صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مریخ
  4. »بخش 4 - احوال دوشیزهٔ مریخ که دعوی رسالت کرده

بخش 4 - احوال دوشیزهٔ مریخ که دعوی رسالت کرده

مریخ کی دوشیزہ کے احوال جس نے رسالت کا دعوی کیا

The Martian Damsel Who Claimed to Be a Prophetess

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

در گذشتیم از هزاران کوی و کاخ

بر کنار شهر میدان فراخ

ہم ہزاروں گل کوچوں اور محلوں سے گزر کر شہر کے کنارے وسیع میدان میں پہنچے ۔

We passed by thousands of streets and mansions; on the edge of the city was a broad square.

2

اندر آن میدان هجوم مرد و زن

در میان یک زن قدش چون نارون

اس میدان میں مردوں اور عورتوں کا ایک ہجوم تھا ۔ ان کے درمیان ایک عورت تھی جس کا قد نارون کی طرح بلند تھا ۔

And in that square a swarm of men and women, amidst them a woman with the stature of a tall pomegranate-tree.

3

چهره اش روشن ولی بی نور جان

معنی او بر بیان او گران

اس کا چہرہ توروشن تھا لیکن روحانی نور سے خالی تھا ۔ اس کے بیان پر اس کے معنی گراں (بوجھل) تھے ۔ بے معنی تھے ۔

Her face was radiant, but without the light of the soul, as if its meaning were too hard to express;

4

حرف او بی سوز و چشمش بی نمی

از سرور آرزو نامحرمی

اس کے الفاظ بے سوز تھے اور اس کی آنکھ بے نم تھی ۔ وہ آرزو کے سرور سے ناواقف تھی ۔

Her speech lacked fire, her eyes lacked tears, not intimate with the joy of desire:

5

فارغ از جوش جوانی سینه اش

کور و صورت ناپذیر آئینه اش

اس کا سینہ جوانی کے جوش سے خالی تھا ۔ وہ اندھی تھی اور اس کی صورت آئینہ کے لیے ناقابل قبول تھی (بدصورت تھی) ۔

Her breast was void of the ardour of youth, blind and unreceptive to images her mirror;

6

بیخبر از عشق و از آئین عشق

صعوهٔ رد کردهٔ شاهین عشق

وہ عشق اور آئین عشق سے بے خبر تھی ۔ وہ ایسے ممولے کی مانند تھی جسے عشق کے شاہین نے رد کر دیا ہو ۔

She knew nothing of love and the laws of love, she was a sparrow spurned by the hawk of love.

7

گفت با ما آن حکیم نکته دان

«نیست این دوشیزه از مریخیان

اس نکتہ داں مریخ حکیم جو ہمارا رہنما تھا نے ہمیں بتایا کہ یہ دوشیزہ اہلِ مریخ میں سے نہیں ہے ۔

That sage who knew all subtleties spoke to us: ‘This damsel is not of the Martians;

8

ساده و آزاده و بی ریو و رنگ

فرز مرز او را بدزدید از فرنگ

وہ ساد آزاد اور مکر و فریب کے بغیر تھی ۔ فرزمرز (شیطان) نے اسے یورپ سے اغوا کیا تھا ۔

Simple and free of guile, without artifice, Farzmarz kidnapped her from the Franks.

9

پخته در کار نبوت ساختش،

اندرین عالم فرو انداختش

اس (شیطان) نے نبوت کے معاملے میں اسے پختہ کر کے اسے مریخ میں یہاں چھوڑ دیا ۔

And made her expert in the craft of prophethood, then let her loose upon this world;

10

گفت نازل گشته ام از آسمان

دعوت من دعوت آخر زمان

وہ دوشیزہ کہنے لگی میں آسمان سے نازل ہوئی ہوں اور میری دعوت آخری زماں ہے ۔

She declared, "I have come down from heaven; my message is the final message of time."

11

از مقام مرد و زن دارد سخن

فاش تر می گوید اسرار بدن

( میں نے دیکھا کہ) وہ مرد اور عورت کے مقام کی بات کرتی ہے اور بدن کے راز خوب کھل کر بیان کرتی ہے ۔

She speaks of the status of man and woman; she speaks more openly of the secrets of the body.

12

نزد این آخر زمان تقدیر زیست

در زبان ارضیان گویم که چیست»

اس آخر زماں کے نزدیک زندگی کی تقدیر کیا ہے، میں اسے اہل زمین کی زبان میں بیان کرتا ہوں ۔

The destiny of life in this end of time I will now recount in the language of earthlings.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرغدین و آن عمارات بلند

من چه گویم زان مقام ارجمند

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 3 - گردش در شهر مرغدین

اگلی نظم

ای زنان ای مادران ای خواهران

زیستن تا کی مثال دلبران

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 5 - تذکیر نبیهٔ مریخ

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور