صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مریخ
  4. »بخش 5 - تذکیر نبیهٔ مریخ

بخش 5 - تذکیر نبیهٔ مریخ

نبیہ مریخ کا وعظ

The Admonition of the Martian Prophetess

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

ای زنان ای مادران ای خواهران

زیستن تا کی مثال دلبران

اے عورتو، اے ماؤں اے بہنو! یہ دلبروں کی سی زندگی کب تک گزارو گی (بسر کرو گی) ۔

Women! Mothers! Sisters! How long shall we live like fond darlings?

2

دلبری اندر جهان مظلومی است

دلبری محکومی و محرومی است

دلبری دنیا میں مظلومی ہے ۔ دلبری محکومی اور محرومی کا نام ہے ۔

To be a darling here is to be a victim, to be a darling is to be dominated and deprived.

3

در دو گیسو شانه گردانیم ما

مرد را نخچیر خود دانیم ما

ہم اپنی دو زلفوں میں کنگھی کرتی ہیں اور اس طرح مرد کو اپنا شکار سمجھتی ہیں ۔

We idly comb out our tresses and think of men as our prey;

4

مرد صیادی به نخچیری کند

گرد تو گردد که زنجیری کند

،مگر مرد (ظالم) تو ہمارا شکار بن کر الٹا ہمیں اپنا شکار بناتا ہے ۔ وہ تو تیرے (عورت) کے گرد اس لیے پھرتا ہے تاکہ تجھے وہ فریب دے کر اپنا غلام بنا لے ۔

But man is a hunter in the guise of a quarry and circles about you to lasso you.

5

خود گدازیهای او مکر و فریب

درد و داغ و آرزو مکر و فریب

اس (مرد) کی خود گدازیاں مکر و فریب ہیں ۔ اس کا درد و داغ اور آرزو سب مکر و فریب ہیں ۔

His swooning ardours are but cunning and deceit, cunning and deceit his anguish and agony and yearning.

6

گرچه آن کافر حرم سازد ترا

مبتلای درد و غم سازد ترا

اگرچہ وہ کافر (مرد) تجھے اپنا حرم بناتا ہے لیکن درحقیقت وہ تجھے درد و غم میں مبتلا کرتا ہے ۔

Though that infidel makes a shrine of you, he causes you to suffer much anguish and grief.

7

همبر او بودن آزار حیات

وصل او زهر و فراق او نبات

اس کا ہم پہلو ہونا زندگی کا بڑا دکھ ہے ۔ اس کا وصل زہر اور اس کا فرق مصری کی ڈلی ہے ۔

To be his consort is a torment of life, union with him is poison, separation from him sugar.

8

مار پیچان از خم و پیچش گریز

زهرهایش را بخون خود مریز

وہ مرد ایک بل کھاتا ہوا سانپ ہے ۔ اس کی پیچ و خم سے بچو ، اس کے زہر کو اپنے خون میں نہ ڈالو ۔

A twisting serpent he – flee from his coils; do not pour his poisons into your blood.

9

از امومت زرد روی مادران

ای خنک آزادی بی شوهران

ماں بننے سے ماؤں کا چہرہ زرد ہو جاتا ہے ۔ شوہروں کے بغیر آزادی کتنی اچھی ہے ۔

Maternity pales the cheeks of mothers; O happy, to be free and without husband!

10

وحی یزدان پی به پی آید مرا

لذت ایمان بیفزاید مرا

مجھ پر خدا کی طرف سے لگاتار وحی نازل ہو رہی ہے اور یہ میرے ایمان کی لذت میں اضافہ کرتی ہے ۔

The divine revelation comes to me continuously augmenting the delight I have in faith.

11

آمد آن وقتی که از اعجاز فن

می توان دیدن جنین اندر بدن

اب وہ وقت آ رہا ہے کہ سائنس کے معجزے سے عورت کے بدن کے اندر جنین کو رحم کے اندر دیکھا جا سکے گا ۔

The time has come when by a miracle of science it is possible to see the foetus within the body;

12

حاصلی برداری از کشت حیات

هر چه خواهی از بنین و از بنات

وہ وقت قریب ہے جب تم زندگی کی کھیتی سے اپنے حسب خواہش پیداوار حاصل کر سکو گی ۔ اپنی مرضی کے مطابق بیٹے یا بیٹیاں حاصل کر سکو گے ۔ یورپ نے علامہ کی ان باتوں کو سو فیصد درست ثابت کر دیا ہے ۔

From life’s field you may gather a harvest of sons and daughters exactly as you choose;

13

گر نباشد بر مراد ما جنین،

بی محابا کشتن او عین دین

اگر پیٹ میں بچہ ہماری خواہش کے مطابق نہ ہو گا تو بے خوف ہو کر اسے مار ڈالنا بھی ہمارا عین دین ہو گا ۔

And if the foetus accords not with our desire it is the essence of religion ruthlessly to slay it.

14

در پس این عصر اعصار دگر

آشکارا گردد اسرار دگر

اس زمانے کے بعد اور بھی کئی زمانے آئیں گے جن میں اور نئے نئے راز بھید ظاہر ہو ں گے ۔

After this age other ages will come wherein new secrets shall be revealed;

15

پرورش گیرد جنین نوع دگر

بی شب ارحام دریابد سحر

ماں کے پیٹ میں بننے والا بچہ کچھ اور ہی ڈھب سے پرورش پائے گا، ماں کے پیٹ یعنی رحم میں رات بغیر صبح ہو جائے گی (ٹیسٹ ٹیوب بچے پیدا ہوں گے ) ۔

The foetus will take nourishment of another kind, without the night of the womb it will find the day.

16

تا بمیرد آن سراپا اهرمن

همچو حیوانات ایام کهن

تاکہ مرد جو سراپا شیطان ہے وہ پرانے زمانے کے ان حیوانات کی طرح مر جائے جن کا دنیا میں اب کوئی وجود نہیں ہے ۔

Finally that being utterly demonic will die even as died the creatures of the ancient days.

17

لاله ها بی داغ و با دامان پاک

بی نیاز از شبنمی خیزد ز خاک

لالہ کے پھول کے داغ کے بغیر اور پاک دامنی کے ساتھ شبنم کا احسان اٹھائے بغیر مٹی سے اگا کرینگے (مرد کے بغیر بچے پیدا کرو گی) ۔

Tulips without scar, with skirt unstained, not in need of dew, will rise from the earth.

18

خود بخود بیرون فتد اسرار زیست

نغمه بی مضراب بخشد تار زیست

زندگی کے راز خود بخود ظاہر ہو جائیں گے اور زندگی کا ساز مضراب کے بغیر ہی نغمہ پیدا کرے گا یعنی جنسی فعل کے بغیر بھی بچے پیدا ہو جایا کریں گے ۔

Of their own accord the secrets of life will emerge, life’s string will yield melodies without a plectrum.

19

آنچه از نیسان فرو ریزد مگیر

ای صدف در زیر دریا تشنه میر

ابر نیساں سے جو قطرہ نیچے گرتا ہے اے سیپی (عورت) تو سمندر کی تہ میں پیاسی مر جا ۔

Oyster dying of thirst under the sea, do not accept the scatterings of April;

20

خیز و با فطرت بیا اندر ستیز

تا ز پیکار تو حر گردد کنیز

اٹھ اور فطرت کے ساتھ نبرد آزما ہو جا تاکہ تیری جنگ سے عورت مرد کی غلامی سے آزاد ہو جائے ۔

Rise tip and wage war with nature; that by your battling the maiden may be freed.

21

رستن از ربط دو تن توحید زن

حافظ خود باش و بر مردان متن

دو جسموں سے آزاد ہونا ہی عورت کی توحید ہے ، تو اپنی خود محافظ بن جا اور مرد پر کسی قسم کا ناز نہ کر ۔

Woman’s unitarianism is to escape from the union of two bodies; be guardian of yourself, and tangle not with men!

بند 2
رومی

RUMI

Toggle stanza 2
22

مذهب عصر نو آئینی نگر

حاصل تهذیب لادینی نگر

تو (زندہ رود) ذرا نئے آئین والے زمانے کے مذہب کو دیکھ، اور ایک لادین تہذیب کے اثرات یا نتاءج کا حاصل دیکھ لے (یہ بات اس نبیہ کے وعظ کے حوالے سے کہی ہے ) ۔

Regard the creed of this new-fangled age, regard the harvest of irreligious education.

23

زندگی را شرع و آئین است عشق

اصل تهذیب است دین ، دین است عشق

(حقیقت یہ ہے کہ ) زندگی کا آئین و شرع عشق ہے ۔ تہذیب کی اصل دین ہے اور دین عشق ہے ۔

Love is the law and ritual of life, religion the root of education; religion is love.

24

ظاهر او سوزناک و آتشین

باطن او نور رب العالمین

عشق کا ظاہر سوزناک اور آتشیں ہے اور اس کا باطن رب العالمین کا نور ہے ۔

Love externally is ardent, fiery; inwardly it is the Light of the Lord of the Worlds.

25

از تب و تاب درونش علم و فن

از جنون ذوفنونش علم و فن

اس (عشق) کے اندرونی تب وتاب سے علم و فن وجود میں آتے ہیں ، اسکے بے شمار ہنروں سے آگاہ جنوں سے علم و فن پیدا ہوتے ہیں ۔

From its inward fever and glow, science and art derive science and art spring from its ingenious madness;

26

دین نگردد پخته بی آداب عشق

دین بگیر از صحبت ارباب عشق

آدابِ عشق کے بغیر دین پختہ ، مضبوط نہیں ہوتا ۔ تو (زندہ رود) اہل عشق کی صحبت و نگاہ سے دین حاصل کر ۔

Religion does not mature without Love’s schooling; learn religion from the company of the Lords of Love.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در گذشتیم از هزاران کوی و کاخ

بر کنار شهر میدان فراخ

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 4 - احوال دوشیزهٔ مریخ که دعوی رسالت کرده

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور