

Their thoughts innocent of the burning fever of gain, they were intimate with the secrets of the sun’s alchemy;

4

هر که خواهد سیم و زر گیرد ز نور

چون نمک گیریم ما از آب شور

جس کسی کو سونے چاندی کی خواہش ہوتی ہے وہ سورج کی روشنی سے حاصل کر لیتا ہے ، جیسے ہم شور پانی سے نمک حاصل کر لیتے ہیں ۔

Who so of them desires silver or gold gathers it from light, even as we gather salt from the briny sea.

5

خدمت آمد مقصد علم و هنر

کارها را کس نمی سنجد بزر

یہاں علم و ہنر کا مقصد دوسروں کی خدمت کرنا ہے ۔ لوگ کام کو زر (دولت) میں نہیں تولتے ۔

The aim of science and art there is service; no one weighs work done against gold;

6

کس ز دینار و درم آگاه نیست

این بتان را در حرمها راه نیست

یہاں کوئی شخص دینار اور درہم (کرنسی کے نظام) سے واقف نہیں ہے ۔ وہاں کے حرم (کعبہ) میں ان بتوں (دینار و درہم) کا کوئی دخل نہیں ہے ۔

No one is even acquainted with dinars and dirhams, these idols may not enter the sanctuary.

7

بر طبیعت دیو ماشین چیره نیست

آسمانها از دخانها تیره نیست

ان کی طبیعت پر مشینوں کا دیو یعنی بھوت غالب نہیں ہے ۔ یہاں کے آسمان مشینوں کے دھووَں سے تاریک نہیں ہیں ۔

The demon of the machine has no power over nature; the skies are not blackened by smoke;

8

سخت کش دهقان چراغش روشن است

از نهاب دهخدایان ایمن است

یہاں کا کسان جفاکش ہے اور اس کے گھر میں چراغ روشن ہے ۔ وہ زمینداروں کی لوٹ کھسوٹ اور ان کے ظلم سے محفوظ ہے ۔

The lamp of the hard-toiling farmer is always bright; he is secure from the plundering of the landlords;

9

کشت و کارش بی نزاع آب جوست

حاصلش بی شرکت غیری ازوست

ان کی کاشتکاری میں ندی کے پانی کے جھگڑے نہیں ہوتے اور فصل کسی کی شرکت کے بغیر اس کی اپنی ہے ۔ پیداوار میں کوئی اور حصے دار نہیں ۔

His tillage is not a struggle for water, his harvest is his own, no other shares in it.

10

اندر آن عالم نه لشکر نی قشون

نی کسی روزی خورد از کشت و خون

اس جہان میں نہ تو کوئی لشکر ہے اور نہ کوئی فوج ہے اور نہ یہاں کوئی دوسروں کا خون بہا کر روزی کماتا ہے ۔

In that world there are no armies, no squadrons, none gains his livelihood by killing and murder;

11

نی قلم در مرغدین گیرد فروغ

از فن تحریر و تشهیر دروغ

مرغدین میں فن تحریر اور جھوٹی شہرت کی خاطر قلم کو کوئی فروغ حاصل نہیں ہے ۔

In Marghadin no pen wins lustre from inscribing and disseminating lies;

12

نی به بازاران ز بیکاران خروش

نی صدا های گدایان درد گوش

نہ تو یہاں کے بازاروں میں بے کاروں کی نعرہ بازی ہے اور نہ بھکاریوں کی کانوں کو دکھ پہنچانے والی آوازیں ہیں ۔

In the market-places there is no clamour of the workless, no whining of beggars afflicts the car.

بند 2
حکیم مریخی
Toggle stanza 2
13

کس در اینجا سائل و محروم نیست

عبد و مولا حاکم و محکوم نیست

یہاں نہ تو کوئی سائل ہے اور نہ کوئی محروم ہے ۔ یہاں نہ کوئی غلام ہے نہ کوئی آقا ہے نہ کوئی حاکم ہے اور نہ کوئی محکوم

No one here is a mendicant or destitute, slave and master, ruler and ruled, here are none.

بند 3
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 3
14

سائل و محروم تقدیر حق است

حاکم و محکوم تقدیر حق است

سائل اور محروم ہونا تو اللہ کی تقدیر ہے اور حاکم یا محکوم ہونا بھی اللہ کی تقدیر ہے ۔

Mendicant and destitute are so by God's decree, by God's decree ruler and ruled;

15

جز خدا کس خالق تقدیر نیست

چارهٔ تقدیر از تدبیر نیست

خدا کے سوا تقدیر کا کوئی اور خالق نہیں ہے ۔

None but God is the creator of destiny and against destiny human design is powerless.

بند 4
حکیم مریخی
Toggle stanza 4
16

گر ز یک تقدیر خون گردد جگر

خواه از حق حکم تقدیر دگر

اگر ایک تقدیر سے تیرا جگر خون ہو جاتا ہے تو تو اللہ تعالیٰ سے ایک اور تقدیر کی خواہش کر ۔

The Martian Sage If your heart bleeds on account of one destiny, petition God to decree another destiny;

17

تو اگر تقدیر نو خواهی رواست

زانکه تقدیرات حق لا انتهاست

اگر تو ایک نئی تقدیر چاہتا ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ حق تعالیٰ کی تقدیروں کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔

If you pray for a new destiny, that is lawful, seeing that God’s destinies are infinite.

18

ارضیان نقد خودی در باختند

نکتهٔ تقدیر را نشناختند

اہل زمین نے تو اپنی خودی کی نقدی ہار دی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ تقدیر کے نکتہ کو نہ سمجھ سکے ۔

Earthlings have gambled away the coin of selfhood, not comprehending the subtle meaning of destiny;

19

رمز باریکش بحرفی مضمر است

تو اگر دیگر شوی او دیگر است

اس تقدیر کی گہری رمز ایک بات میں پوشیدہ ہے وہ یہ کہ اگر تو بدل جائے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے ۔

Its subtlety is contained in a single phrase: ‘If you transform yourself, it too will be transformed.’

20

خاک شو نذر هوا سازد ترا

سنگ شو بر شیشه اندازد ترا

تو اگرخاک ہو جائے تو تجھے ہوا کی نذر کر دجائے گا (تو اڑ جائے گا) اگر تو پتھر بن جائے گا تو تجھے وہ شیشے پر مارے گی (شیشہ توڑنے کا کام لیا جائے گا ) ۔

Be dust and fate will give you the winds; be a stone and it will hurl you against glass.

21

شبنمی؟ افتندگی تقدیر تست

قلزمی؟ پایندگی تقدیر تست

کیا تو شبنم ہے تو تیری تقدیر میں نیچے گرنا ہے ۔ اگر تو سمندر ہے تو بقا (ہمیشہ رہنا) تیری تقدیر ہے ۔

Are you a dew-drop? Your destiny is to perish; are you an ocean? Your destiny is to endure.

22

هر زمان سازی همان لات و منات

از بتان جوئی ثبات ای بی ثبات»

تو ہر لمحہ وہی لات و منات (بت ) بناتا رہتا ہے ۔ اے فانی انسان تو بتوں سے بقا کی خواہش رکھتا ہے ۔

Every moment you are fashioning new Lats and Manats; inconstant one, do you look for constancy from idols?

23

تا بخود ناساختن ایمان تست

عالم افکار تو زندان تست

جب تک خود سے موافقت نہ کر تیرا ایمان رہے گا، تیرے افکار تیرا قید خانہ بنے رہیں گے ۔

So long as your faith is to accord not with your self the world of your thoughts is your prison;

24

رنج بی گنج است تقدیر اینچنین

گنج بی رنج است تقدیر اینچنین

تیرا یہ نظریہ کہ تقدیر کچھ ایسی ہے کہ محنت کرنے سے خزانہ ہاتھ نہیں آتا یعنی بغیر محنت کے خزانہ ہاتھ آ جاتا ہے یہ تقدیر ہے ۔ تیرا یہ نظریہ غلط اور نقصان دہ ہے ۔

Toil without treasure-such is destiny; treasure without toil-such is destiny!

25

اصل دین این است اگر ای بیخبر،

می شود محتاج ازو محتاج تر

اے بے خبر انسان اگر دین کی اصل یہی ہے تو اس سے ایک محتاج دن بدن محتاج تر ہوتا جائے گا ۔

If this is the foundation of faith, ignorant fellow, then the needy will become still more in need.

26

وای آن دینی که خواب آرد ترا

باز در خواب گران دارد ترا

اس دین پر افسوس ہے جو تجھے سلائے رکھتا ہے بلکہ تجھے گہری نیند میں مسلسل سلائے رکھتا ہے ۔

Woe to that religion which lulls you to sleep and still holds you in sleep profound!

27

سحر و افسون است یا دین است این

حب افیون است یا دین است این

کیا یہ سحر اور جادو ہے یا یہ دین ہے کیا یہ افیون کی گولی ہے یا دین ہے

Is this religion, or magic and enchantment? Is this religion, or a grain of opium?

28

می شناسی طبع دراک از کجاست

حوری اندر بنگه خاک از کجاست

کیا تو پہچانتا ہے کہ طبع نقطہ رس کہاں سے ہے مٹی کے حجرے یعنی انسانی بدن میں یہ حور کہاں سے آ گئی ہے

Do you know whence comes the penetrating nature, whence came this houri into your tenement of clay?

29

قوت فکر حکیمان از کجاست

طاقت ذکر کلیمان از کجاست

حکیموں ، فلسفیوں کی فکر کی قوت کہاں ہے اور کلیموں کے ذکر کی طاقت کہاں سے ہے

Do you know whence comes the sages’ power of thought, whence the potency of prayer in God’s interlocutors?

30

این دل و این واردات او ز کیست

این فنون و معجزات او ز کیست

یہ دل اور اس کی واردات کس کی طرف سے ہیں اس کے یہ فنون اور معجزے کہاں سے ہیں

Do you know whence came this heart, and its visitations, whence these arts, these miracles?

31

گرمی گفتار داری از تو نیست

شعله کردار داری از تو نیست

کیا تجھ میں گرمی گفتار ہے تو یہ تجھ سے نہیں ہے ۔ کیا تجھ میں کردار کا شعلہ ہے تو یہ بھی تجھ سے نہیں ۔

Do you have fire of speech? That comes not from you; Do you have flame of action? That comes not from you.

32

اینهمه فیض از بهار فطرت است

فطرت از پرودگار فطرت است

یہ سب فطرت کی بہار کا فیض ہے اور فطرت کی اصل پروردگار فطرت سے ہے ۔

All this is an overflow of the springtime of nature, Nature which derives from nature’s Creator.

33

زندگانی چیست کان گوهر است

تو امینی صاحب او دیگر است

زندگانی کیا ہے یہ موتیوں کی کان ہے تو تو اس کا صرف امانت دار ہے اور اس کا مالک کوئی اور ہے ۔

What is life? A mine of gems; you are the trustee, its owner is Another.

34

طبع روشن مرد حق را آبروست

خدمت خلق خدا مقصود اوست

ایک مرد حق کے لیے طبع روشن اس کی آبرو ہے اور خلق خدا کی خدمت اس کا مقصد ہے (یہ سب کیفیات خدا کی عطا کردہ ہیں ) ۔

A radiant nature glorifies the man of God, to serve all God’s creatures, that is his aim;

35

خدمت از رسم و ره پیغمبری است

مزد خدمت خواستن سوداگری است

خدمت خلق پیغمبری کا طور طریقہ ہے ۔ خدمت کی اجرت یا اس کا صلہ مانگنا یا طلب کرنا سوداگری ہے ۔

Service belongs to the wont and way of prophethood; to seek a reward for service is mere commerce.

36

همچنان این باد و خاک و ابر و کشت

باغ و راغ و کاخ و کوی و سنگ و خشت

اسی طرح یہ ہوا اور مٹی اور بادل یہ باغ اور سبزہ زار اور محل اور گلی کوچے اور سنگ وخشت ۔

Even so this wind, earth, cloud, field, orchard, meadow, palace, street, stones, bricks;

37

ایکه میگوئی متاع ما ز ماست

مرد نادان این همه ملک خداست

جن کے بارے میں تو کہتا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری متاع ہے ۔ تو اے نادان انسان یہ سب خدا کی ملکیت ہے ۔

You who say, ‘Our property is of ourselves’, ignorant one, all this belongs to God.

38

ارض حق را ارض خود دانی بگو

چیست شرح آیهٔ لاتفسدوا

تو خدا کی زمین کو اپنی زمین سمجھتا ہے تو پھر ذرا یہ تو بتا کہ آیہ لا تفسدو کی تفسیر (شرح) کیا ہے ۔

If you regard God’s earth as your own, then what means the verse, Work not corruption?

39

ابن آدم دل به ابلیسی نهاد

من ز ابلیسی ندیدم جز فساد

آدم کی اولاد (انسان) نے شیطنت سے دل لگا لیا ہے ۔ میں نے تو شیطنت ، ابلیسی میں فساد کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا ۔

Adam’s sons have given their hearts to Iblis, and from Iblis I have seen only corruption.

40

کس امانت را بکار خود نبرد

ایخوش آنکو ملک حق با حق سپرد

کوئی شخص کسی دوسرے کی امانت کو اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں لاتا ۔ وہ انسان بڑا خوش بخت ہے جو خدا کی ملکیت کو خدا کے سپرد کرتا ہے ۔

None should convert a trust to his own use; blessed is he who renders God’s property up to God.

41

برده ئی چیزی که از آن تو نیست

داغم از کاری که شایان تو نیست

تو نے وہ چیز اڑا لی ہے جو تیری اپنی نہیں ہے ۔ مجھے تیرے اس کام کا دکھ ہے کہ یہ تیری شان کے شایان نہیں ہے (تیرے لائق نہیں ) ۔

You have carried off what does not belong to you; my soul sorrows for so unworthy a deed.

42

گر تو باشی صاحب شی می سزد

ور نباشی خود بگو کی می سزد

اگر تو کسی چیز کا مالک ہے تو اس پر تیرا حق جتا نا مناسب ہے لیکن اگر تو نہیں ہے تو خود بتا کہ یہ کیسے مناسب ہے ۔

If you own a thing, that is meet and right, but if you do not, say yourself, how is that proper?

43

ملک یزدان را به یزدان باز ده

تا ز کار خویش بگشائی گره

تو اللہ تعالیٰ کی ملکیت اللہ تعالیٰ کو واپس کر دے تا کہ تیرے کام کی الجھنیں دور ہو جائیں ۔

Return to God the property of God so that you may loose the knot of your involvement;

44

زیر گردن فقر و مسکینی چراست

آنچه از مولاست میگوئی ز ماست

آسمان کے نیچے (زمین پر) یہ محتاجی اور مسکینی کیوں ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ اس مولا کا جو کچھ ہے اسے تو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے ۔

For why is there poverty and want under heaven’s arch? Because you say what is the Lord’s belongs to you.

45

بنده ئی کز آب و گل بیرون نجست

شیشهٔ خود را به سنگ خود شکست

وہ بندہ جو اپنے مادی اور جسمانی فائدوں سے باہر نہیں وہ خود ہی اپنے شیشے کو اپنے پتھر سے توڑ دیتا ہے ۔

The man who has not leaped forth from water and clay has shattered his own glass with his own stone.

46

ایکه منزل را نمی دانی ز ره

قیمت هر شی ز انداز نگه

تو جو منزل اور راستے میں فرق سے بے خبر ہے ۔ سمجھ لے کہ ہر شے کی قیمت نگاہ یعنی خریدار سے ہوتی ہے ۔

You who cannot tell goal from path, the value of every thing is measured by the regard.

47

تا متاع تست گوهر ، گوهر است

ورنه سنگ است از پشیزی کمتر است

گوہر جب تک تیری متاع ہے تو وہ گوہر ہے ورنہ وہ ایسا پتھر ہے جس کی قیمت ایک دمڑی بھی نہیں ۔

So long as the pearl is your property, it is a pearl; otherwise it is a pebble, worth less than a farthing.

48

نوع دیگر بین جهان دیگر شود

این زمین و آسمان دیگر شود

تو اسے ایک نئے انداز سے دیکھ ۔ جب تو ایسا کرے گا تو یہ جہان ہی بدل جائے گا ۔ یہ زمین اور آسمان بدل جائیں گے ۔

View the world otherwise, and it will become other, this earth and heaven will be transformed.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیر مردی ریش او مانند برف

سالها در علم و حکمت کرده صرف

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 2 - برآمدن انجم‌شناس مریخی از رصدگاه

اگلی نظم

در گذشتیم از هزاران کوی و کاخ

بر کنار شهر میدان فراخ

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 4 - احوال دوشیزهٔ مریخ که دعوی رسالت کرده

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور