صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مریخ
  4. »بخش 5 - تذکیر نبیهٔ مریخ

بخش 5 - تذکیر نبیهٔ مریخ

نبیہ مریخ کا وعظ

The Admonition of the Martian Prophetess

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
11

ای زنان ای مادران ای خواهران

زیستن تا کی مثال دلبران

اے عورتو، اے ماؤں اے بہنو! یہ دلبروں کی سی زندگی کب تک گزارو گی (بسر کرو گی) ۔

Women! Mothers! Sisters! How long shall we live like fond darlings?

22

دلبری اندر جهان مظلومی است

دلبری محکومی و محرومی است

دلبری دنیا میں مظلومی ہے ۔ دلبری محکومی اور محرومی کا نام ہے ۔

To be a darling here is to be a victim, to be a darling is to be dominated and deprived.

33

در دو گیسو شانه گردانیم ما

مرد را نخچیر خود دانیم ما

ہم اپنی دو زلفوں میں کنگھی کرتی ہیں اور اس طرح مرد کو اپنا شکار سمجھتی ہیں ۔

We idly comb out our tresses and think of men as our prey;

44

مرد صیادی به نخچیری کند

گرد تو گردد که زنجیری کند

،مگر مرد (ظالم) تو ہمارا شکار بن کر الٹا ہمیں اپنا شکار بناتا ہے ۔ وہ تو تیرے (عورت) کے گرد اس لیے پھرتا ہے تاکہ تجھے وہ فریب دے کر اپنا غلام بنا لے ۔

But man is a hunter in the guise of a quarry and circles about you to lasso you.

55

خود گدازیهای او مکر و فریب

درد و داغ و آرزو مکر و فریب

اس (مرد) کی خود گدازیاں مکر و فریب ہیں ۔ اس کا درد و داغ اور آرزو سب مکر و فریب ہیں ۔

His swooning ardours are but cunning and deceit, cunning and deceit his anguish and agony and yearning.

66

گرچه آن کافر حرم سازد ترا

مبتلای درد و غم سازد ترا

اگرچہ وہ کافر (مرد) تجھے اپنا حرم بناتا ہے لیکن درحقیقت وہ تجھے درد و غم میں مبتلا کرتا ہے ۔

Though that infidel makes a shrine of you, he causes you to suffer much anguish and grief.

77

همبر او بودن آزار حیات

وصل او زهر و فراق او نبات

اس کا ہم پہلو ہونا زندگی کا بڑا دکھ ہے ۔ اس کا وصل زہر اور اس کا فرق مصری کی ڈلی ہے ۔

To be his consort is a torment of life, union with him is poison, separation from him sugar.

88

مار پیچان از خم و پیچش گریز

زهرهایش را بخون خود مریز

وہ مرد ایک بل کھاتا ہوا سانپ ہے ۔ اس کی پیچ و خم سے بچو ، اس کے زہر کو اپنے خون میں نہ ڈالو ۔

A twisting serpent he – flee from his coils; do not pour his poisons into your blood.

99

از امومت زرد روی مادران

ای خنک آزادی بی شوهران

ماں بننے سے ماؤں کا چہرہ زرد ہو جاتا ہے ۔ شوہروں کے بغیر آزادی کتنی اچھی ہے ۔

Maternity pales the cheeks of mothers; O happy, to be free and without husband!

1010

وحی یزدان پی به پی آید مرا

لذت ایمان بیفزاید مرا

مجھ پر خدا کی طرف سے لگاتار وحی نازل ہو رہی ہے اور یہ میرے ایمان کی لذت میں اضافہ کرتی ہے ۔

The divine revelation comes to me continuously augmenting the delight I have in faith.

1111

آمد آن وقتی که از اعجاز فن

می توان دیدن جنین اندر بدن

اب وہ وقت آ رہا ہے کہ سائنس کے معجزے سے عورت کے بدن کے اندر جنین کو رحم کے اندر دیکھا جا سکے گا ۔

The time has come when by a miracle of science it is possible to see the foetus within the body;

1212

حاصلی برداری از کشت حیات

هر چه خواهی از بنین و از بنات

وہ وقت قریب ہے جب تم زندگی کی کھیتی سے اپنے حسب خواہش پیداوار حاصل کر سکو گی ۔ اپنی مرضی کے مطابق بیٹے یا بیٹیاں حاصل کر سکو گے ۔ یورپ نے علامہ کی ان باتوں کو سو فیصد درست ثابت کر دیا ہے ۔

From life’s field you may gather a harvest of sons and daughters exactly as you choose;

1313

گر نباشد بر مراد ما جنین،

بی محابا کشتن او عین دین

اگر پیٹ میں بچہ ہماری خواہش کے مطابق نہ ہو گا تو بے خوف ہو کر اسے مار ڈالنا بھی ہمارا عین دین ہو گا ۔

And if the foetus accords not with our desire it is the essence of religion ruthlessly to slay it.

1414

در پس این عصر اعصار دگر

آشکارا گردد اسرار دگر

اس زمانے کے بعد اور بھی کئی زمانے آئیں گے جن میں اور نئے نئے راز بھید ظاہر ہو ں گے ۔

After this age other ages will come wherein new secrets shall be revealed;

1515

پرورش گیرد جنین نوع دگر

بی شب ارحام دریابد سحر

ماں کے پیٹ میں بننے والا بچہ کچھ اور ہی ڈھب سے پرورش پائے گا، ماں کے پیٹ یعنی رحم میں رات بغیر صبح ہو جائے گی (ٹیسٹ ٹیوب بچے پیدا ہوں گے ) ۔

The foetus will take nourishment of another kind, without the night of the womb it will find the day.

1616

تا بمیرد آن سراپا اهرمن

همچو حیوانات ایام کهن

تاکہ مرد جو سراپا شیطان ہے وہ پرانے زمانے کے ان حیوانات کی طرح مر جائے جن کا دنیا میں اب کوئی وجود نہیں ہے ۔

Finally that being utterly demonic will die even as died the creatures of the ancient days.

1717

لاله ها بی داغ و با دامان پاک

بی نیاز از شبنمی خیزد ز خاک

لالہ کے پھول کے داغ کے بغیر اور پاک دامنی کے ساتھ شبنم کا احسان اٹھائے بغیر مٹی سے اگا کرینگے (مرد کے بغیر بچے پیدا کرو گی) ۔

Tulips without scar, with skirt unstained, not in need of dew, will rise from the earth.

1818

خود بخود بیرون فتد اسرار زیست

نغمه بی مضراب بخشد تار زیست

زندگی کے راز خود بخود ظاہر ہو جائیں گے اور زندگی کا ساز مضراب کے بغیر ہی نغمہ پیدا کرے گا یعنی جنسی فعل کے بغیر بھی بچے پیدا ہو جایا کریں گے ۔

Of their own accord the secrets of life will emerge, life’s string will yield melodies without a plectrum.

1919

آنچه از نیسان فرو ریزد مگیر

ای صدف در زیر دریا تشنه میر

ابر نیساں سے جو قطرہ نیچے گرتا ہے اے سیپی (عورت) تو سمندر کی تہ میں پیاسی مر جا ۔

Oyster dying of thirst under the sea, do not accept the scatterings of April;

2020

خیز و با فطرت بیا اندر ستیز

تا ز پیکار تو حر گردد کنیز

اٹھ اور فطرت کے ساتھ نبرد آزما ہو جا تاکہ تیری جنگ سے عورت مرد کی غلامی سے آزاد ہو جائے ۔

Rise tip and wage war with nature; that by your battling the maiden may be freed.

2121

رستن از ربط دو تن توحید زن

حافظ خود باش و بر مردان متن

دو جسموں سے آزاد ہونا ہی عورت کی توحید ہے ، تو اپنی خود محافظ بن جا اور مرد پر کسی قسم کا ناز نہ کر ۔

Woman’s unitarianism is to escape from the union of two bodies; be guardian of yourself, and tangle not with men!

بند 2
رومی

RUMI

Toggle stanza 2
2222

مذهب عصر نو آئینی نگر

حاصل تهذیب لادینی نگر

تو (زندہ رود) ذرا نئے آئین والے زمانے کے مذہب کو دیکھ، اور ایک لادین تہذیب کے اثرات یا نتاءج کا حاصل دیکھ لے (یہ بات اس نبیہ کے وعظ کے حوالے سے کہی ہے ) ۔

Regard the creed of this new-fangled age, regard the harvest of irreligious education.

2323

زندگی را شرع و آئین است عشق

اصل تهذیب است دین ، دین است عشق

(حقیقت یہ ہے کہ ) زندگی کا آئین و شرع عشق ہے ۔ تہذیب کی اصل دین ہے اور دین عشق ہے ۔

Love is the law and ritual of life, religion the root of education; religion is love.

2424

ظاهر او سوزناک و آتشین

باطن او نور رب العالمین

عشق کا ظاہر سوزناک اور آتشیں ہے اور اس کا باطن رب العالمین کا نور ہے ۔

Love externally is ardent, fiery; inwardly it is the Light of the Lord of the Worlds.

2525

از تب و تاب درونش علم و فن

از جنون ذوفنونش علم و فن

اس (عشق) کے اندرونی تب وتاب سے علم و فن وجود میں آتے ہیں ، اسکے بے شمار ہنروں سے آگاہ جنوں سے علم و فن پیدا ہوتے ہیں ۔

From its inward fever and glow, science and art derive science and art spring from its ingenious madness;

2626

دین نگردد پخته بی آداب عشق

دین بگیر از صحبت ارباب عشق

آدابِ عشق کے بغیر دین پختہ ، مضبوط نہیں ہوتا ۔ تو (زندہ رود) اہل عشق کی صحبت و نگاہ سے دین حاصل کر ۔

Religion does not mature without Love’s schooling; learn religion from the company of the Lords of Love.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در گذشتیم از هزاران کوی و کاخ

بر کنار شهر میدان فراخ

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 4 - احوال دوشیزهٔ مریخ که دعوی رسالت کرده

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور